لیو ٹالسٹائی کے ناول ’’اینا کریننا‘‘ کا جدید ایڈیشن

تبصرہ: امر شاہد ’’یہ ناول…… اور مَیں اِسے ناول ہی کہنا چاہتا ہوں…… یہ میری زندگی کا پہلا ناول ہے، جو میری رُوح پر چھا گیا ہے اور مَیں پوری طرح اس کی رو میں بہہ گیا ہوں۔ باوجود اس کے کہ اس بہار میں فلسفیانہ مسائل نے مجھے بہت ہی مصروف کر رکھا ہے۔ […]
ایک عرب شاعر کی لازوال نظم کا ترجمہ

ترجمہ: محمد شہزاد ادب ہمیشہ انسان کو ہمت اور حوصلہ عطا کرتا ہے۔ زمانۂ عسرت کا خوب صورت نعم البدل عرب شاعر نے نظم کی صورت میں عرض کیا ہے، اہلِ ذوق کی نظر ۔ لیس شرطا أن یکون الرزق مالا قد یکون الرزق خلقا أو جمالا (ترجمہ) رزق کے لیے مال کا ہونا شرط […]
مصری ناول نگار یوسف زیدان کا ناول ’’عزازیل‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ: سفینہ بیگم کچھ ناول ایسے ہوتے ہیں جن کا نقش ہمیشہ ہمارے ذہن پر مرتسم ہوجاتا ہے۔ ایسا ہی ایک ناول ہے یوسف زیدان کا ’’عزازیل۔‘‘ مصری ناول نگار یوسف زیدان کا ناول ’’عزازیل‘‘ 2008ء میں شائع ہوا تھا۔ اِس ناول میں چوتھی صدی عیسوی میں رونما ہونے والے واقعات کو تخیلاتی اور تاریخی […]
خلیل جبران کا ترجمہ شدہ افسانہ ’’جل پریاں‘‘

ترجمہ: محمد اسماعیل ازہری لکھنوی سورج نکلنے سے ذرا پہلے، جزیروں سے گھرے سمندر کی تہ ہے، جس میں رنگا رنگ موتی بکھرے پڑے ہیں۔ ان موتیوں کے قریب بے یارو مددگار ایک نوجوان لاش پڑی ہے۔ اُس لاش کے قریب سنہرے بالوں والی ایک جل پری ہے، جو اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی […]
جہاں دو کنارے ملتے ہیں

ترجمہ: رومانیہ نور یہ حقیقی زندگی کی اُن دل پذیر کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے، جو سچی محبت کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ڈاکٹر پردیومنا کمار مہاننڈیا کی کہانی ہے، جن کا تعلق ہندوستان سے ہے اور شارلٹ وان شیڈوِن، جن کا تعلق سویڈن سے ہے۔ پردیومنا کمار، اڑیسہ میں ایک اچھوت […]
اسماعیل کادرے کی ایک یادگار تقریر کا ترجمہ

انتخاب: احمد بلال جنابِ صدر، اراکینِ مجلس، خواتین اور حضرات…… شکریہ، بے حد شکریہ……! میرے دل کی گہرائی سے شکریہ…… اُس اعزاز کے لیے جو آپ نے مجھے تفویض کیا اور جو مہربانی بھرے الفاظ ادا کیے گئے۔ اِس بات کا شدید خطرہ ہوگا کہ آپ یہ سمجھیں کہ ایک ادیب جو 2 ہزار کلومیٹر […]
میلان کنڈیرا (Milan Kundera)

تحقیق و تحریر: نجم الدین احمد میلان کنڈیرا (Milan Kundera) جمہوریہ چیک (Czech Republic) کا نہایت معروف ادیب تھا، جو 1975ء سے فرانس میں ہجرت کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اُسے 1981ء میں فرانس کی باقاعدہ شہریت مل چکی تھی۔ وہ اپنے آپ کو فرانسیسی مصنّف سمجھتا تھا اور اصرار کرتا تھا کہ اُس […]
کتابِ میرداد (تبصرہ)

تبصرہ نگار: ارسلان قادر ایک دن اُوشو سے کسی نے پوچھا کہ کون سی کتاب پڑھنی چاہیے، تو اُوشو کہنے لگے: ’’دیکھیے لوگوں کے گھروں میں لائبریری ہوتی ہے، جب کہ میرا گھر ہی لائبریری تھا، جہاں مَیں رہتا رہا۔ سب کتابیں پڑھ لیں، مگر مَیں آپ کو صرف ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں […]
فنِ ترجمہ نگاری

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد زوہیب حنیف ترجمہ ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے سے کسی قوم کی تاریخ، رسم و رواج، اُس کی ثقافت، اندازِ بیاں، اُس قوم کی زباں میں ادا کیے گئے محاورات و ضرب الامثال اور تشبیہات و استعارات کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ […]
دانت درد جیسے لوگ (عربی ادب سے ترجمہ شدہ نثر پارہ)

ترجمہ: توقیر احمد بُھملہ جب آپ کے کسی دانت میں ناقابلِ برداشت درد شروع ہوجاتا ہے۔ علاج کے باوجود راحت نہیں ملتی، تو صبر اور برداشت کی حد کو توڑتی درد کی ٹیسیں، آپ کی سوچ کو صرف ایک نقطے پر لا پھینکتی ہیں۔ اور وہ سوچ، اذیت دینے والے اس دانت کو نکالنے کی […]
غریب لڑکا اور شمالی ہوا (ناروے کی لوک کہانی)

ترجمہ: شگفتہ شاہ (ناروے) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بیوہ عورت تھی، جس کا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ عورت اب بے حد کم زور اور لاغر ہوچکی تھی۔ ایک روز اس نے اپنے بیٹے سے کہا، جاؤ اور اَناج کی کو ٹھری سے آٹا لے آؤ،تاکہ میں روٹیاں پکا لوں۔ لڑکا جوں […]
الکیمسٹ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: طیبا سید یہ کہانی شروع ہوتی ہے ایک ویران چرچ سے جس کی چھت گرچکی ہوتی ہے…… اور وہاں ایک شامی انجیر نشو و نما پاتے ہوئے ایک بڑے درخت کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ ایک ہسپانوی چرواہا ’’سینتیاگو‘‘ اپنی بھیڑوں کے ساتھ رات گزارنے کا ارادہ کرتا ہے۔ سینتیاگو کے والدین ایک […]
حقیقی فرانز کافکا کی تلاش

ترجمہ: عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی) پہلی دفعہ جب فرانز کافکا کی آواز میرے دماغ میں داخل ہوئی، تو مَیں اُس وقت پندرہ سال کا تھا۔ اَدب میں مشترکہ دلچسپی رکھنے کی بنیاد پر جو دو نئے دوست بنائے تھے، انھوں نے مجھے فرانز کافکا کے فکشن سے متعارف کروایا ۔ ہم باری باری "Willa” اور […]
باتونی بسیا (سلاوی لوک کہانی)

ترجمہ: جاوید بسام (نوٹ:۔ یہ ایک ’’سلاوی لوک کہانی‘‘ (Salavic folk tale) کا ترجمہ ہے جس کا انگریزی میں عنوان "Chatterbox Basya” ہے، مدیر) سب لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ماہی گیر فطرتاً کم گو ہوتے ہیں۔ وہ شکار کے لیے سمندر میں جارہے ہوں، یا تھکے ہوئے ساحل پر واپس آرہے ہوں…… […]
سرزمینِ سوات (تبصرہ)

برصغیر پاک و ہند پر جب انگریز حکم ران تھے، تو وہ اپنا تسلط قائم رکھنے اور اسے مستحکم بنانے کے لیے مختلف حربوں سے کام لیتے تھے۔ جہاں وہ طاقت کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرسکتے، تو اپنی بے محابا عسکری قوت سے کام لیتے، جہاں انھیں محسوس ہوتا کہ بات چیت یا نرم […]
انگریزی ناول ’’دا نوٹ بک‘‘ سے ترجمہ شدہ اقتباسات

ترجمہ: رومانیہ نور ’’دا نوٹ بک‘‘ (The Notebook) امریکی ناول نگار ’’نکولس سپارکس‘‘ (Nicholas Sparks) کا 1996ء میں شائع ہونے والا رومانوی ناول ہے، جس نے پہلے ہی ہفتے میں ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے سب سے زیاد ہ بکنے والے ناولوں کی فہرست میں جگہ بنالی۔ یہ ناول دو مرکزی کرداروں ’’ایلی‘‘ اور ’’نووا‘‘ کی دہائیوں […]