صبح آنکھ کھلتے ہی جب گھڑی یا موبائل پر وقت دیکھنے کے لیے نظر ڈالیں، تو یاد کرنا ہم نے یہ ٹیکس ادا کر کے خریدے ہیں۔ پھر خزانہ خالی کیسے ہے؟
صبح صبح ایسے باغیانہ خیالات حکومت کو پسند نہیں اور سوئی ہوئی قوم کو تو بالکل بھی گوارا نہیں۔ ساری قوم سو رہی ہے۔ کیوں کہ یہ قوم مہنگائی سے مر جائے گی، مگر گھبرائے گی نہیں۔ بستر سے نیچے چپل پہننے کے لیے پاؤں رکھا، تو یاد آیا کہ یہ ٹیکس ادا کرکے خریدی ہے۔
برش کرنے کے لیے برش اورٹوتھ پیسٹ اُٹھایا، تو یا د آیا یہ بھی ٹیکس دے کر خریدے ہیں، تو خزانہ خالی کیسے ہے؟
منھ دھونے کے لیے صابن، تولیہ پکڑا، تو یاد آیا، ارے! یہ بھی تو ہم نے ٹیکس ادا کر کے ہی خریدے ہیں۔ بالٹی اور مگ کی طرف بڑھا، تو ٹیکس یاد آیا۔ باتھ روم کی ٹیب کھولی، تو ٹیکس یاد آیا۔گیزر کا بٹن آن کیا، تو ٹیکس یاد آیا۔ ہر چیز ٹیکس دے کر خریدتے ہیں، تو خزانہ خالی کیسے ہے؟
واپس کمرے میں پلٹ کر کپڑے پہننے لگا، تو یاد آیا کہ یہ بھی ٹیکس دیکر خریدے ہیں۔ جوتے، پالش، برش، ٹشو، آئل، کنگی، پرفیوم وغیرہ جوکہ عام استعمال کی اشیا ہیں…… ہم سب ٹیکس ادا کر کے ہی خریدتے ہیں۔ جب خزانہ خالی ہے، تو یہ ٹیکس جاتے کہاں ہیں؟
آپ سائیکل پر جائیں، موٹر سائیکل پر، کار پر یا لوکل گاڑی میں سفر کریں، آپ روزانہ ٹیکس ادا کرکے سفر کرتے ہیں۔ ہوٹل سے ناشتہ کریں یا گھر کے لیے ہر چیز ٹیکس ادا کر کے استعمال کرتے ہیں، تو خزانہ خالی کیسے ہے؟
بچوں کو ٹیکس دے کر پڑھاتے ہیں، ٹیکس دے کر سکول، کالج یا یونیورسٹی جاتے ہیں، ہوٹل سے کھانا کھائیں تو پیسے ہوٹل والا کماتا، کاروبار وہ چمکاتا ہے اور ٹیکس ہم ادا کر تے ہیں۔
ہسپتال جائیں، تو ٹیکس ادا کرکے علاج کرواتے ہیں، دوائی خریدیں، تو ٹیکس ادا کرکے خریدتے ہیں۔ حتی کہ ماچس کی تیلی بھی استعمال کرتے ہیں، تو پہلے ٹیکس ادا کر تے ہیں، تو پھر خزانہ کیسے خالی ہے؟
بازار سے کچھ بھی خریدیں، تو ٹیکس دے کر گھر لاتے ہیں، سیر و تفریح پر جائیں، تو ٹیکس دیتے ہیں، پارک جائیں، تو ٹیکس دیتے ہیں، گاڑی کھڑی کریں، تو ٹیکس دیتے ہیں، سڑک پر سفر کریں، ٹول ٹیکس دیتے ہیں مگر یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ ٹیکس کا پیسا جاتا کدھر ہے؟
ایک بال پن لیں، کاغذ لیں یا ربر، ہر چیز ہم ٹیکس ادا کر کے خریدتے ہیں۔ بجلی کا بلب جلاتے ہیں تو ٹیکس دے کر، استری کرتے ہیں تو ٹیکس دے کر، فون کال کرتے ہیں تو ٹیکس دے کر، میسج کرتے ہیں تو ٹیکس دے کر، چولہا جلائیں تو ٹیکس دے کر…… مگر ہمارے ٹیکس کا یہ پیسا کہاں جاتا ہے…… پھر بھی سننے کو ملتا ہے کہ خزانہ خالی ہے!
ہم پیدا ہوتے ہیں، تو ٹیکس دیتے ہیں،جیتے ہیں تو ٹیکس دیتے ہیں حتی کہ مرنے پر ٹیکس لاگو ہے۔ زندگی کا کوئی ایک بھی کام یا شعبہ ایسا نہیں جہاں ہم ٹیکس نہیں دیتے…… مگر پھر بھی خزانہ خالی ہے۔ ہم ٹیکس دے دے کر ہلکان ہوگئے اور حکومت کہتی ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں جتنا عوام کو بتایا جاتا ہے۔ دراصل عوام ٹیکس تو ہر لمحہ، ہر گھڑی، ہر روز ادا کرتی ہے…… مگر ٹیکس کے پیسے عوامی فلاح و بہبود کے بجائے بیوروکریسی، ملازمین اور سیاست دانوں کی مراعات اور عیاشیوں پر خرچ کردیے جاتے ہیں۔
ہمارے ٹیکسوں پر پلنے والے ملازمین ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں۔ ہمارے ووٹوں اور ٹیکسوں پر اسمبلی میں پہنچنے والے سیاست دان عوامی خدمت کی بجائے عوام کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کے لیے عوامی ٹیکسوں سے مہنگی گاڑیاں اور عوام کے لیے کھٹارا لوکل بسیں، ہمارے ٹیکسوں سے ان کے بل، تعلیم، صحت، سیروتفریح، قیام و طعام، رہائش، آسائش اور فرمائش وغیرہ سب پوری کی جاتی ہے۔ ہمارے ٹیکسوں سے ان کے بنگلے بنتے ہیں، ہمارے ٹیکسوں سے ان کے خاندان بیرونِ ملک کی سیر کرتے ہیں، ہمارے ٹیکسوں سے یہ اپنی الیکشن مہم چلاتے ہیں، ہمارے ٹیکسوں سے اپنے بینرز بنواتے ہیں، ہمارے ٹیکسوں سے اپنے سٹیکرز بنواتے ہیں، ہمارے ٹیکسوں سے اپنی اشتہار بازی کرتے ہیں، ہمارے ٹیکسوں سے خود نیسلے کا پانی پیتے ہیں اور ہمیں گٹر ملاپانی پلاتے ہیں، ہمارے ٹیکسوں سے یہ اپنے کتوں کو گوشت کھلاتے ہیں اور غریب آدمی کو روکھی روٹی سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔
ٹیکس دیتے دیتے غریب عوام کے تن سے کپڑا اتر گیا، آنکھوں میں حلقے پڑگئے،کمر جھک گئی، گھٹنے جواب دے گئے، جسم ہڈیوں کا ڈھانچا بن گیا، گردے بیچ دیے، بچے پھینک دیے، گھر بیچ دیے، جسم بیچ دیا، خون بیچ دیا، غریب لٹ گیا، مٹ گیا مگر ان کی حوس ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ ہمارے ٹیکسوں سے یہ تمام مراعات لیتے ہیں، ہمارے ٹیکسوں سے یہ اپنی تنخواہوں میں من مانا اضافہ کرتے ہیں۔ غیر ہنر مند کی تنخوا چند ہزار مقرر کرنے والے سیاست دان عوام کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ ان کے پاس کون سا ہنر ہے اور یہ اتنی بھاری تنخواہیں اور مراعات کس ہنر کی لیتے ہیں؟
اعلا فوجی اور سول افسران آدھی زندگی عوامی ٹیکسوں سے تنخواہیں اور ریٹائر منٹ کے بعدبھاری پنشن لیتے ہیں مگر عوام کی خدمت کی بجائے بعد از سبک دوشی سول عہدوں پر قابض ہو کر سولین کی حق تلفی کرتے ہیں۔ سرکاری ملازم جو عوام کے ٹیکسوں سے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں، عوام کی خدمت کی بجائے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں، بزرگوں کو فائلوں میں دفن کر دیتے ہیں، نوجوانوں کو دفتروں کے چکر لگوا لگوا کر بوڑھا کر دیتے ہیں، خواتین کو گھنٹوں انتظار کرواتے ہیں۔
اس طرح ہر نئی آنے والی حکومت، مہنگائی کی وجہ پچھلی حکومت کو قرار دیتے ہوئے عوام پر ایک جانب مہنگائی کے پہاڑ گراتی ہے جب کہ دوسری جانب ٹیکس پر ٹیکس لگاتی ہے…… مگر عوام کے لیے کوئی سہولت فراہم کرنا ان کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
مانا مہنگائی ہے، تو وزیروں مشیروں پر ٹیکس بڑھا دیں، بیوروکریسی کی مراعات ختم کردیں، ٹی اے ڈی اے ختم کردیں، الاؤنسز بند کر دیں یا کارکردگی کے ساتھ مشروط کر دیں۔ عوامی ٹیکسوں پر ضیافتیں ختم کر دیں۔ عوامی ٹیکسوں سے خریدی گئی سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال بند کر دیں۔ عوامی محافظوں کو اپنے باڈی گارڈ لگانا بند کر دیں۔ بجلی کے مفت یونٹ ختم کر دیں۔ مفت علاج، سفر، مواصلات، ذرائع نقل و حمل بند کر دیں۔ اعلا افسران کی تنخواہیں کم کر دیں۔ ایم این ایز اور ایم پی ایز جو عوامی نمائندگی کا راگ الاپتے نہیں تھکتے، وہ تنخواہ لینا بند کر دیں۔ وہ کون سے غربا و مساکین ہیں!
عوامی ٹیکسوں سے سرکاری اشتہار بازی بند کر دیں، تو مہنگائی خود بخود کم ہو جائے گی۔ یہ وزرا، مشیر اور افسران غریب عوام کے خون پہ پلنے والے پسوں ہیں۔ اُدھر سے چھلانگ لگائی، تو اِدھر سے خون پی لیا، اِدھر سے چھلانگ لگائی تو اُدھر سے پی لیا۔ ان کے لیے قانون ہے نہ ضابطہ، اصول ہیں نہ شرم و حیا، خوفِ خدا ہے اور نہ ضمیر کی خلش۔
ہم ہر چیز خریدنے سے پہلے اس لیے ٹیکس دیتے ہیں کہ ہمارے خون پسینے کی کمائی پہ امیر، وزیر، مشیر، جاگیردار، وڈیرے، بیورو کریٹ، افسر شاہی اور سیاست دانوں کی آل اولاد عیاشیاں کرے؟ ’’خزانہ خالی‘‘ کا راگ الاپنے والے اگر ملک کے خیر خواہ ہیں، تو اپنا پیسا بیرونِ ملک سے لاکر پاکستان کے خزانے میں جمع کیوں نہیں کرواتے؟ ہم تو ہر دم، ہر پل، ہر گھڑی، ہر روز، ہر دن، ہر ہفتے، ہر مہینے اور ہر سال ٹیکس دیتے ہیں اور یہ نسل در نسل ہمارے ٹیکسوں پر پلتے ہیں اور عوام کو الو بناتے ہیں۔ اگر پھر بھی خزانہ خالی ہے، تو ہمیں بتایا جائے ہمارے ٹیکسوں کا پیسا جاتا کہاں ہے؟ حکومت عوامی ٹیکسوں سے تمام محکمہ جات اور سیاست دانوں کو تو باقاعدہ سے نوازتی ہے، مگر جو عوام ہر چیز ٹیکس دے کر استعمال کر تی ہے، اس کی فکر ہی نہیں۔ عوام رو رہے ہیں، حکومت سو رہی ہے۔
یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ امیر ہو یا غریب، وزیر ہو یا مشیر، صغیر ہو یا کبیر، فقیر ہو یا بادشاہ سب کی قبر دوگز کی ہوگی۔ سب کا کفن سفید ہوگا۔ سب کے اوپر منوں مٹی ڈالی جائے گی۔ سب خالی ہاتھ جائیں گے۔ اپنی قبر میں مرنے سے پہلے آگ نہ جلائیں۔عوام پرترس کھائیں، تاکہ سکون سے آخری سانسیں لینی نصیب ہوں۔
جو خلقِ خدا سے بھلا نہیں کرتا، اس کے ساتھ ’’تھا‘‘ لگ جاتا ہے اور وہ نشانِ عبرت بن جاتا ہے۔
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔