گھنٹا

گھنٹا (ہندی، اسمِ مذکر) کا اِملا عموماً گھنٹہ لکھا جاتا ہے۔ مذکورہ لفظ کے اِملا کے حوالے سے لغات کی آرا ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثلاً: فرہنگِ آصفیہ کے مطابق صحیح اِملا ’’گھنٹا‘‘ ہے، مگر ’’گھنٹہ‘‘ بھی ساتھ رقم ملتا ہے۔ آگے جاکر صاحبِ آصفیہ نے محاورات میں ’’گھنٹا‘‘ درج کیا ہے نہ کہ […]

سوانح نگاری

تحریر: پروفیسر عبدالحفیظ  سوانح نگاری کا فن بڑا ہی نازک اور بہت دشوار فن ہے۔ کسی بھی شخصیت کی سوانح مرتب کرنا اور پوری طرح سے اس سے عہدہ برآ ہوجانا ایسا ہی ہے، جیسے کوئی تلوار کی دھار پر چل کر سلامت اُتر جائے۔ سوانح نگاری میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھا جاتا […]

’’کتاب کہانی‘‘ ہم سب کا سچ ہے

تبصرہ: روشی سمیع خان ہم سب کی زندگی میں سب سے خوب صورت چیز خواب دیکھنا ہے، البتہ خواب کی تعمیل کا معاملہ الگ ہے۔ ہر عمر کے خواب الگ ہوتے ہیں۔ بچپن سے جوانی کی دہلیز میں قدم رکھتے ہوئے کیا ہم سب سماجی انقلاب اور بغاوت کے خواب نہیں دیکھتے…… اور پھر اُسی […]

بے مثل ادیب ونود کمار شکل

تحریر: خالد فرہاد  ہندی کے مشہور شاعر اور ناول نگار ونود کمار شکل کو سال 2023ء کا ’’پین نابوکوف‘‘ انعام ملا ہے۔ یہ ایوارڈ بین الاقوامی ادبی انعامات میں سے ایک ہے اور دنیا بھر میں 145 سے زیادہ قلمی مراکز اس سے وابستہ ہیں۔ یہ ایوارڈ ہر سال منفرد اسلوب کے حامل کسی ادیب […]

آپ بیتی

لفظ آپ بیتی دو لفظوں ’’آپ‘‘ ا ور ’’ بیتی‘‘ کا مرکب ہے۔ آپ کے معنی ہیں ’’خود‘‘ اور بیتی ’’گزرے ہوئے حالات‘‘ کو کہتے ہیں۔ اپنے آپ یا خود پر گزرے ہوئے حالات کو قلم بند کرنے یا تحریر کرنے کو آپ بیتی کہتے ہیں۔ مجید اللہ گل کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے […]

جاب کو بوریت کا سامان سمجھنے والوں کے نام

عام نوکری کرنے والوں سے لے کر خاص اور بااثر نوکری کرنے والوں تک سے مجھے جو بات سب سے زیادہ سننے میں آئی، وہ کام سے منسلک بوریت کے احساسات ہیں۔ جہاں روز اُٹھو، وہی روزمرہ کے کام، وہی نوکری، وہی گھسی پٹی زندگی……! میڈیا بھی اس قسم کی فلمیں دکھا کر ہمیں بتاتاہے […]

ساغرؔ صدیقی اور ستارۂ امتیاز

کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں مست مجذوب درویش شاعر ساغر صدیقی کو انتقال کے 50 سال بعد ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ ساغرؔ زندگی کو جبرِ مسلسل کی طرح کاٹنے والے شاعر تھے۔ ان کی سخی لعل شہباز قلندر کی عقیدت میں لکھی گئی […]

تاریخِ عالم (کتاب کا تعارف)

تحریر: اخلاق احمد قادری (کتاب کے مصنف) العلم التاریخ اپنے وسیع معنی میں انسان کی سرگذشت اور اُس کو اِس دنیا میں پیش آنے والے واقعات کا مرقع ہے۔ اِس مرقع کا آغاز اُس وقت ہوا جب انسان آدم سے پہلے یا بعد حیوانات کی منزل سے انسانیت کے دائرے میں قدم رکھا تھا۔ اس […]

فرحت عباس شاہ کا اعزاز

وہ روایت شکن بھی ہے اور روایت گر بھی۔ جب کسی کے ساتھ محبت اور شفقت کا سلوک کرنا ہو، تو کُھل کھلا کر کرتا ہے۔ نفرت بھی بے دھڑک اور ببانگِ دُہل کرتا ہے۔ اگر ایک طرف شجرِ ادب کی بلند و بالا شاخوں پر بیٹھے بوڑھے اور روایتی گِدھوں کو آڑے ہاتھوں لیتا […]

حقیقی فرانز کافکا کی تلاش

ترجمہ: عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی) پہلی دفعہ جب فرانز کافکا کی آواز میرے دماغ میں داخل ہوئی، تو مَیں اُس وقت پندرہ سال کا تھا۔ اَدب میں مشترکہ دلچسپی رکھنے کی بنیاد پر جو دو نئے دوست بنائے تھے، انھوں نے مجھے فرانز کافکا کے فکشن سے متعارف کروایا ۔ ہم باری باری "Willa” اور […]

باتونی بسیا (سلاوی لوک کہانی)

ترجمہ: جاوید بسام  (نوٹ:۔ یہ ایک ’’سلاوی لوک کہانی‘‘ (Salavic folk tale) کا ترجمہ ہے جس کا انگریزی میں عنوان "Chatterbox Basya” ہے، مدیر) سب لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ماہی گیر فطرتاً کم گو ہوتے ہیں۔ وہ شکار کے لیے سمندر میں جارہے ہوں، یا تھکے ہوئے ساحل پر واپس آرہے ہوں…… […]

ننھا فریک اور اس کا وائلن (ناروے کی لوک کہانیاں)

ترجمہ: شگفتہ شاہ (ناروے) (نوٹ:۔ محترمہ شگفتہ شاہ نے ناروے کی لوک کہانیوں کو ترجمہ کرنے کا سلسلہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ کے ایک صفحہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ پر شروع کر رکھا ہے۔ ’’ننھا فریک اور اُس کا وائلن‘‘ مذکورہ سلسلے کی پانچویں کڑی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) بہت […]

کبھی تکمیل تک نہ پہنچنے والے ’’ٹُو گنڈہاٹ‘‘

تحقیق و تحریر: مقبول ملک  معروف جرمن فلسفی ’’ارنسٹ ٹُوگنڈہاٹ‘‘ (Ernst Tugendhat) تریانوے (93) برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ یہ جرمن مفکر عہدِ حاضر کے لسانیاتی تجزیاتی فلسفے کے علم بردار اہم ترین فلسفیوں میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کا انتقال جنوبی جرمن شہر فرائی بُرگ میں ہوا۔ ’’ارنسٹ ٹُوگنڈہاٹ‘‘ کا نظریہ یہ تھا […]

شبِ برات/ مومنٹو موری

جدید دنیا کا زندگی کے متعلق اس طرح کا رویہ ہے کہ جیسے موت تو کبھی آنی ہی نہیں۔ زندہ رہنے کا جنون (Obsession) سا ہے ماڈرن انسانوں میں۔ ندا اسحاق کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/ishaq/ لافانی ہونے کی خواہش اور موت کا خوف انسانوں کے […]

جارج آرویل کا ناول ’’1984‘‘ (تبصرہ)

جارج آرویل 25 جون 1903ء میں بنگال کے شیر موتی ہاری میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدایش کے بعد اس کا خاندان انگلستان منتقل ہوگیا۔ 1922ء سے 1927ء تک جارج آرویل (George Orwell) نے برما میں پولیس میں ملازمت کی۔ 1927ء میں واپس انگلستان آیا اور ملازمت چھوڑ کر سپین چلا گیا، جہاں سے اُس […]

امرتاؔ کا ساحرؔ کے نام آخری خط

انتخاب: مہتاب منظور امرتا پریتم کا آخری خط جو اُس نے اپنے محبوب ساحر لدھیانوی کے نام لکھا۔ امرتا کا یہ خط ایک ادبی معراج ہے۔ جہاں نصیب والے ہی پہنچتے ہیں۔ ’’میرے محبوب! ویسے تو جب بھی کوئی نغمہ لکھنے لگتی ہوں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مَیں تم کو خط لکھنے لگی ہوں۔ […]

کیرئیر سے متعلق ایک اہم کتاب (تبصرہ)

ایک نوجوان جس نے اپنے ’’اسٹارٹ اَپ‘‘ (Start Up) کی دلچسپ کہانی مجھ سے شیئر کی۔ اسٹارٹ اَپ کا عروج و زوال، اور پھر میرے سامنے تین آپشن رکھ کر پوچھا کہ بتائیے…… مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیوں کہ اس عروج و زوال کے سفر نے اُن کو اپنے فیصلہ لینے کی قوت کے متعلق […]

جب مولانا حالیؔ غلط فہمی سے’’ہالی‘‘ سمجھے گئے

ایک مرتبہ مولانا حالیؔ سہارن پور تشریف لے گئے اور وہاں ایک معزز رئیس کے پاس ٹھہرے جو بڑے زمیں دار بھی تھے۔ گرمی کے دن تھے اور مولانا کمرے میں لیٹے ہوئے تھے۔ اُسی وقت اتفاق سے ایک کسان آگیا۔ رئیس صاحب نے اُس سے کہا: ’’یہ بزرگ جو آرام کر رہے ہیں، انھیں […]

سلاوی کہانی ’’شیطان کی عدالت‘‘

ترجمہ: جاوید بسام بس ایسا ہی ہوتا ہے۔ جہاں کچھ گڑبڑ ہو، جھگڑا ہو یا کوئی بدقسمتی ہو، شیطان فوراً یاد آجاتا ہے، لیکن شیطان دنیا کی سب سے بُری چیز نہیں۔ آپ، شیطان کو کم از کم اس کے سینگ، دو کھروں اور ایک لمبی دم کی وجہ سے فوراً پہچان لیتے ہیں۔ جب […]

روزمرہ بول چال میں کی جانے والی غلطیاں

اکثر الفاظ یا فقرے ہم روزانہ غلط لکھ اور بولتے ہیں۔ جب ایسی غلطیوں کا چلن عام ہوجائے، تو اسے ’’غلط العام‘‘ کَہ کر قبول کرلیا جاتا ہے۔ آج چند ایسی غلطیوں پر بات کرتے ہیں جنھیں غلط العام کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔ رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]

سرزمینِ سوات (تبصرہ)

برصغیر پاک و ہند پر جب انگریز حکم ران تھے، تو وہ اپنا تسلط قائم رکھنے اور اسے مستحکم بنانے کے لیے مختلف حربوں سے کام لیتے تھے۔ جہاں وہ طاقت کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرسکتے، تو اپنی بے محابا عسکری قوت سے کام لیتے، جہاں انھیں محسوس ہوتا کہ بات چیت یا نرم […]