کچھ مہر فاؤنڈیشن کے چیئرمین محمد عالم کے بارے میں

ایک پاگل کا ساتھی ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ مہر فاؤنڈیشن کا چیئرمین محمد عالم میرا دوست ہے۔ آپ اِس دوستی کو بلیک میلنگ، ہائی جیکنگ، دھونس دھاندلی یا غنڈا گردی بھی کَہ سکتے ہیں۔ محمد عالم مجھ سے عمر میں کافی کم ہے، مگر مجھے یرغمال بنائے ہوئے ہے اور خود ہر لمحہ سولی […]
دریائے سوات کی خوب صورتی کا قاتل کون؟

کچھ باتیں بہت معنی رکھتی ہیں۔ بہت خوش نما ہوتی ہیں۔ لگتا ہے کہ عوام کی نبض کے مطابق بات ہو رہی ہوتی ہے۔ دلیل سے دلیل جھڑتی ہے، ایک مقبول بیانیہ بنتا ہے، اس بیانیے کی مخالفت میں دہشت ناک اور خوف ناک داستانیں بنتی ہیں اور ہر زبان پر چڑھ جاتی ہیں۔ کہتے […]
سوات پولیس مجھے مطمئن کریں

مجھ جیسا تصوراتی دنیا میں رہنے والا، خوابوں کی تعمیر کرنے والا، حساس اور خستہ حال شخصیت کا مالک ہر وقت کرب میں مبتلا جب ایک ایک غیر فطری سلوک سے گزرتا ہے، تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ قارئین! مَیں ایک چھوٹا سا کاروبار کرتا ہوں، جہاں میرے ساتھ میری ٹیم ہوتی ہے […]
مینگروال بنجاریان

مینگورہ شہر میں آباد ایک قدیم محلہ جو اَب بھی باقی شہر کے برعکس اپنی انفرادیت اور بنیادی ڈھانچا قائم رکھے ہوئے ہے، محلہ بنجاریان ہے۔ اس میں قائم بنجاریان مسجد جس میں کسی وقت احمدین طالب بہ حیثیت طالبِ علم مقیم تھے، اس کی زمین باچا صاحب نے وقف کی اور بنجاریانوں (بنجاریوں) نے […]
کچھ امان اللہ خان جلو خیل کے بارے میں

نشاط چوک سے مین بازار کی طرف جاتے ہوئے ایک عظیم الشان مسجد، ساتھ اعظم کلاتھ مارکیٹ اور اُس کے بالکل پیچھے اعظم ٹریڈ سنٹر وسیع مارکیٹ اس شہر کے ایک وجیہہ، ہر دِل عزیز، یار باش، سلیقہ مند اور گفت گو کا ہنر رکھنے والے امان اللہ خان صاحب کی عظمت کی یاد دِلاتے […]
ملک بیرم خان ’’تاتا‘‘ کی یاد میں

ملک بیرم خان المعروف ’’تاتا‘‘ یکم اکتوبر 1983ء کو میونسپل کمیٹی مینگورہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ چار سال مکمل ہونے کے بعد 21 نومبر 1987ء کو ان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی۔ دوبارہ بلدیاتی انتخابات میں اُنھوں نے پھر بھاری اکثریت سے کام یابی حاصل کی اور 29 دسمبر 1987ء کو دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ […]
مکان باغ مسجد، ریاستِ سوات اور قاضی حبیب الرحمان

1905ء میں جہاں مکان باغ مسجد موجود ہے، سپیروں کی ایک چھوٹی بستی تھی، جو چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھی۔ اسی بستی کو مکان باغ کہا جاتا تھا۔ چوں کہ پشت پر باغ تھے اور اس علاقے میں واحد آبادی تھی، جو ہریالی اور پانی کے قریب تھی۔ یہ آبادی ایک طرح سے جنگل تھی، […]
مینگورہ شہر سے وابستہ یادیں

مَیں نے اپنی فیس بک وال پر ایک تصویر دی ہے جس میں لنڈیکس مینگورہ حاجی رسول خان صاحب کور، ایلم ہوٹل کے درمیان والا پل، لنڈیکس باغیچہ، فارم (حالیہ ہاکی سٹیڈیم)، کانٹی نینٹل ہوٹل جہاں بنا ہے وہ دھوبی گھاٹ نمایاں ہیں۔ اُس دور میں ’’ہالی ڈے ہوٹل‘‘ کے عقب میں فارم شروع ہوتا […]
جہانزیب کالج میں میرا پہلا دن

جب بھی کبھی جہانزیب کالج کے سامنے سے گزرتا ہوں، تو لگتا ہے کہ کسی قریبی رشتے دار کی قبر کے سامنے سے گزر رہا ہوں۔ دراصل بچپن سے جہانزیب کالج کا ایک رعب مجھ پر قائم رہا۔ والد (مرحوم)، چچا، ماموں اور جس کو بھی مَیں جانتا تھا، جہانزیب کالج سے گریجویشن کرچکے تھے۔ […]
اورنگ زیب ایڈوکیٹ کی خدمات

آپ فون کریں یا کہیں ملاقات ہو، انتہائی خلوص، محبت اور احترام سے جواب آئے اور وہ کسی بھی وقت، کسی بھی حالات میں، تو ایسا بڑا پن کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ اورنگ زیب خان ایڈوکیٹ کو جب غصہ آتا ہے، تو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ہنس دیتے ہیں۔ وہ شہر کا ایک […]
ون مین آرمی ’’فیاض ظفر‘‘

یہ 2009ء کے ظالم طویل دن تھے، جن میں ایک ایک لمحہ گھنٹے جتنا لمبا محسوس ہوتا تھا۔ سوات میں قانون نامی شے کا وجود نہیں تھا۔ ریاست سرنگوں تھی۔ مولانا صوفی محمد کو ریاست نے زمین پر ناک رگڑ کر باعزت رہا کیا تھا۔ سید طلعت حسین صاحب سے شناسائی کے لیے کئی حوالے […]
محمد غفار المعروف مسٹر طوطا

کہتے ہیں بہت ترقی ہوگئی، کیا کیا ایجاد ہوگیا…… ٹرانسسٹر سے تھری ڈی، کسب گر سے آئی فون، تانگے سے فورتھ جنریشن طیارے، و علی ہذا القیاس۔ ویسے اتفاق سے اس ترقی میں ہمارے معاشرے کا کوئی قصور نہیں۔ ہمارے بھروسے ہوتے، تو صبح نتھنے کالے ہی ہوتے اب تک اور گورے انگریز کالے نتھنوں […]
اکرم استاد صاحب

مینگورہ شہر میں جب تعلیم کا شعور دوسری بار اُجاگر ہوا، تو اس میں مادیت نمایاں تھی۔ سائنس کی مدد سے ڈاکٹر بننا، ورنہ انجینئر بننا تو طے تھا…… اور جس نے نہیں پڑھنا، یا گھر والوں کو زیادہ معلومات نہیں تھی، وہ آرٹس لینے لگے۔ پھر سب سے بڑا معرکہ دسویں کا امتحان اچھے […]
ذہنی امراض میں سیلف میڈی کیشن سے اجتناب برتنا کیوں ضروری ہے؟

بدقسمتی سے ہمارا لائف سٹائل یا زندگی گزارنے کے اطوار کچھ ایسے ہیں کہ جنھوں نے ہمیں فطرت سے دور کر دیا ہے۔ اب ہم ایک مصنوعی زندگی گزار رہے ہیں۔ صحت بنانے کے لیے دوائی، رنگ گوارا کرنے کے لیے دوائی، باڈی بنانے کے لیے دوائی، جسمانی و ذہنی امراض کے لیے دوائی، دوائی […]
’’وہ واقعی پرواز کرگئی‘‘ (جوابِ آں غزل)

ملالہ یوسف زئی کے حوالے سے علی ہلال کی تحریر پڑھ کر افسوس ہوا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے دماغ میں ڈھیر ساری غلط فہمیوں، فرسودہ روایات، محرومیوں اور نفرتوں کو جمع کرتے جاتے ہیں۔ ایسا ہر ’’کنٹرولڈ سوسائٹی‘‘ میں ہوتا ہے، جس میں انسان اعتماد کھو دیتا ہے اور ہر کسی پر […]
ڈاکٹر محمد عارف، ایک عہد کا نام

مشہور ہے کہ جب مینگورہ سوات میں والدین خواب دیکھتے، تو دیکھتے کہ اُن کے بچے ڈاکٹر عارف صاحب کی طرح بن گئے ہیں۔ ایک لمبے عرصے تک سرجن ڈاکٹر عارف صاحب مینگورہ کے لوگوں پر ایک سحر کی طرح طاری رہے۔ آپ اُنھیں ایک ’’ہیرو‘‘ کَہ لیں، ’’بنچ مارک‘‘ کَہ لیں یا اُن کے […]
خیرالامان تحصیل دار صاحب کی یاد میں

کوئی اپنے والد صاحب کو دفن کرکے آتا ہے، تو کتنا شکستہ اور بے اعتماد ہو جاتا ہے…… الفاظ شاید اس کیفیت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ’’فادرز ڈے‘‘ پر فارورڈ میسج پوسٹ کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ قارئین! ہر شہر کے کچھ خاص ثقافتی، علمی، حکمت، حسن، وراثتی، دیو مالائی تاریخی و روایتی […]
9 مئی، ذہن پر نقلِ مکانی کے اَن مٹ نقوش

گلبرگ کے ایک ہوٹل میں ایک رفیقِ کار کے ساتھ موجود تھا۔ ناشتے کا آرڈر دیا تھا۔ یوں ہی ٹی وی آن کیا، تو زمرد کان (سوات) پر شیلنگ اور آبادی خالی کرنے کے احکامات چل رہے تھے۔ اس طرح آبادی کے انخلا کی خبر کی تردید بھی گاہے گاہے آجاتی۔ مَیں نے رابطہ کرنا […]
’’ہیرامنڈی‘‘ جوابِ آں غزل

محترم منصور ندیم! مشکور ہوں کہ آپ نے نیٹ فلیکس سیریز ’’ہیرامنڈی‘‘ بارے لکھا اور لکھائی کے حساب سے بہت خوب لکھا…… مگر کچھ تحفظات اور سوالات آپ کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔ اُصولی طور پر آپ اس سیریز کے لیے نیٹ فلیکس پر نہیں گئے اور نہ ارادہ ہی ہے، تو آپ اس پر […]
فضل ربی راہیؔ، سوات کی صحافت کا درخشندہ باب

شاعر، ادیب، دانش ور، نقاد، ایڈیٹر، کالم نویس، پبلشر…… یہ ہمہ جہت شخصیت فضل ربی راہیؔ صاحب کی ہے، جو بنگالی خاندان کے چارباغ گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کے دادا مینگورہ شہر میں ایک ممتاز طبیب تھے، جو خوب صورت اور وجہہ شخصیت کے مالک تھے۔ امیر طبیب صاحب کے والد صاحب […]
صحافت کا ارتقائی سفر اور ہم

ہندوستان میں پاکستانی صحافت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ ویسے تو ہندوستانیوں کی عادت ہے پاکستان کے مذاق اڑانے کی، لیکن دو باتوں میں ہندوستانیوں کا مذاق وزنی لگتا ہے۔ ایک جب پاکستانی کہتے ہیں کہ ’’اگر ہندوستان نے پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھا تو……!‘‘ ہندوستانی میڈیا میں اس قسم کے مکالموں کا […]