فضل ربی راہیؔ، سوات کی صحافت کا درخشندہ باب

شاعر، ادیب، دانش ور، نقاد، ایڈیٹر، کالم نویس، پبلشر…… یہ ہمہ جہت شخصیت فضل ربی راہیؔ صاحب کی ہے، جو بنگالی خاندان کے چارباغ گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کے دادا مینگورہ شہر میں ایک ممتاز طبیب تھے، جو خوب صورت اور وجہہ شخصیت کے مالک تھے۔ امیر طبیب صاحب کے والد صاحب […]
سوات میں پولیس گردی نامنظور

جب قانون نافذ کرنے والے یہ سمجھنے لگیں کہ قانون کے نفاذ کے لیے اس کو توڑنا، مروڑنا یا صریحاً اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنا کوئی معیوب بات نہیں، تو سمجھیں کہ دال میں کچھ کالا ہے یا پھر پوری دال ہی کالی ہے۔ کچھ اس قسم کی دال کا نظارہ راقم نے اپنی ایک پیدل […]
دیوسائی کے برفانی چیتے

گذشتہ سہ پہر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر اِک پوسٹ نظر کے سامنے چمکی، جو اِک عزیز مہربان محمد حسن ڈورو کے اک محیر العقول کارنامے کے بارے میں تھی، جس میں اُن کو اپریل میں دیوسائی عبور کرنے کی مبارک باد دی گئی تھی۔ یہ پڑھ کر ہم انگشتِ بہ دنداں […]
صحافت کا ارتقائی سفر اور ہم

ہندوستان میں پاکستانی صحافت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ ویسے تو ہندوستانیوں کی عادت ہے پاکستان کے مذاق اڑانے کی، لیکن دو باتوں میں ہندوستانیوں کا مذاق وزنی لگتا ہے۔ ایک جب پاکستانی کہتے ہیں کہ ’’اگر ہندوستان نے پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھا تو……!‘‘ ہندوستانی میڈیا میں اس قسم کے مکالموں کا […]
وعدہ خلافی ہمارا قومی شعار

ابھی ہمارا کالج چل رہا تھا۔ ایک سینئر دوست ملنے آیا تھا۔ اُس کو رخصت کرنے ہم باقی دوست ساتھ نکلے، تو اجازت لیتے ہوئے اُس سینئر دوست نے سب کو کہا کہ گھر سے کبھی پلاسٹک کے چپل (جوتوں) میں مت نکلیں۔ اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے […]
کتاب ’’جانے دیں‘‘ کے 10 اسباق

تحریر و تلخیص: طاہر راج پوت کتاب ’’جانے دیں‘‘ جھک جانے کی طرف راستہ ہے۔ یہ کتاب جو زندگی کے بہاو کے ساتھ چلنے کا نام ہے، سے 10سنہری اُصول نذرِ قارئین ہیں: ٭ اٹیچمنٹس کو چھوڑ دیں:۔ اپنی خواہشات، مطلوبہ نتائج اور توقعات کے ساتھ اٹیچمنٹ چھوڑ دیں۔ زندگی کے ہر پہلو کو کنٹرول […]
گندم سکینڈل، حکومت کہاں کھڑی ہے؟

بات انتہائی سادہ سی ہے۔ آپ کو اپنے خرچ کے لیے گُڑ کی دو ڈلیاں چاہیے ہوں…… اور آپ کے پاس گُڑ کی ایک پوری بوری پڑی ہو۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ اس بوری کے علاوہ بھی آپ کو کوئی کہے کہ نہیں آپ دو بوریاں اور خرید لیں، تو یقینا آپ وہ دو […]
’’ودرنگ ہائٹس‘‘ عشقِ بلا خیز کی داستاں

تبصرہ: انور مختار شہزاد حسین بھٹی صاحب ’’ہم سب بلاگ‘‘ پر اس ناول کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایملی کا ناول ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ پہلی بار 1847ء میں ایلس بیل کے قلمی نام سے شائع ہوا، لیکن 1850ء میں شائع ہونے والا ایڈیشن ان کے حقیقی نام سے چھاپا گیا۔ یہ ناول گوتھک فکشن ہے […]
فلسفہ کی تاریخ (اُنتیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا اٹھائیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ افلاطون کی ری پبلک/ ریاست (The Republic):۔ افلاطون نے اپنے ’’علمیاتی نظریے‘‘ (Theory of Knowledge) کی بنیاد پر اخلاقیات (Ethics) کی بنیاد رکھی، یعنی کہ جو […]
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود

مَیں دین کے استعمال و تشریح وغیرہ پر پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر لکھنے کی ہمیشہ کوشش کرتا ہوں۔ جس پر میرے قارئین اور دوستوں کی بہت کم تعداد خراجِ تحسین پیش کرتی ہے، جب کہ زیادہ تعداد اُن لوگوں کی ہے کہ جو مجھے اس موضوع پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ […]
پنجاب، جعلی صحافیوں پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جعلی صحافیوں پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت پولیس افسران صحافیوں کے پریس کارڈ چیک کرسکتے ہیں۔ اگر کسی صحافی کے پاس غیر رجسٹرڈ اخبار، چینل یا پریس کلب کا کارڈ ہوا، تو اُس کے خلاف دفعہ 468, 459 اور 471 کے تحت […]
کام سے محبت

ایڈیٹر ’’ریاست‘‘ کی عمر ایک ماہ دس روز کی تھی جب والد کا انتقال ہوگیا اور یتیمی نصیب ہوئی۔ اُس وقت گھر میں روپیا، زیورات، زمین اور مکانات کے کاغذ تھے۔ کیوں کہ والد صاحب نے اپنی کام یاب زندگی میں کافی روپیا پیدا کیا تھا، مگر والد کے انتقال کے بعد رشتہ داروں نے […]
چشتی چمن جان

چشتی چمن جان کا اصل نام ختم النسا تھا، لیکن موسیقی کی دنیا میں ’’چشتی چمن جان‘‘ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ ایسا اس لیے تھا کہ وہ چشتیہ سلسلے کی پیر و کار تھیں۔ ختم النسا کے والد کا نام عزت خان تھا، جو سارندہ (آلۂ موسیقی) بجانے کا ماہر تھا۔ عزت کا […]
دنیا میں سب سے زیادہ چرائی جانے والی کتاب

جانتے ہیں دنیا میں سب سے زیادہ چوری ہونے والی کتاب کون سی ہے؟ "Facts Verse” نامی فیس بک کے صفحے کے مطابق "Guinness Book of World Records” دنیا میں سب سے زیادہ چرائی جانے والی کتاب ہے۔ واضح رہے کہ اس حوالے سے ڈیٹا دنیا بھر کی لائبریریوں سے اکھٹا گیا ہے۔ (یہ تحریر […]
کالی ماتا، ہندو دیو مالا میں ایک اہم کردار

تحریر: حنظلہ خلیق ہندو دیو مالا میں ایک اہم کردار دیوی کالی ماتا کا ہے۔ اس کے دوسرے نام ’’گوری‘‘، ’’پاروتی/ پاربتی‘‘، ’’ستی‘‘ اور ’’درگا‘‘ بھی ہیں۔ تریمورتی کے تین دیوتا میں سے یہ شیوا (مہادیو/ شنکر) کی بیوی ہے۔ اسے دیوی ماں کَہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔ کالی دیوی طاقت، ہمت، جنسی جذبے، […]
ڈپٹی وزیرِ اعظم کا تقرر، پسِ پردہ حقائق

قارئینِ کرام! عید سے ایک ہفتہ قبل 3 اپریل کو مَیں اپنے کالم بہ عنوان ’’اک زرداری سب پہ بھاری‘‘ میں پیش گوئی کرچکا ہوں کہ عید کے بعد پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل ہوجائے گی۔ اسی کالم میں، مَیں نے جناب اسحاق ڈار کے ڈپٹی وزیرِ اعظم بننے کی پیش گوئی بھی کی […]
خیبر پختونخوا کے سینما گھر کیوں بند ہوئے؟

پرانے سینما گھروں کا تفصیلی بیان تو ابراہیم ضیا کی کتاب ’’پشاور کے فن کار‘‘ میں بڑے منفرد انداز میں موجود ہے۔ پشاور میں کچھ ایسے سینما گھر بھی ہیں، جو بعد میں بنے اور ختم ہوگئے۔ ’’ناولٹی سینما‘‘ کو مسمار کرکے اُس پر پلازہ بنا دیا گیا ہے۔ ’’امان سنیما گھر‘‘ میڈیکل سنٹر میں […]
پبلک لائف

1942ء میں جب کانگرسی اصحاب کے ساتھ راقم الحروف بھی نظر بند کر دیا گیا، تو جیل میں سوائے کتابیں پڑھنے کے دوسرا کوئی کام نہ تھا۔ تو دہلی کے ایک کانگرسی بزرگ شری برج کرشن جی چاندی والا (جو مہاتما گاندھی کے سچے بھگت اور جو غالباً دہلی کے تمام کانگریسیوں سے زیادہ نیک […]
صوبائی خودمختاری کیوں ضروری ہے؟

پاکستان کا بننا مختلف وجوہات کا نتیجہ ہے۔ یہ وجوہات مغلیہ سلطنت کے اختتام سے لے کر تقسیمِ ہند تک پیدا ہوتی رہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے ہندوستان میں دو قومیتوں کی بنیاد رکھ دی تھی، یعنی مسلمان اور ہندو۔ مذکورہ دو قومیتوں کے درمیان خلیج نے دو الگ شناختیں […]
ناول ’’اندھیرے میں‘‘ (تبصرہ)

تحریر: عمر خان رابندر ناتھ ٹیگور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اُن کا شہرہ آفاق ناول ’’ٹھاکرانی کی ہاٹ‘‘ ٹیگور کی ابتدائی تصنیفات میں سے ہے، جس کا اُردو ترجمہ پرتھوی راج نشتر نے ’’اندھیرے میں‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا […]
امریکہ کے اندر سے فلسطین کی حمایت میں اُٹھتی آواز

ظلم یا تشدد ایک مکمل عمل کا نام ہے، جس کا ابتدا اچانک ہوتا ہے، مگر اختتام آسانی سے ممکن نہیں۔ کتابوں میں تشدد یا ظلم کے مختلف مراحل کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً: ظلم کسی بھی شکل میں ہو، اس کا ابتدا ایک جھٹکے (Shock) سے ہوتا ہے۔ یعنی کوئی بہت جانی اور قریبی […]