ججوں کی اہلیت، تعیناتی و سبک دوشی بارے قیاس آرائیاں

ریاست کے تیسرے ستون عدلیہ کے حوالہ سے آئے روز نت نئی خبریں اور تجزیے دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔ بسااوقات کئی یوٹیوبر اپنے بے تکے تجزیوں میں دُور کی کوڑی لانے کی ناکام کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں بے چارے یوٹیوبروں کا بھی کوئی قصور نہیں۔ کیوں کہ ان […]
تحصیلِ بری کوٹ کے مسائل خصوصی توجہ چاہتے ہیں

گذشتہ دنوں بری کوٹ پریس کلب کی تقریبِ حلف برداری کے موقع پر تحصیلِ بری کوٹ کے حوالے سے وقت کی کمی کی وجہ سے مجھے مختصر بات کرنی پڑی تھی، اس لیے ضروری سمجھا کہ اس کالم کے ذریعے تھوڑی سے کھل کر بات کی جائے۔ کیوں کہ تحصیلِ بری کوٹ ہر قسم کے […]
توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ

توشہ خانہ کی شروعات ذوالفقار علی بھٹو کی وزارتِ عظمی کے دوران میں ہوئی۔ اس کا بنیادی مقصد اُن تحائف کو جمع کرنا اور رکھنا ہے، جو پارلیمنٹ کے ارکان، وزرا، خارجہ سیکرٹری، صدر اور وزیرِ اعظم وصول کرتے ہیں۔ 2 دہائیوں سے زائد عرصہ سے توشہ خانہ زبان زدِ عام موضوعِ بحث چل رہا […]
کبوتر بازی جیسے ظالمانہ کھیل کو روکا جائے

امسال موسمِ گرما اچانک شروع ہوا ہے۔ مئی کے آغاز میں موسم اچھا بھلا خوش گوار تھا، مگر مئی کے پہلے ہفتے کے اختتام پذیر ہوتے ہی مئی کے مہینے میں پڑنے والی گرمی اچانک آن وارد ہوئی اور چند ہی دنوں میں گرمی اس قدر شدید ہو گئی کہ صوبہ پنجاب کے سکولوں میں […]
بجٹ اور سرکاری ملازمین

یہ حقیقت ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی سے لے کر مڈل کلاس طبقے تک سب کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ مہنگائی نے ڈاکٹر کے نسخے کا روپ دھار رکھا ہے۔ صبح، دوپہر اور شام کے حساب سے عوام مہنگائی کی ’’نئی خوراک‘‘ کھانے پر مجبور ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی […]
خزانے پر پنشنر نہیں، اشرافیہ بوجھ ہے

آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ وطنِ عزیز کے وزیرِ خزانہ جناب محمد اورنگ زیب نے کابینہ کے دو دیگر بھاری بھرکم وزرا جناب عطاء اللہ تارڑ اور جناب اعظم نذیر تارڑ کے ہم راہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی پنشن کو ملکی خزانے پر بہت بڑا بوجھ قرار دیا ہے۔ […]
گندم بحران، کیا ذمے دار سزا پائیں گے؟

گندم بحران نے کسان طبقے میں بے چینی کی لہر ہی پیدا نہیں کی، بلکہ اسے کاشت کاری سے بھی متنفر کر دیا ہے۔ کس قدر قابلِ رحم صورتِ حال ہے کہ پروڈیوسر اپنی پراڈکٹ یا پروڈکشن کی قیمت کا تعین بھی نہیں کرسکتا۔ ایک قلفی فروش، چھابڑی والا، ریڑھی پر رکھ کر چیزیں فروخت […]
سوات میں پولیس گردی نامنظور

جب قانون نافذ کرنے والے یہ سمجھنے لگیں کہ قانون کے نفاذ کے لیے اس کو توڑنا، مروڑنا یا صریحاً اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنا کوئی معیوب بات نہیں، تو سمجھیں کہ دال میں کچھ کالا ہے یا پھر پوری دال ہی کالی ہے۔ کچھ اس قسم کی دال کا نظارہ راقم نے اپنی ایک پیدل […]
گندم سکینڈل، حکومت کہاں کھڑی ہے؟

بات انتہائی سادہ سی ہے۔ آپ کو اپنے خرچ کے لیے گُڑ کی دو ڈلیاں چاہیے ہوں…… اور آپ کے پاس گُڑ کی ایک پوری بوری پڑی ہو۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ اس بوری کے علاوہ بھی آپ کو کوئی کہے کہ نہیں آپ دو بوریاں اور خرید لیں، تو یقینا آپ وہ دو […]
پنجاب، جعلی صحافیوں پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جعلی صحافیوں پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت پولیس افسران صحافیوں کے پریس کارڈ چیک کرسکتے ہیں۔ اگر کسی صحافی کے پاس غیر رجسٹرڈ اخبار، چینل یا پریس کلب کا کارڈ ہوا، تو اُس کے خلاف دفعہ 468, 459 اور 471 کے تحت […]
ڈپٹی وزیرِ اعظم کا تقرر، پسِ پردہ حقائق

قارئینِ کرام! عید سے ایک ہفتہ قبل 3 اپریل کو مَیں اپنے کالم بہ عنوان ’’اک زرداری سب پہ بھاری‘‘ میں پیش گوئی کرچکا ہوں کہ عید کے بعد پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل ہوجائے گی۔ اسی کالم میں، مَیں نے جناب اسحاق ڈار کے ڈپٹی وزیرِ اعظم بننے کی پیش گوئی بھی کی […]
صوبائی خودمختاری کیوں ضروری ہے؟

پاکستان کا بننا مختلف وجوہات کا نتیجہ ہے۔ یہ وجوہات مغلیہ سلطنت کے اختتام سے لے کر تقسیمِ ہند تک پیدا ہوتی رہیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی سامراج نے ہندوستان میں دو قومیتوں کی بنیاد رکھ دی تھی، یعنی مسلمان اور ہندو۔ مذکورہ دو قومیتوں کے درمیان خلیج نے دو الگ شناختیں […]
مریم نواز اور تتے توے پر جلتی مخلوق

ممتاز دولتانہ، فیروز خان نون، ملک معراج خالد، غلام مصطفی کھر، محمد حنیف رامے ، میاں محمد نواز شریف، میاں محمد شہباز شریف، منظور احمد وٹو، چوہدری پرویز الٰہی جیسی نامی گرامی قد آور شخصیات نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب پر راج کیا۔ پھر پنجاب کی تاریخ میں اِک ایسا سنہری دور […]
ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان اور امریکی خفگی کی اصل وجوہات

ایران کے صدر جناب ابراہیم رئیسی پاکستان کا کامیاب دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ یہ کئی دہائیوں بعد کسی ایرانی سربراہِ مملکت کا پاکستان کا دورہ تھا، جس سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری برقرار رہی ہے۔ اس دورے […]
ضلع اَپر سوات کے قیام کی بہ جائے تحصیلِ بحرین کی تقسیم؟

باوثوق ذرائع کی خبر تو نہیں، تاہم افواہ ضرور ہے اور اس پر یقین اس لیے آتا ہے کہ گذشتہ بلدیاتی انتخابات کے وقت ایسے مشورے انفرادی سطح پر بااثر افراد سے کیے گئے تھے کہ موجودہ تحصیل بحرین کو دو تحصیلوں میں تقسیم کیا جائے۔ شاید اب بھی کہیں بلدیاتی الیکشن قریب ہیں، اس […]
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کا استحصال

اطلاعات ہیں کہ مالی خسارے کے باعث نئے مالی سال 2024، 25ء کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر غور شروع کر دیا گیا ہے، تاہم شدید مجبوری کے عالم میں 5 تا 10 فی صد اضافے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے […]
اہلِ حاجی بابا سیرئی کا ڈی پی اُو سوات کے نام کھلا خط

محترم ڈاکٹر زاہد اللہ خان ڈی پی اُو سوات، السلام علیکم! اُمید ہے آپ بہ خیر و عافیت ہوں گے۔ سرِ دست ہم اہلِ حاجی بابا سیرئی آپ کو سوات میں چارج سنبھالنے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کی توجہ اپنے محلے اور علاقے کو درپیش چند مسائل کی طرف مذکورہ […]
ایران اسرائیل تنازع، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

چند دِن قبل اسرائیل نے دمشق (شام) میں ایرانی سفارت خانے کو نشانہ بناکر ایک ایرانی اعلا فوجی عہدے دار کو مار دیا۔ اسرائیل کا یہ حملہ اگرچہ تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی تو تھا ہی، لیکن ساتھ میں کھلے عام بدمعاشی کی بدترین مثال بھی تھا…… جس نے ایران کو ایک ایسے دوراہے […]
جعلی ادویہ اور ہم

تقریباً تین ہفتے قبل ایف آئی نے کوئٹہ میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بڑی مقدار میں جعلی ادویہ برآمد کی تھیں۔ یہ کامیاب کارروائی ایک خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی تھی، جس کے دوران میں ایک بڑے سٹور پر چھاپے کے دوران میں ایک سو سے زاید اقسام کی جعلی ادویہ پکڑی گئیں۔ […]
واپڈا سے جلد جان چھوٹنے والی ہے

میرے سامنے اس وقت تازہ ترین بجلی کا بِل پڑا ہے، جس کے مطابق گذشتہ ماہ میں کُل 28 صرف شدہ یونٹ کی بجلی کی قیمت فی یونٹ 37.50 روپے کے حساب سے 1057 روپے درج کی گئی ہے، جب کہ ٹیکس وغیرہ اور ’’فیول ایڈجسٹمنٹ‘‘ کی مد میں رقم شامل کرنے کے بعد بل […]
’’بچہ گود لے لو‘‘…… ایک نیا فراڈ

لٹیرے، ٹھگ باز، چور، ڈاکو اور فراڈیے سبھی ایک قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب ایک جیسے بے حِس، ظالم اور سنگ دل ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کی بے خبری میں ہی اُنھیں اُن کی دولت سے محروم نہیں کرتے، بلکہ اُنھیں جذباتی طور پر بھی بلیک میل کرکے اُن کی دولت لوٹ لیتے ہیں۔ […]