سوات نے اپنا مقدمہ عوام اور تاریخ کی عدالت میں واضح اور واشگاف انداز میں پیش کیا۔ کیوں کہ پچھلے پندرہ سالوں سے بالعموم اور سوات کے انضمام کے بعد بالخصوص سوات اور اس کے عوام کا چہرہ ریاستی اداروں بشمول عدلیہ، انتظامیہ، میڈیا اور ریاستی دانش وروں نے بگاڑنے اور یہاں کے عوام کی محرومیوں، حسرتوں، توقعات اور خوابوں کو من پسند معنی اور مفہوم دے کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں کسر اُٹھا نہ رکھی۔
انضمام کے بعد بھٹو کی نام نہاد اصلاحات اور کسانی تحریک میں جھونکنے کی کوشش ہوئی۔ ضیا سے مذہبی شدت پسندی کا آغاز ہوا، جو اس علاقے کا اصل چہرہ مسخ کرنے کے لیے موثر ہتھیار ثابت ہوا۔
پختون خطے میں ’’سوات‘‘ وہ علاقہ ہے جو قبائیلیت سے ہٹ کر اُس وقت کے جدید ریاستی، انتظامی اور فلاحی نظام کے راستے پر گام زن ہوا تھا اور جو دوسرے پختون علاقوں کے لیے مثال بن سکتا تھا۔ لہٰذا سوات ’’ٹیسٹ کیس‘‘ تھا کہ اگر اس کو مذہبی شدت پسندی کے لبادے میں ’’پراکسی وار‘‘ کا میدان بنایا جائے، تو دوسرے علاقے میں تو کوئی رُکاوٹ ہی سامنے نہیں آسکتی۔
آمدم برسرِ مطلب، 11 اکتوبر بروزِ منگل، مینگورہ کے نشاط چوک میں جو احتجاجی جلسہ ہوا، مبصرین اس کو ایک تاریخی اجتماع قرار دے رہے ہیں۔ کہنے کو تو یہ ایک چوک میں تھا۔ کیوں کہ اسٹیج وہاں پر تھا، لیکن اس کے تینوں اطراف سڑکوں، چھتوں اور گلیوں میں انسانوں کا ایک بہت بڑا ہجوم نظر آرہا تھا۔
یہ اپنی نوعیت کا وہ پہلا اجتماع تھا جس کو سٹیج نہیں، بلکہ نیچے کھڑے عوام کنٹرول کر رہے تھے۔ عوام جس کو سننا چاہتے تھے، بس اس کو اجازت دیتے تھے۔ شرکا نے پی ٹی آئی کے میئر اور دو مقامی ایم پی ایز کو سٹیج سے اُتار کر واپس جانے پر مجبور کیا۔ جس لیڈر نے اپنی جماعتی سیاست چمکانے کی کوشش کی، اس کو شرکا کی بھرپور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔
قارئین! جن طاقتوں نے 2008ء میں اس شہر کے گرین چوک کو ’’خونی چوک‘‘ میں تبدیل کیا تھا، 11 اکتوبر کو سوات کے عوام نے نشاط چوک کو اُن کے لیے ’’تحریر چوک‘‘ بنا دیا۔
اس احتجاج کا اعلان مینگورہ بائی پاس پر نجی لین دین کے تنازع پر ایک کیپٹن بشمول تین دیگر اہل کاروں کے ملوث ہونے اور اس کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں کے ہاتھوں باپ بیٹے کے قتل کے خلاف ٹھیک اُسی دن ہوا تھا۔ یہ خبر نہ صرف سوات بلکہ پورے پختون بیلٹ میں جنگل کی آگ طرح پھیلی تھی، جس سے غم و غصہ کی نئی لہر اُٹھی تھی۔ اس حوالے سے پی ٹی ایم کے صوبائی کو آر ڈی نیٹر ادریس باچا کا کہنا تھا کہ یہ نقیب اللہ محسود، جن کو جنوری 2018ء میں ایس پی راؤ انور کے ڈیتھ سکواڈ نے جعلی مقابلہ میں قتل کیا تھا، یہ بالکل ویساواقعہ ہے۔
اگلے دن سوات کے گلی باغ میں سکول وین پر حملہ کرکے بائی پاس واقعے سے توجہ ہٹانے کے کوشش کی گئی۔ یوں ’’کنٹرولڈ مین سٹریم میڈیا‘‘ نے بھی اس مسئلے کا اُٹھایا۔
اس حوالے سے منظور پشتین کہتے ہیں کہ نشاط چوک والا احتجاج آخری نہیں، بلکہ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا…… جب تک بائی پاس کے مقتولوں کو انصاف نہیں ملتا۔
دوسری طرف ریاستی ادارے ہر قسم کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس واقعے کو دبا دیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ اب تک نہ قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے…… اور نہ محکمانہ تادیبی کارروائی کی کوئی اطلاع ہی ہے۔ اس کے علاوہ بائی پاس اور گلی باغ کے واقعات سے چند دن پہلے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے سوات میں ایک جان دار خطاب کیا تھا…… لیکن اس کے تناظر میں انھوں نے اَب تک کوئی عملی اقدام نہیں کیے۔
قارئین! اب یہ چیزیں اس لیے نہیں دبیں گی کہ عوام کو ہر داو پیچ کا پتا چل چکا ہے۔ عوام 2007ء کی طرح بے خبر ہیں اور نہ غافل۔ اب بچہ بچہ اس کے پیچھے ہاتھ کو بھی جانتا ہے، ساتھ ساتھ ریاستی پالیسی اور اداروں کے کردار اور طرزِ عمل کو بھی۔ جیسا کہ سینٹر مشتاق احمد نے مینگورہ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، لیکن ہماری ریاست آدم خور بن کر اپنی بچوں کو کھا رہی ہے۔‘‘
یہ بات اب زبان زدِ عام ہے کہ شدت پسندی گویا ریاستی پالیسی اور باقاعدہ کاروبار بن گئی ہے۔ مہذب دنیا میں ریاستیں یونیورسٹیاں بناتی ہیں، ایجادات کرتی ہیں، فیکٹریاں بناتی ہیں اور اس کے حاصلات بیچتی ہیں…… لیکن ہم سیکورٹی، معاشی پالیسی، شدت پسندی اور اس کی آڑ میں جنگوں کو کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اندرونی سیاست کو کنٹرول کرنے کا بھی ایک آزمودہ نسخہ ہے۔
آخر یہ قتل و غارت کا کاروبار کب تک جاری رہے گا؟ اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ جب بھی مقتدر افراد مشرق یا مغرب کے طاقت ور دارالحکومتوں کے دورے پر جاتے ہیں، تو عوام کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں کہ اس بار ہمارے خون کی قیمت کیا وصول کی جائے گی؟
عوام اس طرح کے خوف پھیلانے والے واقعات اور اس کے نتیجے میں ریاستی اقدامات کو ایک ’’نئی پراکسی وار‘‘ یا ’’گذشتہ سلسلے کی نئی کڑی‘‘ سمجھتے ہیں۔
سوچنے والی بات ہے کہ سوات میں چھاونی بننے کے باوجود دیہاتوں میں سرکاری سکولوں میں سیکورٹی فورسز ڈیرے ڈال رہی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چھاونی سے تین یا چار کلومیٹر دور ننگولئی کے ہائی سکول میں بھی اہل کار ڈیرے ڈال چکے ہیں۔ اب چھاونی سے تین چار کلومیٹر دور سکول کو تعلیم کے لیے بند کرنے اور سیکورٹی اہل کاروں کو دینے کی کیا تُک بنتی ہے؟
حیرانی کی بات تو یہ بھی ہے کہ گلی باغ جہاں سکول وین پر حملہ ہوا، وہاں 2007 اور 2008ء سے پیتھام (پیتھام آسٹریا حکومت کے تعاون سے بنا ہوا ہوٹل مینجمنٹ اور مہمان نوازی کی تعلیم و تربیت کا جدید انسٹیٹیوٹ، جو آج تک سیکورٹی فورسز کے زیرِ استعمال ہونے کی وجہ سے بند پڑا ہے) میں فورسز ڈیرا جمائے ہوئے ہیں۔ سوات میں 2008ء سے اب تک سیکڑوں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں بیشتر ایسی جگہوں پر رونما ہوئے ہیں جہاں سے سیکورٹی اہل کار دو یا تین کلومیٹر کے فاصلے پر ڈیرا جمائے ہوئے ہوتے ہیں، لیکن آج تک کوئی ایک قاتل بھی گرفتار نہیں ہوا۔ ہاں! بعض واقعات میں چشم دید گواہان کو اُٹھاکر ان کا سافٹ ویئر ’’اَپ ڈیٹ‘‘ کیا جاچکا ہے۔
البتہ اس پر جس نے بھی بات کی، اس کی زندگی یا تو خطرے میں پڑگئی یا جہنم بنا دی گئی۔ تازہ مثال سوات کے سنیئر صحافی فیاض ظفر کی ہے۔ انھوں نے مینگورہ بائی پاس قتل کے واقعے، جس کو سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کا واقعہ ظاہر کیا تھا، کا بھانڈا پھوڑ کر حقیقت عوام کے سامنے لائی۔ اگلے دن ڈی پی اُو نے اُن کو دی گئی پولیس سیکورٹی واپس لے لی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس قسم اور دیگر دہشت گردی کے واقعات پر جو بھی آواز اٹھاتا ہے یا احتجاج کرتا ہے، تو ریاستی ادارے اس کو خاموش کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔
یہ سارے واقعات ایک واضح تصویر بناتے ہیں۔ سینوں میں پلنے والا لاوا اُبلنے کو ہے۔ اب کی بار میدان میں بڑے بوڑھوں کے ساتھ عصرِ حاضر کے علوم سے بہرہ ور نوجوان بھی کود پڑے ہیں، جو احتجاج کا حصہ بننے کے ساتھ سوشل میڈیا کا موثر استعمال بھی جانتے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔