ہمارا قومی رویہ ہے جب بھی کوئی ہماری بات سے اختلاف کرتا ہے…… یا ہمارے نظریات سے مختلف نظریہ رکھتا ہے، تو ہم نہ صرف اس سے لڑتے ہیں…… بلکہ اس اس کا تمسخر بھی اُڑاتے ہیں۔ روشن خیال کو مذہبی افراد جاہل…… جب کہ مذہبی کو روشن خیال گم راہ لگتے ہیں(یہ الگ بات ہے کہ اکثر خود کو روشن خیال کہنے والے اصلی زندگی میں جہالت کے اندھیروں میں ہوتے ہیں اور مذہبی خود گم راہ۔) کسی کا تمسخر اُڑانا آپ کے اندر کے گہرے عدمِ تحفظ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
مجھے اکثر یہ صلاح ملتی ہے کہ وہ ٹاپک جو متنازع ہیں…… ان پر لکھنے کا کوئی فایدہ نہیں۔ کیوں کہ ہمارے لوگوں میں برداشت کی کمی ہے اور یہ سب جاہل ہیں…… جب کہ میرا ذاتی تجربہ اس کے برعکس ہے۔ اگر آپ یہ سوچ کر کچھ لکھتے ہیں کہ آپ عالم ہیں، تو اختلاف کرنے والے ہمیشہ جاہل ہی لگتے ہیں۔ میری ذاتی زندگی میں اپنے محدود تجربے کے مطابق مَیں نے بہت سے روشن خیال لوگوں کو سطحی جب کہ مذہبی لوگوں کو عملی زندگی میں کامیاب اور خوش پایا ہے۔ البتہ کئی جگہ مذہبی لوگوں کو ڈپریشن اور روشن خیال کو کافی حد تک مطمئن دیکھا ہے…… جس کی یقینا کئی وجوہات ہوسکتی ہیں…… جن کا روشن خیال یا روایتی ہونے سے اکثر تعلق نہیں دِکھتا۔ وجوہات میں مالی حالت (کلاس) اور اختلافِ رائے کے لیے عدمِ برداشت شامل ہیں۔
٭ مالی حالات:۔ ہم سب کو ’’کلاسزم‘‘ پر اعتراض ہے…… لیکن ہمارے اعتراض سے یہ ختم نہیں ہوتا۔ کلاس کی آپ کی شخصیت اور زندگی پر تقریباً مکمل طور پر گرفت ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک امیر بچے کے پاس غریب بچوں کی نسبت الفاظ کا ذخیرہ زیادہ ہوتا ہے۔ آپ کا رویہ، دوسروں سے گفتگو کا انداز اور سماجی میل جول کا تعلق اس سے ہے کہ آپ کہاں پیدا ہوئے ہیں؟ ایک مالی اعتبار سے خوشحال لڑکا جو بے شک مذہبی یا روایتی ہو…… لیکن اس کے پاس سپورٹ کرنے والے والدین اور دوستوں کا اچھا سرکل ہو، تو وہ لبرل لڑکا جس کے مالی حالات اچھے نہیں…… یا وہ غریب گھرانے میں پیدا ہوا ہے، نطشے کا فلسفہ یا کوئی بھی نظریہ اس کی زندگی کی حقیقت نہیں بدل سکتا۔ وہ پڑھنے اور فیس بُک پر لکھنے کی حد تک تو ’’فیمنسٹ‘‘ اور ’’لبرل‘‘ ہوگا…… لیکن ان سب کا اثر اس کی روزمرہ کی عملی زندگی میں نظر نہیں آئے گا۔ اس کے حالات ان نظریات کو سپورٹ نہیں کریں گے۔
بالکل ایسے ہی وہ خواتین جو خوشحال گھرانوں میں جنم لیتی ہیں، چاہے وہ ’’اسکارف‘‘ اوڑھتی ہوں، لیکن ان کی مالی حیثیت ان کو شدت پسند نہیں ہونے دیتی، انہیں ’’اسکارف‘‘ میں کوئی شدت نظر نہیں آتی اور نہ مغربی لباس میں کوئی آزادی۔ مالی حالات انسان کو اکثر شدت پسندی کی جانب لے کر جاتے ہیں۔ (اکثر کیسوں میں ایسا نہیں بھی ہوتا…… جو مَیں نے بیان کیا ہے، "Exception” ہر جگہ ہے۔)
٭ اختلاف رائے کے لیے عدم برداشت:۔ ’’ٹیڈ ٹاک‘‘ کی ایک وڈیو میں ایک شخص نے ایک بہت ہی اہم تجربہ کرکے اس تجربے کو بیان کیا ہے۔ یہ بہت ہی اہم وڈیو ہے، اسے لازمی دیکھیے۔ اسپیکر ایک سیاہ فارم موسیقار ہے…… جسے بچپن میں نسل پرستی کو تجربہ کرنا پڑا…… جس کی وجہ سے نسل پرستی کو لے کر اس کے ذہن میں کئی سوالات تھے۔ نسل پرست انگریزوں کا گروہ "KKK” جو بہت شدت پسند ہے، کے ایک ممبر جس نے دو سیاہ فارم امریکیوں کا قتل اور ایک سیاہ فارم عبادت گاہ میں بم پلانٹ کیا تھا، کو انٹرویو کے لیے ایک ہوٹل میں بلایا۔ ممبر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ انٹرویو ایک سیاہ فارم موسیقار لینے والا ہے۔ "KKK” کا ممبر اپنے ساتھ اپنے گارڈ کو لایا تھا، جو اسلحے سے لیس تھا۔ سیاہ فارم موسیقار کو دیکھ کر چونک گیا۔ دونوں کے درمیان بات چیت شروع ہوئی۔ کئی نقطوں پر اتفاق، تو کئی پر اختلاف ہوا۔ سیاہ فارم نے "KKK” کے مختلف پروگرام اور ریلیاں بھی اٹینڈ کیں…… اور ان کا نظریہ سمجھنے کی کوشش کی۔ نہ تو سیاہ فارم "KKK” کے نسل پرست فلسفے پر متفق ہوا…… اور نہ اس نسل پرست ممبر نے اپنا گروپ ہی چھوڑ کر انسانیت والا گروپ جوائن کیا۔
دونوں آج بھی اپنے نظریات پر قایم ہیں، لیکن اگر کچھ مختلف ہوا، تو وہ تھا آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کی بات سننا اور سمجھنا۔ چاہے کتنی ہی فضول اور غیر منطقی بات ہو، لیکن اسے سننا اور سمجھنا سامنے والے کو اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اس کی بات کی اہمیت ہے۔ ہمارے نظریات ہماری شناخت ہوتے ہیں اور شناخت کو بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمیں سنا جائے، کوئی اپنے نظریات بدلے یا نہ بدلے یہ ایک الگ بات ہے، لیکن کسی کا تمسخر اُڑا کر اُس کی بات رد کرنے کا ردِ عمل اکثر برا ہی ہوتا ہے۔
جب ہم اپنے بچوں کی بات غور سے سنتے ہیں، چاہے وہ کتنی ہی بے وقوفانہ کیوں نہ ہوں، تو یقینا انہیں بھی اچھا لگتا ہے۔ ہم بے شک ان کی بات پر عمل نہ کریں، لیکن ان کو اس بات سے اطمینان ملتا ہے کہ انہیں سنا گیا۔ کسی سے لاکھ اختلاف سہی لیکن اسکا نظریہ سن لینے میں کوئی حرج نہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔