آج ہم ایک عمومی قومی رویے بارے بحث کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کے علما، ماہرینِ نفسیات و عمرانی علوم کے اساتذہ کو دعوتِ فکر دینا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ عمومی طور پر ہماری قوم کی اکثریت ہمیشہ منفی سوچ ہی رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں غلط کام کرنے کے مواقع نہ صرف بہت آسان ہیں، بلکہ ان غلط کاموں کو معاشرہ بہت آرام سے قبول بھی کرلیتا ہے، جب کہ یہاں کوئی بھی نیک کام کرنا نہ صرف بہت زیادہ مشکل ہے، بلکہ ایسی کسی کوشش کو معاشرہ قبول کرنا تو دور بلکہ اس کے راستے میں مشکلات پیدا کرنا اپنا فرضِ کلی سمجھتا ہے۔ ایسے نیک کام کرنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کی کردار کشی اور ان کو مایوس کرنا بہت ضروری سمجھتا ہے۔ سو اسی سلسلے میں آج مَیں اپنے قارئین کواپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
مَیں زندگی کا جب ایک بڑا حصہ بیرونِ ملک گزار کر واپس پاکستان آیا، تو ہمارے چند دوستوں نے مل کر ایک خیال کو عملی جامہ پہنچانے واسطے مجھے بھی شامل کیا۔ سو دوستوں کی رائے کے مطابق ہم نے تھانہ کی سطح پر ایک غیر سرکاری اور غیر سیاسی فلاحی تنظیم بنا دی اور یہ واضح اعلان کیا کہ اس تنظیم کا تعلق کسی خاص خاندان، مسلک، مذہب یا سیاسی گروہ سے نہ ہوگا، بلکہ ہماری تنظیم یک جا ہو کر معاشرے کی عمومی برائیوں اور عام عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف ممکنہ طور پر ہر سطح پر جد و جہد کرے گی۔ مشترکہ طور پر تنظیم کا نام "Demolition of social trubles” تجویز ہوا۔اس کا مخفف "DOSt” بنتا ہے اور اگر اس کو اُردو میں لکھا جائے، تو یہ ’’دوست‘‘ کی آواز سے بیان ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہماری تنظیم دوست کے نام سے علاقہ میں معروف ٹھہری۔ اس کے بعد ہم نے مختلف سماجی برائیوں جیسے منشیات، فحاشی، قبضہ گروپ اور بھٹا مزدوروں کے حقوق، محکمۂ مال کی کرپشن وغیرہ پر نہ صرف عوامی سطح پر آواز بلند کرنا شروع کر دی، بلکہ اس کے خاتمہ کے لیے مختلف سیاسی و انتظامی اداروں سے رابطے بھی شروع کر دیے۔ ہم نے علاقہ میں لوسر کچرا کنڈی پر آواز بلند کی۔ رنگ روڈ سکینڈل کو سب سے پہلے ہم نے بے نقاب کیا۔ پھر کچھ غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ قبضہ گروپ کے خلاف آواز اُٹھائی اور تھانہ روات کی حدود میں ایک قبرستان کی مختص شدہ زمین جو اربوں کی تھی، مین روڈ پر واگزار کروائی…… لیکن اسی دوران میں مجھے ذاتی تجربہ ہوا کہ عمومی طور پر لوگ ہمارے خلاف ہوتے گئے۔
چلو، جو منشیات فروش، کرپٹ اور قبضہ گروپ اس سے متاثر ہوئے، ان کی جانب سے تو کسی قسم کی کارروائی سمجھ میں آتی ہے کہ ہم نے ان کے ناجایز مفادات پر براہِ راست حملہ کیا تھا، لیکن عام عوام کی ہرزہ سرائی سمجھ سے بالاتر ہے۔ یعنی ہماری جد و جہد پر ہم کو بہت سے لوگوں نے خود ساختہ طور پر اس کو ہماری کسی سیاسی حکمت عملی سے تشبیہ دینا شروع کر دیا۔ کچھ لوگوں نے غیر ضروری طور پر ہم پر اپنی اہمیت بنانے کا الزام دھر دیا۔ کسی کے خیال میں ہمارا مقصد خدمتِ خلق نہیں بلکہ کوئی خاص پوشیدہ ایجنڈا تھا۔ میرے لیے یہ تمام باتیں بہت حیرت ناک اور عجیب تھیں، اور سچی بات یہ ہے کہ اس تمام صورتِ حال نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو بہت حد تک مایوس کر دیا تھا۔ اسی دوران میں، مَیں نے اپنے حلقۂ احباب میں چند دوستوں سے جب بات کی، تو معلوم ہوا کہ اس غیر ضروری مخالفت یا نفرت کا شکار صرف ہم نہیں…… بلکہ یہ ہماری قوم کا عمومی رویہ ہے، اور چترال سے لے کر کراچی تک رضاکار سوشل کارکن کم یا زیادہ اسی صورتِ حال کا شکار رہتے ہیں۔
عام عوام میں سے کچھ لوگ ہر جگہ یہ غلط کام نیکی سمجھ کر کرنا اپنا فرضِ عین سمجھتے ہیں، لیکن پھر ایک اور دوست جو کہ ایک ریٹائر پروفیسر ہیں، سے بات ہوئی…… اور خوش قسمتی سے ان کی بات نے مجھے اور میری تنظیم کو ایک بار پھر ایک نیا جذبہ اور تحریک دی۔ پروفیسر صاحب نے ہمیں اس کا مثبت پہلو بھی بتایا۔ انھوں نے کہا کہ آپ ان لوگوں کو اہمیت نہ دیں، جو بس تنقید برائے تنقید کا پرچار کرتے رہتے ہیں، بلکہ ان کی طرف دیکھیں جو آپ کے خاموش حمایتی ہیں…… اور جب کام ﷲ کی رضا واسطے کرنا ہے، تو معاشرے کہ چند ذہنی بیمار لوگوں کو کیا وقعت دینی یا کیا جواب دینا! گو کہ ان باتوں نے ہمیں ایک بار پھر عوامی خدمت کے مقاصد سے جوڑ دیا، لیکن یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ہمارے معاشرے میں یہ رویہ کیوں ہے؟
مَیں کبھی سوچتا ہوں کہ مثال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے محلے کی سڑک پر کوڑا کرکٹ پڑا ہوا ہے…… اور آپ خود ہی جھاڑو لے کر صفائی شروع کر دیتے ہیں۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ اہلِ علاقہ آپ کی مدد کریں، مدد نہیں کرسکتے، تو زبانی حوصلہ افزائی کریں۔ وہ بھی نہیں کرسکتے، تو خاموشی سے اپنا کام کریں…… لیکن چند ایک لوگوں نے لازماً آپ کے پاس جا کر پہلے ہنسنا ہے اور پھر آپ کو پاگل قرار دینا ہے۔
سو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عوامی اور سرکاری سطح پر ایسے لوگوں کا ایک سروے کیا جائے۔ نفسیات کے ماہرین کو دعوت دی جائے کہ وہ تحقیق کریں کہ ایسے دماغ اور افکارکیوں پیدا ہوتے ہیں؟ اور پھرایسے دماغوں کا کوئی معقول علاج تجویز کیا جائے۔ کیوں کہ ایسے دماغ نہ صرف خود سے زیادتی کرتے ہیں بلکہ بحیثیتِ مجموعی معاشرے کے لیے باعثِ نقصان ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے معمولی سے تجربہ کی روشنی میں یہ گزارش تمام سماجی کارکنوں اور خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والے لوگوں سے بھی کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اگر خدمتِ خلق، خالق کی رضا کے لیے کرنا چاہتے ہیں اور آپ کا مقصد محض عام عوام کی سہولت و داد رسی ہے، تو پھر وہ کسی بھی ذہنی مریض، شریر عناصر یا احمق لوگوں کی حرکات کو سنجیدہ نہ لیں…… بلکہ ان کی ایسی حرکات کو نظر انداز کر کے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں۔ یہ کچھ منفی عناصر اور ذہنی مریض آپ کاکچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیوں کہ منفی سوچ وقتی طور پر کچھ مسایل تو پیدا کر دیتی ہے، لیکن آخری فتح بہرحال نیک نیتی اور سچے جذبہ کی ہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم عام عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اگر وہ علاقہ کے کچھ لوگوں کو ذاتی طور پر جانتے ہیں، ان کے کردار سے مطمئن ہیں، تو پھر نہ صرف ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں، ان کو خراجِ تحسین پیش کریں بلکہ جو عناصر ایسے خدائی خدمت گاروں کے خلاف اپنے کسی سیاسی، معاشرتی، خاندانی یا معاشی ناجایز مفادات کے تحت جھوٹ و مکر و فریب کی بنیاد پر غلط پروپیگنڈا کرتے ہیں، ان کی مذمت کریں اور ان سے دوری اختیاری کریں۔
ہم یہ سمجھتے کہ یہ بھی ایک نیکی ہے، اور خدا کے ہاں یقینا آپ کو اس کا اجر ملے گا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔