ساغرؔ صدیقی اور ستارۂ امتیاز

کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں مست مجذوب درویش شاعر ساغر صدیقی کو انتقال کے 50 سال بعد ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ ساغرؔ زندگی کو جبرِ مسلسل کی طرح کاٹنے والے شاعر تھے۔ ان کی سخی لعل شہباز قلندر کی عقیدت میں لکھی گئی […]

تاریخِ عالم (کتاب کا تعارف)

تحریر: اخلاق احمد قادری (کتاب کے مصنف) العلم التاریخ اپنے وسیع معنی میں انسان کی سرگذشت اور اُس کو اِس دنیا میں پیش آنے والے واقعات کا مرقع ہے۔ اِس مرقع کا آغاز اُس وقت ہوا جب انسان آدم سے پہلے یا بعد حیوانات کی منزل سے انسانیت کے دائرے میں قدم رکھا تھا۔ اس […]

میعاد

میعاد (عربی، اسمِ مونث) کا اِملا عام طور پر معیاد لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ علمی اُردو لغت (جامع)، فرہنگِ تلفظ، فرہنگِ آصفیہ، فرہنگِ عامرہ، نوراللغات، کریم اللغات، فیروز اللغات (جدید)، اظہر اللغات (مفصل)، جہانگیر اُردو لغت (جدید)، آئینۂ اُردو لغت اور جامع اُردو لغت کے مطابق صحیح اِملا ’’میعاد‘‘ ہے جب کہ اس کے […]

فرحت عباس شاہ کا اعزاز

وہ روایت شکن بھی ہے اور روایت گر بھی۔ جب کسی کے ساتھ محبت اور شفقت کا سلوک کرنا ہو، تو کُھل کھلا کر کرتا ہے۔ نفرت بھی بے دھڑک اور ببانگِ دُہل کرتا ہے۔ اگر ایک طرف شجرِ ادب کی بلند و بالا شاخوں پر بیٹھے بوڑھے اور روایتی گِدھوں کو آڑے ہاتھوں لیتا […]

حقیقی فرانز کافکا کی تلاش

ترجمہ: عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی) پہلی دفعہ جب فرانز کافکا کی آواز میرے دماغ میں داخل ہوئی، تو مَیں اُس وقت پندرہ سال کا تھا۔ اَدب میں مشترکہ دلچسپی رکھنے کی بنیاد پر جو دو نئے دوست بنائے تھے، انھوں نے مجھے فرانز کافکا کے فکشن سے متعارف کروایا ۔ ہم باری باری "Willa” اور […]

باتونی بسیا (سلاوی لوک کہانی)

ترجمہ: جاوید بسام  (نوٹ:۔ یہ ایک ’’سلاوی لوک کہانی‘‘ (Salavic folk tale) کا ترجمہ ہے جس کا انگریزی میں عنوان "Chatterbox Basya” ہے، مدیر) سب لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ماہی گیر فطرتاً کم گو ہوتے ہیں۔ وہ شکار کے لیے سمندر میں جارہے ہوں، یا تھکے ہوئے ساحل پر واپس آرہے ہوں…… […]

احساسِ شرمندگی اور نفسیات

ایک مرتبہ ایک صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا، جو بااثر طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ہم انسان یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم سماجی مخلوق ہیں اور ہماری زیادہ تر گفت گو غیر زبانی اشاروں (Non-verbal Cues) میں ہوتی ہے۔ جناب کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا، لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ […]

کبھی کبھار ہار بھی جایا کیجیے!

عقل بہت بڑی نعمت ہے۔ اتنی بڑی کہ گزرے وقتوں میں اس کا موازنہ بھینس سے کیا جاتا تھا اور اکثر یہ مثل سننے میں آتی کہ ’’عقل بڑی کہ بھینس!‘‘ یہ مثل عموماً اس وقت سننے میں آتی، جب کسی سے کوئی بے وقوفوں والا کام یا حرکت سرزد ہوجاتی تھی۔ رفیع صحرائی کی […]

ننھا فریک اور اس کا وائلن (ناروے کی لوک کہانیاں)

ترجمہ: شگفتہ شاہ (ناروے) (نوٹ:۔ محترمہ شگفتہ شاہ نے ناروے کی لوک کہانیوں کو ترجمہ کرنے کا سلسلہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ کے ایک صفحہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ پر شروع کر رکھا ہے۔ ’’ننھا فریک اور اُس کا وائلن‘‘ مذکورہ سلسلے کی پانچویں کڑی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) بہت […]

کبھی تکمیل تک نہ پہنچنے والے ’’ٹُو گنڈہاٹ‘‘

تحقیق و تحریر: مقبول ملک  معروف جرمن فلسفی ’’ارنسٹ ٹُوگنڈہاٹ‘‘ (Ernst Tugendhat) تریانوے (93) برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ یہ جرمن مفکر عہدِ حاضر کے لسانیاتی تجزیاتی فلسفے کے علم بردار اہم ترین فلسفیوں میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کا انتقال جنوبی جرمن شہر فرائی بُرگ میں ہوا۔ ’’ارنسٹ ٹُوگنڈہاٹ‘‘ کا نظریہ یہ تھا […]

کیا دانش وروں کا اپنے سکھائے ہوئے علم پر عمل ہوتا ہے؟

ایک مرتبہ ایک جناب نے مجھ سے گفت گو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ زیادہ پڑھتے ہیں یا جس چیز کا پرچار کرتے ہیں، ان کا اس پر عمل نہیں ہوتا۔ مطلب یہی کہ جو بھی دانش ور لوگ ہوتے ہیں، ان کا اپنے سکھائے علم پر عمل نہیں ہوتا۔ کیا ایسا واقعی […]

کچھ عوامی شاعر حبیب جالبؔ کے بارے میں

آج جو ملکی حالات ہیں، ان کی وجہ سے انقلابی شاعر حبیب جالب کی یاد تازہ ہوگئی۔ آج (12 مارچ) تو ویسے بھی ان کی 30ویں برسی ہے، جو ہر سال 12مارچ کو منائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری پڑھ پڑھ کر میاں شہباز شریف آج وزیر اعظم بن چکے ہیں، لیکن قوم کی حالت […]

جارج آرویل کا ناول ’’1984‘‘ (تبصرہ)

جارج آرویل 25 جون 1903ء میں بنگال کے شیر موتی ہاری میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدایش کے بعد اس کا خاندان انگلستان منتقل ہوگیا۔ 1922ء سے 1927ء تک جارج آرویل (George Orwell) نے برما میں پولیس میں ملازمت کی۔ 1927ء میں واپس انگلستان آیا اور ملازمت چھوڑ کر سپین چلا گیا، جہاں سے اُس […]

ایک اچھا مضمون کیسے لکھیں؟

٭ مضمون کی تعریف:۔ مضمون کے لغوی معنی ہیں ’’ضمن میں لیا ہوا۔‘‘ ادبی اصطلاح میں کسی بھی عنوان کے متعلق اپنے خیالات، نظریات اور معلومات کو منظم صورت میں لکھنے کا نام مضمون ہے۔ نیز مضمون سے مراد ایسی معلوماتی تحریر ہے جو زندگی کے حقائق اور مسائل میں ادبی انداز میں لکھی گئی […]

ڈاکٹر مخصوص سفید کوٹ کیوں پہنتے ہیں؟

دنیا میں کروڑوں طلبہ کی بچپن سے یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹر بنیں۔ وہ اُس دن کا خواب دیکھتے ہیں کہ وہ سفید کوٹ پہن سکیں۔ ماسٹر عمر واحد کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/master-umar-wahid/ دراصل اس لباس کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ دنیا […]

کچھ ’’گابریل گارسیا مارکیز‘‘ کے بارے میں

انتخاب: احمد بلال گابریل گارسیا مارکیز جس کی اصل کہانی اُس کے نانا کے گھر سے شروع ہوئی تھی، جب وہ 8 سال کا بچہ تھا۔ ایک اکیلا بچہ جو اُس وسیع و عریض مکان کے ہر کونے میں بھٹکتا پھرتا تھا۔ نانا کے علاوہ اُس گھر میں بہت سی عورتیں تھیں، جو اُسے طرح […]

مرد، عورت، محبت وغیرہ

بہت سارے ایسے مرد دیکھے ہیں جو اپنی محبوب عورت کے حصول میں ناکام ہو جانے کے بعد زندگی بھر کے لیے پوری عورت ذات کے مخالف بن جاتے ہیں اور اس پر بے حسی، بے وفائی، خود غرضی اور پتا نہیں کیا کیا بدنما ٹھپے لگاتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر جب نوجوان لڑکے […]

لوسر کچرا کنڈی

اگر آپ راولپنڈی سے لاہور کی طرف جائیں، تو پہلا قصبہ روات نامی ہے۔ روات سے قریب تین کلومیٹر آگے جائیں، تو دائیں طرف ایک سڑک مڑتی ہے، جو چک بیلی خان روڈ کہلاتی ہے۔ کیوں کہ یہ سڑک ’’چک بیلی خان‘‘ نامی قصبے کو جاتی ہے۔ اس چک بیلی روڈ پر بھم بھلی کے […]

کیرئیر سے متعلق ایک اہم کتاب (تبصرہ)

ایک نوجوان جس نے اپنے ’’اسٹارٹ اَپ‘‘ (Start Up) کی دلچسپ کہانی مجھ سے شیئر کی۔ اسٹارٹ اَپ کا عروج و زوال، اور پھر میرے سامنے تین آپشن رکھ کر پوچھا کہ بتائیے…… مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیوں کہ اس عروج و زوال کے سفر نے اُن کو اپنے فیصلہ لینے کی قوت کے متعلق […]

لیو ٹالسٹائی کا ناول ’’اعتراف‘‘ اور ہم

تبصرہ: ایڈوکیٹ ابوبکر گجر  کتاب ’’اعتراف‘‘ کا آغاز لیو ٹالسٹائی نے 1879ء میں کیا، جب وہ عالمی شہرت یافتہ مصنف بن چکا تھا۔ اُس وقت لیو کی عمر 55 سال تھی۔ اس کا ناول ’’وار اینڈ پیس‘‘ دنیا میں اس موضوع پر سب سے مقبول ناول بنا، جو آج تک ہے۔ شہرت ملنے کے باوجود […]

2 مارچ، ناصر کاظمی کا یومِ انتقال

وکی پیڈیا کے مطابق ناصر کاظمی (Nasir Kazmi) مشہور پاکستانی شاعر، 2 مارچ 1972ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ 8 دسمبر 1925ء کو امبالہ شہر میں پیدا ہوئے۔ والد محمد سلطان کاظمی رائل انڈین آرمی میں صوبیدار میجر کے عہدے پر فائز تھے۔ والد کے پیشہ ورانہ تبادلوں کی وجہ سے آپ کا بچپن کئی […]