لیڈرز قوموں کی شکیل کرتے اور انھیں اوجِ ثریا سے ہم کنار کرتے ہیں۔ ان کے نظریات و خیالات ایک نئی دنیا کی تخلیق کرتے اور اپنی فہم و فراست سے ناممکن کو ممکن بناتے ہیں۔ ان کی حریت انگیز آواز سے جبر و اکراہ کی آہنی زنجیریں خود بخود ٹوٹتی جاتی ہیں۔ جب بھی معاشرہ سے ایسے ذہین و فطین اور حقیقی قایدین کو جابرانہ اقدامات سے ٹھکانے لگا دیا جا تا ہے، تو پھر معاشرے بے راہ روی اور انتشار کا شکارہوجاتے ہیں۔
طارق حسین بٹ کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/butt/
ذوالفقار علی بھٹو جیسے انقلابی قاید کے ساتھ ایسا ہی رویہ اپنایا گیا تھا اور انھیں 14 پریل 1979ء کو عدالتی قتل کے ذریعے راستہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ عوام ذوالفقار علی بھٹو کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ لہٰذا انھوں نے جنرل ضیاء الحق کے اس سفاکانہ فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی فکری بلندی سے محروموں کو عزتِ نفس کی دولت عطا کی تھی اور نسلی امتیاز وں کی فلک بوس دیواروں کو ایک ہی جھٹکے سے زمین بوس کردیا تھا۔ لہٰذا قوم ان کی احسان مند تھی۔ وہ قوم جو 16 سالوں تک بے آئین رہی، اسے قلیل مدت میں متفقہ آئین سے نوازنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ایک ایسا آئین جسے جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف بھی منسوخ نہ کرسکے۔ انھوں نے اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے اقبالؔ کے اس شعر کو عملی شکل دے دی کہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر
ذوالفقار علی بھٹو کو علامہ اقبال سے بے پناہ عقیدت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو خود بھی صاحبِ عقل و دانش تھے۔ منطق، علم اور دلیل کی قوت سے نوازے ہوئے تھے۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ فلسفہ، تاریخ اور ادب کے سب سے بڑے دیوتا سے دور رہتے۔ اقبالؔ سے ذوالفقار علی بھٹو کی محبت کا شاہکار وہ اسلامی کانفرنس تھی جو لاہور میں فروری 1974ء میں انعقاد پذیر ہوئی تھی۔ کس میں اتنی جرات ہے کہ وہ اس طرح کی اسلامی کانفرنس دوبارہ منعقد کرسکے۔
اسلامی کانفرنس اب بھی ہوتی ہے، لیکن اس میں عوام کا دل نہیں دھڑکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کانفرنس کا طرۂ امتیاز یہی تھا کہ اس کانفرنس نے پوری اسلامی دنیا کو یکجا کردیا تھا۔ عوامی شرکت کانفرنس کی روح تھی اور روح بالکل زندہ دکھائی دیتی تھی۔ بقولِ اقبالؔ
دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
ذوالفقار علی بھٹو نے فقط یہی کیا تھا کہ صدموں سے چور اور اَن دیکھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی امت کے دلوں میں نئی اُمنگ جگائی تھی اور انھیں احساس دلایا تھا کہ وہ اس کرۂ ارض پر اب بھی محیر العقول کارنامے سر انجام دے سکتی ہے۔ مسلمان روحانی طور پر اس مسند کے دوبارہ حصول کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار تھے۔ بس انھیں ایک ایسے قاید کی ضرورت ہے، جو ان کے دلوں کی زبان بولے اور ان کے خوابوں کی خاطر اپنی جان کی پروا نہ کرے۔ بات یہاں پر رُکی نہیں تھی بلکہ اس عظیم فلسفی نے تو برملا کہا تھا:
رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک
تیرا سفینہ کہ ہے بحرِ بے کراں کے لیے
ذوالفقار علی بھٹو کی آواز اس بحرِ بے کراں کے حصول کی ہی صدائے باز گشت تھی۔ لہٰذا وہ ہر دل کی صدا بن گئی۔ بڑے اقدامات کی سزا بھی ہوتی ہے اور باجرات قایدین اس سزا کو بھگتنے کے لیے تیار بھی ہوتے ہیں۔ منصور حلاج کو بھی علم تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو نے والا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے ا نکشافات سے دست کش نہیں ہوئے۔ جو بات تنہائی میں کہی تھی اس بات کو سرِ دار بھی کہا۔ اس طرح کا اظہاریہ بڑی غیر معمولی جرات کا متقاضی ہوتا ہے اور بڑے انسان اسی طرح کا اظہاریہ اپناتے ہیں۔ اقبالؔ اسے طاہرِ لا ہوتی کی اصطلاح سے منسوب کرتے ہیں:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
تو تب کہیں جا کر ذوالفقار علی بھٹو جیسا لیڈر پیدا ہوتا ہے جو قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ ایٹمی توانائی جیسا مشکل فیصلہ ان کی گہری اور دور رس سوچ کا مظہر ہے۔ اپنی قوم کو بھارتی جارحیت سے بچانے کا اس سے بہتر راستہ کوئی دوسرا نہیں تھا۔ ایک ازلی دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کایہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے بھارت خایف رہتا ہے اور پاکستان پر یلغار کی جرات نہیں کرتا۔ بھارت پاکستان کے سامنے بے بس ہے، تو اس کا کریڈٹ ذوالفقار علی بھٹو کی عظیم قیادت کو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قوم اپنے اس عظیم محسن کو آج بھی اپنی دھڑکنوں میں بسائے ہوئے ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ان کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستانی سیاست کا درخشندہ ستارہ تھیں۔ وہ پاکستان کی ایک ایسی لیڈر تھیں جن کا دل عوام کی فلاح و بہبود اور اس کی ترقی کے لیے دھڑکتا تھا۔ ان کی نظر میں محروم طبقات کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ مجھے بی بی شہید سے شرفِ باریابی کا جو اعزاز حاصل ہے۔ اس سے مَیں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ ایک ایسی لیڈر تھیں جو غریبوں کے بارے میں بڑی حساس تھیں اور ان کی حالتِ زار کو بدلنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے جمہوریت کی خاطر جس طرح زندانوں کو گلے لگایا، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ ان میں وضع داری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ کسی کی تذلیل کرنا یا مخالفین کو برا بھلا کہنا ان کی سیاسی لغت میں نہیں تھا۔ ان کا لہجہ سلجھا ہوا تھا اور ان کی زبان میں احترام کی جھلک تھی اور یہی وجہ ہے کہ دنیا ان کی جرات مندانہ جد و جہد پر انھیں سلام پیش کرتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے ان پر جس طرح ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے، وہ تاریخِ انسانی کا انتہائی شرم ناک باب ہے۔
سکھر جیل میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں بی بی شہید کے عزم و استقلال کے سامنے کوہِ ہمالیہ بھی سر نگوں ہوگیا تھا،لیکن اگر کسی کا دل نہیں پسیجا تھا، تو وہ جنرل ضیاء الحق تھا۔ کیوں کہ وہ اس بے خوف لیڈر کی لاش دیکھنے کا متمنی تھا۔ بی بی شہید کی بے پایاں بسالتوں پر حبیب جالبؔ نے اسے نہتی لڑکی کہا:
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
جب کہ محسن نقوی نے انھیں کنیزِ کربلا کا خطاب دیا تھا:
ظلمتوں میں گر کئی بنتِ ارضِ ایشیا
لشکرِ یزید میں اک کنیزِ کربلا
انصاف کی ہے منتظر اک یتیمِ بے نوا
عوامی حاکمیت کی خاطر بی بی شہید نے سال ہا سال جیلوں کی اذیتوں کو جس پامردی سے جھیلا، وہ کسی معجزہ سے کم نہیں۔ گیارہ سالوں کی خون آشام جد و جہد کے بعد اقتدار نصیب ہوا، تو صرف 18 مہینوں کا۔ کرپشن کے نام پر ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، لیکن کرپشن کو کبھی ثابت نہ کیا جاسکا۔ ان کے خاوند آصف علی زرداری کو گرفتار کرکے ساڑھے گیارہ سالوں تک جیلوں کی اذیتوں میں رکھا گیا، تا کہ بی بی شہید کو جھکایا جاسکے…… لیکن ظالموں کا یہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ کیوں کہ آصف علی زرداری نے اپنی ثابت قدمی سے زِندانوں کو جھکا دیا۔ اسے جھکانے والے خود ملک بدر ہوگئے…… جب کہ وہ چٹان کی طرح ثابت قدم رہا۔ اپنی لاجواب قوتِ برداشت سے وہ مردِ حر بنا۔ اہلِ جہاں نے اسے مفاہمت کے بادشاہ کا خطاب دیا۔ کیوں کہ اس کے اندر دوسروں کو معاف کر دینے کا جوہرِ خاص پایا جاتا ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں بی بی شہید کو جَلا وطن کیا گیا، لیکن انھوں نے پھر بھی فوجی آمریت سے سمجھوتا کرنے سے انکار کردیا۔ 27 دسمبر 2007ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ کیوں کہ اس دن عوامی حاکمیت کی جان دار آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا گیا۔ بی بی شہیدکا قتل عوام کے خوابوں کا قتل تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد قوم حقیقی عوامی لیڈر سے محروم ہوگئی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو عالمی سازش کا نشانہ بنے۔ انھیں غیر فطری انداز میں راستے سے ہٹایا گیا، جس نے ان کی عظمت کو مزید بلندی عطا کردی۔ پاکستان کے ان عظیم قایدین کی یادیں اور جمہوریت کے لیے ان کی عظیم جد و جہد ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ ایک نعرہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ بقولِ عباس تابشؔ
عجیب لوگ ہیں یہ خاندانِ عشق کے لوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔