روایتی میڈیا سے جدید ڈیجیٹل میڈیا تک صحافت کا سفر خاصا طویل ہے۔ روایتی میڈیا میں آزادیِ صحافت کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں صحافیوں نے کافی جد و جہد کی ہے اور تحریر و تقریر کی آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔
جن ممالک میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون سمجھا گیا ہے اور اس پر بلاجواز پابندیاں عاید نہیں کی گئی ہیں، وہاں انسانی حقوق کا گراف قابلِ رشک رہا ہے…… اور اظہار کی آزادی نے وہاں جمہوری اقدار کو پنپنے میں مدد دی ہے، لیکن جہاں جمہوریت کی بجائے آمرانہ طرزِ حکومت رہی، جہاں صحافت پر پابندیاں لگائی جاتی رہیں اور عوام کو اظہار کی آزادی کے حق سے محروم رکھا گیا، وہاں انسانی اقدار تنزل کا شکار رہیں اور معاشرہ مجموعی طور پر ذہنی اور سماجی طور پر تیز رفتار ترقی نہیں کرسکا۔
گذشتہ صدی میں جب انٹرنیٹ عام ہوا، تو صحافت نے بھی غیرمعمولی ترقی کی جانب قدم بڑھائے۔ موجودہ صدی کے پہلے عشرے میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت سے روایتی صحافت نے بھی ترقی کی کئی منزلیں طے کیں اور خبروں کی ترسیل کے لیے روایتی ذرایع مثلاً ٹیلی فون، فیکس، ٹیلیکس وغیرہ کی جگہ ای میل نے لے لی۔ سیل فون کے آنے سے ڈیجیٹل صحافت کا آغاز ہوا۔ 2010ء میں زیادہ تر اخبارات، ٹی وی اور ریڈیو ڈیجیٹل میڈیا میں منتقل ہونے لگے۔ اس کے نتیجے میں بڑی تبدیلی یہ آئی کہ جب دنیا بھر میں کوئی غیرمعمولی واقعہ رونما ہوتا، تو اسے بریکنگ نیوز کے ذریعے لمحوں میں لائیو کوریج کے ذریعے نشر کیا جانے لگا۔ اب تازہ ترین خبروں تک ہر اُس شخص کی فوری رسائی ہونے لگی جس کے پاس سیل فون موجود ہوتا۔ دنیا کے بیشتر میڈیا آرگنائزیشنز نے اپنے اخبارات اور دوسرے ذرایع ابلاغ ’’ویب سائٹس‘‘ پر منتقل کیے اور مختلف نیوز ایجنسیوں نے بھی خبروں کی ترسیل کے لیے ویب سائٹس بنائیں۔
اس تیزرفتار نئی تبدیلی نے روایتی صحافت کو بری طرح متاثر کیا۔ جو اخبارات لاکھوں کی تعداد میں چھپتے تھے، ان کی تعداد تیزی سے گھٹنے لگی اور کئی اخبارات اور رسایل نے پرنٹ ایڈیشن بند کرکے صرف آن لائن ایڈیشن شایع کرنا شروع کیا اور یوں سبسکرپشن بیس نیوز پیپرز کا آغاز ہوا۔
ڈیجیٹل میڈیا نے بہت سے صحافیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے اور بہت سے صحافی اپنی ملازمتوں سے محروم ہوگئے، لیکن جن صحافیوں نے ڈیجیٹل میڈیا کو سمجھنے کی کوشش کی، تو انھوں نے اپنے لیے صحافت کی نئی راہیں تلاش کیں۔ اب دنیا بھر میں بہت سے صحافی اپنے یو ٹیوب چینل، پرسنل بلاگ اور ملٹی میڈیا کے دوسرے ذرایع سے اپنی صحافتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
روایتی صحافت میں بعض اوقات صحافیوں کو ڈھیر ساری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہ جس ادارے کے لیے کام کرتے اس کی مختلف مجبوریوں کا خیال رکھتے۔ کسی اخبار یا رسالے کے ایڈیٹر کو اپنے رپورٹر کی رپورٹ سے اختلاف ہوتا یا کالم نگار کی کوئی تحریر ادارے کی پالیسی سے مطابقت نہ رکھتی، تو اسے اشاعت سے روک دیا جاتا تھا، لیکن اس ڈیجیٹل دور میں اب ان صحافتی پابندیوں کی کوئی اہمیت باقی نہ رہی۔ کوئی صحافی اپنے ’’یو ٹیوب چینل‘‘ کے ذریعے جو نشر کرنا چاہے، اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ کوئی بلاگر اپنے پرسنل بلاگ سے جو کچھ کہنا چاہتا ہے، اس پر کوئی پابندی نہیں۔ اب یہ دور ایک طرح سے ’’سلف سنسرشپ‘‘ کا بھی ہے…… لیکن ڈیجیٹل میڈیا کا ایک بڑا منفی پہلو بھی موجود ہے۔ روایتی میڈیا میں ہر رپورٹ، تحریر اور ویڈیو پہلے باقاعدہ طور پر ایڈیٹوریل بورڈ کے حوالے کردی جاتی تھی اور وہ اس کے معیار کا جایزہ لے کر اشاعت کے قابل قرار دیتا تھا، اور جہاں کہیں صحافتی مواد میں ایڈیٹنگ کی ضرورت ہوتی، اسے ایڈیٹ کرکے شایع کیا جاتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں۔ جس کا جو جی چاہتا ہے، وہ اسے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر نشر اور شایع کرتا ہے، جس کی وجہ سے فیک نیوز سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔
ڈیجیٹل دور نے میڈیا کے شعبے میں بڑی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ کوئی تازہ ترین خبر لمحہ بھر میں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ جن ممالک میں صحافت اور آزادیِ اظہار پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے اُن کی پابندیاں بہت حد تک بے اثر ہوچکی ہیں۔ روایتی میڈیا پر دباو ڈالنا آسان تھا اور بعض اوقات حقایق کو چھپانا کوئی بہت مشکل کام نہیں ہوتا، لیکن اب حقایق چھپانا بہت مشکل ہوچکا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے اس جدید دور میں صحافیوں کو کام کرنے کے لیے چند ناگزیر آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی والے کمپیوٹر صحافیوں کو سٹوریز لکھنے اور انھیں فائل کرنے کے لیے دنیا کے کسی بھی حصے سے پیشہ ورانہ طور پر آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ ایڈیٹنگ سافٹ وئیر چلانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اسمارٹ فونز نے آڈیو، ویڈیو اور ڈیٹا کی منتقلی کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ وہ عام لوگوں کو رپورٹنگ کے عمل میں شامل ہونا بھی ممکن بنا دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا ڈیٹا ٹریکنگ، کلکس، شیئرز اور لوگوں کی دلچسپی صحافیوں کو بتاتے ہیں کہ کون سی نیوز کہانیاں ٹرینڈ ہو رہی ہیں اور کہاں تحقیق اور مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر ناظرین سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ ہونے والے غیر معیاری مواد پر کڑی تنقید بھی کرتے ہیں اور غیر مستند اور فیک مواد شایع اور نشر کرنے والے صحافیوں کو سنجیدہ اور تعلیم یافتہ حلقوں میں کوئی پذیرائی نہیں ملتی۔
درحقیقت ڈیجیٹل دور نے صحافت کو حقیقی معنوں میں بدل کر رکھ دیا ہے اور اس کے ذریعے شایع اور نشر ہونے والی خبروں اور ویڈیوز تک ہر خاص و عام کی رسائی کو بہت سہل بنا دیا ہے۔
آن لائن دنیا نے صارفین کو ذرایع اور ہر قسم کے میڈیا کے درمیان انتخاب کی زبردست آزادی دی ہے۔ اب یہ سب کچھ ان کی انگلیوں کے دسترس میں ہے کہ وہ کیا پڑھنا چاہتے ہیں، کون سی تصویر اور ویڈیوز دیکھنا پسند کرتے ہیں، کس پوڈ کاسٹ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا کے کس پلیٹ فارم کو اپنی پسند کا محور بناتے ہیں!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔