انور سادات، اسرائیل تسلیم کرنے والا پہلا عرب صدر

Blogger Comrade Sajid Aman

ایک دفعہ دوپہر کے وقت قاہرہ (Cairo) کی فضا میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی تھی۔ یہ ستمبر 1981 کی ایک پُراسرار دوپہر تھی۔ فوجی پریڈ جاری تھی، ٹینک اور دستے گزر رہے تھے اور صدر اسٹیج پر بیٹھے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ اچانک گولیوں کی آواز گونجی اور چند ہی لمحوں میں پورا منظر بدل گیا۔ مصر کے صدر، انور سادات، خون میں لت پت گرے پڑے تھے۔
یہ واقعہ نہ صرف مصر ،بل کہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والا تھا۔ ایک ایسا راہ نما، جس نے جنگ بھی لڑی تھی اور امن کا معاہدہ بھی کیا تھا، اُسی سرزمین پر اپنا خون بہا بیٹھا، جس کی سیاست کو اُس نے ایک نئی سَمت دینے کی کوشش کی تھی۔
یوں انور سادات کی زندگی تضادات سے بھرپور تھی۔ وہ ایک ایسے شخص تھے، جو ایک طرف عرب قوم پرستی کے دور میں اُبھرے، مگر بعد میں اُسی سیاست کو ایک مختلف راستے پر لے گئے۔ وہ ایک فوجی افسر بھی تھے، ایک انقلابی ساتھی بھی تھے، ایک صدر بھی تھے… اور سب سے بڑھ کر ایک ایسے راہ نما تھے، جنھوں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک جرات مند مگر نہایت متنازع فیصلہ کیا۔
سادات 1918 میں مصر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اُن کا بچپن قاہرہ کی چمک دمک سے دور، ایک سادہ ماحول میں گزرا۔ ان کے والد ایک سرکاری ملازم تھے اور خاندان کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔ نوجوانی کے زمانے میں مصر کی فضا پہلے ہی سیاسی کش مہ کش سے لب ریز تھی۔ استعماری تاج، برطانوی اثر رسوخ اور مصری شاہی نظام کی نااہلی کے خلاف بے چینی بڑھ رہی تھی۔ یہی ماحول سادات کے سیاسی شعور کی بنیاد بنا۔
فوج میں داخل ہونے کے بعد سادات کی ملاقات ایک ایسے افسر سے ہوئی، جس کا نام بعد میں عرب دنیا میں ایک علامت بن گیا، جمال عبد الناصر، جو عربوں کے لیے امید کی ایک بڑی علامت بنے۔ دونوں نوجوان افسروں کے درمیان ایک فکری قربت پیدا ہوئی۔ وہ ایک ایسے مصر کا خواب دیکھتے تھے، جو آزاد، خودمختار اور قومی وقار کا حامل ہو۔
1940 اور 1950 کی دہائیوں میں مصر کے اندر جاری خفیہ سیاسی سرگرمیوں میں سادات بھی شامل ہوگئے۔ وہ اُس فوجی گروہ کے رکن تھے، جسے بعد میں ’’فری آفیسرز‘‘ (Free Officers) کے نام سے جانا گیا۔ 1952 میں جب اس گروہ نے انقلاب برپا کیا اور شاہ فاروق کو اقتدار سے ہٹا دیا, تو مصر کی سیاست کا ایک نیا باب شروع ہوا۔
انقلاب کے بعد سادات کو فوری طور پر مرکزی قیادت میں شامل نہیں کیا گیا، لیکن وہ ناصر کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے رہے۔ کئی برسوں تک اُنھوں نے مختلف سرکاری عہدوں پر کام کیا اور ناصر کے سیاسی نظام کا حصہ بنے رہے۔ اُس وقت کسی کو یہ یقین نہیں تھا کہ یہی شخص، ایک دن مصر کے صدر بن جائیں گے۔
1970 میں جب ناصر کا اچانک انتقال ہوا، تو مصر ایک سیاسی خلا کا شکار ہوگیا۔ اُس وقت سادات کو عبوری اور نسبتاً کم زور شخصیت سمجھ کر صدر بنا دیا گیا، مگر جلد ہی یہ اندازے غلط ثابت ہوئے۔ چند ہی برسوں میں سادات نے اپنی سیاسی طاقت کو مستحکم کیا اور ریاستی نظام پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔
صدر بننے کے بعد سادات کو سب سے بڑا مسئلہ اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کا درپیش تھا۔ 1967 کی جنگ میں مصر کو سخت شکست ہوئی تھی اور جزیرہ نما سینا (Sinai Peninsula) اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ یہ شکست مصر کے قومی وقار اور خودی کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی۔
1973 میں سادات نے ایک جرات مند فیصلہ کیا۔ مصر اور شام نے مل کر اسرائیل پر اچانک حملہ کیا، جسے تاریخ میں جنگِ اکتوبر (Yom Kippur War) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے ابتدائی دنوں میں مصری فوج نے نہر سویز عبور کرکے اسرائیلی دفاعی لائن کو توڑ دیا۔ اگرچہ جنگ بالآخر ایک فوجی تعطل پر ختم ہوئی، مگر مصر کے لیے یہ ایک نفسیاتی فتح تھی. کیوں کہ اس نے 1967 کی شکست کے بعد قومی اعتماد کو بہ حال کیا۔
اسی جنگ کے بعد سادات نے ایک غیر متوقع راستہ اختیار کیا۔ اُنھوں نے محسوس کیا کہ مسلسل جنگیں خطے کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیں گی۔ اُنھوں نے ناصر کے راستے کو ترک کیا اور اپنے انداز میں امن کی کوششوں کا آغاز کیا۔ 1977 میں وہ ایک تاریخی اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے عرب راہ نما بن گئے۔ سادات کا یہ اِقدام دنیا کے لیے حیران کن تھا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے سادات نے امن کی بات کی اور ایک ایسے مستقبل کا تصور پیش کیا، جس میں جنگ کے بہ جائے مذاکرات کو ترجیح حاصل ہو۔
مذکورہ مذاکرات کا نتیجہ چند برس بعد سامنے آیا، جب امریکہ کے صدر جمی کارٹر (Jimmy Carter) کی سرپرستی میں مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدہ (Camp David Accords) طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت مصر نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا اور بدلے میں اسرائیل نے سینا واپس کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ سادات اور اسرائیلی وزیرِ اعظم مناخم بیگن (Menachem Begin) کو اس اقدام پر نوبل امن انعام بھی دیا گیا… لیکن عرب دنیا میں اس فیصلے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے ماتم اور سوگ کے طور پر دیکھا گیا۔ بہت سے عرب ممالک نے مصر سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے اور اسے عرب اتحاد سے انحراف قرار دیا۔ مصر کو عرب لیگ (Arab League) سے بھی نکال دیا گیا۔ داخلی سیاست میں بھی سادات کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُن کی معاشی پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں پر تنقید بڑھتی گئی۔ بعض مذہبی اور سیاسی حلقے اُنھیں مغرب کے حد سے زیادہ قریب سمجھنے لگے۔ آخرِکار 6 اکتوبر 1981 کو وہی فوجی پریڈ، جو 1973 کی جنگ کی یاد میں منعقد کی جا رہی تھی، اُن کی زندگی کا آخری منظر بن گئی۔ ایک شدت پسند گروہ کے افراد نے پریڈ کے دوران میں فائرنگ کر کے اُنھیں قتل کر دیا۔
انور سادات کی زندگی کا جائزہ لیا جائے، تو وہ ایک ایسے راہ نما نظر آتے ہیں، جنھوں نے اپنے دور کے بڑے فیصلے کیے۔ اُنھوں نے جنگ کا راستہ بھی اختیار کیا اور امن کا بھی۔ اُنھوں نے عرب قوم پرستی کے ماحول میں اشتراکی و قوم پرست نظریات کے ساتھ سیاست کا آغاز کیا، مگر بعد میں ایک ایسی سفارتی حکمت عملی اپنائی، جس نے امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تقویت دی اور مصر کو ایک مختلف راستے پر ڈال دیا۔ اُن کے ناقدین کہتے ہیں کہ اُنھوں نے عرب اتحاد کو کم زور کیا، جب کہ اُن کے حامیوں کا خیال ہے کہ اُنھوں نے مصر کو مسلسل جنگ کے دائرے سے نکالنے کی کوشش کی۔ شاید حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
تاریخ میں کچھ راہ نما ایسے ہوتے ہیں، جنھیں صرف کام یابی یا ناکامی کے پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا۔ انور سادات بھی مذکورہ راہ نماؤں میں سے ایک تھے۔ اُنھووں نے ایسے فیصلے کیے، جنھوں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا، اور اسی وجہ سے اُن کا نام آج بھی اس خطے کی تاریخ میں ایک اہم اور متنازع کردار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) قاہرہ (Cairo):۔ قاہرہ مصر کا دارالحکومت اور افریقہ کا سب سے بڑا شہر ہے، جو دریائے نیل کے کنارے واقع ہے۔ اسے ’’ہزار میناروں کا شہر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ شہر قدیم تاریخ، اسلامی ورثے اور جدید زندگی کا امتزاج ہے۔
2) ’’فری آفیسرز‘‘ (Free Officers):۔ یہ مصر کے فوجی افسران کا ایک خفیہ گروہ تھا، جس نے 23 جولائی 1952 کو بادشاہت کا تختہ اُلٹ کر انقلاب برپا کیا اور مصر کو جمہوریہ میں تبدیل کیا۔ اس تحریک کی قیادت محمد نجیب اور جمال عبدالناصر نے کی۔
3) سینا (Sinai Peninsula):۔ یہ دراصل مصر کا ایک اہم خطہ ہے، جو ایشیا اور افریقہ کو جوڑنے والا زمینی پل ہے، جو شمال میں بحیرۂ روم اور جنوب میں بحیرۂ احمر کے درمیان واقع ہے۔ اس کی تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی حیثیت اسے منفرد بناتی ہے۔
4) جنگِ اکتوبر (Yom Kippur War):۔ یہ جنگ 6 اکتوبر 1973 کو مصر اور شام نے اسرائیل کے خلاف شروع کی، جس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے تعلقات پر گہرا اثر ڈالا۔ اس شش روزہ (چھے دن) جنگ میں اسرائیل نے سینا اور گولان پر قبضہ کرلیا تھا۔
5) جمی کارٹر (Jimmy Carter):۔ جمی کارٹر دراصل امریکہ کے 39ویں (1977–1981) صدر تھے، ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے تھے اور 2024 میں 100 برس کی عمر میں وفات پائی۔ وہ انسانی حقوق، امن اور فلاحی کاموں کے لیے مشہور تھے۔
6) کیمپ ڈیوڈ معاہدہ (Camp David Accords):۔ یہ معاہدہ 1978 میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امریکی صدر جمی کارٹر کی ثالثی کی وجہ سے ہوا۔ یہ دراصل عرب–اسرائیل تنازع میں پہلا بڑا امن معاہدہ تھا، جس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو نئی سمت دی۔
7) مناخم بیگن (Menachem Begin):۔ مناخم بیگن، اسرائیل کے وزیرِ اعظم (1977–1983) تھے۔ 1978 میں مصر کے صدر انور سادات کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرکے امن قائم کرنے پر نوبل امن انعام حاصل کیا۔
8) عرب لیگ (Arab League):۔ یہ ایک علاقائی تنظیم ہے، جو عرب دنیا کی سب سے بڑی تنظیم مانی جاتی ہے۔ یہ 1945 میں قائم ہوئی اور اس کا مقصد عرب ممالک کے درمیان اتحاد، تعاون اور مشترکہ پالیسی سازی ہے۔
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے