سیاست یا سلامتی… خیبر پختونخوا کا المیہ

خیبر پختونخوا ایک بار پھر خون میں نہا گیا۔ پیر کے روز پیش آنے والے المناک واقعات نے 21 گھروں کے چراغ بجھا دیے، جن میں 12 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بل کہ وہ انسانی زندگیاں ہیں، جن کے ساتھ خاندانوں کے خواب، امیدیں اور مستقبل وابستہ تھے… […]
شرمیلا فاروقی کا دعوا اور مولانا کا تاریخی مؤقف

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بعض مباحث ایسے ہیں، جو محض وقتی سیاسی شور نہیں ہوتے، بل کہ وہ قوم کے فکری رُخ، نظریاتی سمت اور تہذیبی شناخت کا تعین کرتے ہیں۔ کثرتِ ازدواج سے لے کر کم عمری کی شادی تک، یہ مباحث محض قانون سازی کے سوالات نہیں، بل کہ اُس بنیادی مسئلے […]
ایپسٹین فائلز اور عالمی طاقت کا مکروہ چہرہ

ایپسٹین فائلز (The Epstein files) کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں۔ یہ طاقت، دولت اور ریاستی نظام کے درمیان ایسے روابط کی داستان ہے، جنھیں برسوں تک پردۂ راز میں رکھا گیا۔ سب سے پہلا سوال یہی ہے: ’’جیفری ایپسٹین آخر تھا کون… اور وہ اس قدر طاقت […]
خدمت کی سیاست کا روشن چہرہ… مفتی فضل غفور

کچھ لوگ سیاست کو اقتدار کا زینہ بناتے ہیں، جب کہ کچھ اقتدار کے بغیر ہی سیاست کو خدمت میں ڈھال دیتے ہیں۔ مفتی فضل غفور صاحب کا شمار اُن خوش نصیب اور باکردار شخصیات میں ہوتا ہے، جنھوں نے ہمیشہ پارٹی وابستگی، سیاسی مفادات اور وقتی فائدوں سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت […]
سسٹم جب بجانے پر آتا ہے، تو ……!

مشہور لکھاری عزیز بن عزیز بشیر بھائی نے آج سے تین برس قبل ایک جملہ کہا تھا، ایک ایسا جملہ جو شاید اُس وقت بہتوں کو مبالغہ لگا ہو، مگر وقت نے اُسے حرفِ آخر ثابت کر دیا۔ دراصل انھوں نے کہا تھا: ’’سسٹم جب بجانے پر آتا ہے، پھر بجا کر ہی چھوڑتا ہے […]
بدلتی دنیا میں اطلاعاتی ذمے داریاں

قارئین! دنیا بدل رہی ہے …… اور بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ کل تک خبر کا ذریعہ ایک اخبار، ایک ریڈیو اور چند مخصوص ٹی وی چینل تھے۔ خبر کے آنے تک کئی گھنٹے گزر جاتے…… لیکن آج کی دنیا میں خبر سوشل میڈیا کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ لمحوں میں ایک ویڈیو […]
سانحۂ بونیر اورمفتی فضل غفور کا کردار

دنیا میں قیادت کی کئی تعریفیں کی جاتی ہیں۔ کوئی اسے اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، کوئی اسے عوام پر حکم چلانے کا نام دیتا ہے…… لیکن اصل قیادت وہ ہے، جو عوام کی خدمت اور اُن کے دکھ درد میں شریک ہو۔قیادت اگر خدمت کے بغیر ہو، تو محض ایک خالی خول […]
چارباغ کا مستقبل تاب ناک یا بے نور؟

سوات کی انتظامی تقسیم کے حوالے سے یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ وادی کو دو حصوں’’اپر سوات‘‘ اور ’’لوئر سوات‘‘ میں بانٹا جائے ۔ بہ ظاہر یہ فیصلہ محض ایک انتظامی حکمتِ عملی دکھائی دیتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے نہایت گہرے اثرات عوامی زندگی، تعلیم، سیاست، سماجی توازن یعنی ہر شعبے […]
سوات کی تقسیم: ترقی کا خواب یا نیا امتحان؟

حالیہ دنوں میں سوات کو دو انتظامی اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز نے نہ صرف مقامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے، بل کہ عوامی خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ اربابِ اختیار اسے ترقی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف […]
سر احمد خان (سپین دادا)

سوات کی تعلیمی فضا میں اگر کسی ایک شخصیت کا ذکر احترام، محبت اور خلوص کے ساتھ کیا جاتا ہے، تو وہ سر احمد خان ہیں، جنھیں لوگ محبت سے ’’سپین دادا‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ نام (سپین دادا) خود ان کی شخصیت کا عکاس ہے…… ’’سپید نیت‘‘ (پشتو اصطلاح، جو صاف نیت […]
فوجی آپریشن اور گنڈاپور سرکار کی دو رنگی

صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر فوجی آپریشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ باجوڑ اور وزیرستان کے حالات، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پس منظر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ آپریشن صوبے کی مرضی سے […]
عزیز بن عزیز، الفاظ کا جادوگر

کہتے ہیں قلم میں وہ کاٹ ہے، جو تلوار کے فولاد میں نہیں اور وہ اثر جو بارود کے دھویں میں نہیں…… مگر یہ جادو ہر ہاتھ کے نصیب میں نہیں اُترتا۔کچھ لوگ لفظ لکھتے ہیں، تو بس کاغذ پر سیاہی کا بوجھ بڑھاتے ہیں، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے الفاظ چراغ کی […]
تحصیل ماموند میں قیامتِ صغرا

ہجرت بھی وہی، درد بھی وہی…… خیمے بدلتے ہیں، مگر زخم وہی رہتے ہیں……!باجوڑ پاکستان کے شمال مغربی کنارے پر واقع وہ وادی ہے، جہاں کبھی شام کے سائے تندور کی خوش بو اور بچوں کی قلقاریوں سے مہکتے تھے، آج ایک بار پھر دھوئیں اور خاموشی میں ڈوبی ہوئی ہے۔تحصیلِ ماموند کے لوگ ایک […]
باجوڑ، مولانا عبدالرشید کی خاموش مزاحمت

باجوڑ……!ایک ایسی سرزمین جہاں صبح کی روشنی امن کی اُمید نہیں، بل کہ کسی اور جنازے کی خبر لاتی ہے…… جہاں اذانیں بم دھماکوں کی گونج میں دب چکی ہیں……جہاں ہر محلے میں ایک شہید کی تصویر ہے اور ہر دل میں ایک قبر کا درد۔باجوڑ وہ خطہ ہے، جسے ریاست نے دہائیوں تک جنگی […]
جواب الجواب

فاضل دوست کی تحریر ’’جامعات و دینی مدارس (جوابِ آں غزل)‘‘ میں پاکستانی جامعات اور دینی مدارس کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے ایک مخصوص زاویۂ نظر اختیار کیا گیا ہے، جس میں مدارس کو طنز و تحقیر کا نشانہ بنایا گیا ہے اور جامعات کے کردار کو یک طرفہ طور پر مثالی بنا کر پیش […]
اجتماعی بیداری کا نیا باب

قبائلی اضلاع کی فضا ایک بار پھر اضطراب میں ہے۔ وادیِ تیراہ اور شمالی وزیرستان، جو برسوں سے دہشت گردی، فوجی آپریشنز، جبری نقلِ مکانی اور ریاستی بے حسی کا سامنا کرتے چلے آ رہے ہیں، اَب خود امن کی پکار بن کر اُبھر رہے ہیں۔ یہ محض احتجاجی مظاہرے نہیں، بل کہ اجتماعی بیداری […]
جامعات اور دینی مدارس (مختصر تقابلی جائزہ)

2025ء کی تازہ ترین "QS World University Rankings” میں پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی ٹاپ 350 یونیورسٹیوں میں جگہ نہ بنا سکی…… جب کہ بھارت کی 11، ایران کی 4 اور بنگلہ دیش کی 2 جامعات عالمی فہرست میں نمایاں ہیں۔پاکستان کا اعلا ترین درجہ رکھنے والی یونیورسٹی ’’نسٹ‘‘ (NUST) کا نمبر 367واں […]
دریائے سوات، ریاست کی لاش بہا لے گیا

آج پھر دریا بپھر گیا۔ لمحوں میں اٹھارہ جانیں نگل گیا۔ کوئی وارننگ دی گئی، نہ اطلاع۔ اسے کوئی روکنے والا تھا، نہ انسانی جانوں کو کوئی بچانے والا ہی تھا۔سیلابی ریلا کالام سے شور مچاتا نکلا، دھاڑتا ہوا بحرین پہنچا، شور مچاتا ہوا مدین سے گزرا اور بائی پاس تک پہنچا۔ راستے میں لوگ […]
درویش منش ڈاکٹر محمد حنیف

علم و دانش کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو شور و شہرت کے بغیر بھی اپنے علم، کردار اور اخلاص سے ایک خاموش انقلاب برپا کر جاتی ہیں۔ اُن کے الفاظ کم، مگر اثر گہرا ہوتا ہے۔ اُن کی گفتار نرمی سے لب ریز اور اُن کی طبیعت مرنجان مرنج ہوتی ہے۔ایسی […]
ایران کی جوابی چال عالمی طاقتوں کے لیے آزمایش

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی خبروں کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کی پارلیمانی منظوری دے کر بین الاقوامی سطح پر ایک غیر معمولی اور نازک صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ یہ فیصلہ فقط ایک مقامی ردِعمل نہیں، بل کہ عالمی توانائی […]
نجی اسکولوں میں ٹھنڈے پانی کو ترستے بچے

سوات، بالخصوص چارباغ اور گرد و نواح میں قائم اکثر نجی تعلیمی ادارے ’’درس گاہ‘‘سے زیادہ ’’تجارتی مرکز‘‘ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ والدین سے ہزاروں روپے ماہانہ فیس کے نام پر مختلف مدات جیسے ’’ٹیوشن فیس‘‘، ’’اسپورٹس فیس‘‘، ’’ایگزامنیشن فیس‘‘، ’’پروموشن فیس‘‘ وصول کی جاتی ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر ان اسکولوں میں […]