اس ملک کا اندازِ سیاست کتنا نرالا ہے۔ صرف بوتل بدلی جاتی ہے، شراب وہی پرانی رہتی ہے۔ یہاں پر پوشیدہ سیاسی تہ خانوں اور لیبارٹریوں میں جاں فشانی سے کرپشن یا بدعنوانی، مذہبی شدت پسندی، بدامنی، سیاسی و سماجی انتشار، غربت اور محرومیوں کو کشید کرکے پھر اس کے سدِ باب کے نام پر مسیحا یا تو خود بنتے ہیں یا کسی اور بنا دیتے ہیں۔ پچھلی سات دہائیوں سے یہ سلسلہ بڑی کامیابی سے جاری و ساری ہے اور ’’غیبی مداخلت‘‘ کے بغیر مستقبلِ قریب میں اس شیطانی دایرے کے ٹوٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ کیوں کہ سبھی بیمار اُسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں، جس کے سبب بیمار ہوئے ہیں۔
سیاسی انجینئرنگ کی طلسماتی لیبارٹری والوں نے سب سے بڑا ظلم یہ کیا ہے کہ انھوں نے ہمارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود کرکے رکھ دی ہے۔ اب اگر حلوا کھانے کی حسرت ہو، تو ہم گھر کے کسی فرد کے مرنے کی تمنا دل میں لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ اب ہم اپنی خیر دوسروں کے شر میں ڈھونڈتے ہیں۔ اپنی ہر کوتاہی، غفلت اور ناہنجار پن کا ذمے دار کسی اور کو ٹھہراتے ہیں۔ یہ وہ اوصافِ قبیحہ ہیں جو کسی انسانی سماج میں ازخود در نہیں آتے…… اور ان کی روک تھام اور سدِ باب اور تربیت کے لیے انسانی سماج وقتاً فوقتاً اداروں کی شکل میں مختلف اقدامات کرتا رہتا ہے۔ اس میں سب سے بڑا اور کثیرالمقاصد ادارہ ’’ریاست‘‘ ہے…… لیکن یہاں ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہماری موجودہ سماجی اور عوامی ذہنیت ’’ریاست‘‘ کی شعوری کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہاں مٹھی بھر مگر منظم افراد نے اپنی پسِ پردہ حکم رانی، ریاستی طاقت اور وسایل پر ناجایز قبضہ جمانے اور اس کو دوام دینے کے لیے کروڑوں کی آبادی، جس سے ’’ستاروں پر کمند ڈالنے‘‘ اور ’’نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر‘‘ حکم رانی کی امید تھی، کو زومبیز اور چلتی پھرتی لاشوں میں تبدیل کردیا ہے۔
زیادہ سوچ اور فکر کی ضرورت نہیں، بس ایک لمحے کے لیے غور کیجیے۔ اگر ایک ناجایز چیز یا کام کو لاکھوں کروڑوں جیتے جاگتے افراد کی نظروں میں جایز ثابت کرنا ہو، تو اس کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں! سیکڑوں کو شاملِ غنیمت کرنا، ہزاروں کو چند ٹکڑے پھینکنا، لاکھوں کو لالچ و امید دے کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا اور کروڑوں کو موت کے بعد والی دایمی زندگی میں ’’کامیابی‘‘ حاصل کرنے کے خواب میں سلانا پڑتا ہے۔ اس کام کے لیے منبر و محراب سے لے کر نصاب و کتاب، سکول اور مدرسہ، ابلاغیات و نشریات اور پروپیگنڈا کے ہر ذریعے پر آہنی پنجہ گاڑنا پڑتا ہے، جو دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرسکے اور لوگ اس کو ماننے پر مجبور بھی ہوجائیں۔
غور کیجیے، اگر کوئی بندوق کے زور پر کسی مکان یا زمین پر قبضہ کرنا چاہے، تو کس قماش کے لوگ اس کا ساتھ دیں گے اور کس قیمت پر…… اس طرح پھر ان لوگوں سے کس قسم کی توقعات رکھنی چاہئیں؟ اگر کوئی کسی طاقت ور کے لیے ایک ناجایز کام کرتا ہے، تو کیا اس کی آڑ میں اپنے دس ناجایز کام نہیں کروائے گا؟
برسبیلِ تذکرہ، مثل مشہور ہے کہ اگر بادشاہ نے ایک مرغی کھائی، تو پھر اس کے لشکر سے شہر میں کوئی مرغی بچ نہیں پاتی۔ بندوق کے ذریعے حاصل کردہ اور چلانے والی حکم رانی کی حکم رانوں سے قانون اور انصاف کی حکم رانی کی توقع رکھنا خام خیالی نہیں، تو اور کیا ہے؟ وہ خام خیالی جس میں ہم 70، 75برسوں سے مبتلا ہیں۔ ساڑھے سات دہائیاں اس بات میں گزر گئیں کہ اپنے بنائے ہوئے پُتلوں سے تماشا کرائیں اور جب تماشائیوں کا جی بھر جائے، تو ہر لعنت ملامت ان کے سر تھوپ کر، ان کو اُٹھاکر باہر پھینک دیں اور کچھ وقت کے بعد نئے پُتلوں سے ایک بار پھر تماشا لگائیں۔
آج یہ جو ہلکی پھلکی لڑائی اور نورا کشتی اس دور کے پُتلوں کے ساتھ جاری ہے، یہ اس لیے ہے کہ یا تو پُتلے من مرضی کی شرایط پر مزید تماشا کرنے کے لیے تیار نہیں، یا وہ ہیں جو سکرپٹ کے مطابق کردار ادا کرنے کے اہل نہیں سمجھے جا رہے…… اس طرح جو پُتلے سکرپٹ کو سمجھتے ہیں، تو تماشا کرانے والے ان کی چالاکیوں سے خوف زدہ ہیں۔ اس طرح جو سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں، وہاں اُن کی نا اہلی اوربے وقوفی آڑے آر ہی ہے۔
عوام کل بھی تماشائی تھے اور آج بھی ہیں۔ وہ کل بھی کچھ پُتلوں کو بگاڑ کے ذمے دار اور کچھ کو مسیحا سمجھتے تھے، سو آج بھی سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ آج تک عوام نے اُس پردے کے پیچھے جھانکنے کے کوشش ہی نہیں کی جس کے پیچھے پُتلے نچانے والے تشریف فرما ہیں۔ بقولِ شاعر
سرِ آئینہ میرا عکس ہے، پسِ آئینہ کوئی اور ہے
اور جب تک پردے کے پیچھے والے آگے نہیں لائے جاتے، تب تک یہ پُتلی تماشا جاری رہے گا۔ بد قسمتی سے جس نے اس پردے کو اُٹھانے کی کوشش کی ، خواہ وہ ماضی کے پُتلوں میں سے کیوں نہ ہو، اس کو نشانِ عبرت بنایا گیا۔
اس پورے فسانے میں اُن عوامی کرداروں کا تو ذکر ہی نہیں، جو اصل کردار تھے اور ہیں۔ اُن پر غداری، اسلام دشمنی یا ملک دشمنی کے فتوے لگا کر سالہا سال پسِ زِنداں رکھ گیا اور مرنے کے بعد بھی معاف نہیں کیا گیا۔
اس طرح آج کی نسل میں سر ہتھیلی پر رکھ کر اگلوں کے نقشِ قدم پر چلنے والوں اور مذکورہ آہنی پردے کو چاک کرنے والوں کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو رہا ہے، جو اگلوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ کوئی تقریر کی پاداش میں ایک عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہے، تو کوئی روزانہ پولیس تھانوں اور عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے۔ دوسری طرف کچھ لاڈلے ایسے بھی ہیں جن کا جو زباں پر آتا ہے، بولتے جاتے ہیں، جو من میں آتا ہے،کرتے جاتے ہیں، لیکن نہ پولیس، نہ گرفتاری…… اگر گرفتاری کا کوئی اندیشہ پیدا ہو بھی جائے، تو رات کو، حتی کہ اتوار کو اعلا عدالتیں کھول دی جاتی ہیں اور ضمانت گھر ارسال ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف اصل انقلابیوں اور آزادی کے متوالوں کو دفعہ 144 میں بھی ضمانت نہیں ملتی۔ لہٰذا قیاس کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ ’’رانگ نمبر‘‘ ہے۔ اس ملک کی گنجلک تاریخ گواہ ہے کہ ’’رائٹ نمبر‘‘ کو اول تو پاپولر ہونے نہیں دیا جاتا اور اگر اتفاقاً ہو بھی جائے، تو اس کو اس طریقے سے ڈیل کیا جاتا ہے کہ پھر پاپولریٹی کام آتی ہے اور نہ جارحیت۔ پھر عدالتیں رات اور چھٹی کے دن ضمانت کے لیے نہیں ’’بلیک وارنٹ‘‘ پر دستخط کے لیے کھلتی ہیں۔ ساتھ عوام کے سافٹ وئیر اپڈیٹ کردیے جاتے ہیں اور وہ اس عمل پر تالیاں بھی بجاتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیوں کہ ہم وہی کچھ سوچتے، بولتے اور دیکھتے ہیں جو ’’بڑا بھائی‘‘ ہمارے کھوپڑیوں میں مختلف ذرایع سے انڈلتا ہے۔ اندھیرا تب تک نہیں چھٹنے والا جب تک ہم اپنی آنکھیں نہیں کھولتے۔ بقولِ نوابزادہ نصر اللہ خان
کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔