پاکستان کی انتظامی، سیاسی حتی کہ عدالتی پیچیدگیوں کا جب بھی ذکر ہوتا ہے، تو اول انگلی اسٹیبلشمنٹ کی طرف اٹھتی ہے۔ ویسے تو اسٹیبلشمنٹ کا قانونی ڈھانچا ریاست کے اربابِ اختیار سے ہے جس میں اول سول بیورو کریسی، پھر چند آئینی ادارے جیسے عدلیہ، احتساب کا ادارہ، الیکشن کمیشن، امن و امان سے وابستہ محکمہ جات اور پھر قومی سلامتی کے ادارے ہیں…… لیکن پاکستان کے مخصوص سیاسی و معاشرتی حالات میں اس کا کلی و حتمی مرکز قومی سلامتی اور خاص کر پاک فوج اور اس میں بھی پاکستان کی بری فوج کو مرکزیت حاصل ہے۔
ہمارے سیاست دانوں کی غلطیاں اپنی جگہ…… لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہماری فوجی قیادت کا کردار ہمیشہ سے ہی متنازعہ رہا۔ اس نے ہمیشہ اپنی طاقت کا بہت حد تک غلط استعمال کیا اور جمہوریت کو ہمیشہ ’’ڈی ریل‘‘ کیا۔ حتی کہ بانیِ پاکستان حضرت قایدِ اعظم کے اس فرمان کو بھی اہمیت نہ دی کہ ’’آپ کا کام صرف سرحدوں کی حفاظت ہے اور وہ بھی سیاسی حکم کے تابع ہے۔‘‘ لیکن روزِ اول سے ہماری فوجی قیادت نے اس کا پاس نہ کیا اور جنرل گریسی سے لے کر جنرل مشرف تک اس کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس دوران میں جنرل ایوب، یحییٰ، ضیاء الحق اور مشرف کا کردار تو بہت ہی مایوس کن رہا…… لیکن آج ہم اس کو موجودہ سیاسی حالات میں بیان کرنا چاہیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج ملک کے سیاسی حالات بالکل انارکی کا شکار ہیں اور اس وجہ سے معیشت تباہی کی جانب جا رہی ہے۔ ڈالر کی اُڑان بے قابو ہے اور مہنگائی نے ایک عام پاکستانی کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے اور اس کے نتیجے میں سٹریٹ کرائم میں بے تحاشا اضافہ ہوچکا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والے قایدِ اعظم کے ملک میں رشوت، کرپشن، ملاوٹ کا حجم ناقابلِ یقین حد تک بڑھ گیا ہے۔ کچھ موصولہ اطلاعات کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جسم فروشی کیوبا، فلپائن اور تھائی لینڈ سے بھی زیادہ بڑھ رہی ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس سیکس انڈسٹری میں اضافہ موجود ہیرا منڈی کی قصبیوں یا رنڈیوں کے خاندانوں سے نہیں، بلکہ گذشتہ کچھ عرصہ میں اس میں شریف اور سفید پوش گھرانوں کی بہو بیٹیاں شامل ہوگئی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ لگژری کے لوازمات کا حصول نہیں بلکہ پیٹ کی بھوک ہے۔ بنیادی انسانی ضرورتوں کا حصول ہے…… لیکن حکومت یعنی سیاست دان بس اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں…… اور اسٹیبلشمنٹ اس بازی میں اپنے ترپ کے پتے بچھانے میں مصروف۔ کبھی ایک جماعت چیخ رہی ہے، کبھی دوسری زیادتی کا رونا رو رہی ہے۔ اس وقت پارلیمان کی دونوں بڑی جماعتیں شدید قسم کی سیاسی جنگ کا شکار ہیں اور معذرت کے ساتھ دونوں کو محض پریس کانفرنسیں کرنے، بیانات جاری کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات لگانے کے علاوہ کام ہی نہیں۔ اس میں وہ ساری حدیں کراس کرچکے ہیں۔ ہمارے قومی اداروں کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن، عدلیہ، فوج، پارلیمنٹ، ایوانِ صدر…… کون سا ادارہ ان سے بچا ہے؟ بے شک دونوں بڑی جماعتوں کا حال کے معاملات میں کردار شرم ناک ہے…… لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں شاید اتنی غلطی ان کی ہے ہی نہیں، کیوں کہ یہ دونوں سیاسی جماعتیں نہ تو کسی نظریہ پر بنیں نہ عوام سے طاقت لے کر آئی ہیں، تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں نہ صرف کہاں سے آئیں…… بلکہ مضبوط بھی بنیں اور سیاسی اقتدار کی اہم کھلاڑی بھی۔ کیوں کہ جو جماعتیں ایک خاص قسم کی نظریاتی اساس کے ساتھ جنم لیتی ہیں، بے شک ان کو بہ وقتِ ضرورت اسٹیبلشمنٹ استعمال کرتی ہے اور یہ جماعتیں بھی ’’پاؤر پالیٹکس‘‘ میں اپنے سیاسی مفادات کے لیے کسی نہ کسی حد تک استعمال ہو جاتی ہیں…… لیکن بہرحال ایک تو وہ ایک حد سے زیادہ تعاون نہیں کرسکتی۔
دوسرا ان کا عمومی رویہ بالکل سیاسی ہوتا ہے اور اختلاف کا دایرۂ کار سیاسی ہی رہتا ہے۔ اس کی بڑی مثالیں پی پی پی، اے این پی، جماعت اسلامی وغیرہ ہیں…… لیکن ہماری اس وقت کی دو بڑی جماعتیں اپنی اساس میں بالکل متضاد رویہ رکھے ہوئی ہیں…… خاص کر تحریکِ انصاف۔ کیوں کہ ان دونوں کی مضبوط عوامی حمایت خالصتاً عوامی نہ تھی…… بلکہ ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مضبوط بنایا گیا۔ دونوں کا بنیادی مقصد کسی کی راہ روکنا یا کسی کو راہ سے ہٹانا تھا۔ مثلاً ن لیگ نے آئی جے آئی سے جنم لیا…… اور آئی جے آئی (مرحوم) جنرل حمید گل نے بہت محنت سے بنائی تھی۔ اس کا مقصد کیا تھا؟ ایک حقیقی عوام راہنما محترمہ بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنا…… اسی وجہ سے راتوں رات نواز شریف جیسے بالکل عام سطحی شخص کو عظیم محب الوطن بنا کر پیش کیا گیا۔ پھر جب اقتدار کے ایوانوں اور سیاست کی حدت میں نواز شریف کو سمجھ آئی کہ سپریم وزیرِ اعظم کوئی اور ہوتا ہے، جب کہ گالی گلوچ کے لیے ہم، تو انہوں نے تھوڑا بہت ردِ عمل کا اظہار کیا۔ بس پھر کیا تھا، ایک کرکٹ ہیرو جو 14 سال سے سیاست میں وجود نہ رکھتا تھا اور اس کی وجۂ شہرت اب بھی کرکٹر کے طور پر زیادہ تھی، راتوں رات سیاست کا سپر ہیرو بن گیا۔ جنرل شجاع پاشا اور ظہیر السلام میدان عمل میں آگئے اور پھر پرانی سکہ بند جماعتیں ختم ہوئیں اور تحریکِ انصاف عوامی طاقت بن گئی۔ سو اسی وجہ سے آج سیاست میں آلودگی بڑھ گئی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی اولین ذمے داری اسٹیبلشمنٹ پر ہے۔ معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ سیاست پراگندہ ہو رہی ہے، لیکن اسٹیبلشمنٹ آج بھی تاش میں حکم کے اِکوں کی تلاش میں ہے۔ یہ بہت مایوس کن ہے۔ یہ بات یاد رکھیں، سیاست دانوں کی تمام غلطیاں درست ہوسکتی ہیں…… لیکن تبھی جب اسٹیبلشمنٹ سیاست سے خود کو دور کرے اور خود ساختہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی وراثت سے دست بردار ہو جائے۔ اصولاً تو ملک کی جغرافیائی سرحدوں پر بھی پیش رفت سول حکومت کے حکم کے مطابق ہونی چاہیے، لیکن آپ نے خود ہی ایک نظریاتی سرحد تخلیق کی اور خود ہی اس کے وارث بن گئے۔
یہاں ہماری سیاسی جماعتوں اور عوام پر بھی ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنا رویہ درست کریں۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر صحیح کہتی تھیں کہ ہماری سیاسی قیادت بھی اسٹیبلشمنٹ کو چالاکی، طاقت اور سازش سے ہروانا چاہتی ہے جو کہ عملاً اس وجہ سے ممکن نہیں۔ کیوں کہ ان چیزوں کی سہولت اسٹیبلشمنٹ کو بہت زیادہ ہے۔ اس وجہ سے اسٹبلشمنٹ کا آپ اس طرح مقابلہ نہیں کرسکتے، بلکہ اگر آپ نے اسٹیبلشمنٹ کو کارنر کرنا ہے، بارکس یا دفاتر تک محدود کرنا ہے، تو پھر اس کا واحد طریقہ آپ کا اخلاقی رویہ اور عوام کی خوش حالی ہے۔ آپ سیاسی رویہ میں اعلا اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کریں اور عوام کی خدمت پوری دیانت داری اور دل جمعی سے کریں۔ یہی اس کا معقول قابلِ عمل حل ہے…… لیکن اسٹیبشلمنٹ بھی اب ملک و قوم پر رحم کرے اور اپنی توجہ سیاست کی بجائے اپنے کام پر مرکوز رکھے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔