101 total views, 2 views today

آج کے معاشرے میں حسد، کدورت اور عداوت عام ہو چکی۔ بلاشبہ یہ وہ منفی جذبے ہیں جنھیں مہمیز دے کر شیطان، معاملہ جدال و قتال تک پہنچا دیتا ہے۔ حسد کی مختلف شکلیں ہیں مثلاً کسی کی خوشحالی سے حسد، کسی کے اچھے کاروبار سے حسد، کسی کی محنت کی بدولت کاروبار میں ترقی سے حسد، تعلیم یا ملازمت میں ترقی سے حسد، کسی کی اچھی شکل و صورت یا شخصیت سے حسد، کسی کی اچھی اولاد سے حسد، کسی کی شہرت، عزت، قابلیت یا عہدے سے حسد، کسی کے مکان، جائیداد اور دیگر سا مانِ تعیش سے حسد، کسی کی صحت سے حسد، کسی کے اچھے کپڑوں یا زیورات سے حسد۔
درحقیقت حاسد انسان اپنی خوشیوں کا از خود دشمن ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی ترقی و کامیابی سے ناخوش ہوتے ہوئے نہ صرف اپنی صلاحیتوں میں کمی کرلیتا ہے بلکہ یہ نفسیاتی اذیت دنیا و آخرت میں خسارے کا باعث بنتی ہے۔ حضرت آدمؑ کی تخلیق کے بعد سب سے پہلے حسد کرنے والا ابلیس ہے جوکہ حاسدین کا قاید ہے۔ اسی وجہ سے قرآنِ کریم میں حسد کرنے والے کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید کی سورۃ ا لفلق میں ارشادِ باری تعالا ہے: ’’(اے پیغمبرؐ! ) آپ کہیے مَیں صبح کے ربّ کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کی برائی سے جو اس نے پیدا کی ہے…… اور اندھیری رات کی برائی سے جب کہ اس کا اندھیرا پھیل جائے…… اور گرہ لگا کر ان میں پھونکنے والیوں کی برائی سے…… اور حسد کرنے والے کی برائی سے کہ جب وہ حسد کرے۔‘‘
رسولؐ اللہ نے کئی احادیثِ مبارکہ میں حسد کی مذموم بیماری و عادت سے بچنے کی وصیت فرمائی۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’حسد نیکیوں کو ایسے کھاجاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے…… اور صدقہ گناہ کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھادیتا ہے۔‘‘ ( ابن ماجہ)
ایک اور حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’ تم گمان سے بچو، اس لیے کہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔ تم آپس میں حسد نہ کیا کرو۔ جاسوسی نہ کیا کرو۔ بغض نہ رکھا کرو۔ بے رخی نہ برتا کرو۔ دام بڑھانے کے لیے بولی نہ لگایا کرو…… بلکہ اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔‘‘ (متفق علیہ)
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے نبی کریمؐ کافرمان ہے: ’’آپس میں حسد نہ کرو اور قطع تعلقی نہ کرو۔ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔ ایک دوسرے سے دشمنی نہ کرو اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بنے رہو۔‘‘ (صحیح مسلم)
حضرت زبیر بن عوامؐ کہتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’تم میں گذشتہ اقوام کی بیماریاں در آئیں گی، جن میں سے حسد اور بغض بھی ہے اور یہ مونڈھ دینے والی ہوں گی۔ یہ بال نہیں بلکہ دین کا صفایا کردینے والی ہیں۔‘‘ (ترمذی)
حضرت عبداللہ بن بسرؓ فرماتے ہیں نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’حسد کرنے والا، چغل خور اور کاہن میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا…… اور نہ میرا اس کے ساتھ تعلق ہے۔ پھر رسولِ کریمؐ نے سورۃالاحزاب کی یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ’’(ترجمہ) وہ لوگ جو اذیت پہنچاتے ہیں۔ ایمان دار مردوں اور عورتوں کو حالاں کہ انہوں نے ایساکوئی (برا) کام نہیں کیا، توان(اذیت پہنچانے والے)لوگوں نے اپنے سروں پربہتان باندھنے اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا۔‘‘
حضرت عبداللہ بن کعب اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: ’’دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے گئے ہوں۔ وہ بکریوں کا اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال کی حرص اور حسد مسلمان کے دین کا نقصان کرتے ہیں۔‘‘
درحقیقت حسد ایک عذاب ہے جو دنیا اور دین دونوں میں نقصان دہ ہے۔ کیوں کہ حسد اللہ تبارک وتعالا کی نعمتوں کی تقسیم کے بارے میں اظہارِ ناراضی ہے اور جو چیزیں ربّ ذوالجلال نے اپنے بندے کو عنایت کی ہیں۔ حاسد درحقیقت ان سے انکار کرتا ہے اور اس جلن میں ابلیس کا شریکِ کاربن جاتا ہے۔ وہ لوگوں کی تباہی اور بربادی چاہتا ہے۔ اپنی بھلائی کے لیے کوشش نہیں کرتا۔ کیوں کہ رات دن دوسروں کی بربادی کے غور و فکر کی وجہ سے اتنا موقع ہی نہیں ملتا کہ اپنی ترقی کے لیے سوچ بچار کرسکے۔ اس طرح وہ سست اور کاہل ہوجاتا ہے اور یہ سستی اس کو اللہ کی نعمتوں سے محروم کردیتی ہے۔ ہمیں مادی چیزیں جو انسان کو حسد پر مجبور کرتی ہیں۔ انہیں قطعی عارضی اور کم تر سمجھتے ہوئے جنت کی نعمتوں کو یاد رکھنا چاہیے۔
گناہوں سے استغفار کرتے ہوئے، محسود (جس سے حسد ہے) کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالا اس کو ان تما م امور میں مزید کامیابیاں دے، تاکہ ہمارا دل حسد، کینہ و بغض سے صاف ہو۔ اس طرح رحمتِ الٰہی مہربان ہوگی اور وہ نعمتیں ہمیں میسر آ ئیں گی جن کی ہم تمنا رکھتے ہیں۔ بے شک ربّ رحمان کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔