دو واقعات کے علاوہ ماہِ رمضان میں عموماً حالات پُرسکون رہے۔ اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
٭ پہلا واقعہ، کراچی یونیورسٹی میں ایک پڑھی لکھی بلوچ خاتون کا خود کُش حملہ تھا۔ اس واقعے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے ’’مِسنگ لنکس‘‘ کو ڈھونڈ کر مستقبل کے لیے لایحۂ عمل طے کرنا چاہیے۔ کیوں کہ خدشہ ہے کہ شُتر مرغ کی طرح ریت میں سر دینے سے یہ واقعہ مستقبل میں سانحات کو جنم دے گا۔ کہیں یہ معاملہ بھی ’’مِسنگ پرسنز‘‘ والا نہ بن جائے…… جس کی تشہیر اور ترویج میں کچھ غیر ملکی اداروں کا بھی کردار سامنے آرہا ہے۔ یوں ریاستی پالیسیوں کی بے تدبیری نے ریاست کے دامن پر بدنما داغ واضح کردیا ہے۔
٭ دوسرا واقعہ، ماہِ مقدس میں شہرِ مقدس (مدینہ منورہ) میں واقع مسجدِ مقدس (مسجد نبویؐ) میں نبیِ مقدس و محترم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ بدبخت ہم وطنوں کی جانب سے شور و غوغا اور سیاسی نازیبا نعروں کا واقعہ ہے۔
سعودیہ سے موصول شدہ خبروں کے مطابق سعودی حکومت نے اس ضمن میں کچھ گرفتاریاں بھی کی ہیں۔ یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ کیوں کہ سعودی عرب میں بادشاہت قایم ہے…… اور وہاں اس قسم کے سیاسی معاملات پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔
قارئین! اس واقعے نے پاکستانی سماج اور سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اکثریت نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور اللہ سے مغفرت طلب کی ہے کہ کہیں چند سر پھروں کے سبب پورے پاکستان پر عذاب نہ آجائے۔ کیوں کہ معاملہ اس عظیم ہستی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بے ادبی کا ہے…… جن (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سامنے آواز کو نیچی رکھنے کا حکم خود اللہ کا ہے…… اور جن (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرنے پر خود نبی مہربان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابولہب کے لیے لعنت و ہلاکت کا ذکر بھی اللہ نے قرآن ہی میں فرمایا ہے۔
کہاں اللہ تعالا کے ہاں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ رفعتِ شان اور کہاں عصبیت پرستوں کی بدبختی کہ کچھ ابھی تک اس واقعے کے لیے ’’اگر مگر‘‘، ’’ چوں کہ‘‘،  ’’چناں چہ‘‘ سے کام لے رہے ہیں۔
کتنی بدقسمت ہے یہ قوم کہ اس میں مذہب کو بھی سیاست کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے مذکورہ دل خراش واقعہ پر بھی سیاسی دکان داری چمکانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ فیصل آباد سے ایک شخص نے عمران خان، شیخ رشید اور دیگر کے خلاف توہینِ رسالتؐ ایکٹ کے تحت مقدمات قایم کرنے کی درخواست پولیس کو دے دی گئی ہے…… جس میں حکومتی سرپرستی میں پھرتی دکھائی موجودہ وفاقی وزیرِ داخلہ نے…… جس کا اپنا تعلق بھی فیصل آباد سے ہے…… اور ان کی شہرت بھی کچھ سوالیہ ہے۔ انہوں نے عمران خان اور دیگر کی گرفتاری کا عندیہ بھی دیا ہے۔
قارئین! یہ ناچیز قلم کار سمجھتا ہے کہ سیاست میں ان حساس معاملات کو زیرِ بحث لانا ہی نہیں چاہیے۔ کیوں کہ اس کا انجام اس ملک کے لیے قطعاً درست نہیں۔ ہمیں یاد ہے جب ’’پانامہ کیس‘‘ میں نواز شریف نااہل ہوئے اور شاہد خاقان عباسی وزیرِ اعظم بنے، تو آج کے وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال تب چودھری نثار کے استعفا کے بعد وزیرِ داخلہ کا قلم دان بھی رکھتے تھے، اُن دنوں ایک جلسے میں ایک مذہبی جنونی نے ان کو توہینِ رسالت کے الزام میں گولی ماری تھی۔ حالاں کہ احسن اقبال سے سیاسی اختلاف کیا جاسکتا ہے…… مگر اس سے توہینِ رسالتؐ سرزد ہونے کا کوئی گمان تک نہیں کرسکتا۔
ٹھیک اسی طرح عمران خان سے بھی سیاسی اختلاف رکھا جاسکتا ہے…… مگر عمران خان کے ہم دردوں کا موقف ہے کہ جو شخص سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھانے اور ریاستِ مدینہ کے تصور کو زندہ و عملی کرنے کے لیے ’’رحمت اللعالمین اتھارٹی‘‘ بناسکتا ہے، جو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقوامِ عالم کے سامنے اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقدمہ لڑسکتا ہے، اس بندے پر کوئی کیسے توہینِ رسالتؐ کا الزام لگا سکتا ہے؟
اس لیے معقول رائے یہ ہے کہ سیاست کے لیے دیگر بہت سارے نعرے اور دعوے موجود ہیں۔ لہٰذا کم از کم مذہب کے ان حساس موضوعات کو اپنی سیاست سے باہر رکھیں۔
٭ پس نوشت:۔ بعد از رمضان قوم کی عید حسبِ معمول ایک روز نہ منائی جاسکی…… مگر پھر بھی لوگوں کے ملن نے اُخوت اور خوشی کے مناظر تازہ کیے۔ سیاحتی مقامات پر خاصی بھیڑ رہی۔ سیاحتی مقامات سے لوگ لطف اندوز ہوئے۔ اب چھٹیاں ختم اور معمولات بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں، تو کیا بہتر نہیں ہوگا کہ اب بھی سیاسی نفرتوں کو ختم کرکے عید جیسے خوشنما ماحول کو برقرار رکھا جائے۔ تاکہ کھوئی ہوئی سماجی اخلاقیات اور روایات کے سوکھے ہوئے درخت پر بہار آجائے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔