اسلام آباد سے استور تک کے شام سے اگلی شام تک کے تھکا دینے والے سفر(پیر ودھائی راولپنڈی سے ناٹکو، محفوظ کوچز وغیرہ کی استور تک سروس دستیاب ہے) کے بعد راما گیسٹ ہاؤس میں پُرسکون نیند کے بعد تازہ دم بیدار ہوئے، تو استور کی دل کش صبح نے خوش آمدید کہا۔ راما میڈوز پہنچ کر راما لیک تک ٹریکنگ نے ذہن پر اَن مٹ نقوش چھوڑے۔ موسم سہانا، حسین سرسبز وادی، فطری سکون، گلیشیرز سے مزین پگڈنڈی، سحر انگیز لافانی حسن کی مالک استوری حسینہ راما لیک……واہ واہ سبحان اللہ……!
قارئین! اس کا تذکرہ پھر کبھی ان شاء اللہ!
سہ پہر کو ’’راما میڈوز‘‘ سے ’’دیو سائی‘‘ کے سہانے سپنے سجائے پھر محوِ سفر ہوگئے۔ ’’لو جی، ذرا دم لے لو…… گوری کوٹ آگیا۔‘‘ ہم آوارہ گردوں کے گرو خالد حسین بھائی کی آواز گونجی۔
نام کی طرح گوری کوٹ ایک حسین قصبہ ہے…… مگر کوئی گوری دیکھنے کی حسرت دل ہی میں رہ گئی۔ تھوڑی سی آوارہ گردی کے بعد پھر جانبِ منزل روانہ ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد جیپ دائیں جانب ایک ذیلی سڑک پر مڑی۔ ہم بے خبر ’’دیوسائی‘‘ کا سپنا سجائے باہر کے نظاروں کو تکنے لگے۔ سڑک ایک نالے کے ساتھ بلند ہونے لگی…… جو ’’ترشنگ نالہ‘‘ کہلاتا ہے، ’’رامن پور‘‘ کا پل پار کر کے نالے کے ساتھ محوِ سفر تھے کہ ساین بورڈ سے پتا چلا یہ ’’رٹو روڈ‘‘ ہے۔ 100 سالہ پرانی کنٹونمنٹ جو میر ملک نالے اور کالا پانی نا لے کے درمیان واقع ہے۔ رٹو میں فوج کا سرمائی پہاڑی جنگ کا سکول ہے…… جو صرف سردیوں میں کھلتا ہے۔
جیپ کے ایک ہچکولے کے ساتھ ذہن میں سوال ابھرا…… ’’گرو جی دیوسائی ابھی تک کیوں نہیں آیا؟‘‘ جواب ملا: ’’ذرا صبر! وہ دیکھو کتنا پُرسکون، سرسبز اور من موہنا گاؤں آ گیا ہے۔ چورت ہے یہ…… بالکل کالاش کے کسی گاؤں جیسا ہے نا! گندم کے خوشے ابھی سرسبز ہیں، ہریالی طراوت بخش ہے ……!‘‘
ذرا آگے بڑھے، تو اچانک کڑک کر بولے: ’’روکو، روکو……!‘‘ جیپ رُکی۔ نیچے اترے اور ایک قدآور جنگلی گلاب جو پھولوں سے لدا تھا…… اس کی تصویر بنانے لگ گئے…… جس کے پس منظر میں ایک بہت بڑی برف پوش چوٹی جلوہ افروز تھی۔
محو حیرت تھے کہ دیو سائی کے لالہ زار و سبزہ زار میں یہ پری پیکر کہاں سے ٹپک پڑی! اس نظارے کی مقناطیسیت میں محو تھے کہ گرو جی فرمانے لگے: ’’پولے بادشاہو! یہ نانگا پربت ہے۔ دنیا کی 9ویں بلند چوٹی…… اس کی بلندی 8126 میٹر ہے۔ مقامی لوگ اسے ’’دیامر‘‘ کہتے ہیں…… جو تبتی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے ’’بہت بڑا پہاڑ۔‘‘ اسے شَل مُکھی (سو چہرے والی) بھی کہتے ہیں۔ یہ ہر رُخ سے قیامت ڈھاتی ہے۔ گونر فارم، فیری میڈوز، ترشنگ و روپل اور راما کا رُخ۔دنیا اسے قاتل پہاڑ کے نام سے جانتی ہے۔یہ کئی بھنوروں کو اپنی برفوں میں سمو کر امر کر چکی ہے۔ اس کے دامن میں طلسماتی گاؤں ہیں ’’تریشنگ‘‘ اور ’’روپل‘‘…… ہم وہاں ٹھہرنے والے ہیں۔ یہ آپ سب کے لیے سرپرایز وزٹ ہے۔ ‘‘
ہائے مار ڈالا……! سب حیرت سے دنگ رہ گئے۔
قارئین! مستنصر حسین تارڑ صاحب کے بقول ’’تریشنگ دنیا کا حسین ترین گاؤں ہے۔‘‘ میں تارڑ صاحب کے ساتھ متفق ہوں۔ واللہ ایسا ہی ہے۔ یقین نہ آئے، تو اپنی آنکھوں سے جا کر دیکھ لیں۔




مستنصر حسین تارڑ صاحب کے بقول ’’تریشنگ دنیا کا حسین ترین گاؤں ہے۔‘‘ (فوٹو: حنیف زاہد)

قدرت نے تریشنگ کو لافانی حسن بخشا ہے۔ لو جی، ہم حیرت زدہ ’’تریشنگ‘‘ اور ’’روپل‘‘ کے درمیان موجود ایک ٹیلے پر مع جیپ پہنچ گئے۔ سامنے قاتل موجود اور اس کے پروانے اس پر نثار ہونے پر اتارو۔ آنکھوں کی پیاس دیدار سے مٹتی ہی نہیں تھی۔حسین قاتل بادلوں سے زیر نقاب رہ کر عشاق کو تڑپاتی رہی۔ ادائیں دکھاتی رہی۔
قارئین! بلامبالغہ ’’تریشنگ‘‘ کے نانگا پربت ہوٹل میں گزرے لمحات میری زندگی کا اَن مول اثاثہ ہیں۔ لوگ ملن سار اور مہمان نواز…… موسم دن کو اعتدال پر…… اگر بادل نہ ہوں، رات، صبح اور شام یخ بستہ…… جب بھی نگاہ اٹھائیں…… ’’قاتل‘‘ کا دیدار کر لیں۔ دنیا کے جھمیلوں سے پرے ایک انتہائی پُرسکون گوشہ…… فطرت پسندوں کی منزل…… سیماب صفت بھی یہاں منجمد ہوجائیں۔
ہم بوجھل دل لوٹ تو آئے ہیں…… مگر اپنی روح و دل وہیں چھوڑ آئے ہیں۔ ارے اُو قاتل! تیری یاد میں آہیں بھرتے ہیں۔ تیرے فراق میں تڑپتے ہیں۔ ان شاء اللہ فراق کی طویل شب، شبِ وصال میں بدلے گی۔
ہائے تریشنگ، آہ قاتل……!

راقم کی اپنے ہم سفر دوستوں کے ساتھ بیس کیمپ میں لی گئی یادگار تصویر۔

فطرت کے عشاق سے درخواست ہے کہ فقط ایک مرتبہ ’’تریشنگ‘‘ کا چکر ضرور لگائیں…… اور اللہ تعالا کی ذاتِ کبریا کی مدح سرائی بے ساختہ شروع ہو جائے گی۔
ہم موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوئے یہ بھی دعوے سے کَہ سکتے ہیں کہ ہماری طرح کوئے یار کی بار بار زیارت کی تمنا آپ کے دل میں ضرور جاگ اٹھے گی۔
شکیلؔ بدایونی کے ان خوب صورت اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ
غمِ حیات بھی آغوشِ حسنِ یار میں ہے
یہ وہ خِزاں ہے جو ڈوبی ہوئی بہار میں ہے
شگفتگیِ دل کارواں کو کیا سمجھے
وہ اک نگاہ جو الجھی ہوئی بہار میں ہے
شکستِ حوصلۂ ضبطِ غم مجھے منظور
چلے بھی آؤ کہ دل کب سے انتظار میں ہے
یہ اضطراب کا عالم یہ شوق بے پایاں
شکیلؔ آج بلاشبہہ کوئے یار میں ہے
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔