تحریر: عبدالمعین انصاری
ملکی معیشت میں ترقی زر مالیات اور قیمتوں کا تعلق بنکاری کے نظام سے ہوتا ہے۔ کیوں کہ صنعتی و زرعی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے سرمایے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کا انحصار بینکوں سے آسان شرایط پر سرمایے کی دست یابی پر ہوتا ہے۔ اس کے لیے ملک میں بینکاری کا نظام اور مضبوط مالیاتی اداروں کا کافی تعداد میں ہونا ضروری ہے۔ جب صورتِ حال اس کے برعکس ہوجاتی ہے، تو معاشی ترقی کا خواب نامکمل رہتا ہے اور ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
چناں چہ مرکزی بینک عام بینکوں کی مدد سے پیدایشِ زر کرتا رہتا ہے، تاکہ ملک میں اشیا کی پیداوار اور صنعت و تجارت میں ترقی و روزگار میں وسعت اور قیمتوں میں استحکام کے لیے بچت و سرمایہ کاری کے لیے توازن قایم رکھے۔
جدید مالیاتی نظام میں زر کی گرتی قدر کی وجہ سے لوگ مجبور ہیں کہ اپنی بچتیں کسی کاروبار یا صنعت میں لگائیں یا مختلف اشیاکی خریداری کریں یا بینک میں جمع کرائیں گے…… لیکن بینک ان بچتوں کے لیے پُرکشش اسکیمیں پیش کرے، تو لوگ اپنی بچتیں ان اشیا کی خریداری میں لگا دیتے ہیں جو کہ غیر مالیاتی بچتیں کہلاتی ہیں۔ مثلاً زیور یا جائیداد کی خریداری…… جو کہ معاشی ترقی میں کسی طرح کا حصہ نہیں لیتیں۔ اس وجہ سے بچت کی اسکیموں کو پُرکشش بنایا جاتا ہے۔ اس لیے ملکی معیشت میں شرحِ سود نہایت اہم ہوتی ہے۔ یہ شرحِ سود بچتوں اور سرمایہ کاری کے توازن کے لیے تجویز کی جاتی ہے، تاکہ لوگ اپنی بچتیں بینک میں جمع کروائیں اور اس سے سرمایہ کاری کے وسایل مہیا ہوسکیں۔ اس سے نہ صرف افراطِ زر میں تخفیف ہوتی ہے…… بلکہ روزگار میں ترقی اور خود انحصاری میں مدد ملتی ہے اور ادائیوں کا توازن درست ہوتا ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں بچتوں پر شرحِ سود کم ہوتی ہے۔ کیوں کہ افراطِ زر وہاں نہایت کم ہوتا ہے اور بچت کی عادت بھی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وافر مقدار میں سرمایہ میسر ہوجاتا ہے۔ یہ ممالک ترقی کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے نئی سرمایہ کاری محدود بھی ہوتی ہے…… جب کہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
جب کوئی ملک روزگار میں ترقی کے لیے خسارے کی سرمایہ کاری کرتا ہے، تو بازار میں زر کی رسد بڑھا دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے افراطِ زر پیدا ہوجاتا ہے۔ حکومت افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کے لیے جو مالیاتی اقدامات کرتی ہے، ان میں سے ایک شرحِ سود میں اضافہ بھی شامل ہے، تاکہ کنٹرلوگ زیادہ سے زیادہ اپنی بچتیں بینکوں میں جمع کر وائیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بلند شرحِ سود ہی روپیا جمع کرانے والوں کے لیے کشش کا باعث ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت ہمیں اس سے ملتا ہے کہ ماضی میں انوسٹمنٹ کمپنیاں عوام کا اربوں روپیا لوٹ کر فرار ہوگئیں۔ اس کے لیے انھوں عوام کو سود کی بلند شرحوں کے سبز باغات دکھا کر اپنی طرف راغب کیا تھا ۔
پاکستان میں تجارتی بینک اپنی جمع شدہ رقوم میں لازمی 30 فی صد جس پر شرحِ سود مارکیٹ سے نصف ہوتی ہے، حکومت کو قرض دیتا ہے۔ جب کہ پانچ فی صد روز مرہ کے لین دین کے لیے استعمال کرتا ہے اور باقی رقوم قرضوں اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتا ہے…… جسے وہ حکومتی پالیسی کے مطابق صنعتی یونٹوں، زرعی اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتا ہے، جس پر شرایط کے مطابق سود لیا جاتا ہے۔
تجارتی بینک نہ صرف عام گاہکوں کے لین دین کا حساب رکھتے ہیں بلکہ دولت رکھنے کے لیے ایک محفوظ مقام ہوتے ہیں۔ اس طرح ملک میں سرمایہ کاری کے لیے فروغ اور انحطاط کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف تجارتی میدان میں اہم خدمات انجام دیتے ہیں، بلکہ روپیا کو گردش میں رکھ کر زندگی کے بہت شعبوں کو رواں دواں رکھتے ہیں ۔
بینک آج کے دور میں ڈھیر ساری مفید خدمات انجام دے رہا ہے…… مگر اس کا اصل کاروبار عام لوگوں سے پیسا جمع کرکے سرمایہ کاری کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سود کے مخالف اپنے نظریات کی بنیاد پر ایک بینک قایم کرکے دِکھا دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علما کے نظریات پر معیشت تو کیا عام بینک بھی نہیں چل سکتا۔
یہ حقیقت ہے کہ علمائے کرام، معاشین سود کا متبادل نظام اب تک پیش نہیں کرسکے۔ کم از کم کوئی ایسا جامع نظام جو مکمل معیشت کا احاطہ کرسکے۔ اگرچہ ڈھیر ساری تجویزیں پیش کی گئیں، جو جزوی تھیں…… مثلاً:بغیر نفع کے بنک لوگوں کی بچتیں رکھے اور اس پر جو نفع حاصل ہو، وہ حکومت حاصل کرے۔ وہ اس سلسلے میں نظامِ اسلامی ترقیاتی بینک اور ایرانی بینکوں اور اس طرح کے وہ کچھ اور اداروں کی مثالیں دیتے ہیں جو ’’مضاربہ‘‘ یا ’’شراکت‘‘ کی بنیادپر اپنا کاروبار کررہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ علما کے نظریات پر معیشت چل نہیں سکتی۔ اسلامی ترقیاتی بینک اور ایرانی بینک چوں کہ سرمائے میں خود کفیل ہیں…… اس لیے وہ رقوم جمع کرنے والوں کو کوئی نفع نہیں دیتے۔ البتہ وہ قرض پر کچھ رقم مصارف کے نام سے وصول کرتے ہیں۔ یہ رقم اگرچہ کتنی کم کیوں نہ ہو، مگر چوں کے مقرر ہے، اس لیے سود کے زمرے میں آتی ہے۔
علما جن بینکوں کی مثالیں دیتے ہیں، وہ حقیقت میں سرمایہ کار کمپنیاں ہیں…… جہاں صرف کثیر سرمائے سے کسی کاروبار میں روپیا لگایا جاتا ہے۔ وہاں ادارہ پیسا لگانے والے کے بطور نمایندے کے کام کررہا ہوتا ہے اور کاروبار کے اختتام پر ادارہ ایک خاص تناسب سے منافع کا حق دار ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ادارے ایک عام تجارتی بینک کی تعریف پر پورے نہیں اترتے۔ کیوں کہ عام تجارتی بینک عام لوگوں سے پیسا جمع کرکے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جب کہ یہ ادارے جمع شدہ رقوم پر کوئی نفع نہیں دیتے۔ ویسے بھی یہ چھو ٹی چھوٹی رقوموں سے سرمایا کاری نہیں کرتے ہیں ۔
٭ سوداوربچت:۔
قرض لینے والے کو سودی نظام میں بڑی کشش ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس طرح قرض لینے والوں کو سود بار نہیں ہوتا…… بلکہ اس کا بار اُن پر پڑتا ہے، جو اُن کی اشیا خریدتے ہیں اور اشیا استعمال یا خریدنے والے اپنی خدمات کی قدر بڑھا دیتے ہیں۔ اس طرح قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے زر کی قدر میں مسلسل کمی ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح مقروض بھی فایدے میں رہتا ہے۔ کیوں کہ وہ اصل اور سود کی ادائی اس رقم سے کرتا ہے جس کی قدر گرچکی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے تمام دنیا میں نہ صرف سرمایہ کار کاروبار یا صنعت لگانے کے لیے بلکہ عام آدمی بھی مختلف ضرورتوں کے لیے قرض کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے انھیں اس کی ضرورت نہ ہو۔ کیوں کہ انھیں معلوم ہے کہ مستقل میں جب وہ اصل اور سود کی ادائی کریں گے، تو اس کی قدر گھٹ چکی ہوگی۔ جب کہ ان کی سرمایہ کاری کی قدر اس سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ سود کے خلاف جو ظنی یا نفلی دلایل دیے جاتے ہیں، وہ جدید معاشی نظام میں سود پر صادق نہیں آتے ہیں۔ کیوں کہ زر کی وقت کے ساتھ مسلسل گرتی قدر نے ان تمام دلایل کو باطل کردیے ہیں اور اس طرح عام لوگ زر کی گرتی قدر کی وجہ سے اپنی بچتیں بغیر نفع کے بینکوں میں رکھوانا پسند نہیں کریں گے۔ وہ اسی صورت میں اپنا روپیا بغیر نفع کے بینک میں رکھنے کی بجائے کاروبار یاصنعت میں لگانا زیادہ پسند کریں گے…… مگر ہر شخص کے لیے آسان نہیں کہ وہ کوئی کاروبار کرے، مگر عام آدمی ناتجربہ کار اور محدود سرمائے کا مالک ہوتا ہے۔ اس لیے، اس کے لیے آسان نہیں کہ وہ نہ کوئی کاروبار یا صنعت لگائے دوسری طرف اس قلیل رقم سے نہ مضاربہ یا شراکت کی جاسکتی ہے۔ اس لیے عام آدمی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مضاربہ یاشراکت میں اپنے محدود سرمائے سے سرمایا کاری کرے۔ اس طرح وہ زرکی گرتی قدرکی وجہ سے بینک میں بغیر نفع کے رکھوانا پسند نہیں کرے گا اور ایسی صورت میں وہ اپنی محدود رقم سے اشیائے تعیش اور دوسرے سامان کی خریداری یا زیور اور جائیداد کی خریداری کو ترجیح دے گا، گویا وہ اس طرح اپنی محدود رقم کا تحفظ کرے گا۔
غیر مصروف شدہ بچت کسی ملک کی معاشی راہ میں روڑے کے مترادف ہے۔ ہر شخص زمانہ سابقہ کے مقابلے میں اپنی آمدنی سے زیادہ سے زیادہ بچانے کی کوشش کرے، تو تمام مخلوق بہ حیثیتِ مجموعی زیادہ بچت نہیں کرسکے گی۔ اس کا ’’سبب یہ ہے کہ مجموعی قومی آمدنی (الیف) برابر ہے اس رقم کے جو ضرروریات کی چیزوں پر خرچ کیا جائے (ض)۔ جمع اس رقم کے جو سرمایہ کاری پر خرچ کیا جائے (ک) اور ان دونوں رقموں جتنی کمی بطور بچت کے کی جائے، اتنی ہی قومی آمدنی میں کمی ہوجائے گی۔‘‘
سرمایہ کاری سے مراد کسی ایسی شے کی پیدایش جس میں انسانی محنت صرف ہوتی ہو۔ مثلاً: مشینیں، مکانات، سڑکوں، پل، پانی کی نہروں اور بندوں کی تعمیروغیرہ ہیں ۔ اس نقطۂ نظر سے زمین، سونا خریدنا سرمایہ کاری نہیں۔ اس طرح سونے کے زیورات کی خریداری بھی سرمایہ کاری نہیں۔ کیوں کہ یہ محفوظ حالت میں رہتی ہے اور سرمایے کی تشکیل میں کوئی حصہ نہیں لیتی۔
ہمارے ملک میں اس کے برعکس صورتِ حال ہے۔ لوگ اپنا سرمایہ محفوظ کرکے جائیداد کی خریداری میں لگا رہے ہیں۔ اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ اس سے ایک طرف جائیداد کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور یہ ملکی معیشت میں اس کے نہایت منفی اثرات پڑتے ہیں…… جس میں زر کی قدر میں کمی یعنی افراطِ زر ۔ اس کی بجائے سرمایہ کارخانے کی تعمیر میں لگایا جائے۔
کسی ملک کی قومی آمدنی میں اضافہ کا مطلب ہے کہ پیدا وار میں اضافہ۔ اس کے لیے حکومتی سرمایہ کاری ضروری ہے۔ اس کے حصول کے لیے ملکی بچتوں میں اضافہ ضروری ہے، تاکہ سرمایہ کاری کے وسایل مہیا ہوسکیں۔ جب کہ غیر مالیاتی بچتیں قدرِ زر میں تخفیف اور ٹیکس گریزی کا باعث بنتی ہیں۔ بالخصوص جائیدادکی طرف بچتوں کی منتقلی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ تاکہ ملکی بچتوں ہی سے سرمایہ کاری کے وسایل مہیا ہوسکیں۔ اس سے نہ صرف افراطِ زر میں کمی ہوتی ہے، بلکہ اس سے خود انحصاری میں مدد ملتی ہے اور ادائیوں کا توازن بھی درست ہوتا ہے۔
٭ شرحِ سود:۔
شرحِ سودکی مقولیت کے بارے میں اگرچہ اختلاف رہا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ شرحِ سود بازار سے روپیا کھینچنے اور روپیا پھیلانے کا معقول طریقہ ہے اور لہٰذا ملکی مالیاتی پالیسی میں اس کی شرح بہت اہم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں میں معاشی استحکام ہوتا ہے، وہاں اس کی شرح کم ہوتی اور جن ملکوں میں معاشی عدمِ استحکام ہوتا ہے، یعنی وہاں افراطِ زر، بے روزگاری، صنعت و حرفت میں کمی اور ملک عدمِ توازن کا شکار ہو، تو وہاں شرحِ سود زیادہ ہوتی ہے، تاکہ لوگوں میں بچت کا رجحان بڑھے…… مگر اتنی زیادہ بھی نہیں کہ صنعت و حرفت اور تجارت کے لیے نقصان دہ ہو ۔
یعنی بچت و سرمایہ کاری میں توازن رکھنا ضروری ہے اور معیشت میں اس کی شرح معاشی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے۔
یعنی معاشی صورت، حال اس کے برعکس ہو، تو یہ ملکی معیشت کو نقصان پہچاتی ہے۔
جب کہ مناسب شرحِ سود نہ صرف افراطِ زر کم کرتی ہے، بلکہ بچت اور سرمایہ کاری میں توازن قایم رکھتی ہے…… اور معاشی استحکام کاباعث ہوتی ہے۔ اس طرح ملک ترقی اور کامل روزگار کے زینہ پر قدم رکھ دیتا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔