مضافاتی علاقہ ہونے کے باوجود پچھلے آدھے گھنٹے سے نہ صرف ٹریفک جام تھی بلکہ ہر 30 سیکنڈ کے بعد پولیس کی سائرن بجاتی کوئی نہ کوئی گاڑی پاس سے تیزی سے گزرتی۔ پریشانی کی بات تو تھی کہ ایک تو شہری علاقے سے یہ جگہ دور تھی اور سونے پہ سہاگا یہ کہ پولیس کی گاڑیاں جس تیزی سے جا رہی تھیں، اس سے پریشانی مزید بڑھ گئی تھی کہ اللہ خیر کرے…… یہ ماجرا آخر ہے کیا کہ شاہراہ پہ ’’ہٹو بچو!‘‘ کی صدائیں بلند تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ پولیس موبائل اگر تھوڑی سے بھی تاخیر کا شکار ہوگئی، تو نجانے کیا آفت آ جائے گی؟ کہیں کوئی بڑا پولیس مقابلہ ہو گیا یا پھر ناکے پہ کچھ مسئلہ ہو گیا؟ کہیں دو فریق آپس میں گتھم گتھا ہوگئے یا کوئی اور ماجرا……! ہر طرح کی سوچ دل و دماغ کو دہلا رہی تھی۔
تھوڑا اور آگے بڑھے، تو معلوم ہوا کہ تمام کی تمام پولیس وینز جس سرعت سے سائرن بجاتی ہوئی آ رہی تھیں، اُسی تیزی کے ساتھ اڈیالہ جیل راولپنڈی کے چوکی گیٹ سے فراٹے بھرتی ہوئی جیل کے اندر جا رہی تھیں۔ کچھ لمحے بعد بکتر بند گاڑی کے آنے سے ثابت ہوا کہ معاملہ یقینی طور پر ہنگامی ہے…… اور اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ ایوانِ اقتدار کے باسی کوئی بھی رسک لینے کو تیار نہیں۔ میڈیاڈی ایس این جیز کی لمبی قطار دیکھیں، تو مزید حیرانی ہوئی…… لیکن جب اس قدر وفاقی اور صوبائی حکومتی مشینری کی حرکت پذیری کی وجہ دریافت کی، تو دل نے چاہا کہ اپنا سر ہی پیٹ لیا جائے۔
صرف ایک گھنٹے کے اندر اندر بیسیوں پنجاب پولیس کی وینز اڈیالہ جیل پہنچیں۔ وفاقی پولیس کی بھی اتنی ہی گاڑیاں اڈیالہ جیل اسی رفتار سے پہنچیں اور پھر ہم نے دیکھا کہ دھکم پیل سے بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ دو اہم ترین ادارے (وفاقی پولیس اور پنجاب پولیس) آمنے سامنے نہ صرف آگئے بلکہ تصادم بھی یقینی تھا۔ رہی سہی کسر وفاقی پولیس کے رینجرز اور ایف سی کو اس صورتِ حال میں سٹینڈ بائی کرنے کی خبروں نے پوری کر دی۔
محض ایک قیدی کے لیے پوری وفاقی انتظامیہ اور پنجاب کی صوبائی انتظامیہ نہ صرف آمنے سامنے رہیں بلکہ کروڑوں کے سرکاری وسایل کو بھی حرکت دی گئی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پہ کوئی سوال بھی نہیں کرے گا کہ یہ جو وسایل ایک قیدی کی نقل و حرکت پہ خرچ کیے گئے، یہ کیوں عوام کی فلاح پہ خرچ نہیں کیے گئے؟ جو معاملہ قانونی طور پر حل ہو سکتا تھا مل بیٹھ کر، اس کو ایک محاذ آرائی میں تبدیل کر دیا گیا۔ پھرمعاملہ وزیرِ اعلا کی مداخلت سے حل کی جانب گیا…… لیکن جب تک معاملہ حل ہوا تب تک رسوائی وفاق اور پنجاب دونوں کا مقدر بن چکی تھی۔
سلسلہ رکا نہیں۔ روزانہ ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوتی ہے اور پھر اس ویڈیو پہ لے دے ہوتی ہے۔ قیدی کی شناخت کا عمل شروع ہوتا ہے…… اور پھر یہی نہیں بلکہ ملک کا ایک سابق وزیرِ اعظم اس قیدی کے ساتھ یکجہتی کے لیے ملک گیر احتجاج کی کال دے دیتا ہے…… اور صوبائی حدود کے اندر، شہر وفاق سے متصل احتجاج کی کال پہ جمِ غفیر بھی اکٹھا کر لیا جا تاہے۔
راقم الحروف کی طرح ہر ایسا پاکستانی جو سیاسی وابستگیوں میں مرنے مارنے پہ نہیں تل جاتا، اس سوچ میں ہے کہ قانون کے ضابطے عام عوام کے لیے الگ اور اشرافیہ کے لیے الگ کیوں ہیں؟ گاؤں میں بکری چوری ہو جائے، جس پہ ایف آئی آر ہو جائے، پولیس پک اَپ میں بھی گھسیٹ کر ڈالتی ہے…… اور جب تک گلو خلاصی ہوتی ہے، اس وقت تک جوڑ تک ہل جاتے ہیں…… جن کی ٹیسیں ساری عمر رہتی ہیں۔ اس کے برعکس، سیاسی قیدیوں کو ’’فائیو سٹار قیدی‘‘ کا درجہ مل جاتا ہے۔ انھوں نے جرم کیا بھی ہو، تو لیڈران حمایت میں آگے آ جاتے ہیں…… اور پھر احتجاج کی صدا بلند ہوتی ہے۔
جنوبی پنجاب اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے…… لیکن صوبے کی پوری انتظامیہ ایک ’’فائیو سٹار قیدی‘‘ کے لیے احتجاج کے انتظامات دیکھ رہی ہے…… اور سونے پہ سہاگا کہ پوری پارٹی، سربراہ کے خلاف ہونے والی ایف آئی آر کے خلاف اس کے گھر کے باہر جمع ہو رہی ہے۔ راوالپنڈی میں ہونے والے احتجاجی جلسے میں جس طرح صوبائی اور ضلعی انتظامیہ سرگرم رہی، اس سے آدھی سرگرمی بھی اگر تباہ حال جنوبی پنجاب میں دکھائی جاتی، تو وہاں اس وقت حالات یقینی طور پر بہت مختلف ہوتے…… لیکن ابھی الیکشن کی نوید ہے نہیں…… ورنہ جنوبی پنجاب میں اس وقت پوری صوبائی و وفاقی قیادت پہنچی ہوتی۔
معاملے کو انتہائی سادگی سے دیکھیے اور غیر جانب دار رہتے ہوئے اس کا فیصلہ کیجیے۔ ایف آئی آر اگر عام پاکستانی کے خلاف ہو جائے، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، کیا یونین کونسل کی سطح کی انتظامیہ نے بھی کبھی سرگرمی دکھائی…… اور کسی سیاست دان کے خلاف ایف آئی آر، چاہے وہ درست ہی کیوں نہ ہو، اس کو متنازعہ کیوں بنا دیا جاتا ہے؟
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا نعرہ لگانے والے ہی، قانونی طور پر مقابلہ کرنے کی بجائے سڑکوں پہ نعرے لگا کر مقابلہ کرنے کو آسان سمجھتے ہیں۔ عوامی حمایت سے کرسیِ اقتدار پہ براجماں ہونے والے اتنی سے بات اگر سوچ لیں کہ جو معیار وہ اپنے لیے طے کرتے ہیں، وہی معیار عوام کے لیے بھی طے کرلیں…… تو پاکستان کے آدھے سے زیادہ مسایل ویسے ہی حل ہو جائیں…… لیکن ایسا ہونا ممکن اس وقت نہیں…… کیوں کہ اس وقت عوام بھی سیاست دان کو کاندھوں پہ سوار کیے ہوئے ہیں۔ تبدیلی تو تب آئے گی، جب وہ سیاست دانوں کو کندھوں پہ سوار کرنے سے انکار کر دیں گے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ایف آئی درج کی گئی۔ ایک تگڑی قانونی ٹیم ہونے کے باوجود، سارا زور گرفتاری سے بچنے پہ ہے…… اور اس کے لیے ہر جایز و ناجایز طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔ کارکنان کو بنی گالہ پہنچنے کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔ یہ تضاد کیسا……؟ یہ دوغلا معیار کیوں……؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ایف آئی آر غلط ہے، تو انصاف کا ترازو جھنجھوڑیے، بجائے اس کے کہ آپ غیر قانونی ہتھکنڈوں پہ اُتر آئیں۔
ایک بات جس پہ سب کا متفق ہونا ضروری ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، کوئی بھی سیاسی راہنما ہو، اس کی وابستگی جس بھی گروپ یا پارٹی سے ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو گا۔
قانون کی ہتھکڑی عہدہ یا پارٹی دیکھ کر نہیں…… بلکہ ایسے ہی جرم دیکھ کر لگے گی جیسے عوام کو لگتی ہے، تو پھر ہم کَہ پائیں گے کہ تبدیلی حقیقی معنوں میں آگئی ہے…… لیکن موجودہ صورتِ حال ’’سیاسی میوزیکل چیئر‘‘ کے دور سے ہرگز مختلف نہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔