صبح جب مہو ڈنڈ جانے کی تیاری پکڑی، تو سورج دن کا ایک چوتھائی سفر پورا کرچکا تھا۔ مہوڈنڈ کے سفر کے لیے صبح سویرے نکلنا مناسب ہے، لیکن ہمیں دیر ہو چکی تھی۔ سواری کی تلاش میں کالام کے بس اڈا پہنچے، تو معلوم ہوا کہ گاڑیاں تو زیادہ تر نکل چکی ہیں۔ پھر بھی اڈے پر نگاہ دوڑائی، جو (پجیرو) گاڑی سب سے زیادہ صاف ستھری اور چمکتی نظر آئی، اسی کے پاس جا کر بھاو تاو شروع کیا۔
مہوڈنڈ جانے کا کتنا لوگے ؟
ساڑھے چار ہزار روپے۔
کرایہ انتہائی مناسب تھا، لیکن مَیں نے پھر بھی کہا، کچھ کم نہیں کروگے ؟
صاحب، ساری گاڑیاں گھنٹوں پہلے نکل چکی ہیں، شاید ہی کوئی پانچ ہزار سے کم میں گیا ہو۔
لیکن مَیں نے اس یقین کے ساتھ ساڑھے چار ہزار مانگے ہیں کہ آپ واپسی پر خوشی خوشی مجھے ہزار پانچ سو روپے اضافی دیں گے۔ کیوں کہ میں سروس ہی اتنی اچھی دوں گا۔
ڈرائیور کا انداز مودب اور دوستانہ تھا۔ مجھے اچھا لگا اور کہا کہ چلو پھر۔




ڈرائیور نثار سڑک پر نظریں جمائے ہوئے۔

وہ اپنی جگہ سے لنگڑا کر اُٹھا اور قدرے مشکل سے گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے کہا، میری ایک ٹانگ لکڑی کی ہے…… لیکن آپ پریشان نہ ہوں۔ گاڑی آٹومیٹک ہے اور صرف ایک پاؤں کی ضرورت پڑتی ہے۔
کچھ دیر بعد وہ دوبارہ گویا ہوا۔ میرا نام نثار ہے۔ کالام کا رہایشی ہوں۔ پوری ایمان داری سے مزدوری کرتا ہوں۔ آپ جہاں رکنا چاہیں، رکیں! مہوڈنڈ میں بھی جتنا وقت لینا چاہیں، لیں! مَیں جلدی نہیں مچاؤں گا اور پوری کوشش کروں گا کہ آپ کا وقت اچھا گزرے۔
پھر کہا اگر آپ موسیقی سننا پسند کرتے ہیں، تو میرے میموری کارڈ میں سیکڑوں نغمے ہیں اور ہم پورے سفر میں اس کے اعلا ذوق کی داد دیتے رہے۔
ابھی آدھا گھنٹا سفر بھی نہیں کیا تھا کہ راستے میں کچھ سیاح نظر آئے۔ ان کی گاڑی خراب ہو گئی تھی اور وہ اسے ٹھیک کرنے میں پریشان ہو رہے تھے۔ نثار نے ملتجیانہ انداز میں مجھے دیکھا اور کہا کہ کہ آپ اجازت دیں، تو مَیں ان کی مدد کروں؟
مَیں نے کہا ہمیں پہلے ہی دیر ہو چکی ہے لیکن اس نے گاڑی روک دی اور کہا، دیکھیں! کتنا خوب صورت نظارہ ہے۔ دریا اور پہاڑ، آپ چند تصویریں لیں، اتنی دیر میں شاید ان کا مسئلہ حل ہو جائے۔
ابھی ہم خوب صورت مناظر کی اچھی طرح تصاویر نہیں لے پائے تھے کہ نثار گاڑی سٹارٹ کر کے چلنے کے لیے تیار تھا۔میرے پوچھنے پر بتایا کہ گاڑی کا فلاں پائپ پھٹ چکا ہے۔ مَیں نے کالام فون کر کے مستری کو بلا لیا ہے۔ وہ پائپ لے کر چل پڑا ہے۔
کوئی آدھے گھنٹے کے بعد ایک اور گاڑی نظر آئی۔ سواریاں پریشان کھڑی تھیں۔ مَیں نثار کی بے چینی سمجھ گیا۔ وہ گاڑی کا معاینہ کرکے میرے پاس آیا۔ صاحب، گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو چکا ہے اور سٹپنی نہیں ہے۔ آپ اجازت دیں تو اپنی سٹپنی اسے دے دوں؟
میں نے کہا: بالکل نہیں، اگر ہمارا ٹایر پنکچر ہوگیا، تو پھر ہم کیا کریں گے؟
اس نے کہا: صاحب، پہلے تو میں گارنٹی دیتا ہوں کہ ہمارا ٹایر پنکچر نہیں ہوگا اور اگر ہو گیا اور پانچ منٹ کے اندر اندر سٹپنی کا انتظام نہیں ہوا، تو خدا کی قسم، آپ سے ایک پیسا بھی نہیں لوں گا اور مہوڈنڈ کی سیر آپ کو مفت میں کرواؤں گا۔
اور اس طرح خدمتِ خلق کرتے کرتے ہم مہوڈنڈ پہنچ گئے۔

راقم مہوڈنڈ جھیل کے کنارے خوش گوار موڈ میں یخ موسم کا مزا لے رہے ہیں۔

مہوڈنڈ میں زندگی کے دو تین یادگار گھنٹے گزارنے کے بعد جب واپسی کے لیے گاڑی کی طرف آئے، تو نثار کو ایک اور درخواست کے ساتھ منتظر پایا۔ کہنے لگا، صاحب! یہ آدمی بہت غریب ہے۔ دن بھر یہاں مزدوری کرتا ہے۔ اب رات ہونے والی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں، تو یہ گاڑی کے پیچھے لٹک کر ہمارے ساتھ کالام جا سکتا ہے۔ مَیں نے سختی سے انکار کر دیا اور چل پڑے۔ ایک آدھ گھنٹا سفر کے بعد نثار نے گاڑی روک دی۔ گاڑی کی چھت پر ایک بچہ چھپا بیٹھا تھا۔ نثار نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کر نیچے اُتارا، تو مَیں نے روک دیا اور بچے کو اپنے ساتھ اندر بٹھا دیا۔ تھوڑی دیر گپ شپ کے بعد اندازہ ہوا کہ شاید اس سازش میں بھی نثار کا ہاتھ تھا۔ اس نے واپسی سے پہلے مزدور آدمی سے کہا تھا کہ تمہارے لیے اجازت مانگوں گا اور بچے سے کہا کہ تم بغیر اجازت کے بیٹھ جانا، لیکن جہاں سواری نے اعتراض کیا، تو وہاں تمہیں اترنا پڑے گا۔
رات گئے کالام واپس پہنچے۔ ہم نے نثار کی پیش گوئی کے عین مطابق اسے کچھ پیسے زیادہ دیے اور بہت خوشی سے دیے۔ وہ صرف ایک ڈرائیور نہیں، مجسم خیر تھا۔ لکڑی کے پاؤں کے ساتھ جہاں سے گزرتا، لوگوں کے کام آتا، لیکن کالام کے ساتھ میری محبت کی وجہ صرف نثار نہیں۔ کالام میں جس سے بھی واسطہ پڑا، ان کی محبت کا اسیر ہوا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔