یوں تو پورا سوات پہاڑی علاقہ ہے، تاہم اس کے شمال میں یہ پہاڑ جب بلند ہوجاتے ہیں، تو اس علاقے کو ماضی میں، غالباً انیسویں صدی میں، ’’سوات کوہستان‘‘ یا ’’کوہستانِ سوات‘‘ پشتونوں کی طرف سے کہا گیا۔ اس سے پہلے انیسویں صدی تک موجودہ سوات کوہستان یا تحصیلِ بحرین توروال کے نام سے معروف تھا، جس کا ذکر پشتو کے عظیم شاعر اور رہنما خوشحال خان خٹک نے 1675ء کے آس پاس اپنے اشعار میں بھی کیا ہے۔ اُس سے پہلے سولہویں صدی میں لکھی گئی کتاب ’’تواریخِ حافظ رحمت خانی‘‘ میں بھی توروال کا ذکر ہے۔
ریاستِ سوات بلکہ اس کے قیام سے پہلے جو ٹوٹی پھوٹی حکومتیں اخوند آف سوات یعنی سیدو بابا کی کوششوں سے قایم ہوئیں، تو اس وقت سے اس علاقے کو ’’سوات کوہستان‘‘ کہا گیا، جو بعد میں ریاستِ سوات کے قیام کے بعد مزید مستعمل ہوتا گیا۔ جب 1938ء کو دریائے سندھ پر کوہستان کے مغربی حصے کندھیا تک بھی ریاستِ سوات نے قبضہ کیا، تو اس کو بھی ’’سوات کوہستان‘‘ کا نام دیا گیا یعنی کوہستان کا وہ حصہ جو ریاست سوات کے ساتھ ہے، تاہم اصل سوات کوہستان موجودہ تحصیلِ بحرین ہی رہا اور اس دوسرے کوہستان کو ’’ہزارہ کوہستان‘‘ یا ’’آباسین کوہستان‘‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ سوات کی قدیم تاریخ جو آرکیالوجی اور علمِ بشریات و لسانیات سے ثابت ہے، کے مطابق پورا سوات بلکہ بونیر اور باجوڑ سمیت پورا علاقہ داردی لوگوں یعنی توروالیوں اور گاؤریوں یا ان کے آبا و اجداد پشائیوں کا تھا۔ توورالی زبان گندھاری زبان کو سب سے زیادہ قریب ہے ۔
اس مختصر تاریخ کے بیان کا مقصد یہ ہے کہ ہم سوات کا اٹوٹ انگ ہیں۔ سوات کے بغیر ہماری تاریخ مکمل نہیں۔ کوہستان لفظ تو محض جغرافیہ کو دیکھ کر دیا گیا ہے اور ہم نے اس کو اپنا لیا ہے، لیکن ہم خود کو سوات سے تاریخی، ثقافتی اور سیاسی و انتظامی حوالوں سے الگ نہیں کرسکتے۔ ہم انتظامی طور پر ریاستِ سوات کا حصہ رہے ہیں اور اب ضلع سوات کا حصہ ہیں۔ ہمارے اور سوات کے مفادات اور مسایل مشترک ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہنا چاہیے کہ بالائی سوات کے توورالیوں، گاؤریوں اور گوجروں، سیدوں، میاں گان وغیرہ کے مفادات اور مسایل سوات کے پشتونوں کے ساتھ مشترک ہیں۔ ہماری آفات مشترک ہیں۔ زمینیں مشترک ہیں۔ سیاست مشترک ہے اور کئی لحاظ سے ثقافت بھی مشترک ہے۔
یہی وجہ ہے کہ زیریں سوات میں دہشت گردی شروع ہوجائے، تو اس سے بالائی سوات متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح اگر بالائی سوات پر کوئی مصیبت، آفات کی صورت میں بھی آجائے، تو زیریں سوات اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہماری بدامنی اور امن ایک ہی ہے۔ لہٰذا ہم سب کو سواتی بن کر ان مسایل کا سامنا اور مقابلہ کرنا چاہیے۔
گذشتہ کئی دنوں سے پورے ضلع سوات میں دہشت گردی کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج اور امن کے لیے جلسے ہورہے ہیں۔ ہمارے کئی لوگوں نے ان میں شرکت کی ہے۔ کئی لوگوں نے اسلام آباد میں بھی ایسے احتجاجوں میں شرکت کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف احتجاج اور امن کے لیے جلسوں کا یہ سلسلہ اب بالائی سوات مدین، بحرین اور کالام تک پھیلایا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام ہونا چاہے۔
اس حوالے سے کیا خیال ہے؟
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔