قارئین کرام! جب کسی قوم کی بدقسمتی آتی ہے، کسی ملک کی تباہی یقینی ہوجاتی ہے، تو وہ عمل کے بجائے گفتار کے غازی بن جاتے ہیں۔ گلی کوچوں اور چوکوں پر جگہ جگہ مباحثے اور مناظرے زور و شور سے ہوجاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ حقیقت کو نظر انداز کرکے منطق اور دلیل کے بجائے الزامات اور بہتان لگائے جاتے ہیں۔ کوئی ذمہ داری قبول کرتا ہے، نہ مسائل کے حل کے لیے عملی کارروائی کی جاتی ہے۔ یونان کے سوفسطائی فلسفیوں کی طرح زبانی جمع خرچ سے سفید کو کالا اور کالے کو سفید ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو زور سے، چیخوں سے، مسلسل بولتا رہا، جیتتا رہا۔ سچ چپ رہا، تو ہار گیا۔ جھوٹ چیختا رہا تو جیت گیا۔
قارئین کرام! جب 1212ء میں منگول حکمران ہلاکو خان کی غضب ناک فوجیں بغداد کو تخت و تاراج کرنے کے لیے عباسی خلافت کے دارالخلافہ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھیں، تو بغداد کی گلیوں اور شاہراہوں پر مناظروں اور مباحثوں کا بازار گرم تھا۔ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق؟ خداوند کریم و عید الوعید ہے یا نہیں؟ کائنات حادثاتی پیداوار ہے، یا تخلیقی؟ دنیا میں انسان خود مختار ہے یا قضا و قدر کے آگے مجبور؟ آمین جہر سے پڑھنا چاہیے یا مخفی؟ یہ تھے وہ موضوعات جو اہلِ بغداد کے لیے سب سے زیادہ اہم اور زندگی اور موت کی شکل اختیار کرچکے تھے۔ انہیں یہ شعور اور احساس ہی نہیں تھا کہ اس وقت بغداد کا بچانا سب سے اہم ہے۔
پھر بغداد پر وہ تباہی نازل ہوئی جس کی تاریخ میں مثال ملنی مشکل ہے۔ گلیوں، کوچوں اور چوراہوں پر باشندگانِ بغداد کے سروں کے مینار کھڑے کیے گئے۔ مہینوں بغداد جلتا رہا۔ بغداد کے مکتبوں اور لائبریریوں کی لاکھوں کتابوں کو آگ لگادی گئی۔ ہفتوں وہ آگ جلتی رہی۔ کتابوں کی راکھ دریائے دجلا میں بہائی گئی جس سے دجلا کا پانی سیاہ رنگ میں تبدیل ہوا۔ اسلام کی عالمی طاقت کا خاتمہ ہوا۔ سپر طاقت کے مینار زمین بوس ہوگئے۔ مسلمان اُس وقت سے آج تک غلام ابنِ غلام ابنِ غلام چلے آرہے ہیں۔
قارئین، اپنے آپ کو آزاد تصور کرنا الگ بات ہے اور عملی طور پر آزاد ہونا الگ حقیقت ہے۔ لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ ہم ملکی مسائل کو حل کرنے یا مسائل کا سامنا کرنے کے بجائے اپنے فنِ گفتگو کی مدد سے چیزوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ ابہام کو فروغ دیتے ہیں، یا سارا جلد بہت آسانی سے دوسروں کے سر پہ ڈال دیتے ہیں اور خود بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔
حضرات، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے چند مسائل کے بارے میں اپنے سوالات کے حوالے سے تحریک انصاف کو چیلنج کیا۔ بجائے ایک پریس کانفرنس میں حکومتی ترجمان کو جواب دینے کے، ماہرِ گفتار، تیز رفتار مراد سعید صاحب نے مناظرے کا چیلنج قبول کیا، تو اتنے میں پیپلز پارٹی کے احسان اللہ شاہ نے مراد سعید صاحب کو مناظرے کا چیلنج دے دیا کہ تم بلاول بھٹو کو چھوڑ کر پہلے پیپلز پارٹی کے اس ادنیٰ خادم سے مناظرہ کرو۔ ابھی اس چیلنج کی آواز گونج ہی رہی تھی کہ تحریک انصاف سوات کے سیکرٹری عزیز الرحمان برخان خیل نے احسان اللہ شاہ کو مناظرے کا چیلنج دے دیا۔ میرے خیال میں یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہے گا۔ ہر ایک نے جھوٹے وفاداری کا لبادہ اُوڑھ کر اپنے اپنے نمبر بنانے ہیں۔ کسی کو مسائل کا احساس ہے، نہ جبر کے اوقات کا، جس سے آج کل مخلوقِ خدا گذر رہی ہے۔ یہ سوال کوئی نہیں کرتا کہ چلو، پچھلی حکومتیں چور سہی، لیکن تحریکِ انصاف کے بائیس ماہ کی حکومت میں یہ 270 ارب روپے کی کرپشن کیوں؟
یہ چینی مافیا کے ساتھ ہمدردی کیوں کہ چینی 55روپے فی کلو سے 90روپے تک مہنگی ہوگئی اور فروخت ہورہی ہے؟
دوسری جانب چینی مافیا کے کرتا دھرتا کو کیوں آرام سے باہر جانے دیا گیا؟
یہ آٹا 800 روپے تھیلے کے بجائے 1260 روپے فی تھیلا کیوں فروخت کیا جارہا ہے؟
یہ دوائیاں یک دم چار سو فیصد کیوں مہنگی ہوگئیں؟
دوسری جانب اراکین سینیٹ اور قومی اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات میں بے تحاشا اضافہ کیوں ہوا؟
یہ پیٹرول میں تقریباً 47 روپے فی لیٹر حکومتی ٹیکس کیوں وصول کیا جارہا ہے؟
حکومتی ارکان اب فرمارہے ہیں کہ یہ لازمی ہے، تو پھر پچھلی حکومتوں پر اعتراض اور تنقید کیوں؟
پیٹرول سستا کرنا ہو، تو چار یا پانچ روپے فی لیٹر اور جب مہنگا کرنا ہو، تو یک دم 25 روپے فی لیٹر، اور وہ بھی مہینا پورا ہونے سے پہلے فوراً سے پیشتر لاگو۔
اب کچھ بچا بھی ہے؟ تبدیلی کے خوشنما نعروں پر تحریک انصاف نے اپنے انصاف کی لاش کو جھوٹے وعدوں کا کفن پہنا کر اپنی انا کی قبر میں دفن کردیا ہے اور قبر کے کتبوں پر دوسرے زندہ لوگوں کے نام لکھے جارہے ہیں۔
اب احتساب کا ڈراما عنقریب ختم ہوگا۔ حکومتی نیا ڈوبنے والی ہے، ہاتھ پیر چلانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا لیکن وہ سہارا دینے کے لیے کوئی تیار نہیں، کوئی تنکا، کوئی شہ تیر نہیں۔
حضرات، مسائل تو جوں کے توں ہیں۔ تو کیا مسائل مناطروں اور مباحثوں سے حل ہوں گے؟ کیا صرف مناظرے کافی ہیں؟
…………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔