لاہور کبھی پھولوں اور باغوں کا شہر ہوا کرتا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ کچھ بے قدرے لوگوں کی وجہ سے اس شہر کو بھی نظر لگ گئی۔ اب تو دھول،مٹی اور دھواں ہے…… جو ہر وقت شہر اور شہریوں کے آگے پیچھے رہتا ہے۔ ہم آج بھی لاہور کو خوب صورت اور پھولوں کا شہر بناسکتے ہیں اور اس کے لیے کرنا صرف یہ ہے کہ ہر شہری اپنے گھر کی خوب صورتی کے لیے ایک یا دو پودے پھولوں کے لگا لے۔ ہماری گلیاں اور محلے خوشبو سے مہک اُٹھیں گے اور جو پھول پی ایچ اے نے پارکوں میں لگائے ہوئے ہیں، انھیں توڑنے کی بجائے ان کی خوب صورتی سے خود بھی لطف اندوز ہوں اور دوسروں کو بھی ہونے دیں۔
ہمیں اپنی اس عادت سے نجات پانی چاہیے کہ چلتے چلتے جو چیز ہاتھ آئے، اسے توڑ دیا اور پھر مسل کر نیچے پھینک دیا۔ یہی جہالت کی نشانی ہے۔ اسی وجہ سے تو ہم دنیا کے 154 نمبر پر ہیں۔
اس وقت ’’سوئٹرز لینڈ لٹریسی‘‘ کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے، وہاں کسی کے ہاتھ سے کسی جان دار کو نقصان پہنچنا، تو دور کی بات…… وہاں کسی بے جان کو بھی نہیں ہلایا جاتا۔ سڑک یا فٹ پاتھ پر کوئی چیز گری ہوئی کسی کو نظر آجائے، تو وہ ہماری طرح آنکھ بچا کرنکلتا نہیں…… بلکہ اسے اُٹھا کر ڈسٹ بن میں پھینکے گا۔ خواہ اس کے لیے اسے کتنی ہی دور پیدل کیوں نہ چلنا پڑے۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو پھولوں کو بھی مسلتے ہیں، تو بے دردی کے ساتھ اور تو اور ہم اپنی شاعری میں بھی گلابوں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم حقیقی پھولوں کی طرف توجہ دیں، تو پاکستان گلاب کی کاشت اور اس کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو فروغ دے کر قیمتی زرِمبادلہ حاصل کرسکتا ہے۔
عالمی منڈی میں ’’روز آئل‘‘ کی قیمت 5 ہزار ڈالر فی کلوگرام تک ہے۔ لاہور، قصور اور چو آ سیدن شاہ سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں گلاب کے پھول کی کاشت ہوتی ہے۔ دوسرے صوبوں میں اس کی کاشت کم پیمانے پر کی جاتی ہے۔ گلاب کی کاشت اور اس کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو فروغ دینے سے پاکستانی کسانوں کو اچھا منافع ملنے کے ساتھ ساتھ ملک کوبھی شان دار زرِمبادلہ کمانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ایک کلو خالص تیل نکالنے کے لیے تقریباً چار ٹن گلاب کے پھولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ گلاب کے تیل کی قیمت 595 ڈالرسے 5,000 ڈالرفی کلوگرام تک ہوتی ہے۔ اس وقت تقریباً 90 فی صد گلاب کے پھولوں کو گلاب کا تیل نکالنے کے لیے اور صرف 4 فی صد تک گلاب کا عرق حاصل کیا جاتا ہے۔
گلاب کے پھول کوجام، جیلی، کھانے کا ذایقہ، کھانا پکانے، چائے، کاسمیٹکس اور پرفیومز میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ گلاب کے بیج بھی خوش بودار مسالے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ مہمان نوازی کی صنعت، مزارات اور سجاوٹ میں بھی گلاب کا استعمال بڑی مقدار میں ہوتا ہے۔ گلاب کی پنکھڑیوں کو تیل تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے…… جس کی ضمنی پیداوار گلاب کا عرق ہے…… جو بھاپ کشید کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ خوش بودار نوٹ اور ادویہ تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
سینیول وہ جز ہے جو گلاب کی مخصوص خوش بو کا سبب بنتا ہے اور یہ مصنوعی شکل میں بھی دست یاب ہے۔ 1 سے 2 ملی لیٹر تیل حاصل کرنے کے لیے کافی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف خالص ضروری تیل کو دوا کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان مرکبات کی صحیح مقدار کا صرف ہم آہنگی کا اثر ہی حقیقی دواؤں کے اثرات دیتا ہے۔
گلاب کی ایک اور پیداوار ’’گلاب ہپ آئل‘‘ ہے، جسے ہائیڈرو ڈسٹی لیشن کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ اسے کھانے کے اجزا یا دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ عام طور پر مارکیٹ میں دستیاب گلاب کے تیل کو اس کی پنکھڑیوں کو ٹوئنز میں دبا کر اور پروسیس کرکے نکالا جاتا ہے۔ گلاب کا خالص ترین تیل نکالنے کا کام صرف سپر کریٹیکل کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالنے والے یونٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے…… جو ایک اوسط سرمایہ کار کے لیے بہت مہنگا ہوسکتا ہے۔ تاہم حکومت گلاب کی کاشت والے علاقوں کے قریب کے علاقوں میں ایسے یونٹ لگا سکتی ہے۔ ایسے منصوبوں کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو بھی حکومت اپنے ساتھ شامل کرسکتی ہے۔
تازہ گلاب کے پھول کی دل کش خوش بو اور اس کا فایدہ اپنی جگہ…… خشک گلاب کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ اگراس کو پولٹری فارمز پر بائیولوجیکل لیٹر کے طور پر استعمال کیا جائے، تو یہ اینٹی بیکٹیریل کے طور پر کام کرتا ہے۔ زیادہ تر پھولوں کی ایک بڑی مقدار ضایع ہوجاتی ہے جسے پرندوں کے پنجروں اورکھیتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
عالمی سطح پر گلاب کو اس کی حقیقی یا پروسیس شدہ شکل میں ایک قیمتی پیداوار سمجھا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کاشت کار اس کی معاشی قدر سے بخوبی واقف نہیں اور خاص کر بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایسے علاقوں کے رہایشی لوگ جو خشک اور سرد جگہ رہتے ہیں، وہ اس کام کو سمجھیں اور شروع کردیں، تو بہت سے مالی فواید حاصل کرسکتے ہیں۔ بالخصوص بلوچستان اورایسی جگہیں جہاں پانی کی کمی ہے، ان علاقوں میں گلاب کی کاشت کو فروغ دے کر ہم لاکھوں روپے کما سکتے ہیں…… جب کہ خشک ٹھنڈے علاقے اس کے لیے مثالی ہیں۔ محکمۂ زراعت کاشت کاروں کو گلاب کی قیمتی مصنوعات حاصل کرنے کے لیے ان کے علاقوں میں چھوٹے پلانٹس لگانے میں مدد کرسکتا ہے۔
ان دنوں گلاب کے پھول تقریباً 150 روپے فی کلو اور گلاب کی پتیاں 100 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہیں۔ خشک پھول اور پنکھڑی 4000 روپے سے 6000 روپے فی من فروخت ہوتی ہیں۔ وزیرِ اعلا پنجاب چوہدری پرویز الہی کی ہدایت پر محکمۂ زراعت اس وقت کسانوں کے لیے کافی متحرک ہے اور جس طرح صوبہ میں کسانوں کی خدمت کرنے میں مصروف ہے، اسی طرح باقی صوبوں کی زراعت سے متعلقہ محکمے کام شروع کردیں، تو کسانوں کے حالات بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ حکومت کسانوں کو اس کی کمرشل ویلیو، ویلیو ایڈیشن، سیلز پروموشن، مارکیٹنگ، ایکسپورٹ کے بارے میں مناسب آگاہی فراہم کرے۔ کاشت کار انتہائی خوش بودار اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کاشت کرکے شان دار منافع کما سکتے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔