سوشل میڈیا، ثقافتی اظہار اور فکری تقسیم

گذشتہ دو دہائیوں میں خیبر پختونخوا کا سماجی و سیاسی منظرنامہ غیر معمولی تغیرات سے گزرا ہے۔ عسکریت پسندی، ریاستی آپریشنز، نقلِ مکانی، عالمی سیاست کے اثرات، اور اب سوشل میڈیا کی برق رفتار دنیا، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے چکے ہیں، جہاں ہر واقعہ فوری طور پر ایک وسیع […]
نصابِ تعلیم: اعتدال سے نظریہ سازی تک

پاکستان میں نصابِ تعلیم کبھی محض درسی مواد کا مجموعہ نہیں رہا، بل کہ ریاستی ترجیحات، سیاسی اُتار چڑھاو اور قومی بیانیے کی تشکیل کا ایک طاقت ور ذریعہ رہا ہے۔ آزادی کے فوراً بعد کے برسوں میں اگرچہ نصاب میں مذہب اور قومی شناخت کا ذکر موجود تھا، تاہم مجموعی رجحان نسبتاً اعتدال پسند […]
ہنر کی قدر، انسان کی محرومی

’’بڑھئی‘‘ کے عنوان سے یہ اُردو درسی متن، جو 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں اُس وقت کے صوبہ سرحد (NWFP)، موجودہ خیبر پختونخوا، میں پرائمری سطح پر بہ طورِ نصاب پڑھایا جاتا رہا۔ بہ ظاہر محنت، دیانت اور خدمتِ خلق کی اخلاقی اقدار کو اجاگر کرتا ہے۔ بچوں کے لیے لکھی گئی اس سادہ […]
سکول وزٹس: خوش کن دعوے اور تلخ حقائق

29 نومبر 2025ء کو مجھے سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈی ای اُو، جناب فضل خالق، کے ساتھ چند پرائمری اور مڈل سکولوں کا مشترکہ دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ڈپٹی صاحب کا اندازِ معائنہ غیر رسمی مگر پیشہ ورانہ تھا؛ ریکارڈز کی جانچ پڑتال، کلاس رومز کا مشاہدہ اور طلبہ کی علمی قابلیت کا […]
ملاکنڈ یونیورسٹی جنسی ہراسانی معاملہ: چند سوالات

ملاکنڈ کی ایک نام ور یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ایک جنسی ہراسانی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں، بل کہ پورے پختون معاشرے میں ایک ہل چل مچا دی ہے۔اطلاعات کے مطابق، پاکستان اسٹڈیز کے ایک لیکچرار عبدالحسـیب خان، جو کہ ’’یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن‘‘ (MUTA) کے اطلاعاتی سیکرٹری […]
ڈاکٹر اَسرار: اسلام، حاکمیت الٰہی اور جمہوریت

اسلام اور جمہوریت کے تعلق پر مولانا اَسرار احمد کا موقف یہ ہے کہ اسلام انسانی حاکمیت کی نفی کرتا ہے اور خلافت کو اس کا متبادل پیش کرتا ہے۔ اُن کے مطابق، انسان دنیا میں اللہ کا نائب بن کر آیا ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا: ’’مَیں زمین میں ایک خلیفہ بنانے […]
انسانی ہم دردی اور عالمی تضاد

2005ء کے تباہ کن زلزلے کے دوران میں پاکستان کو دنیا بھر سے امداد ملی، لیکن امریکی امداد اپنی وسعت اور اثرات کے اعتبار سے نمایاں رہی۔ امریکی حکومت نے نہ صرف مالی امداد فراہم کی، بل کہ اپنی فوجی اور طبی ٹیموں کو بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجا۔ امریکی ہیلی کاپٹروں نے دور دراز […]
برٹش سامراجیت، سرتور فقیر اور سواتیوں کی بغاوت

٭ پس منظر:۔ اَخوند صاحب کی وفات ( 1877-78ء) کے بعد، سوات میں مختلف دعوے داروں کے درمیان اقتدار کے حصول کے لیے کئی سالوں تک اندرونی جھگڑے اور سازشیں جاری رہیں۔ (Hay, The Yousafzai State of Swat, 513)برطانوی حکومت کے لیے بڑے خطرات میں امیر افغانستان (امیر عبدالرحمان) کا سوات پر دعوا اور سوویت […]
اخوند عبد الغفور (سیدو بابا): ’’پوپ آف سوات‘‘

٭ تعارف:۔ سوات کے مذہبی اور سیاسی اُفق پر اخوند آف سوات کا کردار انتہائی نمایاں اور موثر رہا ہے۔ اُن کے روحانی اثر و رسوخ نے نہ صرف سوات، بل کہ اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ انگریزوں نے اُنھیں ان کے سیاسی، مذہبی اور سماجی اثرات کی بنا […]
امبیلہ مہم اور اخوند سوات (سیدو بابا) کا کردار

٭ تاریخی پس منظر:۔ 1849ء میں برطانوی ہندوستان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو فتح کرنے کے بعد وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس کے ساتھ ہی سید احمد بریلوی کی تحریک سے جڑے مجاہدین نے ستھانہ اور ملکا کو اپنے مراکز بناکر انگریزوں کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ برطانوی حکام نے […]
اخوند عبد الغفور اور سوات میں پہلی اسلامی ریاست کا قیام

٭ بیک گراؤنڈ:۔ سید احمد بریلوی کی شہادت کے بعد سوات اور ملحقہ علاقوں میں ایک نئی سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا۔ 1831ء میں سید احمد بریلوی کی بالاکوٹ میں شہادت کے بعد، سوات اور گردونواح میں ایک نئی لیکن مختلف اسلامی مذہبی اتحاد تشکیل پایا، جس میں طریقت اور شریعت کے درمیان ایک منفرد […]
عمران خان کا سیاسی کیریئر (اجمالی جائزہ)

1992ء کے کرکٹ ورلڈ کپ میں تاریخی کام یابی کے بعد عمران خان نے خیبر پختونخوا (جو اُس وقت صوبہ سرحد کہلاتا تھا) کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اس دوران میں وہ اکثر روایتی پشتون لباس اور بندوق کے ساتھ تصاویر میں نظر آتے، جو اُن کے عوامی اور ثقافتی تعلقات کو ظاہر […]