کتاب میڈیٹیشنز کو سابق چائنیز پرائم منسٹر ’’وین جیابو‘‘ نے 100 مرتبہ پڑھا ہے۔ ’’ہیری پارٹر‘‘ کی لکھاری ’’جے کے رولنگ‘‘ اس کتاب کو اپنی انسپریشن، امریکی صدر ’’تھیورڈور روزولیٹ‘‘ اپنا رہنما، فور اسٹار امریکی جرنیل ’’جیمز میٹس‘‘ اسے لازمی، سوشل ایکٹوسٹ ’’بیٹ رائس‘‘ عقیدت اور اداکار ’’آرنلڈ شوازنگر‘‘ خود کو اس کتاب کا پرستار بتاتے ہیں۔ اس کے چاہنے والوں کی فہرست طویل ہے۔
٭ اس کتاب میں ایسی کیا خاص بات ہے؟
اس کی خاصیت (اس میں موجود ’’وزڈم‘‘ (Wisdom) کے علاوہ)یہ ہے کہ یہ عوام الناس کے مطالعہ کے لیے شایع کی جانے والی کوئی کتاب نہیں…… بلکہ روم کے بادشاہ ’’مارکس اوریلیس‘‘ کے ذاتی جرنلز ہیں۔ ان جرنلز میں ’’مارکس‘‘ رات کی تاریکی میں خود سے مخاطب ہیں۔ دنیا کا سب سے طاقت ور شخص ہونے کی وجہ سے اپنے رتبے اور پوزیشن کی نزاکت کو مدِنظر رکھتے ہوئے مارکس یقینا اپنے جذبات، احساسات، سوچوں کو کسی کے ساتھ زیرَ بحث نہیں لا سکتے تھے، خود کو سمجھنے اور اپنا بہتر ورژن بننے کے لیے مارکس نے جرنلنگ کا سہارا لیا۔ ان کے مرنے کے بعد ان جرنلز کو ایک کتاب کی شکل دے کر شایع کیا گیا۔
اس کتاب کی خوب صورتی اس کی ’’رانیس‘‘ (Rawness) اور اس کا کھرا پن ہے۔ کیوں کہ یہ کسی خاص ’’آڈینس‘‘ کو متاثر کرنے کے لیے نہیں لکھی گئی…… بلکہ اس میں ایک شخص خلوت (Solitude) میں اپنے آپ سے مخاطب ہے۔
جان ہاپکنس، رائس اور کولمبیا یونیورسٹی کے ریسرچرز کی ایک رپورٹ "What we write may not be what we say” کے مطابق بولتے اور لکھتے وقت دماغ کے مختلف حصوں میں ایکٹیوٹی نوٹ کی جاتی ہے…… یعنی لکھنا یقینا بولنے سے ایک مختلف تجربہ ہے۔
سوزن ڈیوڈ (ہارورڈ میڈیکل اسکول سے وابستہ مینجمنٹ تھنکر ہیں) ہارورڈ بزنس ریوو میں جذبات اور سوچوں کو لکھ کر اظہار کرنے اور سمجھنے کو بہترین پریکٹس بتاتی ہیں۔ جرنلنگ کیوں کر ضروری ہے؟ ایموشنز کی جرنلنگ کیا ہے…… اور یہ کس طرح سے ہوتی ہے ؟ جرنلنگ مختلف مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کی جاسکتی ہے۔ مثلاً اپنے گولز پلان کرنا، شاعری، افسانے، کہانیاں وغیرہ لکھ کر اپنی کریٹیوٹی کا اظہار کرنا، اپنے دن کے متعلق، تجربات یا شکرگزاری (Gratitude) کو پریکٹس کرکے صفحے بھرنا…… لیکن اپنے لاشعور (Subconscious) مائنڈ میں موجود جذبات اور احساسات کو لکھ کر اس کا اظہار کرنا بھی ایک پریکٹس ہے…… جس میں وقت کے ساتھ مزید کلیریٹی اور شفافیت آتی رہتی ہے۔ (اسے ایک کالم میں بیان کرنا بہت مشکل ہے، بھرپور کوشش رہے گی کہ کم لفظوں میں وضاحت کرسکوں۔)
تمام ایموشنز کی ماں ہے خوف۔ حسد، جلن، کدورت، لالچ، احساسِ کم تری، برتری وغیرہ اس کی شاخیں ہیں۔ خوف کوئی شیطان صفت ایموشن نہیں…… یہ فطری ہے۔ اس کے نہ ہونے پر ’’ہنٹر گیدررز‘‘ (Hunter Gatherers) جنگل میں ہی معدوم (Extinct) ہوجاتے۔ کیوں کہ اپنے ارد گرد کے جانوروں کا خوف ہماری بقا کے لیے ضروری تھا۔
ڈر اور خوف آج بھی کسی حد تک اپنے بچاؤ کے لیے ضروری ہے…… لیکن اگر آپ کا محافظ ہی آپ کا دشمن بن کر آپ کو اپنا ’’بیسٹ ورژن‘‘ بننے سے روکے، تو اس محافظ کو توازن میں رکھنا اسے حقیقت سے متعارف کروانا ضروری ہے۔
’’لاشعور دماغ‘‘ (Subconscious Mind) ہم سے براہِ راست مخاطب نہیں ہوتا۔ اس سے بات کرنے، سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ٹولز اور تکنیک (Tools and Techniques) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مائنڈ فلنس بھی اپنے لاشعور سے مخاطب ہونے کی ایک تکنیک ہے۔
ایموشنز اور سوچوں کو صفحے پر اُتارنے کا عمل کچھ اس طرح سے انجام دینا ہے (صفحہ/ قلم/ موبائل/ لیپ ٹاپ اور سب سے ضروری اپنے آپ سے سچ (Brutal Honesty) بولنا درکار ہے ):
٭ خوف:۔ مجھے اپنے والدین پر غصہ ہے۔ کیوں کہ مَیں نے اپنی مرضی کا کیرئیر چنا، تو وہ ناراض ہوں گے۔ مجھے خوف ہے…… وہ مجھے ٹارچر کریں گے۔ مجھے خوف ہے کہ جائیداد میں حصہ نہ ملے گا۔ مجھے خوف ہے کہ شاید گھر سے نکال دیں اور رشتہ توڑ دیں۔ میں اکیلا رہ جاؤں گا۔ مجھے اکیلے رہنے سے ڈر لگتا ہے۔ مجھے وہ ساری ’’لگژری‘‘ جو انہوں نے دی ہے…… اسے چھوڑ کر محنت کرنے سے ڈر لگتا ہے۔
ناراضی (Resentment):۔ مَیں ناراض ہوں اپنے والدین سے جن کی وجہ سے میں اپنا کیرئیر ٹھیک سے نہ بنا سکا۔ مَیں ناراض ہوں کرپٹ حکم رانوں سے…… نااہل گورنمنٹ سے…… جو اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتے۔ مَیں اپنے باس سے ناراض ہوں…… جو کبھی میری پذیرائی نہیں کرتا۔ مَیں ناراض ہوں دنیا سے…… جہاں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں۔ مَیں ناراض ہوں ان لوگوں سے جو میرے ارد گرد ہیں۔ کیوں کہ ان میں عقل نام کی کوئی چیز نہیں اور یہ سب مطلبی ہیں۔ مَیں خود سے ناراض ہوں…… کیوں کہ میرے سارے فیصلے ہمیشہ غلط ہوتے ہیں۔
یہ محض مثال ہے، سب انسانوں کے خوف اور ناراضی یقینا مختلف ہیں۔ پریکٹس اور سچ لکھنے سے آپ کو اپنے بہت سے ایموشنز جاننے کو ملیں گے…… اور لاشعور دماغ کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔ کسی بھی ایموشن یا سوچ کو جج نہیں کرنا۔ حسد، ہوس، لالچ، مایوسی جو بھی ہے اسے لکھ دیں۔یہ سب لکھ کر آپ نے اسے ضایع کردینا ہے۔ اسے سنبھال کر نہیں رکھنا۔ اپنے خوف دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے احتیاط برتیں۔ کوئی بھی فایدہ اٹھا سکتا ہے ۔
لکھے ہوئے خوف اور ناراضیوں میں بہت سی باتیں حقیقی ہوں گی…… لیکن ڈھیر ساری کا تعلق ماضی یا مستقبل سے ہوگا…… لیکن لاشعوری طور پر آپ ان سوچوں کو اپنے حال پر حاوی کیے بیٹھے ہیں۔ اس پریکٹس سے آپ کے مسئلے تو حل نہیں ہوسکتے…… لیکن اب ایموشنز صرف دماغ میں نہیں……بلکہ الفاظ کی شکل میں صفحے/ موبائل/ لیپ ٹاپ پر اتر چکے ہیں۔ اب ممکن ہے مزید ’’پینک‘‘ اور ’’ایموشنز‘‘ میں ٹریپ ہونے کی بجائے آپ ان کے حل کے بارے میں سوچیں!
اور جن ایموشنز/ سوچوں کا تعلق ماضی، مستقبل سے ہے…… انہیں "Let Go” کریں۔
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔