محمد غفار المعروف مسٹر طوطا

Blogger Sajid Aman

کہتے ہیں بہت ترقی ہوگئی، کیا کیا ایجاد ہوگیا…… ٹرانسسٹر سے تھری ڈی، کسب گر سے آئی فون، تانگے سے فورتھ جنریشن طیارے، و علی ہذا القیاس۔ ویسے اتفاق سے اس ترقی میں ہمارے معاشرے کا کوئی قصور نہیں۔ ہمارے بھروسے ہوتے، تو صبح نتھنے کالے ہی ہوتے اب تک اور گورے انگریز کالے نتھنوں […]

ریاستِ سوات کی سول تنظیم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ریاست کی سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اَپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گاکہ لفظ ’’مشیر‘‘ کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے ’’حاکمِ اعلا‘‘ کے نام سے متعارف کیا گیا۔ بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر […]

سوات کی تاریخ مسخ کی جا رہی ہے

Blogger Fazal Raizq Shahaab

مَیں کوئی محقق ہوں نہ مورخ…… مگر اتنا دعوا ضرور کرتا ہوں کہ مجھے غیر متنازع، مستند اور تسلیم شدہ مورخین سے استفادہ کی سعادت حاصل رہی ہے۔ اُن سے گھنٹوں پر محیط بامقصد گفت گو کا موقع ملا ہے۔ شکر ہے کہ سوات کے بارے میں اُن عظیم مورخین کی کاوشیں کتابی صورت میں […]

میانگل عدنان اورنگ زیب سے وابستہ یادیں

Blogger Fazal Raizq Shahaab

28 مئی 2022ء کی صبح مجھے محترم عمر حیات میاں نے اطلاع دی کہ شہزادہ عدنان اورنگ زیب جو عوام میں ’’عدنان باچا‘‘ کے نام سے مقبول تھے، اسلام آباد سے آرہے ہیں۔ وہ پانچ دس منٹ کے لیے مجھ سے ابوہا میں ملاقات کریں گے۔ مَیں نے معزز شخصیت کی آمد کے پیشِ نظر […]

ڈاکٹر محمد عارف، ایک عہد کا نام

Blogger Sajid Aman

مشہور ہے کہ جب مینگورہ سوات میں والدین خواب دیکھتے، تو دیکھتے کہ اُن کے بچے ڈاکٹر عارف صاحب کی طرح بن گئے ہیں۔ ایک لمبے عرصے تک سرجن ڈاکٹر عارف صاحب مینگورہ کے لوگوں پر ایک سحر کی طرح طاری رہے۔ آپ اُنھیں ایک ’’ہیرو‘‘ کَہ لیں، ’’بنچ مارک‘‘ کَہ لیں یا اُن کے […]

خیرالامان تحصیل دار صاحب کی یاد میں

Blogger Sajid Aman

کوئی اپنے والد صاحب کو دفن کرکے آتا ہے، تو کتنا شکستہ اور بے اعتماد ہو جاتا ہے…… الفاظ شاید اس کیفیت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ’’فادرز ڈے‘‘ پر فارورڈ میسج پوسٹ کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ قارئین! ہر شہر کے کچھ خاص ثقافتی، علمی، حکمت، حسن، وراثتی، دیو مالائی تاریخی و روایتی […]

سوات کی تاریخ مسخ ہونے سے کیسے بچائی جائے؟

Blogger Fazal Raziq Shahaab

مجھے اپنی کم مائیگی کا اور ناقص تعلیم کا اور عمر کے تقاضوں کا احساس ہے۔کبھی میری رائے یا تبصرے ناقص بھی ہوسکتے ہیں…… اور یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر لارڈ ارون کے دورۂ سوات کے مقاصد اور تاریخ کے بارے میں میرا تبصرہ ایک لحاظ سے غلط تھا۔ بدقسمتی سے جن […]

ریاستِ سوات کے الحاق بارے نیا شوشا

Blogger Fazal Raziq Shahaab

اچھا جناب……! عام ہڑتال بھی ہوچکی ٹیکسوں کے خلاف…… پتا نہیں ٹیکس لگتے ہیں یا نہیں……! مگر یار لوگوں نے گرم توا سر پر رکھا ہوا ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں اور عجیب وغریب قسم کی تاویلات سامنے آرہی ہیں۔ بھائی سیدھے سبھاو تو ایک ہی بات کروکہ ’’وفاق کو مانتے ہو کہ نہیں۔‘‘ فضل […]

دورِ ریاستِ سوات کے ایک قصاص کی کہانی

Swat State Blogger Fazal Raizq Shahaab

اس تحریر کے ساتھ سیدو بابا مزار کی ایک تصویر دی جا رہی ہے جس میں لکڑی کا ایک پُل نظر آرہا ہے۔ مذکورہ پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیر زادہ اُستاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ فضل […]

ریاستِ سوات کا بھونڈے انداز سے ادغام

Swat State Blogger Fazal Raziq Shahaab

یوسف زئی ریاستِ سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت فلیگ سٹاف سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔ پھر نہ کسی نے والئی سوات کی رہایش گاہ پر اسے لہراتے ہوئے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔ فضل رازق شہاب […]

حاجی امیر خان (مرحوم) ولد باجوڑے پاچا

Blogger Sajid Aman

فلاحی ریاستِ سوات باچا صاحب (مرحوم) اور والی صاحب (مرحوم) کی لیڈر شپ میں واقعی اعلا مثالیں قائم کر رہی تھی۔ ہر نسلی گروپ اور قوم کے افراد نے ریاست کی کام یابی میں تن من دھن کی قربان دی۔ ’’یوسف زئی ریاستِ سوات‘‘ کے نام سے قائم ریاست میں قدرے نئے شہری یوسف زو […]

روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

Blogger Fazal Raziq Shahaab

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]

سوات، 1965-66ء کے خوف ناک زلزلے

Blogger Fazal Raziq Shahaab

غالباً 1965ء یا 66ء کا سال تھا۔ موسمِ سرما کے دن تھے۔ہم افسر آباد کی پرانی حویلیوں میں سے ایک میں مقیم تھے کہ اچانک بغیر کسی وارننگ کے زلزلے شروع ہوگئے۔ یہ زلزلے کئی دن تک مسلسل جاری رہے۔ دن رات لوگ کمروں کے اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ رات کو کھلے صحن میں […]

عجب خان حاجی صاحب کی یاد میں

Blogger Sajid Aman

6 مئی 2020ء کے ایک بہت ہی تھکا دینے والے دن عین نمازِ عصر کی اذان کے ساتھ عجب خان حاجی صاحب نے اذان کا جواب دینا اور کلمۂ شہادت پڑھنا شروع کیا۔ اذان ختم ہوئی اور حاجی صاحب خاموش ہوگئے۔ فوراً رحمان اللہ بابو صاحب کو بلایا گیا، وہ لمحوں کے حساب سے پہنچے […]

ریاست سوات دور کی ملازمت کیسی ہوتی تھی؟

Blogger Fazal Raziq Sahaab

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا اس پر مستزاد۔ فضل رازق شہاب کی […]

ریاستی دور کا سوات سنیما

Blogger Sajid Aaman

سنہ 1964ء میں ریاست کے والی میاں گل عبدالحق جہان زیب نے سوات سنیما کا افتتاح کیا، تو اس میں پہلی ہندی فلم ’’آبِ حیات‘‘ لگی تھی۔ والیِ سوات خود بھی اپنے وزیروں کے ہم راہ پہلے شو سے لطف اندوز ہوئے تھے۔ اُس سنیما گھر کی بنیاد عطاء اللہ خان وکیل صاحب نے رکھی […]

ریاستِ سوات کی سرکاری زبان بارے ایک ضروری وضاحت

Blogger Fazal Raziq Shahaab

مَیں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر ایک پوسٹ انگریزی میں پیش کی تھی، جس کا اُردو ترجمہ یہاں ملاحظہ ہو: ریاستِ سوات کی سرکاری زبان پشتو تھی۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے…… مگر یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ریاست کی عدالتی زبان پشتو تھی۔ والئی سوات کے تمام فرامین […]

کچھ ناخواندہ ماہرِ تعمیرات عبید اُستاد کے بارے میں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج کی نشست عبید استاد کے نام کرتا چلوں۔ عبید استاد، دستخط مستری کی طرح اَن پڑھ تھے اور دستخط مستری ہی کی طرح ماہرِ تعمیرات تھے۔ 1928ء سے جولائی 1969ء تک جب ریاست ختم ہوئی، بونیر میں جتنی بھی ریاستی عمارات از قسم ہسپتال، سکول، ڈسپنسری، رہایشی مکانات، عدالتیں اور پل تعمیر ہوئے، وہ […]

والئی سوات کے پرائیویٹ سیکرٹری پردل خان لالا

Blogger Fazal Raziq Shahaab

بیورو کریسی چاہے پاکستان جیسے بڑے ملک کی ہو، یا سوات کی مختصر سی ریاست کی۔ کئی مشترک قدریں رکھتی ہے۔ مثلاً: ’’کرپشن۔‘‘ یہ ضروری نہیں کہ سول اور ملٹری بیورو کریسی "As a whole” بدعنوانی میں ملوث ہو۔ وہ جو کہتے ہیں: ’’ہر بیشہ گمان مبر کہ خالی است، شاید کہ پلنگ خفتہ باشد۔‘‘ […]

فتنۂ قادیانیت اور لڑکپن کی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج کل کے ایک متنازع فیصلے پر اُٹھتے ہوئے ’’سوشل میڈیائی ہنگامے‘‘ نے مجھے کالج کے وقتوں کا ایک واقعہ یاد دِلا دیا۔ سب سے پہلے کچھ اُس کا نقشا کھینچ لوں۔ 1958ء میں جب مَیں نے جہانزیب کالج میں داخلہ لیا۔ اُس وقت میرے بچپن کے دوست اسفندیار ’’سیکنڈ ائیر‘‘میں تھے، یعنی مجھ سے […]

افسر آباد (سیدو شریف) سے جڑی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ہمارے افسر آباد میں اکثر پڑوسی بدلتے رہے، مگر ایک ہم تھے کہ آخری حویلی کی مسماری تک وہیں پر رہے۔ اُس کے بعد بھی افسر آباد سے نہ نکل سکے۔ وہیں پر سڑک کنارے جدید طرز کے 4 بنگلوں کے بلاک میں سے ایک میں شفٹ ہوگئے۔ اُسی میں 14 سال مزید گزارے اور […]