سیاسی جماعتوں کی بنیاد جمہوریت کے لیے ہوتی ہے اور جمہوریت کی بنیاد صبر اور برداشت پر ہوتی ہے۔ وہ سیاسی شخصیت یا جماعت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو برداشت اور صبر سے کام نہیں لیتی۔ کیوں کہ سیاسی جماعتیں کوئی ڈسپلن محکمہ یا ادارہ نہیں ہوتیں کہ جہاں تنخواہ دار ملازم ہوتے ہیں اور ان کی ایک متعین جگہ اور دائرۂ کار ہوتا ہے۔
سید فیاض حسین گیلانی کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fayaz/
بہرحال میری آج کی تحریر اپنے اُن سیاسی عہدے داروں کے لیے ہے جو سیاسی سوالات کو ذاتی تنقید، کسی جماعتی اعتراض کو شرارت کا شاخسانہ یا کسی کارکن کے سوال کو شخصی حوالے سے دیکھ کر اس کو اپنی ذات کرسی یا دائرۂ اختیار میں مداخلت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ویسے تو اسلامی تاریخ سے لے کر جدید دور کی جمہوریت تک میں درجنوں مثالیں لکھ سکتا ہوں…… بلکہ پاکستان کے سیاسی و آمرانہ دونوں طرح کے حکم رانوں کے بیسیوں واقعات لکھ سکتا ہوں، لیکن مختصر طور پر یہاں چند ایک واقعات لکھنا چاہتا ہوں جو میرا ذاتی تجربہ ہیں۔ ان تجربات کو لکھنے سے پہلے ایک بات لکھ دوں کہ مرحوم نذر حسین کیانی جو شاید واحد انسان تھے کہ جو حکومتی جماعت پی پی کے بھٹو دور میں چیف وہپ تھے قومی اسمبلی میں اور ویگن پر اسمبلی ہال جایا کرتے تھے۔ وہ میرے سیاسی استاد تھے اور انھیں سے مَیں نے سیکھا کہ جمہوری جماعتوں میں تنقید کی اہمیت نہ صرف بہت زیادہ ہونی چاہیے بلکہ تنقید ہی آپ کے لیے بہتری کی روش لاتی ہے۔ بہرحال اب چند واقعات قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا۔
٭ پہلا واقعہ جہاں سے مجھے یہ بات سمجھنے کی شروعات ہوئی یہ ضیاء الحق کا مارشل لا تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نظر بند کر دی گئی۔ ہم نے طلبہ کی ریلی نکالی جس پر کریک ڈاون ہوا۔ ہم بھاگ گئے اور چھپ کر دوبارہ اکٹھا ہونے کا پروگرام بنالیا…… لیکن ہمارے پاس کھانے کے پیسے نہ تھے۔ اب طلبہ کی ہمت جواب دے گئی تھی۔ سو ہم خاموشی سے گھروں کو چلے گئے۔ اگلے دن مرحوم ریاض السلام نے ہمیں سخت سست کہا کہ تم کر نہیں سکتے تھے، تو تماشا کیوں بنایا، ہماری بے عزتی ہوئی۔ سب شرمندہ اور خاموش تھے۔ مَیں پھٹ پڑا اور کہا کہ آغا صاحب آپ کی بے عزتی بنتی ہے۔ آپ کو یہ خیال نہیں تھا کہ کالج کے لڑکے ہیں، جن کے پاس پانی کی سہولت نہیں، تو کیسے ڈٹتے؟ کاش، آپ چند سو روپیا ہمیں دیتے، تا کہ ہم کچھ کرنے کی ہمت کرلیتے۔ خالی اس ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر ہدایت دینا آسان ہے۔ ذرا اپنے بیٹے کو کل بھیجنا اس صورتِ حال میں ہم ساتھ رہیں گے۔
آغا صاحب بہت نفیس انسان تھے، میری بات سن کر ان کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا۔ مَیں نے غنیمت جانی اور بھاگ کر کیانی صاحب کے پاس آگیا۔ پروفیسر اسد بھی وہاں تھے۔ مَیں نے آکر سب کیانی صاحب کو بتا دیا۔کیانی صاحب مسکرائے اور کہا بالکل صحیح کیا تم نے۔ مَیں نے کہا، سر! اب اپنی تو چھٹی ہی سمجھیں۔ کیانی صاحب نے قہقہہ لگایا اور کہا، بالکل نہیں۔ اب آغا تمھاری سب باتیں مانے گا۔ اور انھوں نے وہیں سے آغا صاحب کو پیغام دیا کہ جلدی حل کرو اس مسئلے کو، وگرنہ تمام باتیں جہانگیر بدر صوبائی صدر تک پہنچ جائیں گی۔ آغا صاحب نے معذرت کی اور مجھے کہا، اُو مصیبت! اگلی دفعہ مَیں انتظام کروں گا۔
٭ اب دوسرا واقعہ سن لیں۔ یہ پنڈی کنونشن سینٹر ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو بطورِ وزیر اعظم وہاں موجود ہیں۔ مَیں معمولی بندہ ہوں۔ انھیں دنوں حسین حقانی جو محترمہ کی کردار کشی کا ماسٹر مائنڈ ہے، پی پی میں شامل ہوا ہے۔ مَیں کھڑا ہو کر شدید تنقید کرتا ہوں کہ حسین حقانی قابلِ برداشت نہیں۔ مَیں چار منٹ کی ایک تقریر کر دیتا ہوں۔ جیالے تالیاں بجاتے ہیں۔ سٹیج پر موجود قیادت کے چہرے فق پڑجاتے ہیں، لیکن محترمہ کے چہرے پر مسکراہٹ اور سکون۔ میری جذباتی تقریر محترمہ مکمل صبر و برداشت سے سنتی ہیں اور جب مَیں خاموش ہوتا ہوں، تو محترمہ ایک جملہ بولتی ہیں: ’’آپ کے صحیح اور ہم دردانہ جذبات کا شکریہ۔ آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔‘‘ تقریب ختم ہوتی ہے۔ وزیرِاعظم اندر چلی جاتی ہیں اور ہم باہر نکلتے ہیں کہ ایک سیکورٹی والا میرا بازو پکڑکر کہتا ہے کہ آپ ایک منٹ کے لیے تشریف لائیں۔ مَیں گھبرا جاتا ہوں کہ شاید وزیرِاعظم میرے خلاف کچھ کرنا چاہتی ہیں، لیکن دروازے پر محترمہ کھڑی ہیں اور کہتی ہیں کہ میری ایک اہم میٹنگ ہے۔ آپ فوزیہ حبیب سے مل کر جائیں۔ اور پھر محترمہ فوزیہ حبیب مجھے بتاتی ہیں کہ آپ کے جذبات درست ہیں، لیکن حسین حقانی کوئی سیاست دان نہیں، بلکہ پروفیشنل ٹیکنو کریٹ ہیں۔ سو پہلے نواز شریف کے کہنے پر وہ ہماری کردار کشی کرتا تھا، اب وہ وہی کام ہمارے لیے کرے گا۔
٭ تیسرا واقعہ:۔ مَیں دو ہزار چودہ کے دھرنے میں اس وقت کے مقبول ترین لیڈر جناب عمران خان سے ملنے جاتا ہوں۔ مَیں جماعت میں شامل ہونے والے کچھ روایتی سیاست دانوں کے حوالے سے تحریکِ انصاف پر شدید تنقید کرتا ہوں۔ مرحوم نعیم الحق مجھے کہتے ہیں کہ آپ کس حیثیت مَیں یہ کَہ سکتے ہیں؟ یہ سن کر خان صاحب ایک دم بول پڑتے ہیں: ’’نہیں نعیم! یہ ہمارے اصل ٹائیگرز ہیں۔ پھر خان صاحب مجھے مکمل صبر اور دلیل سے یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری مجبوری ہے، لیکن آپ کے اعتراض و تنقید کا شکریہ۔‘‘
٭ چوتھا واقعہ:۔ رنگ روڈ پر ہم اس کے نقشے اور خاص کر قیمتوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں، مَیں وفاقی وزیر جناب سرور خان سے ملنے جاتا ہوں۔ وفاقی وزیر کے دفتر میں بیٹھ کر مَیں نہ صرف حکومت بلکہ سرور خان صاحب کی ذات پر شدید تنقید کرتا ہوں۔ وہاں چند دوسرے اشخاص بھی موجود ہیں، لیکن سرور خان نہایت صبر سے مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس منصوبہ میں ان کا کوئی مفاد نہیں۔ وہ کوشش کریں گے کہ ہمارے تحفظات دور ہوں۔
قارئین، اس طرح کے اور درجنوں واقعات ہیں۔ اگر مَیں ذاتی تجربات سے ہٹ کر وہ واقعات بھی شامل کروں کہ جو مَیں نے نذر کیانی سے لے کر رحمان ملک تک، جنرل حمید گل سے لے کر ارشاد حقانی تک سے سنے، تو دفتر کے دفتر سیاہ کیے جاسکتے ہیں۔
٭ پانچواں اور آخری واقعہ:۔ یہ آمر جنرل ضیاء الحق بارے مجھے ایک دفعہ مجید نظامی کے منھ سے سننے کا موقع ملا۔ دراصل نظامی صاحب بارے یہ مشہور تھا کہ وہ ضیاء الحق کے کافی قریب ہیں۔ سو کسی نے سوال کیا کہ ضیا کی سب سے بہترین خوبی کیا تھی؟ نظامی صاحب نے کہا کہ ضیاء الحق مکمل سیاست دان بن گئے تھے۔ خود پر تنقید کو سیاست دانوں سے کئی زیادہ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ بہرحال مَیں ثابت یہ کرنا چاہتا ہوں کہ سیاست نام ہے جمہوریت کا اور جمہوریت کی جڑ صبر اور برداشت ہوتی ہے۔ اگر آپ میں برداشت اور صبر نہیں، تو پھر آپ بے شک اچھے جنرل، بہترین بیورو کریٹ، اعلا پائے کے صحافی، کھلاڑی، فن کار، سائنس دان وغیرہ تو بن سکتے ہیں، لیکن اچھے سیاست دان کبھی نہیں بن سکتے۔
اس کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے اور وہ یہ کہ سیاست نام ہے لوگوں کو مطمئن اور قائل کرنے کا۔ اب آپ لوگوں کو مطمئن اور قائل تبھی کرسکتے ہیں کہ جب آپ ان کو ان کی اہمیت کا احساس دلائیں، ان کو عزت دیں۔ وگرنہ اگر آپ غیر ضروری طور پر جذباتی ہوں گے اور اگلے کو بے عزت کریں گے، تو وہ آپ کا ذاتی ملازم تو ہوتا نہیں۔ وہ کیوں آپ کو برداشت کرے گا۔
دوسری بات، اچھے سیاست دانوں میں یہ خوبی بھی ہوتی ہے کہ وہ تنقید کو اس طرح لیتے ہیں کہ ممکن ہے اُس تنقید سے اُن کو کچھ اور فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ تنقید کرنے والا ان کے مقابل معاشرتی یا سیاسی طور پر کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ ان کا نہ تو متبادل ہے، نہ مقابل، تو پھر کیوں نہ مثبت سوچ کے ساتھ اس کو سنا جائے! اگر اس تنقید سے اور کوئی بہتر نتیجہ نہ بھی نکلے، تب بھی کم از کم وہ ایک شخص جو تنقید کر رہا ہے، وہ تو بہرحال ان کی اخلاقیات اور دی گئی عزت سے متاثر ہوگا۔
قارئین! ہم یہ تمام باتیں ان سیاست دانوں کے لیے لکھ رہے ہیں جو سیاست کرنے کے شوقین تو ہیں، لیکن سیاست کی بنیادی اقدار سے انجان ہیں۔ وہ اپنے سیاسی عہدے کو کسی گورنمنٹ کے محکمے کی طرح لیتے ہیں، جو ان پر تنقید کرے، وہ اُس کو بطور ایک رائے کے لینے کی بجائے یا تو شخصی حملہ سمجھ لیتے ہیں، یا اپنے عہدے اور کرسی کی توہین…… اور ایک بات یاد رکھیں، ایسے لوگ سیاست میں مکمل طور پر ناکام ہوجاتے ہیں۔ اس کی پاکستان کی حد تک دو بڑی مثالیں ہیں۔ ایک مرحوم اصغر خان جو قابلیت و عوامی مقبولیت کے معراج پر تھے، لیکن اپنے اندر کا ائیر مارشل ختم نہ کرسکے اور ہر اُس شخص کو اپنا دشمن بناتے رہے کہ جو اُن کی اصلاح کرنے کا متمنی تھا۔
اس طرح دوسرا کردار احمد رضا قصوری کا ہے۔ مجھے پی پی پی کے انتہائی سینئر لوگوں نے بتایا ہے کہ قصوری صاحب کی محنت اور قابلیت سے جناب ذوالفقار علی بھٹو بہت متاثر تھے، لیکن ان میں چوں کہ صبر و برداشت کا مادہ نہ تھا۔ اس وجہ سے وہ ہر ایک سے غیر ضروری طور پر الجھ پڑتے تھے۔ پھر اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ناکامی کی سڑک کو کامیابی کا راستہ سمجھ کر اس پر چل پڑے اور آخری منزل جب آئی، تو قصوری صاحب کا استقبال ایک بہت بڑی سیاسی ناکامی نے کیا۔
سو اَب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ صحیح سیاسی رویہ رکھنا ہے یا پھر تمام تر قابلیت و محنت کے باجود بھی ان باتوں کو پسِ پشت ڈال کر خود ہی اپنی سیاسی قبر کا انتظام کرنا ہے۔ ہم بہرحال ہر سیاسی کارکن اور عہدے دار سے بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔
(نوٹ: بہت سے دوستوں نے میرے کچھ دن قبل ایک تجزیہ کہ جو اسمبلیوں کی تحلیل پر تھا کے غلط ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ مَیں اس تجزیے کے ایک ایک لفظ کا ذمے دار بھی ہوں اور اس پر قائم بھی۔ اس کی تفصیل میں بہت جلد لکھوں گا۔ وہ تجزیہ بالکل غلط نہ تھا، بس چند دن انتظار فرمائیں، راقم)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔