سیاست بہت صاف ستھرا کھیل ہوا کرتا تھا…… اور یہ کھیل کھیلنے والے کھلاڑی بڑے بردبار، متین، سمجھ دار، حوصلہ مند، سنجیدہ اور نظم و ضبط کے قائل ہوتے تھے۔
سیاست دان اپنے وقار کا ہمیشہ لحاظ اور پاس رکھا کرتے تھے۔ اُن کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ سجی رہتی تھی۔ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنا ان کا وطیرہ ہوا کرتا تھا۔ واقعی وہ لوگ سیاست کو عبادت کا درجہ دیا کرتے تھے۔
رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rafi/
نواب زادہ نصراللہ خان، عبدالولی خان، محمد خان جونیجو، میاں محمد یاسین وٹو، محمد حنیف رامے، ملک معراج خالد سمیت درجنوں ایسے نام گنوائے جا سکتے ہیں جو سیاست کے ماتھے کا جھومر ہیں۔
پھر زمانے کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی تبدیلی آگئی۔ سیاست تیز رفتار بھی ہوگئی اور محض شرفا کا کھیل بھی نہ رہی۔ پیسے نے سیاست کو تباہ کر دیا۔ جس طرح مختلف محکموں میں رشوت دے کر ملازمت حاصل کی جاتی ہے اور پھر رشوت لے لے کر اپنی آمدنی کئی گنا بڑھائی جاتی ہے…… یہی چلن سیاست میں بھی آگیا۔ سیاست دانوں نے پارٹی ڈونیشن اور انتخابی اخراجات کی مد میں بے تحاشا پیسا خرچ کرنا شروع کر دیا۔ جیت کی صورت میں خرچ کیا گیا پیسا 20، 25 گنا زیادہ منافع کے ساتھ حاصل کیا جانے لگا۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے منظور کروائے گئے فنڈز کا 10 فی صد کمیشن ممبرانِ اسمبلی کے لیے حلال قرار دے دیا گیا۔ گویا 10 کروڑ کے منصوبے میں سے ایک کروڑ اپنی جیب میں ڈالو۔ نہ کوئی پوچھ گچھ نہ کسی انکوئری کا ڈر۔ بالکل حق حلال کی جائز کمائی آپ کی جیب میں۔
کچھ تیز اور کمائی ہی کی نیت سے سیاست میں آنے والے حضرات اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری کروائے گئے فنڈز کے ٹھیکے بھی خود ہی لینے لگے۔ اس کام کے لیے انھوں نے فرنٹ مین رکھ لیے اور یوں 10 کروڑ میں سے کم از کم 5 کروڑ کھرا کیا جانے لگا۔ وزرا اپنے محکموں میں لوٹ مار مچانے لگے۔ یوں وزرائے اعلا اور وزرائے اعظم نے بہتی گنگا میں سب سے زیادہ ہاتھ دھونے شروع کر دیے۔
سیاست کو عبادت کا درجہ دینے والے خال خال رہ گئے اور کاروباری نیت سے سیاست کرنے والے چھاگئے…… جنھوں نے سیاست کو غلاظت میں بدل کر رکھ دیا۔ پہلے سیاست کو خدمت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اب یہ انتقام لینے کا ذریعہ بن گئی۔ سیاسی اختلافات ذاتی مخالفت میں بدلتے گئے۔ اس طرح سیاست ’’کھیل‘‘ کے سٹیٹس سے نکل کر ’’جنگ‘‘ کے درجے میں داخل ہوگئی۔ مخالف الیکشن لڑنے کے ’’جرم‘‘ میں سیات دان قتل بھی ہونے لگے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی انھیں دھکیلا گیا۔ سیاست میں جیت اور جیت کے بعد اقتدار ہی منزل کا حصول ہوتا ہے…… مگر اس منزل کے حصول کے لیے جائز ذرائع کا حصول ہی کافی نہ سمجھا گیا۔ ہر طرح کی دھونس، دھاندلی اور ہر ناجائز حربہ استعمال کرنا اس کھیل میں جائز قرار پایا۔ ہم اقتدار کی جنگ جیتنے کی خاطر اور دوسرے کے مینڈیٹ کو نہ ماننے کی ضد میں اپنا آدھا ملک گنوا بیٹھے…… لیکن ملکی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کی روایت بڑھتی ہی چلی گئی۔
پہلے یہ ہوتا تھا کہ انتخابات کے موقع پر ہر اُمیدوار اپنی اچھائیاں عوام کو بتایا کرتا تھا۔ اپنی شرافت، وطن دوستی اور عوامی بھلائی کے کاموں کے ثبوت اپنے ووٹرز کے سامنے رکھتا تھا۔ مخالف اُمیدوار سے اپنے آپ کو بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دیتا تھا کہ جسے چاہے منتخب کریں۔ اب ایسا بالکل نہیں۔ اپنی اچھائی اکثر امیدوار کیش نہیں کراتے۔ شاید اُن کے پاس بتانے کو کچھ ہوتا ہی نہیں۔ آج کل اپنے مخالف کی برائیاں اور کم زوریاں کیش کروائی جاتی ہیں۔ جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں اور اُن الزامات کو اِس تواتر سے دُہرایا جاتا ہے کہ وہ سچ لگنے لگیں۔ میڈیا اور پراپیگنڈے کا دور ہے۔ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک رسائی آسان ہوگئی ہے…… لہٰذا اِس قدر تسلسل کے ساتھ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سننے والے کو سچ لگنے لگتا ہے۔ اس حوالے سے جنابِ ظفر اقبال نے کیا خوب صورت شعر لکھا ہے:
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے
ہمارے سیاست دان بھی صاحبِ کردار ہونے کے اس فارمولے پر 100 فی صد پوارا اُترتے ہیں۔ اپنے مخالفین کو بدترین ثابت کرنے کے لیے ہر الزام لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ عوام بھی قائل ہوجاتے ہیں۔ اب تو ویڈیو اور آڈیو ریلیز کرنے کا رواج بھی چل نکلا ہے۔ مخالفین کی کردار کشی کی یہ گھناونی رسم فروغ پا رہی ہے۔
ہمارے ان سچے لیڈروں کا اصل چہرہ اُس وقت سامنے آتا ہے، جب اُن کے ہاں سے ٹھکرائے ہوئے اور ہر وقت تختۂ مشق بننے والے مخالفین اچانک قبولیت کی سند پا جاتے ہیں۔ تب اُنھیں اپنی لانڈری سے دھو کر پاک صاف کر کے ان مخالفین کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اتنی تیزی سے تو شاید گرگٹ بھی رنگ نہیں بدلتا، جس تیزی سے مفادات کی خاطر سیاست دان رنگ بدلتے ہیں۔ اس میں تخصیص نہیں۔ تقریباً سبھی سیاست دان اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
ذاتی مفاد کی خاطر اُن کو بھی گلے لگا لیا جاتا ہے…… جن کے پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت نکالنے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ جنھیں عوام کے سامنے سڑکوں پر گھسیٹنے کے للکارے مارے جاتے ہیں، اُن کے ساتھ اکٹھے کابینہ میں بیٹھ کر عوام کے اعتماد اور بے وقوفی پرقہقہے لگائے جاتے ہیں۔ جنھیں صوبے کا سب سے ’’بڑا ڈاکو‘‘ کہا جاتا ہے، اُن کے ہاتھ میں اسی صوبے کا اعلا ترین منصب تھما دیا جاتا ہے۔
اس طرح جنھیں چپراسی نہ رکھنے کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، اُنھیں چند بڑی اور اہم ترین وزارتوں میں سیایک سونپ دی جاتی ہے۔
ابن کوئی ایک بھی پارٹی یا اُس کا سربراہ ایسا نہیں بچا جس پر اعتبار کیا جا سکے۔
عمران خان مخالفین کو ’’چور‘‘، ’’چور‘‘ کہتے رہے۔ اُنھیں جیلوں میں بھی ڈالا…… مگر کسی ایک پر بھی اپنے 3 سال 7 ماہ 21 دن کی حکومت میں کوئی ایک کرپشن کا الزام ثابت نہ کر سکے۔
میاں شہباز شریف 4 سال تک بی آر ٹی اور ملم جبہ کرپشن کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے…… مگر سوا سال ان کو بھی اقتدار میں ہونے کو ہے…… کیا نکلا اُس میں سے……؟
بشریٰ بی بی، فرح گوگی، عمران خان اور عثمان بزدار کی کرپشن کا دن رات شور مچایا جاتا رہا۔ کوئی ایک کیس بھی منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔ بالآخر سبھی بے گناہ ثابت ہوجائیں گے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ الزامات کی سیاست سے عوام کو جی بھر کے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ اُن کے ذہنوں میں زہر بھرا جا رہا ہے۔ کسی پر کچھ ثابت نہیں ہوگا۔ نہ کوئی کچھ ثابت کرنا چاہتا ہی ہے۔
کھیل صرف مفادات کا ہے۔ بے وقوف عوام کو اپنی جنگ کا ایندھن بنا کر بے دردی سے اس میں جھونکا جا رہا ہے۔ عوام بھی جان بوجھ کر بے وقوف بنے ہوئے ہیں۔کبھی کسی نے اپنے لیڈروں سے پوچھنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ راہ زن اب راہ بر کیسے ہو گئے……؟
لٹیرے اب بھائی کیوں بن گئے ہیں……؟
سیاست میں چھوٹے چھوٹے گروپ ’’پاسک دی وٹّی‘‘ بن کر بلیک میلنگ اور لوٹ مار میں اپنے جثے سے بھی زیادہ حصہ لے کر پارلیمانی سیاست کو داغ دار کر رہے ہیں۔
ایک اور بری حرکت یہ ہو رہی ہے کہ عمران خان کے ہر فیصلے میں ہر فعل میں اُس کا ساتھ دینے والے برے حالات میں انھیں تنہا ہی نہیں چھوڑ رہے…… بلکہ ان پر الزامات کی بارش بھی کر رہے ہیں۔
واقعی سیاست اب عبادت نہیں رہی، غلاظت بن گئی ہے۔ یہ پارلیمانی سسٹم فیل ہو کر بدبودار ہو چکا ہے۔ سسٹم کی تبدیلی وقت کا تقاضا ہے۔
رہے نام اللہ کا……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔