برف باری: امیر کی تصویر، غریب کی خاموش چیخ

جب برف امیر کے لیے تفریح اور غریب کے لیے زندگی کا کڑا امتحان بن جائے، تو سمجھ لیں کہ مسئلہ موسم کا نہیں، بل کہ انتظامیہ کا ہے۔گذشتہ شب سوات اور باقی شمالی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوا، تو پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی۔ درختوں نے خاموشی کا لباس پہن […]
مانسہرہ کے ایدھی، وقاص خان

خود انحصاری ،خدمت اور ریاستی ناکامیوں کے بیچ ایک روشن مثال، وقاص خان کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔ وہ اُن گنے چنے لوگوں میں سے ہیں، جنھیں قریب سے جانا جائے، تو انسان واقعی حیران رہ جاتا ہے کہ محدود وسائل، بغیر کسی حکومتی عہدے اور بغیر کسی بڑے ڈونر کے بھی اگر نیت صاف، […]
توروالی شناخت، دریا اور ترقی کا فریب

ہم ایک مقامی (Indigenous) قوم ہیں۔ اکثر لوگوں کے لیے یہ جملہ محض ایک تجریدی دعوا ہے، لیکن ہمارے لیے، بالائی سوات کے توروالی لوگوں کے لیے یہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے، جس کی جڑیں ریاستی ڈھانچوں میں نہیں، بل کہ زمین، دریا، زبان اور یادداشتوں میں پیوست ہیں۔ ہماری شناخت اُن پہاڑوں سے […]
پی آئی اے نج کاری (تنقیدی جائزہ)

پاکستان میں جب بھی ریاستی ناکامیوں، مالی خساروں اور آئی ایم ایف کی شرائط کا دباو بڑھتا ہے، تو سب سے پہلے جس قومی ادارے کو قربانی کے لیے پیش کیا جاتا ہے، وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) ہے۔ بس ایک طے شدہ بیانیے کے تحت یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ چوں […]
دور آفات میں خطرے سے دوچار زبانیں

یہ سیشن دراصل ادب، ثقافت اور موسمیات کے موضوع پر منعقدہ دوسری قومی کانفرنس کا تیسرا پینل تھا، جس کا انعقاد یونیورسٹی آف سوات کے شعبۂ انگریزی نے کیا۔ کانفرنس 10 تا 12 دسمبر 2025ء تک جاری رہی۔اس پینل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں کوئی باقاعدہ ناظم موجود نہیں تھا۔ تین […]
ہائیڈرو پاؤر منصوبے اور کھوکھلے وعدے

پچھلے روز ایک ویڈیو نظر نواز ہوئی، جو گذشتہ دو ہفتوں سے جاری دوبیر کوہستان کے عوام کے دھرنے کی ہے۔ دراصل دھرنا اُن وعدوں کی تکمیل کے لیے دیا جا رہا ہے، جو منصوبے کی تعمیر کے دوران میں کیے گئے تھے۔کئی دہائیوں سے پاکستان میں ہائیڈرو پاؤر منصوبوں کو ’’ترقی کے انجن‘‘ کے […]
ایمان مزاری جیسا ایمان کہاں سے لائیں؟

پاکستان کا معاشرتی ڈھانچا ہمیشہ سے تضادات کا ایک ایسا جنگل رہا ہے، جہاں طاقت ور اور کم زور کے درمیان فاصلہ صرف طبقاتی نہیں، بل کہ ذہنی، معاشی اور ادارہ جاتی تقسیم کا بھی مرہونِ منت ہے۔ اس معاشرے میں اشرافیہ کے لیے قوانین، مراعات اور زندگی کے اصول کچھ اور ہوتے ہیں، جب […]
توروالی پٹی، جنگلات و شاملات کی تقسیم و تنازعات

جوں ہی اس مضمون کو لکھنا شروع کیا، تو میری فکر کئی جہتوں میں بٹ گئی۔ مَیں فلسفے، سیاسیات، سماجیات، بشریات اور نظریات میں منتشر ہوگیا۔ پھر سوچا کہ اس حصے کو چھوڑ کر سیدھا اُس تازہ مسئلے اور اس سے جڑی کچھ تاریخی باتیں قارئین کے سامنے رکھوں، جس نے حالیہ مہینوں اور گذشتہ […]
6 ستمبر غیر جانب دار مورخین کی نظر میں

ستمبر 1965ء کا ذکر آتے ہی پاکستانیوں کے ذہن میں دفاعِ لاہور اور جوانوں کی قربانیوں کے روشن چراغ جل اُٹھتے ہیں۔ ہمارے اسکولوں میں، نصاب میں اور قومی تقریبات میں یہ دن ایک عظیم فتح اور بہادری کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے…… مگر سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا […]
اصل امتحان سیلاب کے بعد ہے

پاکستان کی زمین پر ایک بار پھر آزمایش کا موسم اُترا ہے۔ آسمان سے برسنے والی بارشیں جب پہاڑوں کی چوٹیوں سے ٹکرائیں، تو پہاڑوں نے چیخ مار کر اپنی جڑوں سے پانی چھوڑ دیا۔ ندیاں بپھر گئیں، دریا غضب ناک ہو گئے، کھیت سمندر بن گئے اور بستیاں ملبے میں دب گئیں۔ کہیں کسی […]
کرۂ ارض، تسخیر سے نگہ داشت تک

بونیر، سوات، باجوڑ اور شانگلہ میں سیلابوں کی وجہ سے حالیہ اندوہ ناک تباہی نے ہم سب کو ’’کلائمیٹ چینج‘‘ کا ماہر بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی مضامین دھڑا دھڑ لکھے اور شاید پڑھے بھی جا رہے ہیں۔ بہ ظاہر یہ ایک اچھا رجحان ہے، تاہم آیا یہ وقتی اگہی کسی دیرپا عمل […]
سوشل ورک، ترقی یافتہ اقوام اور ہماری بدقسمتی

دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کو اگر قریب سے دیکھا جائے، تو اُن کے اجتماعی رویوں میں سب سے نمایاں چیز ’’سماجی خدمت‘‘ یا ’’سوشل ورک‘‘ کا جذبہ ہوتا ہے۔مذکورہ قوموں نے یہ اُصول اپنا لیا ہے کہ فرد صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا، بل کہ وہ ریاست، معاشرے اور انسانیت کا بھی […]
خدمت اور سیاست کا تصادم

خدمتِ خلق انسانیت کا سب سے اعلا وصف ہے۔ قدرتی آفات اور حادثات کے مواقع پر جب انسان سب کچھ کھو بیٹھتا ہے، تو اُمید کی ایک کرن صرف دوسروں کی مدد، ایثار اور تعاون میں باقی رہ جاتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب قوموں کی اصل روح سامنے آتی ہے۔ پاکستان میں […]
گورکین-مٹلتان ٹرانس میشن لائن اور عوامی بے چینی

سب کو معلوم ہے کہ گذشتہ ایک سال سے گورکین کالام تا درال پاؤر ہاؤس (بحرین) بجلی کی ایک بڑی لائن بچھائی جارہی ہے۔ شروع میں اس کے خلاف کافی مزاحمت رہی اور لوگوں میں بے چینی بھی رہی۔ اس سلسلے میں مقامی طور پر کئی اہم اجلاس بھی ہوئے۔ جولائی کے اواخر میں یہاں […]
اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل (شہید)

اسماعیل صاحب اُن خوش نصیب والدین میں سے تھے، جنھوں نے اپنی زندگی کو اپنے بچوں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی کے لیے وقف کر دیا۔ اُن کی گود میں پلنے والے بیٹے، گویا جگمگاتے ستارے تھے۔ بڑے بیٹے نے وطن کی حفاظت کے مقدس ادارے میں شمولیت اختیار کی اور اپنی صلاحیتوں سے […]
تجاوزات اور تضادات

سال 2014ء میں ایک قانون ’’ریور پروٹیکشن‘‘ (River Protection) کے نام سے بنا ہے۔ مذکورہ قانون کے تحت حکومتی اہل کار کبھی کبھار جوش میں آکر کچھ مشینری لے کر جاتے ہیں اور دریائے سوات کے کنارے بنی عمارات کو گرا دیتے ہیں۔اب اُن کو سیالکوٹ کے ایک ہی خاندان کے 16 افراد کی دردناک […]
شرح سود میں اضافہ، معاشی جمود یا مجبوری کی پالیسی؟

معاشی پالیسیاں کسی بھی ریاست کی سمت طے کرتی ہیں۔ کسی ملک کی معیشت کی صحت کا اندازہ اُس کی مالیاتی اور اقتصادی پالیسیوں سے لگایا جاتا ہے۔ اُن پالیسیوں میں سب سے اہم فیصلہ شرحِ سود سے متعلق ہوتا ہے، جو نہ صرف سرمایہ کاری، قرض اور بینکاری کو متاثر کرتا ہے، بل کہ […]
چلی کی کان سے دریائے سوات تک

اگست 2010ء کی ایک خنک صبح دنیا بھر کی توجہ جنوبی امریکہ کے ایک ملک ’’چلی‘‘ کی جانب مبذول ہوئی۔ وہاں کے ایک دور دراز علاقے سان خوزے کی ایک سونے اور تانبے کی کان میں 33 کان کن ایک زوردار دھماکے کے بعد زمین کے 700 میٹر نیچے پھنس گئے تھے۔ دنیا کی نگاہوں […]
کسانوں کا معاشی قتل

جب کسی ملک میں زمین زرخیز ہو، پانی وافر ہو، مزدور محنتی ہو اور فطری ماحول موافق ہو، تو وہاں خوش حالی اور خودکفالت کا ہونا ایک فطری نتیجہ ہوتا ہے، مگر جب ان تمام نعمتوں کے باوجود کسان غربت، مقروضیت اور دیوالیہ پن کا شکار ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست اپنے […]
کالام مشاورتی جرگہ کی روداد

امسال 18 مئی کو ’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ کے مدین میں مشاورتی و مزاحمتی جرگے کے بعد تحریک مسلسل یہ سمجھتی تھی کہ وہ کالام میں بھی ایک ایسے جرگے کا انعقاد کرے۔ اسی سلسلے میں ایک مہینے کے بعد مورخہ 20 جون (2025ء) کو کالام میں یہ جرگہ منعقد کیا گیا، جس کی مختصر […]
توروالی زبان و ثقافت کے امین، زبیر توروالی

دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنھیں کسی رسمی تعارف کی حاجت نہیں ہوتی۔ اُن کی افکار، خدمات، کردار اور اخلاق ہی اُن کی پہچان بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے وجود سے معاشرے کو شعور، اپنے قلم سے فہم اور اپنے عمل سے روشنی عطا کرتے ہیں۔ اُن کی زندگی محض ذاتی ترقی کا […]