تاریخ کے ایوانوں میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جن کی گونج کبھی مدھم نہیں ہوتی۔ انسانیت ان آوازوں سے سدا راہنمائی لیتی رہتی ہے۔ کیوں کہ وہ آوازیں سچائی کی آوازیں قرار پاچکی ہوتی ہیں۔
وقت کے بے پناہ جبر کے سامنے ان آوازوں نے خود کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا ہوتا…… بلکہ پوری قوت سے سچائی کی خاطر سینہ سپر ہوگئی ہوتی ہیں۔ جان فدا کرنے کا جذبہ بے خودی میں خود بخود ان کی زبان پر جاری و ساری ہوجاتا ہے ۔
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
ایسے لوگ قافلۂ انسانی کو صدائیں دے کر بلاتے ہیں اور انھیں دولتِ یقین سے نوازتے ہیں۔
اے طایرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
انسانی زندگی بڑی قیمتی، ممتاز، عظیم، نادر اور متاعِ بے بہا ہوتی ہے…… جسے مالکِ کون و مکاں نے انسانی راہنمائی کے لیے تخلیق کر رکھا ہے۔ ہر وہ روح جو خصوصی طور پر انسانی راہنمائی کے لیے ودیعت کی جاتی ہے…… بے قراریوں کی آماج گاہ بن جاتی ہے۔ وہ کچھ منفرد، اہم اور یادگار کرنا چاہتی ہے…… لیکن حالات و واقعات اس کی راہ میں آڑے آ جاتے ہیں اور یوں انسان چاہتے ہوئے بھی بہت کچھ کرنے سے معذور ہوجاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آفاقی نظریات و خیالات انسان کا خاصا ہیں۔ قد آور انسان اپنے اعلا، بے باک پاکیزہ اور بلند و بالا خیالات سے ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور انسانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار کرتے ہیں جو انسانی عظمت کی خاطر سینہ سپر ہوجاتی ہے۔ یہ کام تو انتہائی مشکل، دشوار اور کڑا ہوتا ہے…… لیکن تاریخ میں انقلاب پسند افراد دھیرے دھیرے اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور جب شہنشاہانہ اذیتیں، حکم رانوں کی سختیاں اور فوجی سنگینوں کی بے رحمیاں انسانوں کے دلوں میں جاگزیں جذبات کو دبانے سے قاصر ہوجاتی ہیں، تو انقلاب کا غلغلہ بلند ہوجاتا ہے…… اور خود تراشیدہ مناظر دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ لوگوں کو ایک نقطہ پر مجتمع کرنے والی آواز ایک ہی ہوتی ہے…… لیکن لاکھوں انسان اس آواز پر قربان ہونے کے لیے بے تاب ہو جاتے ہیں۔ جب عوام اور جمہور میدان میں کود پڑتی ہے، توپھر اسلحہ، بارود، گولیاں، سنگینیں اور توپیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔
زارِ روس کا اقتدار چند سرپھروں کے ہاتھوں ہی اپنے انجام کو پہنچا تھا۔ وقت کے سینے سے ایک جواں ہمت انسان نکلتا ہے…… اور پوری کاینات کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ حالاں کہ ظاہری خط و خال میں وہ دوسروں کی طرح ہی دِکھتا، اُٹھتا بیٹھتا، کھاتا پیتا اور انہی کی طرح شب و روز گزارتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اسے جس سچائی کا مکمل ادراک ہوجاتا ہے…… اسے دوسرے دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ تاریخ ایسے ہی مرتب ہوتی رہی ہے۔ یہ ظاہری دیکھنے کی بات نہیں…… بلکہ ایسے انسان کے قلب میں ایسی کیفیت پیدا ہوچکی ہوتی ہے کہ اس کی نگاہوں میں سب کچھ واضح اور عیاں ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس کی آواز میں ایک خاص اثر اور کشش پیدا ہوجاتی ہے۔
برگد کے پیڑ کے نیچے عظیم بدھا کو جو نروان ملا تھا…… کوئی دوسرا انسان اس کی تشریح نہیں کرسکتا۔ انھوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا تھا…… یہ ان کی ذات کے ساتھ مخصوص تھا……اور اسی احساس نے ان کی ساری حیاتی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اس ساری کیفیت کو اچھوتے انداز میں پیش کیا ہے:
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
توڑ ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے
کسی بھی انسانی فعل کی آخری سزا موت ہوتی ہے…… اور موت تو ویسے بھی برحق ہے۔ لہٰذا ابتدائے آفرینش سے ہر انسان اس کا ذایقہ چکھتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: ’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی بھی ذی روح کو مفر نہیں۔ مرنا اٹل ہے، تو پھر کیوں نہ جی داروں کی طرح اس کا سامنا کیا جائے۔ ایک لیڈر اور عام انسان میں یہی فرق ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بڑی جرات سے موت کا سامنا کرتے ہیں…… جب کہ کچھ لوگوں کی موت کا نام سنتے ہی ٹانگیں کانپنی شروع ہوجاتی ہیں۔
یہ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسان زندہ رہنا چاہتا ہے۔ اس دنیا کی دل کشی اور جاذبیت اسے زندہ رہنے پر اُبھارتی رہتی ہے۔ وہ دنیا کی دل کشیوں اور اس کی آسایشات سے کنارہ کش نہیں ہونا چاہتا۔ وہ خدا کی بنائی گئی اس کاینات سے مسحور ہونا چاہتا ہے۔ وہ اس کی رنگینیوں اور جاذبیت سے اپنے شب و روز کو تابانی عطا کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی اولاد اور نسل کو اپنے سامنے پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کی خوشیوں سے فرحت انگیز ہونا چاہتا ہے۔
کیا کوئی انسان چاہے گا کہ وہ اس دنیا سے کنارہ کش ہوجائے؟
قبر کی تاریک، اندھیری، خاموش اور سکوت انگیز جگہ میں مقید ہوکر ختم ہو جائے…… اور اس کے سارے بلند و بالا خیالات اور نظریات اس کے ساتھ ہی دم توڑ جائیں؟ اس کے پروگرام، اس کے اہداف، اس کے مقاصد، اس کے منصوبے، اس کے منشور اور اس کے نظریات و خیالات تو اس کی زندگی سے جڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان سب کی برو مندی کے لیے وہ سدا زندہ رہنے کی آرزو کرتا رہتا ہے۔ وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور ایک دن انسان ضعف و ناتوانی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس عالمِ فانی سے کوچ کر جاتا ہے اور یوں اس کے خیالات و اہداف، فکر، سوچ اس کے ساتھ ہی دم توڑ جاتے ہیں۔
یہ فقط ایک نقطۂ نظر ہے…… حالاں کہ انسان کے رختِ سفر باندھ لینے سے انسانی خیالات کبھی نہیں مرتے۔
میری نوائے شوق سے شور حریمِ ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ تصورات میں
انسانوں کے اندر سچائی کی پہچان کیسے پیدا ہوتی ہے…… اور نھیں کیسے ادراک ہوتا ہے کہ ان کا وجود اس کاینات میں بستے انسانوں کے لیے کسی تحفہ سے کم نہیں۔ اس بات کا فیصلہ کسی بھی انسان کے افکار و خیالات کرتے ہیں۔ خیا لات کی ہمہ گیری اور آفاقیت کسی بھی انسان کی حیاتِ جاوداں کی ضمانت ہوتی ہے۔ منوں مٹی تلے دفن ہوجانے سے نہ تو کوئی انسان مٹ جاتا ہے اور نہ اسے تاجِ زر ہی مل جاتا ہے۔
تاج دراصل ان انسانوں کا مقدر ہوتا ہے…… جو سچ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرے ہیں۔
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
عظیم فلاسفر ٹراٹسکی نے ایک دفعہ کہا تھا: ’’انسان کے پاس سب سے قیمتی متاع اس کی زندگی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کی زندگی ایسی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ساری حیاتی غم، خوف، ڈر اور پچھتاوے کا شکار رہے…… بلکہ اس کی زندگی ایسی ہونی چاہیے کہ جب اسے موت آئے، تو وہ فخر سے کہہ سکے کہ اس کی ساری حیاتی انسانیت کے سب سے بڑے مقصد کے لیے صرف ہوئی ہے…… اور وہ عظیم مقصد ہے، انسانیت کی فلاح اور اس کی نجات۔‘‘
ہر وہ انسان جو اس فلسفہ کواپنی زندگی کا جزوِ لا ینفک بنا لیتا ہے…… موت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اقبال کی نظر میں:
ہو اگر خودنگر و خودگر و خودگير خودی
يہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

قرآنِ حکیم کا اٹل قانون ہے۔ ’’وہ لوگ جو میری راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ مت کہو۔ وہ زندہ ہیں…… مگر تمھیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘
خدائی راہ سچائی، انصاف اور حق کی راہ ہے اور اس راہ میں مرنے والے دایمی زندگی کے حق دار قرار پاتے ہیں…… لیکن اس اعزاز کو پانے کا اعزاز صرف دل والوں کا مقدر بنتا ہے۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔