ڈراما نیا مگر سکرپٹ پرانا ہے

ابلاغیات (میڈیا) کی ایک اہم قسم ’’سیاسی ابلاغیات‘‘ ہے…… جس کے ذریعے سیاسی راہ نما عوام اور ووٹرز تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ ابلاغیات کی اثر پذیری ہی کی وجہ سے عام ووٹر، ووٹ دیتے وقت کسی خاص پارٹی کا انتخاب کرتا ہے۔ اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے […]
پوسٹل بیلٹ کا حصول آسان بنایا جائے

انتخابات کو شفاف، غیر متنازعہ اور قابلِ اعتبار بنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے انتخابی قواعد میں بعض ترامیم، اضافے اور نئی شقیں متعارف کروائی ہیں جو کہ احسن قدم ہے۔ پاکستان میں کبھی انتخابی نتائج کو غیر متنازعہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ بھاری مارجن سے ہارنے والا امیدوار بھی انتخابی نتائج کو خوش دِلی […]
انتخابی اصلاحات وقت کا تقاضا

پاکستان میں عام انتخابات جنوری 2024ء کے آخری ہفتے میں ہونے جا رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں اب انتخابی ماحول بننے جا رہا ہے۔ نئے انتخابی اتحاد بننے کا ابتدائی مرحلہ جاری ہے۔ سیاسی قائدین کی آپس میں بات چیت جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور […]
سسٹم کی تبدیلی وقت کا تقاضا ہے!

خیر سے عمران خان کے معتمدِ خاص فرخ حبیب بھی پریس کانفرنس کرکے ’’نہائے دھوئے‘‘ گھوڑے بن گئے ہیں۔ اُن سے قبل عمران خان کی ناک کے دو بال عثمان ڈار اور صداقت علی عباسی بھی یہ سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ سنا ہے ’’اصلی تے نسلی‘‘ ہونے کے دعوے دار شیخ رشید بھی خود […]
ہمیں بھی ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ دیں!

آزادی کے بعد قائدِ اعظم محمد علی جناح، اُن کے رُفقائے کار اور ہمارے دیگر بزرگوں نے جس سمت میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، گورنر جنرل غلام محمد خان نے اُسے موڑتے ہوئے دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کرکے تاریک منظر نامے میں تبدیل کر دیا۔ فضل منان بازدا کی دیگر تحاریر پڑھنے […]
مائنس ون فارمولہ سیاست سے مائنس کیا جانا چاہیے

بدقسمتی سے ملکِ عزیز میں جمہوریت کا حال ماضی سے لے کر حال تک مخدوش اور پتلا رہا ہے۔ مستقبلَ قریب میں بھی اس میں بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے کہ ہمارے اداروں اور سیاست دانوں نے ماضی کے تجربات اور غلطیوں سے سبق حاصل کرنے اور ذمے داروں کے انجام سے سیکھنے […]
تبدیلی کا دُرست راستہ

پاکستان میں کروڑوں لوگوں کو لگتا تھا اور ایک اکثریت کو اب بھی لگتا ہے کہ عمران خان اس ملک کا نظام درست کرسکتا ہے، تو اُنھوں نے ڈَٹ کر اُن کا ساتھ دیا، اور ووٹ دے کر اُن کو وزیرِ اعظم بھی بنایا۔ وہ تین سالوں میں شاید وہ کچھ نہ کرسکے، جو اُن […]
ایک قیامت اور سہی!

مَیں نے ایک بار اِس ملک کے ایک منجھے ہوئے سیاست دان سے پوچھا کہ ہمارے ملک میں انصاف، امن اور خوش حالی کب آئے گی؟ اُنھوں نے دوسرے ہی لمحے زوردار قہقہہ لگایا اور کہا: ’’قیامت کے دن……!‘‘ شبیر بونیری کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/shabeer-buneri/ […]
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں

پاکستان کی ایک پرانی پنجابی فلم ’’چڑھدا سورج‘‘ کا ایک گیت جسے نسیم بیگم نے گایا تھا، آج رہ رہ کر یاد آ رہا ہے: سجن سوہنا نہ ملے نا سہی ملے تے غیرت والا نی بھاویں ہووے رنگ دا کالا نی یعنی محبوب خوب صورت نہ ملے، تو پروا نہیں، لیکن وہ غیرت مند […]
کیا ایک بار پھر معلق پارلیمان ملنے والا ہے؟

پاکستان میں اگلے عام انتخابات جب بھی ہوں، اس امر کے امکانات ہیں کہ اُن کے نتیجے میں پارلیمنٹ معلق ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی ایک جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی…… اور حکومت بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کو اتحاد تشکیل دینا ہوگا۔ ایسے کئی عوامل ہیں جو ملک میں معلق […]
انتخابی اصلاحات ناگزیر ہیں

پاکستان کے چاروں صوبوں اور مرکز کی منتخب اسمبلیاں ختم ہوچکی ہیں۔ مرکز میں نگرانوں نے عنانِ حکومت سنبھال لی ہے۔ صوبوں میں بھی نگرانوں کے تقرر کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ آئین کے مطابق نگران حکم رانوں نے 90 روز تک ملکی اور صوبائی معاملات چلانے کے ساتھ ساتھ نئے الیکشن کرانے میں […]
سوات، سیاسی جماعتوں کی انتخابات کے لیے تیاریاں شروع

9 مئی کے واقعات کے بعد ڈھیر سارے لوگ تحریکِ انصاف کو چھوڑ کر جانے لگے، لیکن اِس بات کی اُمید کسی کو بھی نہیں تھی کہ سابق وزیرِ اعلا محمود خان بھی ’’خان‘‘ سے راہیں جدا کرلیں گے۔ فیاض ظفر کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fayaz-zafar/ […]
اسحاق ڈار ہی نگران وزیرِ اعظم ہوں گے

موجودہ حکومت کا جانا اب دنوں کی بات ہے۔ نگران وزیرِ اعظم کے نام کے سلسلے میں گذشتہ قریباً ایک مہینے سے مشاورت کاعمل جاری ہے۔ اس ایک مہینے کے دوران میں نصف درجن نام سامنے آئے اور ہر نام کے ساتھ ’’آیندہ کا یقینی نگران وزیرِ اعظم‘‘ لکھ کر دعوا کیا جاتا رہا کہ […]
عمران فوبیا؟

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیانیے سے شہرت حاصل کرنے والا ’’سائفر‘‘ یا ’’مراسلہ سکینڈل‘‘ یا ’’ڈراما‘‘ ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ فضل منان بازدا کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-manan-bazda/ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری […]
کیا ریاستی ادارے ابلاغیاتی ناکامی کا شکار ہیں؟

گذشتہ کچھ مہینوں سے یہ نکتہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ سب کچھ میڈیائی پابندیوں سے ممکن نہیں۔ اس لیے ملک کے شمال اور جنوب کے حوالے سے جو غیر علانیہ میڈیائی پالیسی اپنائی گئی ہے، وہ بری طرح فیل ہوچکی ہے۔ اب تو خیر باقی ملک کی بات بھی بدل سی گئی […]
کیا پی ٹی آئی پر پابندی لگنے جا رہی ہے؟

اگر عمران خان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی ابہام تھا، تو الیکشن کمیشن نے اُسے بھی دور کر دیا۔ خبر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ’’بلے‘‘ کے نشان کو بیلٹ پیپر میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان تحریکِ انصاف آیندہ الیکشن میں شاید حصہ […]
ایک ملین ڈالر کا سوال، انتخابات بروقت ہوں گے؟

آج کل یہ ملین ڈالر کا سوال بنا ہوا ہے کہ کیا عام انتخابات وقت پر ہوں گے؟ اس سوال کے مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف جوابات آ رہے ہیں۔ کسی کے نزدیک الیکشن کا انعقاد بہت مشکل ہے، جب کہ کوئی انتخابات کو وقت پر ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے۔ بعض کے نزدیک […]
دہشت گردی یا سیاسی دشمنی؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 9مئی 2023ء کو چیئرمین عمران خان کی گرفتاری اور بعد میں ان کی رہائی کی وجہ سے پورا پاکستان سیاسی بحران کا شکارہوچکا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، پی ڈی ایم حکومت اور کچھ سینئر صحافیوں نے عمران خان پر دہشت گردی، القادر ٹرسٹ، توشہ خانہ اور […]
عمران خان کا المیہ

وفاقی حکومت چھن جانے کے بعد بھی پی ٹی آئی کے پاس پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی چار حکومتیں موجود تھیں۔ یہ کہنا چاہیے کہ 60 فی صد سے زائد علاقے اور لوگوں پر پی ٹی آئی حکم ران تھی۔ تب پی ٹی آئی کے وزرا طنزاً کہا کرتے تھے کہ […]
شہنشاہی مراعاتی بِل کی واپسی

خبر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے شدید مخالفت اور تنقید کے بعد چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے اپنے اور اپنے جیسوں کے لیے پیش کردہ ’’شہنشاہی مراعاتی بِل‘‘ واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے پیش کرنے والے سینیٹرز کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اس بِل کو واپس لے لیا جائے۔ […]
پابندی نہیں، مکالمہ حل ہے

قارئین! ہٹلر کا نام تو آپ نے سنا ہوگا۔ جرمنی کا کسی زمانے میں مشہور آمر گزرا ہے۔ وہ ’’نازی پارٹی‘‘ کا سربراہ اور پھر جرمنی کے مطلق العنان حکم ران اور آخر میں جرمنی کے زوال کا ذمہ دار بھی تھا۔ اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک […]