کچھ اٹلی کے مشہور ادیب اتالو کلوینو کے بارے میں

تحریر: نجم الدین احمد  اتالو کلوینو (Italo Kalvino) سنہ 1923ء میں کیوبا کے شہر ہوانا کے مضافاتی علاقے سینتیاگو ڈی ویگاس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ماریو کلوینو، جو استوائی زراعت دان اور ماہرِ نباتات تھے۔ زراعت اور پھول بانی کی تعلیم بھی دیا کرتے تھے۔ ماریو کلوینو نے سان ریمو، اٹلی سے میکسیکو […]

مولانا شبلی نعمانی اور رازداں طبلہ نواز

Shoaib Aliwi

تحریر: شعیب علوی  مولانا شبلی نعمانی کی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ مولانا ابوالکلام آزاد سے روایت کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عبدالرزاق ملیح آبادی نے اپنی کتاب ’’ذکرِ آزاد‘‘ میں نقل کر رکھا ہے۔ جیل میں ایک دن مولاناابوالکلام آزاد نے مرحوم شبلی نعمانی کے متعلق ایک دل چسپ لطیفہ سنایا۔ کہنے لگے، مولانا […]

ناروے کی لوک کہانیاں (تبصرہ)

Norwegian Folktales, Book Review

تبصرہ نگار: منیر فراز  ناروے میں مقیم شگفتہ شاہ صاحبہ نے اپنی ترجمہ کی ہوئی کتاب ’’ناروے کی لوک کہانیاں‘‘ بڑے خلوص و اہتمام کے ساتھ مجھے بھیجی ہے۔ یہ چند مہینوں میں اُن کی ترجمہ کی ہوئی دوسری کتاب ہے، جو غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے والوں کی ’’بُک شلف‘‘ کی زینت بنی […]

عورت اور بناو سنگار

انتخاب: حنظلۃ الخلیق (نوٹ:۔ یہ تحریر دہلی سے شائع ہونے والے تاریخی اخبار’’ریاست‘‘ کے ایڈیٹر ’’سردار دیوان سنگھ مفتون‘‘ کی ہے، راقم) ’’ریاست‘‘ (اخبار) کا دفتر اجمیری دروازہ کے باہر تھا۔ سردار گوپال سنگھ ممبر پنجاب اسمبلی ( جو آج کل پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں اور اُو بی ای کا خطاب بھی […]

سوامی وویک آنند کی کتاب ’’کرما یوگا‘‘ کا مختصر جائزہ

یہاں لفظ کرما کا مطلب عمل (Action) ہے (البتہ کرما کے ایک اور معنی مکافاتِ عمل بھی ہیں)، تمام چھوٹے اور بڑے عمل، ہماری سوچ، بولنا اور عمل کرنا سب ’’کرما‘‘ میں شامل ہوتا ہے۔ کتاب ’’کرما یوگا‘‘ میں سوامی وویک آنند صاحب نے کام کو اچھے اور بہتر انداز میں کرنے کا فلسفہ اور […]

بشیر منگی کی یاد میں

پیدایش:۔ یکم اپریل 1965ء۔ انتقال:۔ 13 مئی 2021ء۔ بشیر منگی کی پیدایش پنجو ڈیرو (لاڑکانہ) میں ہوئی اور وفات عید والے روز سکھر میں ہوئی۔ بشیر منگی کے ذمے مَیں نے سعادت حسن منٹو کو سندھی میں ترجمہ کرنے کا کام لگایا۔ 2011ء منٹو سال تھا۔ بشیر منگی نے منٹو کے پسندیدہ افسانوں کا ترجمہ […]

فیڈرک نطشے

تحریر: صولت پاشا فیڈرک نطشے جرمنی کا ایک مشہور فلسفی ماہرِ لسانیات اور ادیب تھا، جس نے 19ویں صدی کے آخری نصف میں ہوش سنبھالا۔ 4 سال کی عمر میں چرچ کے ایک سکول سے اپنی تعلیم شروع کی۔ ایک اُستاد نے اُسے موسیقی اور ادب کی فیلڈ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔ 20ویں برس […]

محمود درویش کا فلسطین

تحریر: فاروق حسن  محمود درویش کا جنم 13 مارچ 1942ء کو ’’بِروہ‘‘ نامی گاؤں میں ہوا جو گیلیلی کے شمال میں، فلسطین کے ضلع عکّا میں واقع ہے۔ ابھی محمود درویش کی عمر چھے برس کی نہیں ہوئی تھی کہ اسرائیلی فوج نے بروہ پر، 416 دوسرے دیہاتوں کی طرح، قبضہ کر لیا اور وہاں […]

جہاں دو کنارے ملتے ہیں

ترجمہ: رومانیہ نور  یہ حقیقی زندگی کی اُن دل پذیر کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے، جو سچی محبت کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ڈاکٹر پردیومنا کمار مہاننڈیا کی کہانی ہے، جن کا تعلق ہندوستان سے ہے اور شارلٹ وان شیڈوِن، جن کا تعلق سویڈن سے ہے۔ پردیومنا کمار، اڑیسہ میں ایک اچھوت […]

میلان کنڈیرا (Milan Kundera)

تحقیق و تحریر: نجم الدین احمد  میلان کنڈیرا (Milan Kundera) جمہوریہ چیک (Czech Republic) کا نہایت معروف ادیب تھا، جو 1975ء سے فرانس میں ہجرت کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اُسے 1981ء میں فرانس کی باقاعدہ شہریت مل چکی تھی۔ وہ اپنے آپ کو فرانسیسی مصنّف سمجھتا تھا اور اصرار کرتا تھا کہ اُس […]

ڈاکٹر معین قریشی (مرحوم)

پیدایش:۔ 15 ستمبر 1942ء انتقال:۔ 20 ستمبر 2021ء ڈاکٹر معین قریشی صاحب سے غائبانہ تعارف تو بہت پُرانا تھا لیکن بالمشافہ ملاقات دسمبر 2019ء میں ہوئی۔ اُنھیں اپنا گھر سمجھانے اور ہمیں سمجھنے میں خاصی دیر لگی۔ خیر، پہنچ ہی گئے ۔ گھر پر ’’سکندر ہاؤس‘‘ کی بارعب تختی لگی ہوئی تھی۔ ظاہر ہے سکندر […]

کانچ کا زِنداں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: رومانیہ نور گئے برس اوائلِ دسمبر کی ایک کہر آلود شام تھی، جب ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب ’’کانچ کا زِنداں‘‘ موصول ہوئی۔ مَیں جو ’’میگرین‘‘ اور ’’وِژن لاس‘‘ کے ٹراما میں انتہائی بے زار اور مشکل وقت کاٹ رہی تھی…… ڈاکٹر صاحبہ سے معذرت چاہی کہ جوں ہی […]

دانت درد جیسے لوگ (عربی ادب سے ترجمہ شدہ نثر پارہ)

ترجمہ: توقیر احمد بُھملہ جب آپ کے کسی دانت میں ناقابلِ برداشت درد شروع ہوجاتا ہے۔ علاج کے باوجود راحت نہیں ملتی، تو صبر اور برداشت کی حد کو توڑتی درد کی ٹیسیں، آپ کی سوچ کو صرف ایک نقطے پر لا پھینکتی ہیں۔ اور وہ سوچ، اذیت دینے والے اس دانت کو نکالنے کی […]

لیو ٹالسٹائی کی کہانیاں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: منیر فراز عقیلہ منصور جدون صاحبہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ کے فیس بُک گروپ کی نہایت مصروف ترجمہ نگار ہیں۔ انھوں نے بہت قلیل مدت میں فنِ ترجمہ نگاری پر دسترس حاصل کی اور کئی یادگار افسانے اور امریکی معاشرت کے کئی سماجی اور اہم سیاسی مضامین ترجمہ کرکے پڑھنے والوں تک […]

’’ایک فکشن نگار کا سفر‘‘ (تبصرہ)

ترجمہ: رضوان الدین فاروقی  ضیا فاروقی کا شمار اُردو اَدب کے اُن قلم کاروں میں ہوتا ہے، جن کی پشت پر تقریباً نصف صدی کے تجربات کے نقوش کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک اُن کے ادبی سروکار کا معاملہ ہے، تو یہ اُردو زبان و ادب کے اُن شہ سواروں میں […]

شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب ’’میرے ہم نوا‘‘ کا مختصر سا جائزہ

اُبھرتے ہوئے نوجوان ادیب اور نثر نگار سجاد حسین سرمد کی شخصی خاکوں پر مشتمل دُوسری کاوش ’’میرے ہم نوا‘‘ گذشتہ دنوں شائع ہوئی، جس میں 12 شخصیات پر خاکے تحریر کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان شخصیات میں چار زندہ شخصیات پر بھی خامہ فرسائی کی گئی ہے، جو کہ ایک […]

ٹیبولا راسا

تحریر: میثم عباس علیزی  کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی شخصیت کیسے بنتی ہے، آپ کے جذبات و احساسات کا دارومدار کس چیز پر ہے، یا آپ جو سوچتے ہیں وہ کیوں سوچتے ہیں، آپ کے رجحانات، تمایلات اور عقائد کیسے تشکیل پاتے ہیں، آپ کا ذہنی ڈھانچا کیسے تیار ہوتا ہے……؟ […]

سب سے قیمتی پھل (بلغارین لوک کہانی)

ایک باپ کے تین بیٹے تھے۔ وہ چوں کہ کافی ضعیف العمر ہوچکا تھا، چناں چہ مرنے سے پہلے تینوں بیٹوں میں سے کسی ایک کو اپنی پوری وراثت دینا چاہتا تھا، لیکن وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہا تھا کہ تینوں میں سے کون زیادہ حق دار ہے؟ لہٰذا ایک دن اُس نے تینوں کو […]

کچھ کیفیؔ اعظمی کے بارے میں

کیفی اعظمی کا 10 جنوری 2002ء کو جب انتقال ہوا، تو ان کی عمر 83 برس تھی۔ انھوں نے بھرپور اور ہنگامہ خیز زندگی گزاری۔ رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/rafi/ 14 جنوری 1919ء میں مجواں گاؤں ضلع اعظم گڑھ میں، اُتر پردیش کے ایک […]

غریب لڑکا اور شمالی ہوا (ناروے کی لوک کہانی)

ترجمہ: شگفتہ شاہ (ناروے)  ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بیوہ عورت تھی، جس کا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ عورت اب بے حد کم زور اور لاغر ہوچکی تھی۔ ایک روز اس نے اپنے بیٹے سے کہا، جاؤ اور اَناج کی کو ٹھری سے آٹا لے آؤ،تاکہ میں روٹیاں پکا لوں۔ لڑکا جوں […]

"ڈینڈی بوائے” (شخصی خاکہ)

بچپن کی بات ہے، ہمارے گاؤں میں ایک بوڑھی اماں ہوا کرتی تھی۔ اس کے لخت جگر کا نام حنیف ہوا کرتا تھا۔ وہ جب بھی اُسے اُونچی آواز دے کر پکارتی، تو ہمیشہ اپنی سادگی اور بھول پن کی وجہ سے نحیف کہتی تھی…… یعنی ’’وے نحیف…… وے نحیف پتر!‘‘ مگر ہمارا دوست حنیف […]