وطنِ عزیز میں جب صحافی حکم رانوں کی تعریف کے پلیں باندھنے لگے، تو شاباشیاں بٹورتے ہیں اور تحایف وصولتے ہیں…… لیکن جب تنقید کے تیروں کا رُخ حکومت کی طرف پلٹ جائے، تو پھر تھپڑ اور جیل کھاتے ہیں…… جس طرح مبشرلقمان جیسے صحافی کبھی پی ٹی آئی کے لاڈلے ہوا کرتے تھے، جب تنقید کا رُخ پی ٹی آئی کی طرف مڑا، تو وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ہاتھوں چپت کھانے پر قصہ منتج ہوا۔
قارئین! اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ ٹھیک اسی طرح صحافی محسن بیگ جب پی ٹی آئی وزرا کے دفاع اور حق میں بولا کرتے تھے…… تب وہ پی ٹی آئی کے حلقوں میں بڑے سینئر صحافی شمار کیا جاتے تھے…… اور ان کا توتی بولتا تھا۔ اب انہیں وفاقی وزیر مراد سعید پر تنقید کی پاداش میں ایف آئی نے گرفتار کرلیا۔ وزیر یا کوئی عام شہری مقدمہ درج کرے، تو کاروائی اداروں کی ذمے داری ہے…… لیکن اس بات سے بھی ہم عوام بخوبی واقف ہیں کہ تمام اداروں کے ساتھ ایک پیج پر بیٹھے موجودہ طاقت ور ترین حکومتی وزرا کو جس صحافی کا کام برا لگے…… اسے گرفتار کرنا یا کسی طریقے سے ہراساں کرنا گویا چٹکی کا کام ہے۔
اب وفاقی وزیر موصوف مراد سعید کا دعوا ہے کہ صحافی محسن بیگ کی جانب سے ان کی وزارت کو پہلا نمبر ملنے پر ٹی وی پروگرام میں غلیظ تبصرہ کیا گیا ہے…… جوکہ ان کے ماتحت اداروں پوسٹ آفس اور این ایچ اے ملازمین کی توہین ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے ایف آئی اے میں مقدمہ ذاتی غصے میں نہیں…… بلکہ اپنے ماتحت اداروں کے ملازمین کے مورال کو ٹھیس پہنچانے پر دایر کیا ہے ۔دوسری جانب صحافی محسن بیگ کو اس وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے دورانِ حراست ایف آئی اے اہلکاروں پر فایرنگ کی۔ چلیں، یہ مان لیتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر پستول تاننا اور فایرنگ کرنا دہشت گردی ہے، جس کو کسی صورت ’’جسٹیفائی‘‘ نہیں کیا جاسکتا…… نہ اس کے دفاع کی کوئی تُک ہی بنتی ہے…… لیکن کیا ایک وزیر کی درخواست پر بغیر وارنٹ گرفتاری سادہ کپڑوں میں ملبوس اہل کاروں کو کسی شہری کے گھر پر دھاوا بول دینا درست ہے…… اور آئین یا قانون میں اس کی کوئی گنجایش ہے؟
اگر جواب نفی میں ہے، تو پھر بھی محسن بیگ کی جانب سے پسٹل اٹھانے اور گولی چلانے والی حرکت کی مذمت کرنا حق بجانب سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ ایک صحافی کا کام قلم اٹھانا ہوتا ہے…… نہ کہ پستول۔
بہرحال محسن بیگ صاحب اس اقدام کو ایک طرح سے ایف آئی اے اہلکاروں کا سادہ کپڑوں میں اچانک چھاپے کو ڈاکووں کا حملہ تصور کرنا بتاتے ہیں۔
خیر! جوا ہوا سو ہوا……! اب یہ معاملہ معزز عدالتوں کے پاس گیا ہے۔ عدالت ہی اس معاملے میں بہتر فیصلہ دے سکتی ہیں…… لیکن جس طرح اولین سطور میں راقم رقم کرچکا ہے کہ حکمرانوں کا رویہ صحافیوں کے لیے بالکل بھی درست نہیں۔ صحافیوں اور صحافتی اداروں کے لیے حکومت کا دہرا معیار انتہائی قابلِ مذمت اور باعثِ تشویش ہے ۔
قارئین کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ جو باتیں محسن بیگ نے مراد سعید کے حوالے سے نجی ٹی وی چینل پر کیں…… وہی باتیں ممبرانِ اسمبلی کئی بار اسمبلی فلور پر کرچکے ہیں…… جس میں پیپلزپارٹی کے قادرپٹیل کی گفتگو سوشل میڈیاپر بھی خوب وایرل رہی…… مگر کوئی مقدمہ ہوا اور نہ کسی قسم کا چھاپا ہی پڑا۔
اس طرح وفاقی وزیر شیخ رشید کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری پر جو غیراخلاقی تبصرے کیے گئے جارہے ہیں…… کیا اس پر مقدمہ نہیں بن سکتا؟
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ محسن بیگ پر الزام ہے کہ انہوں نے ریحام خان کی کتاب کا حوالہ دے کر مراد سعید پر تبصرہ کیا ہے، تو پھر پوری کتاب لکھنے والے پر مقدمہ ہونا چاہیے تھا…… یا اس سے اقتباس نکالنے والے پر؟
حکومتی وزرا کی اس روش پر اتنا دور جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہمارے سوات کے ایک صحافی کو وزیرِاعلا محمود خان کی تقریر ایڈٹ کرنے پر ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا…… اسے بری طرح ذہنی ٹارچر کیا گیا تھا…… لیکن دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری کی تقریر ایڈٹ کرکے فی درجن سے فی کلو اور کلو سے فی گز، جب کہ گز سے لیٹر بنانے پر نہ کوئی مقدمہ ہوا…… اور نہ کوئی ادارہ حرکت میں ہی آیا۔
اب محسن بیگ کے معاملے پر تجزیہ کار مہمل سرفراز صاحبہ نے تازہ خبر یہ بھی دی ہے کہ محسن بیگ، جہانگیر ترین گروپ اور مسلم لیگ ن میں پل کا کردار ادا کر رہے تھے۔ اس لیے وہ عمران خان کے قریبی ساتھیوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے تھے۔ شاید یہی وجہ ہو کہ دوسرے تمام لوگوں کو چھوڑ کر اس پر مقدمہ بنایا گیا ہو۔
مسندِ اقتدار پر بیٹھنے والوں کے پاس بڑا دل گردہ ہونا چاہیے۔ اپنی گورننس پر تنقید کا احترام کرنا چاہیے اور صحافیوں کے آئینے کو اپنے لیے صاف رکھنا چاہیے، نہ کہ ان کی تنقید کو ذاتی عناد سمجھ کر انہیں ہراساں کیا جائے۔
آئین اور قانون کی بالادستی سب چاہتے ہیں، لیکن قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ سے باہر ایک ہی طرح اور برابر ہونا چاہیے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔