38 total views, 1 views today

جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ہم میں ایک ایسی انقلابی روح گھر کرلیتی ہے جو ہر وقت کسی نہ کسی تحریک کے لیے اکساتی رہتی ہے۔ آپ طالب علم ہوں، ترقی پذیر ملک کے شہری ہوں اور ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے ہوں جب ایک طرف ایک پڑوسی ملک میں ایک ’’سوپر پاؤر‘‘ کے بعد دوسری ’’سوپر پاؤر‘‘ قدم جمانے کے لیے کوچ کرگئی ہو۔ دوسرے پڑوسی ملک کے ساتھ چار جنگوں کے بعد بھی لڑائی کا خطرہ منڈلا رہا ہو۔ آپ کے کئی اور ہم مذہب ممالک برسر پیکار ہوں۔ عالمی سطح پر ریاستوں کا سکیڑ اور پھیلاؤ، ملن اور انحراف زوروں پر ہو…… جب کہ دوسری طرف اندرونی طور پر ملک میں شدید دہشت گردی سمیت دیگر سنجیدہ مسایل جیسے مارشل لا، لاقانونیت، کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری وغیرہ وغیرہ کا بھرمار ہو، تو آپ سیاسی حوالے سے بے پروا نہیں رہ سکتے۔
افغان اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے پس منظر میں کیے گئے پروپیگنڈے، مخصوص مکتبِ فکر کے مذہبی گرد و پیش اور بچپن کی معصومیت نے سب سے پہلے جماعتِ اسلامی کی طرف راغب کیا۔ کٹر جماعتی بن گیا۔ مولانا مودودی کا لٹریچر پڑھتا رہا۔ ’’مردِ مومن، مردِ حق‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے فلائنگ کوچ کی چھت پر بیٹھ کر سراج الحق کی تقریر سننے شانگلہ سے سوات تک کا سفر کیا۔ جیسے جیسے سیکھنے کا عمل آگے بڑھا…… لوگوں کو قریب سے دیکھنے لگا۔ کتابی دعوؤں اور عملی رویوں کے درمیان موازنہ کرتا رہا اور پھر ملکی، عالمی اور عصری منظرنامے میں اپنی جگہ تلاش کرنے کی سعی کی تو خود کو غلط جگہ پایا۔
کرکٹ پسندیدہ کھیل ہے۔ عمران خان کو کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ان کے بارے میں جان پہچان ورلڈ کپ جتوانے والے ایک خوش شکل اور نامور کھلاڑی کی حد تک تھی۔ بعد میں جب ان کی سماجی خدمات اور سیاسی فکر کے بارے میں جان کاری حاصل ہوئی، تو مزید دلچسپی پیدا ہوئی۔ ان کی انقلابی سوچ، منفرد ایجنڈے اور اَن تھک جد و جہد نے کافی متاثر کیا۔ اس وقت وہ ’’سوشل میڈیا سینسیشن‘‘ بن گئے تھے۔ نوجوان، جو روایتی جاگیردارانہ سیاست دانوں سے تنگ آگئے تھے، بہت بڑی تعداد میں عمران خان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے۔ خان صاحب کے بلند بانگ دعوؤں اور خوش کن وعدوں سے متاثر ہوئے بغیر رہنا مشکل کام تھا۔ بے شمار ایسے لوگ بھی دیکھیں جو بظاہر تو کسی مجبوری کے سبب خان کا ساتھ دینے سے کتراتے تھے، لیکن پسِ پردہ ان کے دل بھی انہی کے ساتھ دھڑکتے تھے۔ ہم بھی ڈھیر ساری امیدیں وابستہ کر کے اس لشکر کا حصہ بن گئے اور خان کو امید کا استعارہ سمجھنے لگے۔
2018ء کے الیکشن سے ذرا پہلے تو انصافی جنون اس حد تک بڑھ گیا کہ ہم ’’یوتھیا‘‘ کی تعریف پر بڑی حد تک پورے اترنے لگے۔ میرے نزدیک یوتھیا، پٹواری، جماعتی وغیرہ وہ جذباتی شخص ہے…… جو اپنے متعلقہ سیاسی جماعت کے عشق میں ذہنی غلامی کی حد تک گرفتار ہو چکا ہو اور جماعت یا اس کے کسی رہنما کی غلط بات کو بھی درست ثابت کرنے کے لیے من گھڑت دلایل پیش کرنے پر تلا ہوا ہو۔ گھر، کمرۂ جماعت، فیس بُک اور نہ جانے کون سی ایسی جگہ تھی جہاں خان اور اس کی تحریک کے حق میں نہ ختم ہونے والی جنگ نما بحثوں میں نہ الجھا۔ دوست، اساتذہ، عزیز و اقارب، المختصر کوئی بھی ان سیاسی مباحثوں سے مستثنا نہیں تھا۔
رفتہ رفتہ الیکشن کا مرحلہ آیا اور ہم سرخرو ہوئے۔ جیت کی رات دیدنی تھی۔ میرے پاس اسی رات پشاور کے رنگ روڈ پر آدھی رات کو لی گئی وہ تصویر اب تک محفوظ ہے جو انصافی دوستوں کے ساتھ جیت کی خوشی مناتے ہوئے لی تھی۔ جب آپ ایک منزل کے لیے اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتے ہیں، ہر وقت ذہن پر اسی کی دھن سوار کیے بیٹھے ہوں اور پھر زندگی کے کسی موڑ پر وہ منزل بانہیں پھیلائے مسکراتی ہوئی مل جائے، تو جشن منانا ایک فطری عمل ہوتا ہے۔ ہم بھی خوش ہوئے، گانے گائے، نعرے لگائے، بے ہنگم رقص کیا، خوش گوار امیدیں باندھیں اور واپس اپنے مسکنوں کا رُخ کیا۔اُسی رات خود سے یہ عہد کر لیا کہ اب کسی بھی ذاتی پسند و ناپسند کو پرے رکھ کر صرف اور صرف مشاہدہ کرنا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ وہ جماعت کیا گل کھلاتی ہے جس کے لیے قریبی ساتھیوں تک سے راستے الگ کیے۔
ہم نے سمجھا تھا کہ تحریکِ انصاف میرٹ کی بنیاد پر نئے اور شفاف لوگوں کو سامنے لائے گی…… لیکن الیکشن تک بڑے بڑے لوٹے اپنی روایتی ذہنیت لے کر جوق در جوق مختلف سیاسی جماعتوں سے حلقہ بگوشِ تحریک انصاف ہوچکے تھے۔ نتیجتاً چند ایک چہروں کے علاوہ انہی پرانے مہروں کو ٹیم میں جگہ دی گئی جن کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا تھا۔
خیر، مجموعی طور پر باقی ادوار کے مقابلے میں زیادہ امن قایم رہا، صحت اور تعلیم کے شعبے میں بہتری آئی، خارجہ پالیسی میں کچھ اچھے موڑ دیکھنے کو ملے، ملازمتوں کے سلسلے میں کم ہی سہی لیکن پھر بھی ماضی کے مقابلے میں کسی حد تک میرٹ کا لحاظ رکھا گیا، کورونا جیسی عالمی وبا کے ساتھ اچھی طرح سے نمٹ لیا گیا اور حکومت اور مختلف قومی اداروں کے درمیان مفید ہم آہنگی دیکھنے کو ملی۔
دوسری طرف بہت سارے ایسے پہلوں بھی دیکھنے کو ملے جن کی بالکل توقع نہیں تھی۔ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستانیوں کی ذہنیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ’’مذہبی کارڈ‘‘ کا اس قدر استعمال کیا گیا کہ وہ جماعتیں جو مذہب کے نام پر سیاست کرتی آئی ہیں، حیران و پریشان ہوگئیں کہ اب وہ کون سا نعرہ لے کر عوام کے پاس جائیں گی۔ فوج کے کچھ زیادہ ہی شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ’’حب الوطنی کارڈ‘‘ چلا کر غداری اور حب الوطنی کے ٹھپے لگانے کا انتہائی غیر جمہوری اور نقصان دہ رواج شروع کیا گیا۔ سوالات اٹھانے والے نظریاتی مخالفین کی آواز کچلنے کے لیے میڈیا کو اپنی مٹھی میں کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ سیاست دانوں کے اندازِ بیاں اور رویے میں غیر جمہوری عناصر اور بد تہذیبی دیکھنے کو ملی۔ چوروں کا احتساب کرنے اور لوٹا ہوا پیسا واپس لانے کے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ’’پاکستان کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگے گا‘‘ کے خوش کن نعرے کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے نہ صرف تاریخی قرضے لیے گئے بلکہ اس پر خوشی بھی منائی گئی۔
یہ صورتِ حال دیکھ کر اس قدر مایوسی ہوئی کہ ابلاغِ عامہ (صحافت) کا طالب علم ہوتے ہوئے بھی ٹی وی، اخبار اور سیاسی مباحثوں سے دل مکمل بے زار ہوگیا۔ البتہ اس کے دو بڑے فایدے ضرور ہوئے۔ ایک تو یہ کہ ان حالات نے کتاب کی طرف راغب کیا اور نہ صرف گذشتہ تین سالوں کا بیشتر حصہ کتب بینی میں گزرا بلکہ اب یہ شغف زندگی بھر کے لیے پسندیدہ مشغلہ بن گیا ہے۔ دوسرا فایدہ یہ ہوا کہ نظریاتی طور پر ہر قسم کی عقیدتوں، جذباتی اٹیچمنٹس اور اندھی تقلید سے آزاد ہو گیا۔
خان نے کچھ زیادہ ہی امیدیں نہ دلائی ہوتیں اور ان کا ماضی دوسروں سے مختلف نہ ہوتا، تو ہم ان کو بھی باقیوں کی صف میں شمار کرلیتے۔ نہ اس قدر مایوسی ہوتی اور نہ گلے شکوے کرتے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر پی ٹی آئی کی جگہ کوئی اور پارٹی بر سرِ اقتدار آتی، تو حالات مزید بد تر ہوتے۔ آخر کئی عشروں کا تجربہ ہے، لیکن پی ٹی آئی کی حمایت اس لیے تو نہیں کر رہے تھے کہ کل کو اسے بھی باقی روایتی جماعتوں کے ساتھ تولا کریں گے۔
گذشتہ یہ چند سال فکری بلوغت کے حوالے سے مفید رہے۔ اگر چہ خان صاحب میرے نزدیک ایک مثالی رہنما نہیں رہے اور نہ ان کے ساتھ جذباتیت پر مبنی کوئی شخصیت پرستانہ لگاؤ ہے…… لیکن ہم چند محدود امیدواروں میں سے منتخب کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس لیے باقیوں سے موازنہ کر کے جو زیادہ بہتر لگے، چننا پڑتا ہے۔ اس حساب سے بہت سارے تحفظات کے باوجود رایج سیاست دانوں میں سے خان آج بھی دل کے سب سے زیادہ قریب ہے۔
پی ٹی آئی کی حمایت کرنے پر کوئی افسوس نہیں۔ افسوس تب ہوتا جب اپنی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں لا چکا ہوتا اور ذہنی غلام بن کر کھوٹے کو کھرا ثابت کرنے پر اسی طرح تلا رہتا جس طرح کئی بار آزمانے کے باوجود لوگ اپنی متعلقہ جماعت کی ’’بندگی‘‘ کے سلسلے میں ہوتے ہیں۔
عدم اعتماد کے نام پر رچایا جانے والا ڈراما دیکھ کر افسوس ہوا۔ کل تک جو ایک دوسرے کو گلیوں کوچوں میں گھسیٹنے کی دھمکیاں دیتے تھے، سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے ایک دوسرے کی خواتین کی کردار کشی کرنے سے نہ کتراتے تھے اور حتیٰ کہ ایک دوسرے کی ولدیت کو حرام قرار دے کر جرنیلوں کے ساتھ جوڑ رہے تھے۔ انہیں وقتی طور پر کسی نیک مقصد نے نہیں بلکہ ایک مدت کے لیے اقتدار کے نشے سے دور رہنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی نے اکٹھا کیا ہے۔ 30 سال سے بھی زاید عرصے کے لیے برسرِ اقتدار رہ کر ملک کو لوٹنے والے ایک حکومت کی 4 سالہ کارکردگی کی بنیاد پر کیوں کر عدمِ اعتماد کا اظہار کرسکتے ہیں؟ ہم نے دیکھا کہ ان سیاست دانوں نے بھی وفاداری تبدیل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جنہیں پی ٹی آئی نے ٹکٹ اور لوگوں نے پی ٹی آئی ہی کی خاطر ووٹ دیا۔ حکومت کو چلنے دیا جاتا، تو یہ نہ صرف ملک کی بہتری میں ہوتا بلکہ اپوزیشن بھی اگلے انتخابات میں اچھی پوزیشن پر ہوتی۔ اب چوں کہ تحریکِ انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ’’عدم اعتمادی حکومت‘‘ کی اصل توجہ اگلے انتخابات میں اپنی جگہ بنانے کے لیے حکومتی مشینری کے ناجایز استعمال پر ہوگی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے عوام کو اُلو بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ ایسی ریلیف دی جائے گی جس کا بوجھ بلاواسطہ ملکی خزانے پر پڑ کر ملکی معیشت کی بہتری کے لیے کی گئی رہی سہی کاوش پر بھی پانی پھیر دے گا، جس کا خمیازہ عوام ہی کو بھگتنا پڑے گا۔
اپنا نتیجہ تو یہ رہا کہ ہمیں سیاست دانوں اور جماعتوں کی بجائے نظام پر توجہ دینی چاہیے۔ جس قسم کی بنیادیں رکھی ہیں، ان کے ہوتے ہوئے کسی حقیقی تبدیلی کا خواب دیکھنا عبث ہے۔ اس لیے سیاسی ڈھانچے کا از سرِ نو جایزہ لینا چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ اپنے آپ اور دوسروں میں سیاسی شعور اجاگر کرنے کی مخلصانہ کوشش کرنی چاہیے۔ جس نظام کے تحت سیاسیات میں ایک پی ایچ ڈی اور بریانی کی ایک پلیٹ یا معمولی ملازمت کے عوض ضمیر بیچنے والے کی حیثیت برابر ہو، اس کے ہوتے ہوئے سیاسی آگاہی بہت ضروری ہو جاتی ہے۔ جمہوریت صرف ان معاشروں کے لیے موزوں ہوتی ہے، جدھر لوگ سیاسی حوالے سے باشعور ہوں۔
جب تک ہمارے رویوں میں تبدیلی نہیں آتی اور ہمارے معیار درست نہیں ہو جاتے، کسی بھی قسم کی بہتری کا امکان ناممکن ہے۔ اگر انتخاب کرتے وقت امیدوار کی جاگیر کو دیکھنے کی بجائے صرف اس کی اہلیت اور مقاصد پیشِ نظر رہیں اور اگر ایک غریب، گم نام اور نچلے طبقے کا امیدوار بھی بغیر کسی جھجک کے انتخابات کے لیے نہ صرف کھڑا ہو سکتا ہو…… بلکہ لطف یہ ہو کہ اس کا چناو بھی ہوتا ہو، تب ہی معقول رہنما ابھریں گے۔ ورنہ انہی چند سرمایہ دار خاندانوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے رہیں گے۔
جب لوگ کسی کے ذہنی غلام نہیں رہیں گے اور بلا کسی تعصب کے درست کو درست اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت پیدا کریں گے، تب ہی تبدیلی آئے گی اور ہم ایک ترقی یافتہ اور باعزت قوم بنیں گے۔
بقول غالبؔ
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔