کافکا کے افسانے (تبصرہ)

Short Stories of Franz Kafka

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز  کھبی کسی چوہے کی زبانی زندگی کے متعلق حیران کر دینے والا فلسفہ سنا ہے……؟ افسوس……! چوہے نے کہا۔ دنیا روز بہ روز چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ شروع شروع میں یہ اتنی بڑی تھی کہ مجھے خوف آتا تھا۔ مَیں بھاگتا رہا، بھاگتا رہا…… اور جب آخرِکار مجھ کو دور پر […]

ناروے کی لوک کہانیاں (تبصرہ)

Norwegian Folktales, Book Review

تبصرہ نگار: منیر فراز  ناروے میں مقیم شگفتہ شاہ صاحبہ نے اپنی ترجمہ کی ہوئی کتاب ’’ناروے کی لوک کہانیاں‘‘ بڑے خلوص و اہتمام کے ساتھ مجھے بھیجی ہے۔ یہ چند مہینوں میں اُن کی ترجمہ کی ہوئی دوسری کتاب ہے، جو غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے والوں کی ’’بُک شلف‘‘ کی زینت بنی […]

پاپولسٹ لیڈروں کی خصوصیات بیان کرتی کتاب (تبصرہ)

نوجوان سیاست میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ بہت خوشی کی بات ہے۔ کیوں کہ اپنے ہاں گھر، سماج اور ریاست کا ہر ادارہ انھیں غیر سیاسی بنانے پر تلا ہوا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ سیاست محض ’’فُلاں زندہ باد، فُلاں مردہ باد‘‘ یا ’’فُلاں نے آج یہ بیان دیا، فُلاں نے […]

خوش ونت سنگھ کا ناول ’’دلی‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ: کنول اقبال جب برصغیر کی بات آتی ہے، تو یہ سوچ کر دل کو تسلی نہیں دی جا سکتی کہ یہ محض کہانی ہے۔ فرضی کرداروں کے ساتھ قاری کے تخیل کی دنیا وسیع ہوتی ہے، وہ جیسا چاہے سوچتا رہے، لیکن ایسے کردار جو کبھی موجود تھے، اُنھیں پڑھتے وقت دل ہچکولے کھاتا […]

سوامی وویک آنند کی کتاب ’’کرما یوگا‘‘ کا مختصر جائزہ

یہاں لفظ کرما کا مطلب عمل (Action) ہے (البتہ کرما کے ایک اور معنی مکافاتِ عمل بھی ہیں)، تمام چھوٹے اور بڑے عمل، ہماری سوچ، بولنا اور عمل کرنا سب ’’کرما‘‘ میں شامل ہوتا ہے۔ کتاب ’’کرما یوگا‘‘ میں سوامی وویک آنند صاحب نے کام کو اچھے اور بہتر انداز میں کرنے کا فلسفہ اور […]

لیو ٹالسٹائی کا ناول ’’جنگ اور امن‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ: کاشف منظور  ’’وار اینڈ پیس‘‘ (War and Peace) یا ’’جنگ اور امن‘‘ کو عالمی ادب کا غیر معمولی شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ یہ عظیم و ضخیم ناول پڑھنا ہی عام قارئین کے لیے ایک کارنامے سے کم نہیں۔ اپنے کلاسرا صاحب اسے کالج کی سمری بریک میں پڑھتے اور ہم عصر طلبہ اور اساتذہ […]

افغانستان کا نوحہ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: نوشابہ کمال  کافی پہلے کہیں پڑھا تھا: ’’جس کا درد، اُسی کا درد…… باقی سب تماشائی‘‘ خالد حسینی کا ناول ’’آ تھاؤزنڈ سپلینڈڈ سنز‘‘ (A Thousand Splendid Suns) پڑھ کر کچھ ایسا ہی احساس ہوتا ہے۔ مختلف عالمی طاقتوں کے لیے افغانستان ایک اکھاڑا تھا، جہاں سب نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ […]

کتابِ میرداد (تبصرہ)

تبصرہ نگار: ارسلان قادر  ایک دن اُوشو سے کسی نے پوچھا کہ کون سی کتاب پڑھنی چاہیے، تو اُوشو کہنے لگے: ’’دیکھیے لوگوں کے گھروں میں لائبریری ہوتی ہے، جب کہ میرا گھر ہی لائبریری تھا، جہاں مَیں رہتا رہا۔ سب کتابیں پڑھ لیں، مگر مَیں آپ کو صرف ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں […]

کانچ کا زِنداں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: رومانیہ نور گئے برس اوائلِ دسمبر کی ایک کہر آلود شام تھی، جب ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب ’’کانچ کا زِنداں‘‘ موصول ہوئی۔ مَیں جو ’’میگرین‘‘ اور ’’وِژن لاس‘‘ کے ٹراما میں انتہائی بے زار اور مشکل وقت کاٹ رہی تھی…… ڈاکٹر صاحبہ سے معذرت چاہی کہ جوں ہی […]

چشم کشا حقائق پر مبنی عاصم سجاد اختر کی کتاب

عاصم سجاد اختر کی کتاب "The Struggle for Hegemony in Pakistan” پڑھتے ہوئے جابجا باقاعدہ رُکنا پڑا، تاکہ خود کو یقین دلا سکوں کہ یہ کتاب پاکستان ہی میں شائع ہوئی ہے اور مصنف اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں……! یہ اس لیے کہ اس مختصر سی کتاب میں ’’سجیلے جوانوںـ‘‘ کے […]

کتاب ’’فکری روایات‘‘ کا اجمالی جائزہ

اردو یا پشتو میں کسی کتاب کا مطالعہ کروں…… اور صرف کیے گئے وقت کو بامعنی پاؤں، تو دوہری خوشی ہوتی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب کو پڑھنے کے بعد بھی کچھ ایسے ہی احساسات ہیں۔ مصنف جمشید اقبال نے صرف کسی کتاب پر اپنا نام کندہ کرنے اور مصنف کہلائے جانے کے چکر میں اُردو […]

لیو ٹالسٹائی کی کہانیاں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: منیر فراز عقیلہ منصور جدون صاحبہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ کے فیس بُک گروپ کی نہایت مصروف ترجمہ نگار ہیں۔ انھوں نے بہت قلیل مدت میں فنِ ترجمہ نگاری پر دسترس حاصل کی اور کئی یادگار افسانے اور امریکی معاشرت کے کئی سماجی اور اہم سیاسی مضامین ترجمہ کرکے پڑھنے والوں تک […]

’’ایک فکشن نگار کا سفر‘‘ (تبصرہ)

ترجمہ: رضوان الدین فاروقی  ضیا فاروقی کا شمار اُردو اَدب کے اُن قلم کاروں میں ہوتا ہے، جن کی پشت پر تقریباً نصف صدی کے تجربات کے نقوش کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک اُن کے ادبی سروکار کا معاملہ ہے، تو یہ اُردو زبان و ادب کے اُن شہ سواروں میں […]

شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب ’’میرے ہم نوا‘‘ کا مختصر سا جائزہ

اُبھرتے ہوئے نوجوان ادیب اور نثر نگار سجاد حسین سرمد کی شخصی خاکوں پر مشتمل دُوسری کاوش ’’میرے ہم نوا‘‘ گذشتہ دنوں شائع ہوئی، جس میں 12 شخصیات پر خاکے تحریر کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان شخصیات میں چار زندہ شخصیات پر بھی خامہ فرسائی کی گئی ہے، جو کہ ایک […]

’’کتاب کہانی‘‘ ہم سب کا سچ ہے

تبصرہ: روشی سمیع خان ہم سب کی زندگی میں سب سے خوب صورت چیز خواب دیکھنا ہے، البتہ خواب کی تعمیل کا معاملہ الگ ہے۔ ہر عمر کے خواب الگ ہوتے ہیں۔ بچپن سے جوانی کی دہلیز میں قدم رکھتے ہوئے کیا ہم سب سماجی انقلاب اور بغاوت کے خواب نہیں دیکھتے…… اور پھر اُسی […]

جاب کو بوریت کا سامان سمجھنے والوں کے نام

عام نوکری کرنے والوں سے لے کر خاص اور بااثر نوکری کرنے والوں تک سے مجھے جو بات سب سے زیادہ سننے میں آئی، وہ کام سے منسلک بوریت کے احساسات ہیں۔ جہاں روز اُٹھو، وہی روزمرہ کے کام، وہی نوکری، وہی گھسی پٹی زندگی……! میڈیا بھی اس قسم کی فلمیں دکھا کر ہمیں بتاتاہے […]

اُوشو کی کتاب ’’تعلیمی انقلاب‘‘ میری نظر میں

تحریر: ایڈوکیٹ ابوبکر گجر  گرو رجنیش (اُوشو) بیسویں صدی کے اک ممتاز فلسفی اور متنازع شخصیت تھے۔ اُوشو نے بہت سے موضوعات پر کتابیں لکھی۔ عورت، جنس، موت، محبت اور زیرِ نظر کتاب ’’تعلیمی انقلاب۔‘‘ کتاب پر تبصرہ دینے سے پہلے اُوشو کا اپنے لکھے اور کہے پر موقف آپ کے سامنے رکھتا ہوں: ’’میری […]

تاریخِ عالم (کتاب کا تعارف)

تحریر: اخلاق احمد قادری (کتاب کے مصنف) العلم التاریخ اپنے وسیع معنی میں انسان کی سرگذشت اور اُس کو اِس دنیا میں پیش آنے والے واقعات کا مرقع ہے۔ اِس مرقع کا آغاز اُس وقت ہوا جب انسان آدم سے پہلے یا بعد حیوانات کی منزل سے انسانیت کے دائرے میں قدم رکھا تھا۔ اس […]

کیرئیر سے متعلق ایک اہم کتاب (تبصرہ)

ایک نوجوان جس نے اپنے ’’اسٹارٹ اَپ‘‘ (Start Up) کی دلچسپ کہانی مجھ سے شیئر کی۔ اسٹارٹ اَپ کا عروج و زوال، اور پھر میرے سامنے تین آپشن رکھ کر پوچھا کہ بتائیے…… مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیوں کہ اس عروج و زوال کے سفر نے اُن کو اپنے فیصلہ لینے کی قوت کے متعلق […]

سرزمینِ سوات (تبصرہ)

برصغیر پاک و ہند پر جب انگریز حکم ران تھے، تو وہ اپنا تسلط قائم رکھنے اور اسے مستحکم بنانے کے لیے مختلف حربوں سے کام لیتے تھے۔ جہاں وہ طاقت کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرسکتے، تو اپنی بے محابا عسکری قوت سے کام لیتے، جہاں انھیں محسوس ہوتا کہ بات چیت یا نرم […]

انگریزی کتاب "Why Men Marry Bitches” (تبصرہ)

مجھے کتاب "Why Men Marry Bitches” سے بہت سے اعتراضات ہیں۔ مَیں دوسروں کے پیچھے بھاگنے یا انھیں اپنے پیچھے دوڑنے پر مجبور کرنے والے فارمولے پر بالکل یقین نہیں رکھتی۔ اس لیے نہیں کہ یہ اچھی یا بری بات ہے…… بلکہ اس لیے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ مَیں کھراپن (Authenticity) اور […]