عمومی طور پر ہم لوگ جب بھی کسی خرابی کی بات کرتے ہیں، تو ہمارا اول نشانہ سیاست دان ہوتے ہیں اور جو لوگ زیادہ گہرائی میں جا کر جھانکتے ہیں، وہ زیادہ سے زیادہ فوج اور خاص کر بری فوج کی قیادت کو ذمے دار ٹھہراتے ہیں کہ وہ سیاست میں شاید مداخلت کرتے ہیں، تبھی حالات خراب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد نشانہ عدلیہ بنتی ہے…… اور اصلاح کے حوالے سے ہماری تنقید کا پہلا مرکز علمائے دین ہوتے ہیں یا پھر معاشرے کی مجموعی دانش ’’اساتذہ‘‘ اور خاص کر ’’صحافی‘‘ بنتے ہیں۔
لیکن گذشتہ چند سالوں سے میں چوں کہ علاقے کی ایک رضا کار فلاحی کمیٹی کا ذمے دار بنا ہوں، تو یہ تجربہ ہوا ہے کہ عام عوام کے لیے عذاب کی انتہا سول بیورو کریسی ہے۔ درحقیقت یہی لوگ ہیں جو جرنیلوں کو گم راہ کرتے ہیں، عدلیہ سے جھوٹ بولتے ہیں اور سیاست دانوں کو کرپشن اور بے قاعدگی کے نئے نئے قانونی طریقے بتاتے ہیں۔ کیوں کہ عام عوام کا زیادہ تر تعلق بھی سول انتظامیہ سے پڑتا ہے…… جیسا کہ محکمۂ مال، پولیس، واپڈا، نادرہ، تعلیم و صحت وغیرہ۔
قارئین! آپ یقین کریں کہ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ہماری بیورو کریسی کی اکثریت انتہائی نا اہل سست اور نکمی ہے۔ مثال کے طور پر کسی ضلع کے دو انتظامی افسر سب سے زیادہ بااختیار ہوتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اور اسٹنٹ ڈپٹی کمشنر۔ جو کام ہمارے یہ دو اعلا تعلیم یافتہ اور پروفیشلی مکمل تربیت یافتہ افسران کرتے ہیں، مَیں پوری ذمے داری سے کہتا ہوں کہ وہ کام ایک مڈل پاس میٹرک میں زیرِ تعلیم بچہ بہت احسن طریقہ سے کرسکتا ہے۔ دو کام ہی تو یہ کرتے ہیں، جو بتایا جاتا ہے کہ انتہائی اہم ہوتے ہیں:
ایک میٹنگ کرنا کہ جس کا ثمر کم ازکم عام شخص کو کبھی نہیں ملا۔
دوسرا، ریفر کرنا یعنی آپ ان کو کوئی درخواست دیں، آگے سے کام نہیں ہوتا۔ وہ درخواست بس ریفر کر دی جاتی ہے…… قانون کے مطابق لکھ کر…… اور ریفر بھی اسی کو کہ جس کے خلاف شکایت ہے۔
مثلاً: آپ کو ایک دلچسپ حقیقت بتانا چاہتا ہوں۔ آپ کو حلقہ پٹواری سے شکایت ہے اور آپ اس کو دھمکی دیتے ہیں کہ آپ اس کی شکایت کریں گے۔ اب آپ اپنے تئیں بہت مہذب اور قانون کے پاس دار بنتے ہیں اور ایک درخواست محترم ڈی سی کو دیتے ہیں۔ اکثر معاملات میں تو ڈی سی صاحب دیکھتے بھی نہیں…… لیکن اگر دیکھ بھی لیں، تو وہ ایک جملہ انگریزی میں لکھیں گے۔ اے ڈی سی آر اور وہ اے سی کو کہ ’’قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔‘‘ اسی طرح اے سی صاحب تحصیل دار کو، تحصیل دار گرداور کو، اور گرداور اُسی پٹواری کو لکھ دے گا جس کے خلاف شکایت ہے۔ اب آپ پٹواری کے پاس بہت اعتماد سے جائیں گے…… جیسے دہلی فتح کر آئے ہیں۔ پٹواری نے آپ سے درخواست لینی ہے اور پڑھ کر بہت رعونت بھری مسکراہٹ سے آپ کو دیکھنا ہے…… اور کہنا ہے: ’’صاحب! آپ کو بہت احترام سے عرض کی تھی کہ آپ کا کام دس ہزار میں ہو جائے گا…… لیکن اب بات چوں کہ آگے چلی گئی ہے۔ اس لیے اب چالیس ہزار دینا ہوں گے۔‘‘ آپ بہت غصہ میں کہتے ہیں کہ یہ دیکھو ڈی سی نے کیا لکھا ہے؟ تو وہ بولے گا: ’’یہ آپ کا مسئلہ نہیں…… جائیں جو کرنا ہے کرلیں۔‘‘ وہ اُس درخواست پر لکھ دے گا کہ آپ کا موقف غلط ہے اور اس کی ایک سو ایک قانونی توجیحات بتا دے گا۔ ساتھ لکھ دے گا کہ مذکورہ شخص کو بس ایسی درخواستیں دینے کا شوق ہے اور کچھ نہیں۔
اول تو آپ آدھے یہی ختم ہو جائیں گے…… لیکن بالفرض زیادہ ہمت کر کے پھر ڈی سی کے پاس آپ جاتے ہیں، تو ڈی سی صاحب بہت دل کش انکسار بھری مسکراہٹ کے ساتھ آپ کو یہ مشورہ دیں گے کہ آپ عدلیہ سے رجوع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
اب آپ کچھ زیادہ ہی اصول پسند بن کر عدلیہ چلے جاتے ہیں، تو پھر وکیل کی فیسیں اور تاریخیں آپ کی منتظر ہیں۔ المختصر…… جو جذبہ آپ میں دس ہزار رشوت کی طلب کے خلاف شروع ہوا تھا، وہ سالوں کے دھکوں اور لاکھوں کا خرچہ کرنے کے بعد بالکل جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ اور آپ اس لمحے کو کوستے ہیں جب آپ کو اصول پسند، اخلاق، مذہب اور قانونی احترام کا درد اُٹھا تھا…… اور پھر نسلوں کو یہ وصیت کر جاتے ہیں کہ ’’پٹواری جو مانگے دو…… اور کام کرواؤ۔‘‘
یہی حالت ہماری پولیس، کمشنری نظام، نادرہ وغیرہ کی بھی ہے۔ درحقیقت آپ کسی تھانے دار، کسی پٹواری، کسی واپڈا ایکسین، کسی ہیڈ ماسٹر، کسی ٹریفک سارجنٹ وغیرہ کی شکایت لگا کر اس کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بنتے ہیں…… اور اس کو عوامی طور پر مزید طاقت ور بنا دیتے ہیں۔
مَیں نے جب اس سسٹم میں موجود خرابیوں کی وجہ جاننے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا کہ اس طرف کسی حکومت نے توجہ دی، نہ بیورو کریسی نے اس طرف کسی کو متوجہ ہی کیا۔ ہمارے یہ قوانین انگریزی دور کے اینگلو سیکسن قوانین ہی ہیں کہ جو انگریز بہادر نے محکوم قوم پر مضبوط حکومت کی خاطر بنائے تھے۔ تاکہ ان کی بیورو کریسی کو کوئی تنگ نہ کرسکے۔
سو اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام قوانین پر نظرِ ثانی کے لیے عوام اور عوامی نمایندوں کی ایک اعلا سطحی کمیٹی بنائی جائے کہ جو اس پر اپنی رپورٹ دے اور ساتھ سفارشات بھی۔ پھر اُن سفارشات کی روشنی میں قوانین میں مناسب تبدیلی کی جائے۔ وگرنہ دوسری صورت میں یہ ریاست بہت جلد ناکامی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اﷲ معاف کرے، میں نے اپنی سوشل سرگرمیوں کے دوران میں کتنے باشعور پاکستانی شہریوں کو پاکستان کی ریاست کو گالی دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ بے شک اس میں میڈیا اور علمائے دین ایک کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن اصل ذمے داری ہماری حکومتوں کی ہے، وہ کم ازکم قوانین تو بہتر کر دیں۔ سادہ سی بات ہے کہ پٹواری ہو یا تھانے دار، اگر اس کے خلاف کوئی جایز شکایت ہے، تو اس کے لیے ایک بالکل الگ فورم ہو۔ البتہ اس کے ساتھ جھوٹی درخواستوں کی روک تھام کے لیے بھی ایک نظام وضع کیا جا سکتا ہے، تاکہ ناجایز درخواستوں سے بچا جائے۔
آخر میں، مَیں یہ بات ضرور لکھنا چاہتا ہوں کہ ہماری اصل ڈیپ سٹیٹ اور عوام دشمن انتظامیہ ’’سول بیورو کریسی‘‘ ہے کہ روز بہ روز عوام کو پیس رہی ہے اور ریاست کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یا یوں کَہ لیں کہ ہماری سول بیورو کریسی ریاست کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے اور اگر اس میں اس وقت اصلاح نہ کی گئی، تو وہ وقت دور نہیں جب پورا ریاستی نظام ریت کی دیوار کی طرح دھڑام سے گر جائے گا۔ اس طرح جو لوگ وزرا، جرنیلوں اور صحافیوں کی کرپشن کی بات کرتے ہیں، وہ ذرا بڑے افسران تو چھوڑیں…… ایک پٹواری یا ایک تھانے دار یا ایک یونین کونسل کے سیکرٹری کے اثاثے تو چیک کریں۔ ان کو معلوم ہوجائے گا کہ یہاں مال بنانے کی کتنی انتہا کی جا رہی ہے۔ مزید سوال عوامی حکومتوں سے بھی بنتا ہے کہ خالی میڈیا یا فوج کو درست کرنے کا منترا اپنی جگہ لیکن ذرا سول بیورو کریسی کے کرتوتوں کو بھی تو دیکھیں کہ کیسی خرابی اور عوام کی خجالت ہو رہی ہے۔
کیا کوئی ہماری ان گزارشات پر عمل کرے گا؟
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔