33 total views, 2 views today

14 مارچ کی صبح بنوں پشتون قومی جرگے کا اعلامیہ جاری کیا گیا۔ یہ 25 نِکات پر مشتمل نہایت اہمیت کا حامل اعلامیہ تھا، جس کے چیدہ چیدہ نِکات درجِ ذیل ہیں:
٭ پشتون پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے اور نہ پاکستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔ البتہ وہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر جمہوری غلام بن کر پاکستان میں ہرگز رہنے کو تیار نہیں۔
٭ پختونخوا کے تمام وسایل پر پشتونوں کا حق تسلیم کرلیا جانا چاہیے۔
٭ پختونخوا سے تمام ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے۔
٭ پارلیمنٹ کو بااختیار رہنے دیا جائے اور ہر ادارہ اپنے دایرے میں رہے۔ کسی دوسرے میں مداخلت کرنے سے باز رہے۔
٭ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جو باڑ لگایا گیا ہے، اُسے ہٹایا جائے۔
٭ ملکی سیاست میں غیر سیاسی اداروں کی مداخلت بند کی جائے۔
٭ یہ جرگہ مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا اور اس کی ایک نمایندہ کمیٹی پشتونوں کے مسایل کے بارے میں ہر وقت سرگرمِ عمل رہے گی۔
٭ ایک کمیشن بنایا جائے جو پشتونوں کے کاروبار اور آبادیوں کے نقصان کا تخمینہ لگائے۔ انہیں تاوانِ جنگ دیا جائے۔
٭ تمام پشتون سیاسی قیدیوں کو بلا کسی شرط اور تاخیر کے رہا کیا جائے۔ ․
٭ پشتونوں کی جو تباہی نام نہاد دہشت گردی کے نام پر ہوئی، جو کردار کُشی اور تباہی و بربادی مختلف آپریشنوں کے نام پر ہوئی اور ہزاروں بے گناہ پشتونوں کو بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ سے شہید کیا گیا، ان تمام اقدامات کی تفتیش و تحقیق کے لیے چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی سرکردگی میں ایک کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔
٭ پختونخوا کے پانی کا تحفظ کیا جائے۔ پختونخوا کی ندیوں، نالوں، دریاؤں اور اباسین کی گزرگاہوں کو تبدیل نہ کیا جائے۔ اس میں پشتونوں کے ساتھ کوئی چوری یا زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔
٭ پشتونوں اور پختونخوا کی زمینوں، ڈیروں، جائیدادوں پر جو قبضہ مختلف ریاستی اداروں نے ایک عرصہ سے جمایا ہوا ہے، وہ بلاتاخیر واگزار کرایا جائے، اور وہ اصل مالکان کو واپس دیا جائے۔
٭ آیندہ کے لیے پشتونوں اور پختونخوا زمین پر کوئی دنگا، فساد اور سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ کسی بھی دہشت گردی اور لڑائی جھگڑے کے امکانات کی مزاحمت کی جائے گی۔
٭ پشتون امن پسند قوم ہیں۔ عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اپنی سرزمین پر امن، ترقی اور خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں۔
قارئین! جرگے کے آخر میں محمود خان اچکزیٔ صاحب نے کہا کہ اس جرگے کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ اس کے تحفظات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، ورنہ دوسری صورت میں یہ جرگہ احمد شاہ بابا کے تاریخی جرگے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ مَیں نے اپنی تمام عمر اب اس جرگے کے مقاصد کے لیے وقف کردی ہے۔ میرا سب کچھ پشتونوں پر قربان ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ اس جرگہ کو بلانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہر جگہ پشتونوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کی جائیدادوں اور اِملاک کو بم دھماکوں سے تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ ڈیرے، بیٹھک، دکان، جنازگاہ، مسجد، سکول، کالج کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔ عوام کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان سے بھتے وصول کیے جا رہے ہیں۔ کراچی میں مسلسل پشتون کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ ملکی اداروں میں پشتونوں کی بہ حیثیتِ قوم کوئی جگہ نہیں۔ پشتون سرزمین کو مسلسل دہشت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پشتونوں کو تمام دنیا میں دہشت گرد کے نام سے متعارف کرایا جا رہا ہے۔ پشتونوں کا وجود خطرے میں ہے۔ ان کی تہذیب و تمدن کو مٹایا جا رہا ہے۔ پشتون زبان کو رفتہ رفتہ کم زور کیا جا رہا ہے۔ پشتون اپنی شناخت کھو رہے ہیں۔
بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اتنے بڑے تاریخی جرگے کو پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا پر کوئی کوریج نہیں دی گئی۔ کسی بھی چینل پر اسے دکھایا گیا، نہ کسی پرنٹ میڈیا پر اس جرگہ کو جگہ ہی دی گئی۔ آخر حکومتی اور ریاستی ادارے کب تک اس طریقے سے مظلوم قوموں کے مسایل سے آنکھیں چراتے رہیں گے؟ آہستہ آہستہ مسایل کے غبارے جب پھول جاتے ہیں۔ پھر بنگلہ دیش کی طرح کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔ پھر ہمارے پاس سوائے ہائے ہائے اور حیران ہونے کے اور کچھ نہیں بچتا اور پھر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کا ایک لمبا دور شروع ہوجاتا ہے۔ پھر باہر سے یہود و ہنود کی سازش ہونے کا الزام تو کہیں گیا نہیں، جو عرصۂ دراز سے ہر پاکستانی کی زبان پر رٹے رٹائے جملے کی طرح جاری رہتا ہے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔