عورت اور بناو سنگار

انتخاب: حنظلۃ الخلیق (نوٹ:۔ یہ تحریر دہلی سے شائع ہونے والے تاریخی اخبار’’ریاست‘‘ کے ایڈیٹر ’’سردار دیوان سنگھ مفتون‘‘ کی ہے، راقم) ’’ریاست‘‘ (اخبار) کا دفتر اجمیری دروازہ کے باہر تھا۔ سردار گوپال سنگھ ممبر پنجاب اسمبلی ( جو آج کل پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں اور اُو بی ای کا خطاب بھی […]
ناول ’’اُس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو‘‘ کا ترجمہ کیسے ہوا؟

تحریر: محمد زبیر یونس آج کل میرے زیرِ مطالعہ ’’کوشلیہ کمار سنگھے‘‘ کا ناول ’’اُس چھپی ہوئی کھڑکی میں جھانکو‘‘ ہے جس کا شان دار ترجمہ ’’آج‘‘ رسالے کے بانی ’’اجمل کمال صاحب‘‘ نے کیا ہے۔ یوں تو ناول بہترین ہے، مگر ناول سے پہلے اجمل کمال کے قلم سے مصنف کے تعارف اور ترجمہ […]
کچھ ڈاکٹر عرفان احمد خان کے بارے میں

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر ہارون رشید تبسّم 6 ستمبر ناول نگار، خاکہ نویس، مترجم، نقاد، محقق، مِزاح نویس، طنز نگار پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد خان کا یومِ ولادت ہے۔ اَدب کے اُفق پر اپنی انفرادیت رکھنے والے عرفان احمد خان 6 ستمبر 1960ء کو لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ اُن کی وطن سے محبت اور […]
خوش ونت سنگھ کا ناول ’’دلی‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ: کنول اقبال جب برصغیر کی بات آتی ہے، تو یہ سوچ کر دل کو تسلی نہیں دی جا سکتی کہ یہ محض کہانی ہے۔ فرضی کرداروں کے ساتھ قاری کے تخیل کی دنیا وسیع ہوتی ہے، وہ جیسا چاہے سوچتا رہے، لیکن ایسے کردار جو کبھی موجود تھے، اُنھیں پڑھتے وقت دل ہچکولے کھاتا […]
قراۃ العین حیدر کی ادبی خدمات کا مختصر ترین جائزہ

تحریر: آمنہ سردار قراۃ العین حیدر کی ’’گردشِ رنگِ چمن‘‘ زیرِ مطالعہ ہے۔ یہ ایک دلچسپ دستاویزی ناول ہے، جس میں مسلمانوں کی پُرتعیش زندگی کا ذکر بھی ملتا ہے اور ان کے زوال کی وجوہات بھی…… اس ناول میں مختلف شہروں اور کرداروں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جدت اور قدیم رسوم و روایات […]
بپسی سدھوا کا شاہ کار ناول ’’آئس کینڈی مین‘‘

تبصرہ: بلال حسین بھٹی ’’بپسی سدھوا‘‘ پاکستانی، پارسی ناول نگار ہیں۔ اِس وقت اُن کی عمر 80 سال ہو چکی ہے۔ وہ پاکستان کے اُن چند انگریزی ناول نگاروں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنے مشاہدے کی گہرائی اور اندازِ بیاں کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ اُن کا پہلا ناول "The […]
اُردو فکشن کے دیوتا، شوکت صدیقی

کامریڈ تنویر احمد خان (لاہور) نے مجھے شوکت صدیقی سے متعارف کرایا۔ اُن کے گھر کا پتا دیا اور لینڈ لائن فون نمبر بھی۔ شوکت صدیقی صاحب سے خط و کتابت شروع ہوگئی اور کبھی کبھار فون پر بھی بات ہونے لگی۔ بہت ملن سار، سنجیدہ، دبنگ اور انسان دوست شخصیت تھے۔ اُن کی تحریروں […]
لیو ٹالسٹائی کا ناول ’’جنگ اور امن‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ: کاشف منظور ’’وار اینڈ پیس‘‘ (War and Peace) یا ’’جنگ اور امن‘‘ کو عالمی ادب کا غیر معمولی شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ یہ عظیم و ضخیم ناول پڑھنا ہی عام قارئین کے لیے ایک کارنامے سے کم نہیں۔ اپنے کلاسرا صاحب اسے کالج کی سمری بریک میں پڑھتے اور ہم عصر طلبہ اور اساتذہ […]
بشیر منگی کی یاد میں

پیدایش:۔ یکم اپریل 1965ء۔ انتقال:۔ 13 مئی 2021ء۔ بشیر منگی کی پیدایش پنجو ڈیرو (لاڑکانہ) میں ہوئی اور وفات عید والے روز سکھر میں ہوئی۔ بشیر منگی کے ذمے مَیں نے سعادت حسن منٹو کو سندھی میں ترجمہ کرنے کا کام لگایا۔ 2011ء منٹو سال تھا۔ بشیر منگی نے منٹو کے پسندیدہ افسانوں کا ترجمہ […]
خلیل جبران کا ترجمہ شدہ افسانہ ’’جل پریاں‘‘

ترجمہ: محمد اسماعیل ازہری لکھنوی سورج نکلنے سے ذرا پہلے، جزیروں سے گھرے سمندر کی تہ ہے، جس میں رنگا رنگ موتی بکھرے پڑے ہیں۔ ان موتیوں کے قریب بے یارو مددگار ایک نوجوان لاش پڑی ہے۔ اُس لاش کے قریب سنہرے بالوں والی ایک جل پری ہے، جو اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی […]
کون سا اقبالؔ…… سرکاری، مذہبی یا لبرل؟

علامہ محمد اقبال کو پاکستان کے دونوں طبقات (مذہبی اور لبرل) کے نمایندے ان کے دس پندرہ اشعار یاد کرکے اُن کی بنیاد پر ’’کٹر ملا‘‘ قرار دیتے ہیں۔ جہاں مذہبی طبقہ اس ’’سرکاری اقبال‘‘ کو اُن چند اشعار کی اپنے سیاق و سباق میں رکھ کر تشریح کرکے کٹر مذہبی قرار دیتا ہے، تو […]
میلان کنڈیرا (Milan Kundera)

تحقیق و تحریر: نجم الدین احمد میلان کنڈیرا (Milan Kundera) جمہوریہ چیک (Czech Republic) کا نہایت معروف ادیب تھا، جو 1975ء سے فرانس میں ہجرت کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اُسے 1981ء میں فرانس کی باقاعدہ شہریت مل چکی تھی۔ وہ اپنے آپ کو فرانسیسی مصنّف سمجھتا تھا اور اصرار کرتا تھا کہ اُس […]
ظفر اللہ پوشنی کی یاد میں

پیدایش:۔ 05 مئی 1926ء انتقال:۔ 08 اکتوبر 2021ء ظفر اللہ پوشنی صاحب سے رابطہ یعنی پہلا تعارف اُن کی کتاب ’’زندگی زِنداں دلی کا نام ہے‘‘ ہی کے توسط سے ہوا۔ وہ کراچی میں ایڈورٹائزنگ ایجنسی مین ہٹن میں "Creative Director” تھے۔ وہ "Copy Waiter” سے ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچے تھے۔ بہت سادہ […]
12 جولائی، آغا ناصر کا یومِ انتقال

وکی پیڈیا کے مطابق آغا ناصر (Agha Nasir)، پاکستان کے مشہور براڈ کاسٹر، مصنف اور ہدایت کار، 12 جولائی 2016ء کو اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔ 9 فروری 1937ء میں میرٹھ کے قصبے فریدنگر میں پیدا ہوئے۔ بی اے کا امتحان سندھ مسلم کالج پاس کیا اور تاریخ میں ایم اے کی ڈگری جامعۂ کراچی […]
ڈاکٹر معین قریشی (مرحوم)

پیدایش:۔ 15 ستمبر 1942ء انتقال:۔ 20 ستمبر 2021ء ڈاکٹر معین قریشی صاحب سے غائبانہ تعارف تو بہت پُرانا تھا لیکن بالمشافہ ملاقات دسمبر 2019ء میں ہوئی۔ اُنھیں اپنا گھر سمجھانے اور ہمیں سمجھنے میں خاصی دیر لگی۔ خیر، پہنچ ہی گئے ۔ گھر پر ’’سکندر ہاؤس‘‘ کی بارعب تختی لگی ہوئی تھی۔ ظاہر ہے سکندر […]
محشر لکھنویؔ کی یاد میں

آہ، محشر لکھنویؔ صاحب بھی کوچ کرگئے۔ اُستاد محشر لکھنوی کا اصل نام سید محسن رضا نقوی تھا۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ لکھنو سے تعلق تھا۔ اُن کو محشر لکھنوی کے تخلص اختیار کرنے کا مشورہ آغا شورش کاشمیری نے دیا تھا۔ اُس سے پہلے شبنم لکھنوی تخلص کیا کرتے تھے۔ […]
کتابِ میرداد (تبصرہ)

تبصرہ نگار: ارسلان قادر ایک دن اُوشو سے کسی نے پوچھا کہ کون سی کتاب پڑھنی چاہیے، تو اُوشو کہنے لگے: ’’دیکھیے لوگوں کے گھروں میں لائبریری ہوتی ہے، جب کہ میرا گھر ہی لائبریری تھا، جہاں مَیں رہتا رہا۔ سب کتابیں پڑھ لیں، مگر مَیں آپ کو صرف ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں […]
زی لائبریری کی بازیابی

’’زی لائبریری‘‘ (Z-Library) الیکٹرانک کتب کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ یہاں سے آپ 24 گھنٹوں میں 10 کتب مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور اس سے زیادہ کتب کے لیے رُکنیت خریدنی پڑتی ہے۔ یہ لائبریری بہت عرصے سے بند تھی، کیوں کہ کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کی وجہ سے اس کے […]
فنِ ترجمہ نگاری

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد زوہیب حنیف ترجمہ ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے سے کسی قوم کی تاریخ، رسم و رواج، اُس کی ثقافت، اندازِ بیاں، اُس قوم کی زباں میں ادا کیے گئے محاورات و ضرب الامثال اور تشبیہات و استعارات کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ […]
کیا پیسا خوشی دیتا ہے؟

ہاں، بالکل خوشی دیتا ہے…… لیکن یہ ’’ہاں‘‘ اتنا سادہ اور آسان نہیں۔ اس ہاں میں کچھ پیچیدگیاں ہیں۔ پیسا کیسے خوشی دیتا ہے……؟ یہ سوال آپ کو اس ہاں کے پسِ پشت پیچیدگیوں میں لے کر جائے گا۔ اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ پیسا ہی اِس دنیا میں بد امنی کی وجہ ہے […]
کانچ کا زِنداں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: رومانیہ نور گئے برس اوائلِ دسمبر کی ایک کہر آلود شام تھی، جب ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب ’’کانچ کا زِنداں‘‘ موصول ہوئی۔ مَیں جو ’’میگرین‘‘ اور ’’وِژن لاس‘‘ کے ٹراما میں انتہائی بے زار اور مشکل وقت کاٹ رہی تھی…… ڈاکٹر صاحبہ سے معذرت چاہی کہ جوں ہی […]