سوئے سکردو (ٹورسٹوں کی اقسام)

Blogger Khalid Hussain

سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہےیہ آرزو ہے … مرے ساتھ تو سفر کرتاقارئین! ٹورسٹوں کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں: پکے (آرلے)، کچے (پارلے) اور وچکارلے۔پکے ٹورسٹس وہ ہوتے ہیں، جو آندھی آئے یا طوفان، ہنیریاں جھلن یا ہو جائے سرسام، بے آرامی ہو یا ہو آرام، وہ موقع محل دیکھ کر […]

سوئے سکردو (ذکرِ ہم‌سفراں به پایاں رسید)

Blogger Khalid Hussain Borewala, Punjab

غمگین دہلوی کے بہ قولوہ لطف اُٹھائے گا سفر کاآپ اپنے میں جو سفر کرے گاعلی ارسلان جٹ ہمارے اس سفر میں ہمارے اگلے ساتھی تھے، جو پیدایشی بائیکر ہیں۔ ساری عمر لاہور میں رہ کر، لاہور کے گلیاں کوچے گھوم پھر کر اور لاہور میں بزنس کے ششکے لے لے کر گزار دی۔ ابھی […]

سوئے سکردو (قافلۂ ہم سفراں)

Blogger Khalid Hussain Borewala

وہ جو کہتے ہیں کہ کوئی سفر لا حاصل نہیں ہوتا ہے۔ منزل ملے یا نہ ملے، منزل کی طرف جانے والے راستے بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ہمارا اس سال (2025ء) کا سفر جانبِ سکردو تھا۔ سکردو خوابوں کی سرزمین ہے ۔ پریوں کا مسکن ہے۔ نیک سیرت، سادہ، بھلے مانس اور فرشتہ صفت لوگوں […]

کیلاش کا مقدس پہاڑ

Blogger Khalid Hussain Borewala

کیلاش کا پہاڑ (21778فٹ)، تبت کے علاقے میں ہے، جو آج کل چین کے زیرِ تسلط ہے۔ ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور بون مت کے چاروں مذاہب کے نزدیک یہ ایک مقدس پہاڑ ہے۔ اسی کے ساتھ جھیل مانسروور اور جھیل رکشاستل نام کی دو عدد بڑی جھیلیں بھی ہیں۔ مانسروور جھیل کا […]

پنجاب کا لوڑی تہوار کیا ہے؟

Blogger Khalid Hussain Borwala

’’لوڑی‘‘ کا تہوار پنجاب کی ثقافت سے جڑا تہوار ہے، جو ہر سال 13 جنوری یا اس کے قریب قریب، یکم ماگھ (پنجابی کیلنڈر کے 11ویں مہینا میں) منایا جاتا ہے۔ یہ سردیوں ( پوگ یا پوہ) کے اختتام اور بڑے اور کھلے دنوں کے آغاز کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ بچے گھر گھر […]

دروش (چترال)، پالولہ/ شینا اور مختلف قومیں

Blogger Khalid Hussain

شاہی قلعہ نگر، دریائے چترال کے کنارے عین اُس جگہ پر بنایا گیا ہے، جہاں قدرتی طور پر کھڑی ایک بڑی اور مضبوط چٹان پھیلتی ہوئی دریا کے اندر تک چلی آتی ہے۔ یہ قلعہ بھی اُسی چٹان پر بنا ہے۔ دریا کا پانی سیدھا اس چٹان سے آ کر ٹکراتا ہے اور پھر اپنا […]

سوات موٹر وے، سرتور فقیر اور چرچل پکٹ

Blogger Khalid Hussain Borewala Punjab

اچھی اور صاف ستھری سڑکیں فاصلوں کو سمیٹ کر خوش گوار بنا دیتی ہیں۔ راولپنڈی سے مینگورہ شریف تک جانے کے لیے ویگن پر 7 سے 8 گھنٹے تک کا تھکا دینے والا سفر درکار ہوتا تھا۔ جو اَب سوات موٹر وے بننے سے سمٹ کر 4 گھنٹے تک محیط ہو کر رہ گیا ہے۔ […]

مسکرائیے…… آپ مردان میں ہیں!

Blogger Khalid Hussain Borewala

مردان میری جانمیرے ڈھول سانورےپہ خیر راغلے، پہ خیر راغلےمردان خوش دِل، خوش حال و خوش جمال لوگوں کا شہر ہے۔ آپ چاہے کتنے تھکے ماندے، پریشان حال اور دل گرفتہ ہوں، مردان کے ماتھے کا جھومر اوور ہیڈ پر لگا اشتہار ’’مسکرائیے…… آپ مردان میں ہیں!‘‘ایک بار تو آپ کو مسکرانے پر مجبور کر […]

دیوسائی کے برفانی چیتے

Blogger Haneef Zahid

گذشتہ سہ پہر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر اِک پوسٹ نظر کے سامنے چمکی، جو اِک عزیز مہربان محمد حسن ڈورو کے اک محیر العقول کارنامے کے بارے میں تھی، جس میں اُن کو اپریل میں دیوسائی عبور کرنے کی مبارک باد دی گئی تھی۔ یہ پڑھ کر ہم انگشتِ بہ دنداں […]

ڈاکٹر شاہد اقبال کا سفرنامہ ’’لپکے لاء‘‘ (تبصرہ)

Blogger Hanif Zahid Borewala

’’سفر نامہ‘‘ ہم جانتے ہیں کہ یہ لفظ بے جا کثرتِ استعمال سے بے آبرو ہوچکا ہے۔ کوئی اچھی تصویر بنا لے، اچھا کوہ پیما ہو، کوہ نورد، سیاح یا با ئیکر ہو، تو اچھا لکھ بھی لے…… ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے۔ ہم اچھا لکھنے کے معاملے میں شیخ سعدی کے ہم نوا […]

سوات کبھی مایوس نہیں لوٹاتا

Blogger Khalid Hussain

جواں ہے محبت حسیں ہے زمانہ لٹایا ہے دل نے خوشی کا خزانہ وادیِ سوات سے مجھے ہمیشہ محبت ملی۔ مَیں جب جب بھی گیا، جس موسم میں بھی گیا، سوات نے مجھے مایوس نہیں لوٹایا۔ بہار میں اپنی کومل کلیوں کو چٹکا کر میرے من کو للچایا۔ بہار پر بہار کے گیسوئے دراز کو […]

کچھ امجد خاں تجوانہ کے بارے میں

Blogger Khalid Hussain

مَیں زندگی کے حسیں ضابطے میں ہوں درود پڑھ رہا ہوں خدا سے رابطے میں ہوں امجد خاں تجوانہ ایک اُبھرتے ہوئے نوجوان شاعر، بورے والا ٹریکرز کلب کے ایک اہم ممبر اور بہترین ٹریکر ہیں۔ وہ بورے والا شہر کی اُن چنیدہ شخصیات میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی محنتِ شاقہ، آپسی میل […]

ڈاکٹر شاہد اقبال بورے والا ایک عہد ساز شخصیت

کسی بھی ادارہ سے ریٹائرمنٹ سرکاری ملازمت کا حصہ ہے اور کسی بھی سرکاری ملازم کے لیے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں کہ وہ اپنی مدتِ ملازمت پوری کرکے باعزت طور پر سبک دوش ہو جائے۔ الحمد للہ، آج ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب محکمۂ صحت کے ساتھ اپنی 33 سالہ رفاقت پوری کرکے باعزت […]

"ڈینڈی بوائے” (شخصی خاکہ)

بچپن کی بات ہے، ہمارے گاؤں میں ایک بوڑھی اماں ہوا کرتی تھی۔ اس کے لخت جگر کا نام حنیف ہوا کرتا تھا۔ وہ جب بھی اُسے اُونچی آواز دے کر پکارتی، تو ہمیشہ اپنی سادگی اور بھول پن کی وجہ سے نحیف کہتی تھی…… یعنی ’’وے نحیف…… وے نحیف پتر!‘‘ مگر ہمارا دوست حنیف […]