قارئین، ہمارے لیے یہ غور کا مقام ہے کہ ہم سماجی پستی کی اس حالت کو پہنچ چکے ہیں جہاں لاچاروں، معذوروں، ناقص الاعضا اور ناقص الفطرت انسانوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں…… بلکہ یہاں تو مذکورہ بالا انسانوں کا مذاق تک اُڑایا جاتا ہے۔ معاشرے کے ان محروم طبقات میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے…… جس کو معاشرے نے ہمیشہ دھتکارا ہے۔ یہاں تک کہ اسے اپنے خاندان بھی قبول نہیں کرتے۔ یہ طبقہ ہے ’’ٹرانس جنڈر‘‘ یعنی ’’تیسری جنس‘‘ یا ’’ہیجڑا‘‘ یا ’’خواجہ سرا۔‘‘
قرآنِ کریم میں اللہ تعالا کا ارشاد ہے:’’یعنی ہم نے انسان کو معزز بنایا!‘‘
پس ہیجڑے بھی انسان ہیں اور قابل احترام ہیں۔
ہمارے ہاں خواجہ سرا عموماً عام معاشرے اور نارمل انسانوں سے کٹ کر اپنی ’’کمیونٹی‘‘ میں اپنے گرد کے زیرِ سایہ زندگی گزارتی ہیں۔ معاش کی خاطر یہ لوگ ناچ گانا اور ان میں سے بوڑھے اور بیمار بھیک مانگتے ہیں۔ رہا ان کی تعلیم و تربیت کا سوال، تو اس سلسلے میں زمانۂ قدیم سے معاشرہ انہیں نظر انداز کرتا رہا ہے۔
پرانے زمانے میں ’’ہیجڑا کمیونٹی‘‘ میں تعلیم تو کیا خواندگی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ البتہ موجودہ دور میں اس کمیونٹی میں معمولی پڑھے لکھوں کے علاوہ اعلا تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں بعض افراد گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں میں ادنا اور اعلا عہدوں پر بھی فایز ہیں۔
خواجہ سراؤں کی اعلا تعلیم کے سلسلے میں صوبۂ سندھ سے یہ حوصلہ افزا خبر موصول ہوئی ہے کہ وہاں ’’سارا گل خان‘‘ نامی خواجہ سرا نے جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرکے پاکستان میں پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
’’سارہ گل خان‘‘ کی کامیابی کا اعلان 18 جنوری 2022ء کو بروزِ منگل کیا گیا۔ بقولِ سارہ گل خان اُسے والدین کی اصرار پر بہ طورِ مرد داخلہ لینے پر مجبور کیا گیا۔ حالاں کہ اس ماحول میں وہ اپنی عزت کے پائے مالی کے خطرے کے پیشِ نظر متفکر رہی…… یا یہ کہ اگر دوسروں کو اس کی جنس سے متعلق معلوم ہوتا، تو اس کی تعلیمی کاوشوں میں خلل پڑجاتا…… یا تعلیمی سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کا خطرہ بھی موجود ہوتا…… یعنی اس پر تعلیم کے دروازے بند ہوسکتے تھے۔
سارہ گل کہتی ہے کہ حصول تعلیم کے اخراجات اُس نے خود برداشت کیے۔ بعض اوقات وہ نہایت کفایت شعاری سے کام لے کر وقت گزارتی تھی۔ بے شک’’خدا ان کی مدد کرتا ہے…… جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں‘‘ کے مصداق وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر ہی رہی۔
سارہ گل خان نے ’’ٹرانس جنڈر کمیونٹی‘‘ سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی نیک مقصد کے حصول کے لیے ہمت نہ ہاریں۔ کیوں کہ محنت ہی سے انسان اعلا مقصد حاصل کرسکتا ہے۔
سارہ گل خان کو ڈاکٹر بننے کے بعد معاشرے کے ساتھ ساتھ اب والدین نے بھی قبول کر لیا ہے۔
احمد فرازؔ کا یہ شعر سارا گل خان پر صادق اترتا ہے کہ
وہ تو پتھر بھی گزری نہ خدا ہونے تک
جو سفر مَیں نے نہ ہونے سے کیا ہونے تک
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔