شارلٹ برونٹے کا ناول ’’جین آئر‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: فاطمہ عروج راؤ ’’شارلٹ برونٹے‘‘ (Charlotte Brontë) کا ناول ’’جین آئر‘‘ جس پر اَب تک تقریباً 10 فلمیں بن چکی ہیں، ایک فکشن ناول ہے۔ شارلٹ برونٹے ایک برطانوی مصنفہ تھیں، جن کا پہلا ناول اس لیے شہرت نہ پاسکا، کیوں کہ مصنفہ ایک گم نام لڑکی تھی…… لیکن ’’جین آئر‘‘ کے مشہور […]
طاقت کے اَڑتالیس اُصول

ترجمہ و تلخیص: مزمل حسین گوندل آپ میں سے اکثر لوگوں نے ’’رابرٹ گرین‘‘ (Robert Greene) کی مشہورِ زمانہ کتاب ـ”The 4 8Rules of Power” پڑھی ہوگی، یا پھر اس کا نام تو لازمی سنا ہوگا۔ آپ کا مقصد چاہے طاقت کا حصول نہ بھی ہو، پھر بھی اسے ضرور پڑھیں، تاکہ آپ لوگوں کے […]
ایلف شفق کی ایک اثر انگیز تحریر

تلخیص و ترجمہ: صوفیہ کاشف اس بار مجھے قبل از وقت ہی ایک ایسا کرسمس گفٹ ملا جس نے مجھے بے تحاشا خوشی دی۔’’پرائڈ اینڈ پرجوڈس‘‘(Pride and Prejudice) کا خوب صورت انداز کی ہارڈ کاپی میں چھپا نیا ایڈیشن۔ ایک ایسی کتاب جس کی دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زیادہ کتابیں بکیں اور جو […]
کاندید (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز خوف زدہ، حواس باختہ،گُم صم، لہولہان اور لرزہ براندام کاندید خود سے سوال کرتا ہے: ’’اگر یہی بہترین دنیا ہے، تو اس سے بدتر کون سی ہوگی؟ مجھے جو کوڑے لگے ہیں، اُنھیں تو مَیں نظر انداز کرسکتا ہوں۔ اس لیے کہ اس سے قبل بلغاریوں نے بھی میرے ساتھ ایسا […]
دو جنرل اور ایک عام آدمی (روسی ادب)

ترجمہ: ظ انصاری (19ویں صدی کے روسی ادیب ’’میخائیل سلتی کوف شیدرن‘‘ کی تحریر جسے 1962ء میں ظ۔ انصاری نے اُردو کے قالب میں ڈھالا) کہتے ہیں کسی زمانے میں دو جنرل تھے ۔ دونوں تھے بڑے من موجی۔ دونوں نے ساری عمر دفتروں میں کام کیا تھا۔ اُنھیں سوائے حکم دینے کے اور کچھ […]
مولانائے روم کی ایک مشہور غزل مع اُردو ترجمہ

مترجم: خضر عباس بنمای رخ کہ باغ و گلستانم آرزوست بگشای لب کہ قند فراوانم آرزوست اے محبوب! تو اپنا چہرہ دکھا کہ مجھے باغ اور گلستان کو دیکھنے کی خواہش ہے۔ تو اپنے ہونٹ کھول کہ مجھے بہت زیادہ مٹھاس کی خواہش ہے۔ ای آفتاب حُسن برون آ دمی ز ابر کآن چہرۂ مُشَعشَعِ […]
ناول ’’جہاں برف رہتی ہے‘‘ کی کہانی، مصنف کی زبانی

انتخاب: احمد بلال مَیں جب اپنا ناول ’’برف‘‘ (’’جہاں برف رہتی ہے‘‘، اُردو ترجمہ) لکھنے کی تیاری کر رہا تھا، تو مَیں نے ترکی کے جنوب مشرق میں واقع شہر ’’کاز‘‘ کے کئی چکر لگائے۔ میرا یہ ناول ظاہری طور پر دوسرے ناولوں کی نسبت زیادہ سیاسی ہے۔ ’’کاز‘‘ کے باسی چوں کہ نیک دل […]
علم و عقل

جب عقل تمھیں اپنی طرف پکارے، تو اُس کی بات دھیان سے سنو۔ اُس کی بات سن کر اپنے آپ کو پوری طرح مسلح کرلو۔ کیوں کہ اللہ تعالا نے عقل سے بڑھ کر کوئی رہنما پیدا نہیں کیا اور نہ عقل سے بڑھ کر کوئی زیادہ موثر ہتھیار ہے۔ جس وقت عقل تمھارے دل […]
ناول ’’باپ اور بیٹے‘‘ (تبصرہ)
تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے اکبر اِلہ آبادی کا یہ شعر اس کتاب کی مکمل ترجمانی کرتے دیکھائی دیتا ہے۔ ایوان ترگینف نے جس زمانے میں اپنا خوب صورت اور شہرت کی بلندیوں کو چھوتا ہوا یہ شاہ کار ناول […]
میکسیکو کے ادب سے ترجمہ شدہ ناول ’’بنجر زمین‘‘
تبصرہ نگار: طارق احمد خان ’’بعض گاؤں ایسے ہوتے ہیں جن سے بدنصیبی کی بو آتی ہے۔ آپ اُنھیں پہچان لیتے ہیں اُن کی ٹھہری ہوئی ہوا کے ایک جھونکے سے باسی اور نحیف۔ ہر پرانی چیز کی طرح یہ گاؤں اُن میں سے ایک ہے سوزانا!‘‘ اوپر تحریر کیا گیا جملہ اُسی گاؤں ’’کومالا‘‘ […]
چارلس ڈکنز کا ناول ’’دو شہروں کی کہانی‘‘

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز چارلس ڈکنز سے میرا پہلا تعارف "A Tale Of Two Cities” سے ہوا۔ چوں کہ یہ کتاب میرے پاس انگلش میں موجود تھی، سرورق بھی کافی خوب صورت تھا، تو دل میں بار بار کتاب کو پڑھنے کی ایک مدھم سی خواہش پیدا ہوتی تھی…… مگر پھر وہی بات کہ انگریزی […]
دیوانوں کی ڈائریاں (تبصرہ)

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز عالمی ادب کے مصنفین کی کتب پڑھنے اور اُن کے فلسفیانہ خیالات سے واقفیت بڑھانے کا بہترین موقع ہمیں تراجم کی صورت میں میسر آتا ہے۔ عالمی ادب کے تراجم کی دنیا بہت وسیع ہے۔ جب ہم جیسے قارئین، جو اس میدان میں نئے ہیں، میں عالمی تراجم پڑھنے کا شوق جاگتا […]
چالیس چراغ عشق کے (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز محبت کے بغیر کوئی بھی زندگی کسی شمار میں نہیں۔ خود سے یہ مت پوچھو کہ تمھیں کیسی محبت کی جستجو کرنی چاہیے، روحانی یا مادی، الوہی یا دنیوی، مشرقی یا مغربی……؟ تقسیم مزید تقسیم پر ہی منتج ہوتی ہے۔ محبت کا کوئی نام نہیں، کوئی تعریف نہیں۔ یہ جو ہے […]
جہاں گرد کی واپسی (تبصرہ)

تجزیہ: سدرہ افضل ’’اوڈیسی‘‘ جسے محمد سلیم الرحمان نے ’’جہان گرد کی واپسی‘‘ کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے، ہومر کی رزمیہ نظم ہے۔ اس کے پس منظر میں تروئے کی دس سالہ جنگ ہے، جسے ہومر نے ’’ایلیڈ‘‘ کے نام سے 550 قبلِ مسیح میں نظم کیا۔ ٭ ہومر کون تھا؟ خود اہلِ یونان […]
گوشت (برازیلی ادب)

مترجم: محمد فیصل (کراچی) کیوں کہ اُس کی سال گرہ تھی، لہٰذا وہ لڑکا اپنی خواہش ظا ہر کر سکتا تھا۔ ویسے بھی اُس کی زندگی میں خواہشیں کرنے کی گنجایش کم ہی تھی۔ اُسے کھلونے نہیں چاہئیں، وہ بس روز چاول اور لوبیا کھاکھا کر تھک چکا تھا۔ اُس کے والد نے اُسے یاد […]
زمانۂ جاہلیت کے ایک شاعر کا اپنی محبوبہ کے نام قصیدہ

تحریر: شاہد انصاری عربی ادب پر علامہ احمد حسن الزیات کی لکھی ہوئی کتاب بنام ’’تاریخِ ادبِ عربی‘‘ کا مطالعہ کرنے سے زمانۂ جاہلیت کے اہلِ عرب کی مثبت زندگی کا مختصر پہلو ہاتھ آتا ہے۔ زہے عشق زہے خوبی ہوئی رخصت یہ محبوبی اٹھا گھونگٹ تو حق دیکھا، ازل عشقا ابد عشقا زمانۂ جاہلیت […]
اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی

تبصرہ نگار: فرخ سہیل گوئندی زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی‘‘ دو یہودی مصنفین کی تحقیقی اور معلوماتی کتاب ہے۔ یہ جناب اسرائیل شحاک اور نارٹن میزونسکی کی مشترکہ کاوش ہے۔ اسرائیل شحاک پولینڈ میں اپنی والدہ کے ہم راہ ایک نازی کیمپ صرف اس بنیاد پر قید کردیے گئے کہ وہ یہودی […]
ننھا شہزادہ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز ’’ننھا شہزادہ‘‘ بڑے آدمی کے نام بچوں کے مزاج پر مبنی چھوٹی مگر بڑی کتاب ہے۔ قارئین! آج بھی کہیں نہ کہیں انسان کے اندر ایک جیتا جاگتا بچہ پنہاں ہے، جو حساس مگر سنجیدہ ہے۔ سال ہا سال جب وہ اپنی عمر کی منزلیں طے کرتا ہے، تو اُس کے […]
حوزے ساراماگو کا ناول ’’اندھے لوگ‘‘

تبصرہ: یاسر رضا کہانی سے میرا تعلق کتاب کی صورت استوار ہوا اور گہرے سے گہرا ہوتا چلا گیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ بنا کتاب کے دنیا اندھیر لگنے لگتی ہے۔ میرا ذاتی تجربہ کہتا ہے کہ ٹی وی یا موبائل سکرین، تخیل کا کینوس محدود کرتی ہے۔ اس لیے کتاب کے متن […]
ناروے کی لوک کہانیاں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: منیر فراز ناروے میں مقیم شگفتہ شاہ صاحبہ نے اپنی ترجمہ کی ہوئی کتاب ’’ناروے کی لوک کہانیاں‘‘ بڑے خلوص و اہتمام کے ساتھ مجھے بھیجی ہے۔ یہ چند مہینوں میں اُن کی ترجمہ کی ہوئی دوسری کتاب ہے، جو غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے والوں کی ’’بُک شلف‘‘ کی زینت بنی […]
سورج مکھی (برازیلی ادب)

مترجم: محمد فیصل (ملتان) آسمان پر صبح کے آثار نمودار ہوچلے تھے۔ یوراگوئے کے اُس سرحدی گاؤں میں مقیم ’’فریڈریکو‘‘ کچی سڑک کے پار سورج مکھی کے پھولوں کے کھیت کو گھور رہا تھا۔ اُس کے قیمتی جوتوں پر مٹی تھی یا ریت، اُسے اندازہ نہ تھا۔ ہاں! البتہ اس کی بیوی ’’لوئیسا‘‘ فوراً بتا […]