گھاس کی پتیاں (تبصرہ)

Aqsa Sarfaraz

تحریر: اقصیٰ گیلانی  والٹ وٹمن 1819ء میں امریکی شہر نیویارک کے ایک غریب مستری کے گھر پیدا ہوا۔ 9 بہن بھائیوں میں اُس کا دوسرا نمبر تھا۔ وہ صرف چار پانچ برس ہی سکول جا پایا اور فقط 11 برس کی عمر میں تعلیم چھوڑ کر پہلے باپ کے ساتھ مزدوری کرنے لگا اور پھر […]

توروالی-انگلش ڈکشنری برائے طلبہ کا جائزہ

Blogger Zubair Torwali

ہمارا، ادارہ برائے تعلیم و ترقی (آئی بی ٹی)، کا عزم ہے کہ حالات جس قدر بھی ناساز ہوں اور وسائل ناپید ہوں، ہم نے اپنی محبوب مادری زبان کے احیا اور فروغ کے لیے کسی بھی صورت میں کام جاری رکھنا ہے، اور اپنے لوگوں کے لیے اور تعلیمی، علمی و تحقیقی حلقوں کے […]

جنت کی تلاش (تبصرہ)

Jannat ki Talash, Book Review

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز  ’’مُلک ہار جائے، تو کچھ نہیں ہوتا۔ آدمی مر جائے، تو کچھ نہیں مرتا۔انسان کی اُمنگ مار دی جائے، تو سب کچھ مر جاتا ہے۔‘‘ ذی روح انسان کے نزدیک جنت کی کنجی نیکی و بدی، خیر و شر، اچھائی و برائی کے ترازوے میں تو لے جانے والے نامۂ اعمال […]

’’کبڑا عاشق‘‘ (تبصرہ)

Book Review

تبصرہ نگار: حسن یوسف  اس کائناتِ حیرت میں واحد شے جو رنگ و نسل، مذہب و قوم سے بالاتر ہے وہ ’’محبت‘‘ ہے۔ آپ کسی لمحۂ موجود میں مبتلائے تمنا ہوجاتے ہیں اور جان نہیں پاتے، لیکن جب ادراک کے در وا ہوتے ہیں، تو آپ اُس ایک تمنا، اُس ایک خواب جس میں مبتلا […]

موت کی خوشی (تبصرہ)

A Book Review by Aqsa Sarfaraz

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز  ’’البرٹ کامیو‘‘ کے اس ناول کے توسط میری ملاقات ورکنگ کلاس کے ایک ایسے نوجوان سے ہوئی ہے، جو دن رات خوشی کے حصول کے لیے سرگرداں رہتا ہے۔ اُس کے نزدیک خوشی سے مراد دولت ہے۔ دولت کے بغیر انسان خوش و خرم، مطمئن اور پُرسکون نہیں رہ سکتا۔ وہ […]

اینمل فارم (تبصرہ)

Animal Farm

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز  ’’جارج آرویل‘‘ سے میرا پہلا تعارف اُن کی کتاب ’’1984‘‘ سے ہوا۔ ’’1984‘‘ جارج آرویل کا وہ ناول ہے، جو سال 1984ء میں 40 لاکھ سے زاید کی تعداد میں فروخت ہوا۔ اب اتنے سال گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ کتاب متعدد اداروں سے مختلف زبانوں میں شائع ہو رہی […]

کاندید (تبصرہ)

Blogger Aqsa Sarfaraz

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز  خوف زدہ، حواس باختہ،گُم صم، لہولہان اور لرزہ براندام کاندید خود سے سوال کرتا ہے: ’’اگر یہی بہترین دنیا ہے، تو اس سے بدتر کون سی ہوگی؟ مجھے جو کوڑے لگے ہیں، اُنھیں تو مَیں نظر انداز کرسکتا ہوں۔ اس لیے کہ اس سے قبل بلغاریوں نے بھی میرے ساتھ ایسا […]

بھوکی سڑک (تبصرہ)

Blogger Tariq Ahmad Khan

تبصرہ نگار: طارق احمد خان  ’’بھوکی سڑک‘‘ دراصل ’’بین اوکری‘‘ (Ben Okri) کے بکر پرائز وننگ ناول "The Famished Road” کا اُردو ترجمہ ہے، جسے راشد اشرف نے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ ’’بین اوکری‘‘ نائجیریا سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن آج کل لندن میں مقیم ہیں۔ اگر آپ نے مارکیز کا ’’تنہائی کے […]

ناول ’’جہاں برف رہتی ہے‘‘ کی کہانی، مصنف کی زبانی

Snow, Novel by Orhan Pamuk

انتخاب: احمد بلال مَیں جب اپنا ناول ’’برف‘‘ (’’جہاں برف رہتی ہے‘‘، اُردو ترجمہ) لکھنے کی تیاری کر رہا تھا، تو مَیں نے ترکی کے جنوب مشرق میں واقع شہر ’’کاز‘‘ کے کئی چکر لگائے۔ میرا یہ ناول ظاہری طور پر دوسرے ناولوں کی نسبت زیادہ سیاسی ہے۔ ’’کاز‘‘ کے باسی چوں کہ نیک دل […]

ناول ’’باپ اور بیٹے‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے اکبر اِلہ آبادی کا یہ شعر اس کتاب کی مکمل ترجمانی کرتے دیکھائی دیتا ہے۔ ایوان ترگینف نے جس زمانے میں اپنا خوب صورت اور شہرت کی بلندیوں کو چھوتا ہوا یہ شاہ کار ناول […]

میکسیکو کے ادب سے ترجمہ شدہ ناول ’’بنجر زمین‘‘

تبصرہ نگار: طارق احمد خان  ’’بعض گاؤں ایسے ہوتے ہیں جن سے بدنصیبی کی بو آتی ہے۔ آپ اُنھیں پہچان لیتے ہیں اُن کی ٹھہری ہوئی ہوا کے ایک جھونکے سے باسی اور نحیف۔ ہر پرانی چیز کی طرح یہ گاؤں اُن میں سے ایک ہے سوزانا!‘‘ اوپر تحریر کیا گیا جملہ اُسی گاؤں ’’کومالا‘‘ […]

چارلس ڈکنز کا ناول ’’دو شہروں کی کہانی‘‘

Book Review by Aqsa Sarfaraz

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز چارلس ڈکنز سے میرا پہلا تعارف "A Tale Of Two Cities” سے ہوا۔ چوں کہ یہ کتاب میرے پاس انگلش میں موجود تھی، سرورق بھی کافی خوب صورت تھا، تو دل میں بار بار کتاب کو پڑھنے کی ایک مدھم سی خواہش پیدا ہوتی تھی…… مگر پھر وہی بات کہ انگریزی […]

دیوانوں کی ڈائریاں (تبصرہ)

Book Review by Aqsa Sarfaraz

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز  عالمی ادب کے مصنفین کی کتب پڑھنے اور اُن کے فلسفیانہ خیالات سے واقفیت بڑھانے کا بہترین موقع ہمیں تراجم کی صورت میں میسر آتا ہے۔ عالمی ادب کے تراجم کی دنیا بہت وسیع ہے۔ جب ہم جیسے قارئین، جو اس میدان میں نئے ہیں، میں عالمی تراجم پڑھنے کا شوق جاگتا […]

کیتھرائن مینسفیلڈ کے بہترین افسانے (تبصرہ)

Munir Faraz

تبصرہ نگار: منیر فراز  ’’عالمی افسانوی ادب کے تراجم‘‘ (فیس بک صفحہ) میں ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کا نام اب کسی روایتی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ ڈاکٹر صاحبہ کے عالمی ادب کے تراجم کی دو کتب، ایک بنام ’’عکسِ ادب‘‘ جس میں عالمی ادب کے بہترین افسانوں کا انتخاب شامل تھا اور دوسری، […]

چالیس چراغ عشق کے (تبصرہ)

Aqsa Sarfaraz

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز محبت کے بغیر کوئی بھی زندگی کسی شمار میں نہیں۔ خود سے یہ مت پوچھو کہ تمھیں کیسی محبت کی جستجو کرنی چاہیے، روحانی یا مادی، الوہی یا دنیوی، مشرقی یا مغربی……؟ تقسیم مزید تقسیم پر ہی منتج ہوتی ہے۔ محبت کا کوئی نام نہیں، کوئی تعریف نہیں۔ یہ جو ہے […]

اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی

تبصرہ نگار: فرخ سہیل گوئندی زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی‘‘ دو یہودی مصنفین کی تحقیقی اور معلوماتی کتاب ہے۔ یہ جناب اسرائیل شحاک اور نارٹن میزونسکی کی مشترکہ کاوش ہے۔ اسرائیل شحاک پولینڈ میں اپنی والدہ کے ہم راہ ایک نازی کیمپ صرف اس بنیاد پر قید کردیے گئے کہ وہ یہودی […]

ولیم شیکسپیئر کے ’’ہیملیٹ‘‘ کا اُردو ترجمہ

Aqsa Sarfaraz

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز  شہرت یافتہ لکھاری کی لکھی کوئی بھی تصنیف، چاہے وہ عام ہو یا خاص، ہمیشہ شہرت یافتہ کہلاتی ہے۔ اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت شیکسپیئر کا ڈراما ’’ہیلمیٹ‘‘ ہے۔ مَیں واضح کرنا چاہوں گی کہ مَیں لکھاری یا اس کی تصنیف پہ سوال نہیں داغ رہی، بلکہ کتاب کے ترجمے کے […]

پائیلو کوئیلہو کا ناول ’’گیارہ منٹ‘‘ (تبصرہ)

Paulo Coelho

تبصرہ نگار: نواب ایم ایس جنوبی امریکہ کا ملک برازیل جوکہ کارنیوال، سامبا رقص، یسوع کی بانہیں کھولے مجسمے، فٹ بال، فٹ بال کے نام ور کھلاڑی پیلے اور اَدبی دنیا کے معروف نام پاؤلو کوئیلہو کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ پاؤلو کوئیلہو (پال کوئیلو) کا نام ادب سے شناسائی رکھنے والے کسی بھی […]

تاریخ، وِل ڈیورانٹ اور یاسر جواد

وِل ڈیورانٹ کی کتاب "The Story of Civilization”، جس کا اُردو ترجمہ یاسر جواد صاحب نے کیا ہے، ایک شان دار تاریخی کتاب ہے، جو 11 جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں انسانی تمدن کی تاریخ کا جامع اور وسیع جائزہ دیا گیا ہے۔ ابو جون رضا کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]

حوزے ساراماگو کا ناول ’’اندھے لوگ‘‘

Book Review

تبصرہ: یاسر رضا  کہانی سے میرا تعلق کتاب کی صورت استوار ہوا اور گہرے سے گہرا ہوتا چلا گیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ بنا کتاب کے دنیا اندھیر لگنے لگتی ہے۔ میرا ذاتی تجربہ کہتا ہے کہ ٹی وی یا موبائل سکرین، تخیل کا کینوس محدود کرتی ہے۔ اس لیے کتاب کے متن […]

ناول ’’درخت نشین‘‘ کا مختصر جائزہ

Book Review of an Italian Translated Novel by Safina Baigum

تبصرہ: سفینہ بیگم قارئین! دو سال قبل یہ ناول پڑھا تھا، لیکن وہ میری ذاتی کاپی نہیں تھی۔ اجمل کمال صاحب کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر پوسٹ دیکھ کر ناول کو خریدنے کا ارادہ کیا، لیکن پیاری بہن نرگس حور نے یہ خوب صورت کتاب تحفے میں بھیج دی، تو دل […]