کبھی خواب نہ دیکھنا (چودھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیرھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (بارھویں قسط)
کبھی خواب نہ دیکھنا (نویں قسط)
محمود استاد صاحب کی یاد میں
ڈاکٹر پیرداد صاحب کی یاد میں
کبھی خواب نہ دیکھنا (آٹھویں قسط)
سوات سرینا، ریاستی دور کے فنِ تعمیر کا شاہ کار

سوات سرینا ہوٹل (سوات ہوٹل) کی یہ عمارت ریاستِ سوات دور کی ہے۔ یہ تصویر ستمبر 2022ء کو اُتاری گئی ہے۔ اس عمارت کے حوالے سے کئی متضاد آرا سامنے آئیں، مگر ڈاکٹر سلطانِ روم اپنے تحقیقی مضمون "سوات ہوٹل” میں اس گتھی کو سلجھا چکے ہیں کہ یہ عمارت کس کے زیرِ استعمال رہی۔ […]
رحمت اللہ خان کی یاد میں

قارئین! آج رحمت اللہ خان المعروف ’’رحمت لالا‘‘ ولدِ فضل مولا سیدو شریف کے بارے میں نشست لیتے ہیں۔ مینگورہ سوات کی پچھلی نسل کے آبائی شہری جب گراسی گراؤنڈ کے پاس سے گزرتے، تو یقینا رحمت لالا کی خوب صورت شخصیت دیکھے بغیر نہیں گزر پاتے ہوں گے۔ رحمت لالا ایک بہترین فٹ بالر، […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پانچویں قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) شگئی سکول کو، اضافی تعمیرات کرکے، ہائی اسٹینڈرڈ پر اَپ گریڈ کر دیا گیا اور سنٹرل جیل، سیدو شریف کو(پرانی عمارت کو مناسب تبدیلیوں اور […]
سٹیٹ فورسز کا مرکزی دفتر

ریاستِ سوات کا پورا سکرٹیریٹ جس میں حکم ران اور ولی عہد کے دفاتر بھی شامل تھے، اُنھی اونچی چناروں کے سائے میں تھا، جہاں آج کل کمشنر، آر پی اُو اور دیگر دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ریاست کا فوجی دفتر اسی بلڈنگ میں واقع تھا، جو ادغام کے بعد ابھی تک ڈسٹرکٹ کمپٹرولر […]
باچا صاحب کے ساتھ جڑی ایک یاد

حکومتِ خداداد یوسف زئی ریاستِ سوات و متعلقات کے بانی میاں گل عبدالودود معروف بہ باچا صاحب میانگل عبدالخالق کے بیٹے اور اخوند آف سوات عبدالغفور الملقب بہ سیدو بابا کے پوتے تھے۔ یہاں پر ہم سوات کی تاریخ نہیں دہراتے۔ صرف اُن کے بارے میں چند ایسے واقعات کا ذکر مقصود ہے، جو میری […]
مینگورہ کا بنگالی خاندان

نعیم اختر صاحب کا مشکور ہوں جنھوں نے مینگورہ بنگالی کورنئی (مینگورہ بنگالی خاندان) کا تعارف بہت آسان اور سادہ سا کیا ہے۔ یقینا مینگورہ شہر کے نوجوانوں کے لیے یہ تعارف آسانی پیدا کرے گا۔ یحییٰ خان اس ’’کورنئی‘‘ (خاندان) کی بنیاد رکھنے والے تھے، جن کے تین بیٹے تھے۔ ان کے نام اجڑ […]
کچھ والد بزرگوار محمد عظیم مرزا کے بارے میں

میرے مرحوم والد محمد عظیم مرزا اور میرے چچا شاہزاللہ اپنے باپ حبیب اللہ کے سائے سے بہت کم عمری میں محروم ہوگئے۔وہ اتنے کم عمر بچے تھے کہ اُن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اُن کے والد کیوں اور کہاں جان کی بازی ہار گئے؟ یہ بات اُن کو بہت بعد میں […]
ملک بیرم خان ’’تاتا‘‘ کی یاد میں

ملک بیرم خان المعروف ’’تاتا‘‘ یکم اکتوبر 1983ء کو میونسپل کمیٹی مینگورہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ چار سال مکمل ہونے کے بعد 21 نومبر 1987ء کو ان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی۔ دوبارہ بلدیاتی انتخابات میں اُنھوں نے پھر بھاری اکثریت سے کام یابی حاصل کی اور 29 دسمبر 1987ء کو دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ […]
مکان باغ مسجد، ریاستِ سوات اور قاضی حبیب الرحمان

1905ء میں جہاں مکان باغ مسجد موجود ہے، سپیروں کی ایک چھوٹی بستی تھی، جو چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھی۔ اسی بستی کو مکان باغ کہا جاتا تھا۔ چوں کہ پشت پر باغ تھے اور اس علاقے میں واحد آبادی تھی، جو ہریالی اور پانی کے قریب تھی۔ یہ آبادی ایک طرح سے جنگل تھی، […]
ریاستِ سوات کے مالیاتی نظام کا مختصر سا جائزہ

ریاستِ سوات کے قیام کے ابتدائی سالوں میں مالیات کا کوئی مربوط نظام نہیں تھا۔ روزمرہ کے اخراجات بادشاہ صاحب کی ذاتی جائیداد کے علاوہ مینگورہ کے ایک متمول تاجر حاجی شمشی کے گراں قدر عطیے کے باعث ممکن ہوسکے تھے۔ بادشاہ صاحب سوات کے چند ممتاز صاحبِ ثروت لوگوں میں شامل تھے۔ اُن دنوں […]
کچھ پروفیسر اشرف الطاف کے بارے میں

آغاز ہی سے جہانزیب کالج کو بہترین اساتذہ کی خدمات حاصل رہی ہیں۔ کالج کے پہلے پرنسپل حافظ محمد عثمان مشہور ریاضی دان تھے۔ زیادہ تر اکیڈیمک سٹاف غیر مقامی افراد پر مشتمل تھا،مگر وہ بہت تن دہی اور جذباتی انداز سے اس نئے ادارے کو علم کا گہوارا بنانے کے لیے کوشاں تھا۔ وقت […]
چکیسر (شانگلہ) سے جڑی کچھ یادیں

آخر چکیسر میں کیا خاص بات ہے کہ 66 سال بعد بھی میں اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ 1958ء میں میٹرک کے نتائج کا انتظار تھا، تو مَیں اپنے ایک عزیز کے پاس چکیسر چلا گیا، جو وہاں پر سٹیٹ سول ڈسپنسری کے انچارج تھے۔ اُن کا نام سلطان محمد تھا۔ سیدو شریف […]
ریاستِ سوات کے 52 سالوں کا مختصر ترین تقابلی جائزہ

میری یہ سطور غور سے پڑھیں۔ میرا یہ ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ نے سوات کے اُن 52 سالوں کے بارے میں جو رائے قائم کی ہے، آپ اُسے ترک کردیں۔ وہ 52 سال جو 1917ء سے 1969ء تک کے عرصے پر پھیلے ہوئے ہیں اور وہ دو باپ بیٹے، جنھوں نے اپنی دانش […]
امیر دوست خان دھوبی

90ء کے عشرے کی بات ہے، تاج چوک میں قائم مدرسے سے چھٹی ہونے کے بعد واپسی کے وقت ڈاکٹر عبدالوہاب المعروف ’’چاڑا ڈاکٹر‘‘ کی گلی سے گزرتے ہوئے ایک سفید ریش ستار بجانے والے کی دُکان کے سامنے آکر غیر ارادی طور پر میرے قدم رُک جاتے۔ عصر کے دس پندرہ منٹ گزرنے کے […]