حضرت حاجی مستنصر حسین تارڑ جو کالوی کی روحانی رہنمائی میں اس بار سفر پر نکلا۔ میرے پہلے میزبان احمد اعوان تھے جو واہ کینٹ میں رہتے ہیں اور واہ آرڈننس فیکٹری میں اعلا انتظامی عہدے پر فائز ہیں۔ وہ ماہنامہ ’’حکایت‘‘ لاہور میں میری آٹو بائیو گرافی ’’رہے نام اللہ کا‘‘ پڑھ کرمیرے پرستار بن گئے۔ وہ ’’واہ آرڈننس کلب‘‘ لایبریری میں میری کچھ کتابیں پہلے ہی سے پڑھ چکے تھے۔ عزت کرنے والے خاندانی آدمی ہیں۔ بنیادی طور پر تلہ گنگ (چکوال) سے تعلق رکھتے ہیں لیکن بسلسلۂ تعلیم 90 کی دہائی میں U.E.T (لاہور) مقیم رہے۔ اُس کے بعد سے تاحال واہ کینٹ میں ملازمت کر رہے ہیں…… جہاں اُنہیں انار کلی روڈ پر ایک شان دار بنگلا ملا ہوا ہے اور مطمئن ازدواجی زندگی گزاررہے ہیں۔ یاروں کے یار ہیں۔ مجھ سے پہلے بھی کئی ادیبوں اور شاعروں کو شرفِ میزبانی بخش چکے ہیں۔ لاہو ر ہی میں انہیں ادیبوں سے ملنے ملانے اور کتابیں اکٹھی کرنے کا ذوق و شوق پیدا ہوا۔ یہ مثبت اثرات اُن کی شخصیت میں نمایاں ہیں۔ بہت دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں۔ آرٹس کے ساتھ ساتھ سائنسی معلومات بھی رکھتے ہیں۔ کیمیکل انجینئرنگ U.E.T سے ہی کی اور کتابوں سے شغف کے باعث آج بھی اپنے شعبے کے حوالے سے ’’اَپ ڈیٹ‘‘ رہتے ہیں۔ ’’نیچر‘‘ سے بھی بہت لگاؤ رکھتے ہیں۔ اپنے 3 کنال کے سرکاری گھر میں انہوں نے اپنی خوش ذوقی کا بھرپور مظاہرہ کر رکھا ہے۔ ورنہ مَیں نے اور بھی سرکاری گھر دیکھے ہیں جن کے مکین اُس گھر پر پلّے سے کچھ لگانا حرام سمجھتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام کا سرکار کو بِل ڈالتے ہیں۔ پنجاب بنک میں خود دیکھا کہ وہاں کے ’’جی ایم‘‘ نے بنک کے الیکٹریشن کو اپنے گھر ایک فیوز بلب لگانے کے لیے بھجوایا۔ بلب اُس زمانے میں 30 روپے کا تھا۔ الیکٹریشن بلب کے بہانے آدھا دن گل کر کے وہاں سے آیا۔ 70 روپے کا "Conveyance Bill” بل ڈالا اور یہ فیوز بلب بنک کو 100 روپے کا پڑا۔ اگر الیکٹریشن کی آدھی دیہاڑی شامل کی جائے، تو وہ بھی 50 روپے بنتی ہے…… یعنی 150 روپے تک معاملہ چلا گیا۔ یہ ہماری معاشرتی دیگ سے نکلا ہوا صرف ایک چاول کا دانہ ہے!
اعوان صاحب نے مجھے پوری طرح گائیڈ کیا کہ مَیں موٹر وے سے واہ کینٹ والے "Exit” براہمہ باہتر انٹرچینج M-1 پر آؤں اور "Shell” کے پٹرول پمپ (مین جی ٹی روڈ) باہتر موڑ پر انتظار کروں…… جہاں اُن کا سرکاری ڈرائیور ظہیر مجھے لینے آ جائے گا۔ لاہور سے ایک دوست (جنہوں نے اپنا نام صیغۂ راز میں رکھنے کی نرمی سے ہدایت کی ہے) اپنی ’’فیملی‘‘ کے ساتھ اسلام آباد آرہے تھے۔ انہوں نے مجھے لاہور سے 3 اور 4 دسمبر کی درمیانی شب رات 3 بجے (ویسے تو اس وقت ہمارے ملک میں مارشل لا آتے ہیں) اپنے ساتھ لیا اور مجھے "Out of way” جاتے ہوئے صبح سوا آٹھ بجے ’’براہمہ باہتر انٹر چینج‘‘ کے پار جی ٹی روڈ پر ’’باہتر موڑ‘‘ پر اُتار دیا۔ مَیں نے احمد اعوان صاحب کو اپنے پہنچ جانے کی اطلاع دی، تو انہوں نے ڈرائیور ظہیر صاحب کو "Cultas” (وائٹ) پر مجھے ’’پِک کرنے کے لیے بھیج دیا۔ جی ٹی روڈ پر صبح کا رش ہی رش تھا۔ سڑک "Bumpy” سی تھی۔ موٹر وے اور جی ٹی روڈ کا فرق صاف ظاہر تھا۔ جی ٹی روڈ پہلی اور پرانی بیوی تھی جب کہ موٹر وے نئی نویلی دلہن تھی…… جس کے نخرے بھی بڑے تھے۔ جی ٹی روڈ تو کفایت شعاری اور سلیقہ مندی کے درجنوں عشرے باعزت طور پر گزار گئی، مگر موٹر وے تو خرچہ ہی خرچہ ہے۔ امیروں کے چونچلے۔ جی ٹی روڈ ہمارے بزرگوں کی پسند تھی اور موٹر وے ہمارے گنجے نوجوانوں کی پسند ہے…… جن کے باقی ماندہ بال بھی قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ملکی آمدن صرف بالوں کو خضاب سے سیاہ رکھنے پر خرچ ہوتی ہے یعنی ٹیپ ٹاپ اور شو شا کے لیے۔
احمد اعوان صاحب نے میری رہائش کا انتظام "Ordinance Club Wah” کے بالکل سامنے واقع "G.M. Mess” میں کر رکھا تھا۔ یہ ایک شان دار ’’سیٹ اَپ‘‘ تھا۔ میرے لیے موسم معتدل ہی تھا…… قریب قریب لاہور جیسا۔ مجھے روم نمبر 44 الاٹ کیا گیا…… جس کے قریب ہی میس کا کچن بھی تھا۔
کمرہ بڑا ’’وی آئی پی‘‘ اور فُور سٹار ہوٹل ٹائپ تھا۔ کمرے سے متصل حصہ (کمرہ) ایسا تھا کہ جہاں اور بھی مہمان بلائے اور بٹھائے جاسکتے تھے اور میٹنگز کی جاسکتی تھیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک سویٹ کی مانند تھا۔ میرے ذہن میں بھی تھا کہ اس کی تعمیر میں بہترین فوجی دماغ شامل ہے، تو یہاں کسی ضروری چیز کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوگی…… مگر اپنے کپڑے ٹانکنے کے لیے ایک ’’کِلّی‘‘ کی ضرورت مجھے شدت سے محسوس ہوئی۔ الماری میں کپڑے لٹکانے کے لیے راڈ تو لگا تھا…… مگر وہاں ہینگر نہیں تھے۔ حتیٰ کہ "Cliff Hanger” بھی نہیں تھا۔ خیر میں اکیلا بندہ تھا۔ اس لیے زیادہ مسئلہ نہیں ہوا۔ ویسے بھی سادہ بندہ ہوں۔ اپنے میزبانوں کو کسی مشکل میں ڈالنا میری عادت نہیں۔ نہ میں کسی سے اُن کی شکایت کرتا ہوں۔
حضرت حاجی مستنصر حسین تارڑ (منہ ول کعبے شریف/ غارِ حرا میں ایک رات فیم) نے اپنے آسٹریلیا کے سفر نامے میں اپنے میزبان کے بارے میں یہ الفاظ لکھے: ’’میرے آسٹریلوی میزبان نے مجھے اور میمونہ کو سونے کے لیے جو فوم کا گدا دیا، وہ اتنا چھوٹا تھا کہ کبھی میں اور کبھی میمونہ سائیڈ سے گر پڑتے تھے۔‘‘
اتفاق سے میری ملاقات تارڑ کے آسٹریلوی میزبان سے بھی ہو گئی جو کراچی میں 2019ء کی کراچی آرٹس کونسل کی ادبی کانفرنس میں بھی آئے ہوئے تھے۔ وہ تارڑ کو جواب دینے کے لیے تارڑ کی تلاش میں تھے…… جنہوں نے وہاں آنا تو تھا…… مگر ’’بوجوہ‘‘ وہاں نہیں آئے۔ کیوں کہ فضا میں عزت اور بے عزتی کا تناسب 50/50 تھا۔ مجھے اس ٹور کا سفرنامہ بھی لکھنا ہے۔ محمود شام صاحب (گروجی) نے کہہ بھی رکھا ہے…… مگر وہ ابھی لکھ نہیں پایا۔
تارڑ صاحب کے آسٹریلیا والے اس سفر نامے کا ریڈر اُن سے یہ سوال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے کہ آپ کو کس نے کہا تھا مخالف سمت میں کروٹ بدل کر سونے کو؟ اس طرح سونے کے یہی نتایج لامحالہ ہوتے ہیں۔ میزبان سے گلہ کیسا؟
میری واہ کینٹ میں آمد جمعتہ المبارک کے دن ہوئی تھی۔ احمد اعوان صاحب کی زیرِ ہدایت مجھ سے کچن والوں نے ناشتے کا پوچھا۔ مَیں نے ہاف فرائی انڈے، پراٹھے اور پھیکی چائے کا کہہ دیا۔ اتنی دیر میں ہاتھ منھ دھو کر، ٹوتھ پیسٹ کر کے فریش ہوگیا۔ انڈا نہ صرف میرا من پسند ہاف فرائی تھا…… بلکہ پلیٹ پر پلاسٹک کی بہت مہین سی شیٹ بھی لگائی گئی تھی…… جو مجھے محسوس نہ ہو سکی۔ میری نظر میں انڈا، ننگا تھا۔ مَیں نے اُس پر جب نمک اور کالی مرچ چھڑکی، تو اندازہ ہوا کہ انڈے کے اوپر بھی کچھ اور ہے۔ اپنی حماقت پر ہنسی بھی آئی اور شرمندگی بھی ہوئی۔ خیر گزری کہ یہ معاملہ اُس وقت صرف اللہ اور بندے ہی کے درمیان تھا جو اَب اس سفرنامے کی صورت میں ’’پبلک‘‘ ہو رہا ہے۔ خیر، مَیں نے فرائی انڈے کے پلاسٹک والے گھونگھٹ کو پلیٹ سے علاحدہ کیا۔ پراٹھا لال اور کڑک تھا۔ اس کا انڈے کے ساتھ اچھا ’’کمبی نیشن‘‘ بن گیا۔ 10 بجے کے قریب اعوان صاحب مجھے اپنے گھر لے جانے کے لیے آگئے۔ کمرہ لاک کیا اور اُن کے ساتھ اُن کی گاڑی پر اُن کے سرکاری بنگلے پر پہنچا۔ ڈراینگ روم اچھے ذوق اور سلیقے کا آئینہ دار تھا۔ اعوان صاحب آرٹ سے بھی لگاو رکھتے ہیں۔ یہ وہاں جا کر پتا چلا۔ کارنس پر کئی ’’سوینیر‘‘ اور ’’شو پیس‘‘ بڑی خوب صورت ’’لایٹنگ‘‘ کے ساتھ اپنی اہمیت دکھا رہے تھے۔ اعوان صاحب مجھ سے اجازت لے کر جمعہ پڑھنے چلے گئے اور میں اس دوران میں ڈراینگ روم کا بھرپور جایزہ لیتا رہا۔
اعوان صاحب کا گھر صراطِ مستقیم پر نہیں تھا۔ اس لیے ہم ’’جی ایم میس‘‘ (G.M. Mess) سے سیدھے یہاں نہیں آئے تھے۔ پہلے مجھے اسلحہ ساز (کارتوس) فیکٹری اندر سے دکھائی گئی…… جہاں مختلف رنگوں، مختلف سایز کے کارتوس تیار کرنے کے مراحل دکھائے گئے۔ کارتوس دیکھنے میں کتنا سادہ سا نظر آتا ہے، مگر اُس کے اندر بھی ایک میکنزم ہوتا ہے جو پہلی بار مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ کارتوس فیکٹری اعلا ترین اٹالین ٹیکنالوجی کا شاہکار تھی۔ یہاں بننے والے مختلف رینج کے کارتوس نہ صرف پاک فوج استعمال کرتی تھی بلکہ یہ سول کو بھی فروخت کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ یہ کارتوس بیرونِ ملک بھی برآمد کیے جاتے ہیں۔
یہ دورہ بڑا معلوماتی اور دلچسپ تھا۔ یہاں سے ہم ’’گالف کلب‘‘ واہ کینٹ آ گئے۔ یہ پاکستان کے اچھے گالف گراؤنڈز میں شمار ہوتا ہے۔ چوہدری محبوب احمد آف گوجرانوالہ اس گالف کورس کے نگران ہیں…… اور اپنے فرایض ایمان داری اور خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہے ہیں۔ یہاں ایک چھوٹا سا چڑیا گھر بھی موجود ہے۔ اس گالف کلب کی ممبر شپ واہ کینٹ کے ملازمین کے لیے بڑی واجبی سی رکھی گئی ہے۔ گالف، اُمرا کا کھیل ہے۔ اس لیے اس سے وابستہ افراد معاشرے میں عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ گالف خواتین و حضرات یکساں دلچسپی سے کھیلتے ہیں۔ واہ گالف کلب میں ایسی کوئی خاص بات ہے ضرور جس کی وجہ سے لوگ دور دور سے یہاں گالف کے لیے آتے ہیں۔ مجھے گالف کے بارے میں بہت کچھ یہاں آ کر ہی پتا چلا۔ میری فرمائش پر چوہدری محبوب صاحب (گوجرانوالہ) نے مجھے گالف گیند دورے کی یادگار کے طور پر بڑی محبت اور خلوص کے ساتھ پیش کی جو مَیں نے سنبھال کے رکھ لی ہے۔
گالف کے بارے میں باتیں کرتے کرتے چوہدری صاحب نے کافی کے ساتھ سینڈوچ اور دیگر لوازمات منگوا لیے۔ گپ شپ کے بعد اعوان صاحب یہاں سے مجھے اپنے گھر لے گئے۔ اعوان صاحب جیسے ہی جمعہ پڑھ کر واپس گھر آئے…… انہوں نے دوپہر کا کھانا لگوا دیا۔ کھانا میرے کہنے پر سادہ رکھا گیا تھا۔ کیوں کہ مَیں اپنے شہر سے (گھر سے) باہر کھانے پینے کی احتیاط کرتا ہوں۔ چائے اعوان صاحب نے اپنے گھر پر نہیں پلوائی…… بلکہ واہ کینٹ کے مشہور چائے کے ہوٹل (گِدڑ ہوٹل) لے گئے۔ اس ہوٹل پر نام تو کچھ اور ہی لکھا تھا…… مگر اسے ’’گِدڑہوٹل‘‘ ہی کے نام سے جانا اور مانا جاتا ہے۔ مجھے یہ معاملہ ’’فیصل مسجد چوک‘‘ اسلام آباد جیسا لگا جسے ’’جبڑا چوک‘‘ کہا جاتا ہے، جنرل ضیاع کے مزار کی وجہ سے۔ عوام کو کون روک سکتا ہے!!!
گِدڑ ہوٹل پر اپنے رایٹر دوست اعجاز صاحب کو بھی بلوا لیا جو پہلے حویلیاں والی واہ فیکٹری میں کام کرتے تھے (اُن سے پہلی بار میں حویلیاں ہی میں ملا تھا) اور پھر وہاں سے یہاں ٹرانسفر ہوگئے۔ یوسف زئی پٹھان ہیں اور بہت پیارے انسان ہیں۔ ’’پختون سماج‘‘، ’’صوفی کون؟‘‘ اور ’’خامہ بدوش‘‘ جیسی منفرد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ’’پختون سماج‘‘ پختونوں کے حوالے سے تحقیقی اور تنقیدی کتاب ہے۔ اس میں تاریخ بھی ہے اور کچھ نئے زاویے بھی۔ اس کتاب کا اپنا ایک حلقہ ہے جو اسے بہت پسند کرتا ہے اور آگے اس کا حوالہ بھی دیتا ہے۔ ’’صوفی کون؟‘‘ بھی جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ صوفی اور تصوف کے معاملات کو زیرِ بحث لاتی ہے جو کئی مقامات پر نازک بھی ہو جاتے ہیں۔ مَیں تو اس کتاب کو ’’دعوتِ فکر‘‘ کا نام دوں گا۔ اب قاری باشعور ہوچکا ہے۔ وہ اندھی تقلید کا قایل نہیں رہا۔ میڈیا نے ہمارا ذہن بند کرنے کی بہت کوشش کی…… مگر ناکام رہا۔ اعجاز صاحب جیسے رایئٹر جب تک سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی خدمت سرانجام دیتے رہیں گے، مایوسی ہمارے قریب نہیں بھٹکے گی۔
’’خامہ بدوش‘‘ مزاحیہ اور فکاہیہ تحریروں پر مشتمل ہے۔ اس میں اُسی جرات کا مظاہر کیا گیا ہے جو ایک ایمان دار سرکاری ملازم کرسکتا ہے۔ اس کتاب کا کمپیوٹر پرنٹ مَیں نے اپنے دورۂ حویلیاں میں دیکھا تھا اور اس میں کچھ ترامیم کی سفارش کی تھی۔ اعجاز صاحب سفارش پر یقین نہیں رکھتے…… اس لیے انہوں نے 2018ء میں یہ کتاب شایع کر دی اور مجھے بھجوا بھی دی۔ مَیں اُن دنوں لاہور گیریژن یونیورسٹی، ڈی ایچ اے لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر تھا۔ بہت زیادہ مصروفیت تھی۔ میرا کوئی ادب نواز شاگرد ’’خامہ بدوش‘‘ میرے کمرے سے لے گیا اور مَیں اُس پر بھرپور تبصرہ نہ کرسکا۔ آج سب کچھ ذہن میں Re-Fresh ہوا، تو یہ چند سطور تحریر کر دیں۔
اعجاز صاحب، چائے کے ساتھ کھانے کے لیے فروٹ کیک اور بسکٹ وغیرہ لے کر آئے تھے۔ احمد اعوان صاحب کے قیلولے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ وہ مجھے اعجاز صاحب کی سپرداری میں دے کر رخصت ہوئے۔ واہ کینٹ میں احمد اعوان صاحب، اعجاز صاحب کے افسر رہ چکے تھے۔ اس لیے اعجاز صاحب اُن کے سامنے ’’ریزرو‘‘ سے رہے…… مگر اُن کے جاتے ہی "Off the Record” باتیں ہونے لگیں۔ گِدڑ ہوٹل کے بارے میں پہ پتا چلا کہ تیس چالیس سال قبل یہاں چائے پینے کے دوران گیدڑ آ جاتے تھے جو چائے پینے والوں کو ڈراتے تھے کہ وہ چائے چھوڑ کر دوبارہ لسّی کی طرف آ جائیں…… جو انگریزی اثرونفوذ سے پہلے پورے پنجاب کا مقبول ترین مشروب تھی۔ چائے تو ہمیں انگریز نے زبردستی لگائی۔ پاکستانی مشہور پنجابی فلم ’’ملنگی‘‘ (اکمل اور شیریں) میں چائے کے حوالے سے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اُس زمانے میں مفت چائے کے ساتھ "Peak Freans” کے انگلش بسکٹ بھی فری ہی میں دیے جاتے تھے۔ لوگ چائے نالی میں اُنڈیل دیتے اور بسکٹ ذوق و شوق سے کھا لیتے۔ ہم تو انگریز کو پان اور حقہ نہ لگا سکے، مگر وہ ہمیں چائے اور سگریٹ لگا کر چلا گیا۔ یہ فرق ہوتا ہے آقا اور غلام کا۔ انگریز ہندوستان اور سری لنکا سے چائے خرید کر اپنے برانڈ "Lipton” اور "Brook Bond” کے ذریعے ہمیں ہی فروخت کرتا رہا۔ ملکۂ برطانیہ چائے کی اس قدر شوقین ہے کہ دو پونڈ چائے سے اُس کے لیے چائے کا صرف ایک کپ تیار کیا جاتا ہے!
پاکستانی قوم لسّی کی طرف واپس آنا چاہتی تھی…… مگر یہ کوشش عطاء الحق قاسمی نے لسّی کو ’’جامِ جہالت ‘‘ کا نام دے کر ناکام بنا دی۔ انہیں یہ احساس تک نہ ہوا کہ لسّی اُن کے محسن ’’نواز شریف‘‘ کا فیورٹ مشروب ہے۔
اعجاز صاحب اور مَیں نے شیروں جیسی شان کے ساتھ ’’گِدڑ ہوٹل‘‘ میں چائے پی۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ واہ کینٹ جیسی جگہ پر گیدڑوں کا کیا کام؟ اعجاز صاحب گِدڑ ہوٹل سے واپسی پر مجھے اپنا گھر دکھانے لے گئے۔ اُن کا گھر احمد اعوان صاحب کے گھر کے مقابلے میں تو چھوٹا تھا…… مگر اعجاز صاحب نے اپنی ذاتی توجہ اور محنت سے اس گھر کا لان بہت خوب صورتی سے سجا اور سنوار رکھا تھا۔ وہاں مالٹے اور چکوترے بھی لگے تھے…… مگر انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی وفات (10 اکتوبر 2021ء) اتوار والے دن بہت ژالہ باری ہوئی جس سے ان پھل دار پودوں کا بڑا نقصان ہوا۔ فینسی پودوں کو بچانا بھی مشکل ہوگیا۔ وہ خود بڑی مشکل سے گھر میں داخل ہوئے اور جسمانی نقصان سے بچ گئے۔ اُن کے گھر کے اسی لان کو واہ کینٹ بورڈ کی طرف سے انعام ملا تھا اور جنرل صاحب نے اُن کے گھر کا دورہ بھی کیا تھا۔ اعجاز صاحب نے اپنے موبائل سے میری کچھ تصویریں بھی اُتاریں۔ وہ مجھے واپس چھوڑنے ’’جی ایم میس‘‘ آئے۔ انہوں نے نمازِ مغرب میرے ہی کمرے میں ادا کی اور پھر کچھ دیر گپ شپ کے بعد رخصت ہو گئے۔
پونے آٹھ بجے احمد اعوان صاحب کا فون آیا کہ میں آپ کو لینے آ رہا ہوں۔ آپ کو واہ آرڈننس کلب لے چلتے ہیں۔ جب اعوان صاحب نے سڑک کراس کر کے ’’یُو ٹرن‘‘ لیا، تو کلب سامنے ہی تھا۔ مجھے شدید حیرت ہوئی: ’’اعوان صاحب! آپ مجھے ادھر آنے کا کہہ دیتے۔ مَیں پیدل ہی سڑک کراس کر کے آ جاتا۔ تھوڑی سی واک ہی ہو جاتی۔‘‘ اعوان صاحب مسکرائے: ’’آپ ہمارے خاص مہمان ہیں۔ آپ کو پروٹوکول دینا میرا فرض بنتا ہے۔‘‘ اس پر مَیں اور کیا کہتا! کلب شان دار تھا۔ ماحول خوش گوار تھا۔ اعوان صاحب مجھے فرسٹ فلور پر واقع لایبریری میں لے گئے۔ نوجوان لایبریرین فیصل نے ہمارا استقبال کیا۔ انہوں نے لایبریری کو اچھے طریقے سے سنوار رکھا تھا۔ کمپیوٹر سے دیکھنے پر پتا چلا کہ میری بھی چار کتابیں وہاں موجود ہیں۔ میری آپ بیتی کی ساتویں قسط (نومبر 2021ء) والا ماہنامہ ’’حکایت‘‘ لاہور بھی وہاں موجود تھا۔ لایبریری میں اعوان صاحب کے دو زبردست دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ ایک تو جاوید اقبال اعوان صاحب تھے جو "3-W GROUP” کے ’’سی ای اُو‘‘تھے اور دوسرے خلیل الرحمان صاحب تھے…… جو کاروں کا کاروبار کرتے تھے۔ خوب گپ شپ ہوئی۔ پہلے سوپ آیا۔ پھر کھانا اور چائے کے لیے ایک بار پھر گِدڑ ہوٹل کی راہ لی۔ واہ کینٹ وہ پہلی جگہ تھی جہاں میں نے گیدڑ کی اتنی عزت افزائی دیکھی۔ ورنہ عالمی سطح پر گیدڑ کا نام آپریشن: "Mid Night Jackal” کے ذریعے ہی سامنے آیا تھا۔ گیدڑ کون تھا؟ شیر کون تھا؟ یہ ایک لمبی بحث ہے جس کا متحمل یہ ملوکڑا سفر نامہ نہیں ہو سکتا۔
اگلے دن ہفتے کو احمد اعوان صاحب کی دفتر سے چھٹی تھی۔ وہ دن انہوں نے مجھے گندھارا تہذیب پر اپنی ذاتی حیثیت میں کام کرنے والے ماہرِ آثار قدیمہ ایاز کیانی کے فارم ہاؤس پر لے جانے کے لیے مختص کر رکھا تھا۔ اعوان صاحب کے ساتھ گاڑی میں ٹیکسلا کے لیے نکلے تو باہر جی ٹی روڈ پر رش تھا جس کی وجہ سے ذرا ہٹ کر نئے رستے سے آنا پڑا۔ ٹیکسلا میں بھی سڑک پر ٹرکوں کا بہت رش تھا۔ سڑک تنگ تھی۔ یہ ٹرک ماربل سے لوڈ تھے۔ اس لیے ٹریفک بہت سست رفتار تھی۔ ٹیکسلا میں پتھر کا کام بہت ہوتا ہے۔ اس لیے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ ابھی تک پتھر ہی کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایشیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ٹیکسلا ہی میں واقع ہے جہاں کا مشہور ترین استاد ’’کوٹلیہ چانکیہ‘‘ تھا جس نے دنیا کی مشہور کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ بھی لکھی۔ ٹیکسلا میوزیم کی اصل دولت بُدھا کے مجسمے تو بیرونِ ملک سمگل ہوگئے۔ اب تو اُن کی نقلیں ہی باقی بچی ہیں!
رش سے بچنے کے لیے اعوان صاحب نے رستہ بدل لیا۔ کار کے کمپیوٹر پر اُنہیں رستہ بتانے والی چیختی چلاتی ہی رہ گئی۔ جب وہ رستہ بتا بتا کر تھک ہار گئی، تو ہمیں اچانک اُس ہاؤسنگ سوسائٹی (Wake Field Gardens Khanpur) کا مین گیٹ نظر آ ہی گیا جس کے اندر ایاز کیانی صاحب کا فارم ہاؤس (3-D) تھا۔ جس کا کالے پتھر کا بنا ہوا سنگِ بنیاد ہی بڑا خوب صورت تھا جس پر مور کے خط و خال اُبھارے گئے تھے۔ جہاں قسم قسم کے مالٹے لگے تھے اور جالی دار تار کے اندر ہرن بھی تھا۔
ایاز کیانی صاحب کے دوست ڈاکٹر ندیم عمر صاحب بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔ خوب گپ شپ ہوئی۔ ہمیں فارم ہاؤس کے درختوں سے اُتارے ہوئے مالٹے کھلائے گئے۔ اس وقت مالٹے کی قسم ’’شکری‘‘ تیار تھی۔ ریڈ بلڈ مالٹا تیار ہونے میں ابھی وقت تھا۔ مالٹوں کو رس پڑنے کے لیے موسمِ سرما کی ایک بھرپور بارش کا شدت سے انتظا ر تھا۔ گندھارا تہذیب سے دلچسپی رکھنے والی ایک خاتون اپنی کورین سہیلی کے ہمراہ فارم ہاؤس آنے کے لیے رستے کی تلاش میں بھٹک رہی تھی۔ آخر وہ بھی رُل کُھل کر فارم ہاؤس آن پہنچی۔
ایاز کیانی صاحب نے لمبے بالوں والی ایک چھوٹے قد والی کُتیا (نام نادرا سے تو پوچھ نہیں سکتا، غالباً ڈیزی) پال رکھی تھی۔ وہ تو بے چاری بڑی شائستگی سے مہمانوں کو پورا پروٹوکول دیتی تھی۔ اُن کے قدم چومتی یا سونگھتی تھی۔ مہمان جو ایسے پروٹوکول کے عادی نہ تھے گھبرا کر ٹانگیں اُٹھا لینے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ ’’ڈیزی‘‘ کی آنکھوں پر بھی لمبے بال تھے۔ اس لیے اُس کا چہرہ بھی نظر نہیں آتا تھا۔ بے چہرہ انسان ہو یا جانور، خوف زدہ کر دیتا ہے۔ وہ تو کالے پتھر کے بے چہرہ مجسمے ہی ہیں جو چہرہ کسی مسلمان کے ہاتھوں تڑوانے کے باوجود جاپان میں اچھی قیمت پاتے ہیں۔ ’’وقت اور مقام بدل دینے سے ہر چیز کی قدر و قیمت میں کمی، بیشی واقع ہو جاتی ہے!‘‘ یہ عرفانی تھیوری ہے۔
مالٹوں کے بعد چائے اور سموسے آگئے۔ ’’ڈیزی‘‘ کی طرف سے پاؤں سونگھنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ایاز کیانی صاحب کی لایبریری اور مجسموں کی ’’کولیکشن‘‘ بھی بہت عمدہ تھی۔ پیسا تو بہت لوگوں کے پاس ہوتا ہے…… مگر پیسے کے ساتھ عقل، شعور اور ’’آرٹسٹک اپروچ‘‘ ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔ سردیوں کا ایک خوب صورت دن گزار کر ہم یہاں سے واپس ہوئے۔ رستے میں ٹیکسلا کے پاس اعوان صاحب کے دوستوں کا مالٹے کا باغ تھا۔ انہیں فون کیا تو انہوں نے فوراً آنے کو کہا۔ یہ باغ دو بھائیوں الطاف اور امین کا مشترکہ تھا۔ اُن کے باغ میں ’’ریڈ بلڈ مالٹا‘‘ بھاری تعداد میں لگا تھا۔ ہم نے باغ کا دور ہ کیا۔ ژالہ باری سے اُن کے باغ کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ انہوں نے باغ ٹھیکے پر دے دیا تھا۔ ٹھیکیدار باغ ہی میں پرالی سے عارضی ٹھکانا بنا کر رہایش پذیر تھا۔ ژالہ باری سے مالٹوں پر داغ سے پڑگئے تھے جن کی وجہ سے اُن کی قیمت کم ہوگئی تھی۔ قدرتی آفات پر کسی کا اختیار نہیں۔ یہ نصیبوں کی بات ہے۔
الطاف اور امین میں سے کسی کی شادی مارچ میں متوقع تھی۔ شادی کی مناسبت سے گھر کو رنگ و روغن بھی کیا گیا تھا اور ایک پورشن نیا تعمیر کیا گیا تھا۔ بے دریغ مالٹے کھانے کے نتیجے میں مجھے ’’واش روم‘‘ جانا پڑگیا اور مَیں نے ہی اُن کے نئے نکور واش روم کا ’’افتتاح‘‘ کیا۔
الطاف/ امین برادران تو ہمیں کھانے کے لیے بہت روک رہے تھے…… مگر ہم چائے بسکٹ کے بعد رخصت ہوئے۔ واپس واہ آکر کلب میں شان دار ’’ڈنر‘‘ کیا۔ مَیں نے اعوان صاحب کو بتا دیا کہ صبح ناشتے کے بعد میں مانسہرہ روانہ ہو جاؤں گا…… جہاں مجھے آگے شنکیاری چائے کے باغات دیکھنے جانا ہے۔ اعوان صاحب مجھے شب بخیر کہہ کر چلے گئے۔
واہ میں قیام کے دوران ہی میں میرے ذہن میں خیال آیا کہ ’’جس شاعر‘‘ نے بھی ’’واہ، واہ‘‘ کروانی ہو وہ ’’واہ‘‘ چلا آئے۔ البتہ یہ احتیاط رہے کہ یہاں حیات نامی کوئی بندہ بھول کر بھی نہ آئے…… ورنہ لوگ اُسے واہیات کہیں گے۔
صبح راولپنڈی سے اَدبی دوست عبدالخالق صاحب اپنے دوست کے ہمراہ مجھے ملنے ’’جی ایم میس‘‘ آئے۔ ناشتہ اُن کے ساتھ ہی کیا اور وہ گپ شپ لگا کر رخصت ہوئے۔ 11 بجے احمد اعوان صاحب تشریف لائے اور ’’واہ آرڈی ننس فیکٹریز‘‘(Wah Ordinance Factories) کا شان دار سوینیر مجھ جیسے سویلین کو پیش کیا۔ اعوان صاحب نے مجھے یہ بھی بتایا کہ یہ وہ خاص سوینیر ہے جو جنرل، جنرل کو پیش کرتے ہیں…… مگر میری نظر میں آپ کا مقام کسی جنر ل سے کم نہیں۔ آپ اَدبی محاذ کے جنرل ہیں۔ احمد اعوان کے اس خراجِ تحسین نے میرا ٹھنڈا پڑتا ہوا خون سیروں بڑھا دیا۔ احمد اعوان نے اپنی خاص محبت او رخلوص کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوینیر پر میرا اور اپنا نام بھی کندہ کروا دیا تھا۔ احمد اعوان کو جانے کیسے پتا چل گیا تھا کہ مَیں دوستوں کے دیے ہوئے تحفے آگے دوسرے دوستوں کو دے دیتا ہوں۔ بہت کم تحفے خود رکھتا ہوں۔ میرا اور اپنا نام کندہ کرکے اعوان نے یہ تحفہ کسی اور کو دینے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تھی۔ سوینیر واہ فیکٹری میں بنی ہوئی تین مختلف سائز کی گنز کے ماڈلز پر مشتمل ہے اور بڑے خوب صورت مخملیں کیس میں رکھا ہوا ہے۔ جس جس دوست نے دیکھا اُس نے اس کی بہت تعریف کی۔
احمد اعوان صاحب نے اپنی گاڑی پر مجھے حسن ابدال اڈے پر چھوڑا…… جہاں مانسہرہ جانے والی وین روانگی کے لیے تیار کھڑی تھی۔ احمد اعوان صاحب مجھے وین پر سوار کرا کر اپنی گاڑی موڑ ہی رہے تھے کہ ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی۔ اتوار کی رات کو بھی علامتی سی بارش ہوئی تھی۔ حسن ابدال سے مانسہرہ پہنچنے تک سارے رستے ہی بارش ہوتی رہی۔ موسمِ سرما کی پہلی بارش تھی۔ سبھی کو اس کا انتظار تھا۔ مالٹوں میں رس بھرنے کا وقت آگیا تھا۔ سخت سردی میں پڑنے والا کورا بھی مالٹوں کے لیے آبِ حیات تھا۔
حسن ابدال سے مانسہرہ کے رستے میں دو، چار جگہ سرنگیں بھی آئیں۔ بچے تو بچے میں بھی ویگن کے سُرنگ میں ڈوب جانے اور پھر اُبھر آنے کو انجوائے کر رہا تھا۔ بارش نے اِردگرد کے مناظر میں بھی رنگ بھر دیے تھے۔ موٹر وے نے رستہ بھی خاصہ آرام دہ اور شارٹ کر دیا تھا۔
حسن ابدال سے 12 بجے چلے تھے اور پونے دو بجے پر وین مجھے مانسہرہ کے لاری اڈے کے پاس ’’رایل بیکری‘‘(Royal Bakery) کے قریب اُتار چکی تھی…… جہاں مجھے میرے میزبان مسرور احمد صاحب نے اُترنے کو کہا تھا۔ بارش بدستور جاری تھی۔ سردی اچانک بڑھ گئی تھی۔ مجھے سردی زیادہ محسوس نہیں ہوتی…… مگر اب ایسا لگ رہا تھا۔ مسرور صاحب مجھے ’’ڈایرکٹ‘‘ اپنے گھر بفہ نزد ہزارہ یونیورسٹی لے جانا چاہ رہے تھے…… مگر میرا ’’شعر و سخن‘‘ سہ ماہی کے ایڈیٹر جان عالم سے ملنے کا وعدہ تھا۔ اُن کی بھی کال پر کال آ رہی تھی۔ مسرور صاحب اپنے دوست کے ساتھ سوزوکی ڈبے پر آئے تھے۔ مَیں نے انہیں جان عالم کی طرف چلنے کو کہا۔ وہ جان عالم سے مل چکے تھے۔ اس لیے کچھ ہی دیر بعد ہم جان عالم کے سکول پہنچ گئے…… جو مانسہرہ شہر کے قلب میں اہم سرکاری دفاتر کے درمیان تھا۔
جان عالم ہمیشہ کی طرح بڑے تپاک سے ملے۔ ہمیں اپنے سکول کا وزٹ کرایا جو اب پہلے سے بہت بہتر ہو چکا تھا۔ سکول کی یہ ترقی دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ترقی دیکھ کر مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے کہ مَیں اپنی فطرت میں ترقی پسند ہوں۔ ترقی پسندی کا ٹیگ خود پر نہیں لگاتا…… مگر عملی طور پر پورا ترقی پسند ہوں۔ سکول کا وِزٹ کروانے کے بعد جان عالم ہمیں ’’لنچ‘‘ کروانے مرکزی شاہراہ کشمیر پر واقع ایک اچھے ریسٹورنٹ پر لے گئے اور ہم سب سے پوچھ پوچھ کر ہمارا من پسند آرڈر دیتے رہے۔ ہلکی پھلکی گفتگو چلتی رہی۔ اسی دوران میں بارش اور تیز ٹھنڈی ہوا بھی چلتی رہی۔ ’’غنیمت ہے جو ہم صورت یہاں دو، چار بیٹھے ہیں!‘‘ لنچ کرنے والے ہم چار ہی تھے۔ جان عالم کو اُن کے سکول اُتارا، اور رخصت ہوئے۔
سوزوکی ڈبہ ہمیں لے کر اونچے نیچے رستوں پر ’’بفہ‘‘ کی طرف روانہ ہوا۔ سردی نے مجھے سُکڑ کر تارڑ نما کُکڑ بننے پر مجبور کر دیا۔ چوٹی پر واقع مسرور صاحب کے گھر میں داخل ہوتے ہوتے سردی کی وجہ سے میرا کانبا چھڑ چکا تھا۔ مسرور صاحب نے اپنی گرم چادر والی خلعت مجھے اُوڑھا دی اور خود گرم جیکٹ زیب تن کرلی۔ کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد ہم شام سے پہلے پہلے گاؤں بانڈہ پیراں کا چکر لگانے نکلے۔ سامنے خزاں رسیدہ درختوں کی قطاریں تھیں۔ سورج ڈوبنے کی تیاری میں تھا۔ گاؤں کی مٹی بہت چکنی تھی۔ مَیں نے جاگرز پہن رکھے تھے۔ اس لیے بہت ایزی تھا۔ بچ بچا کر ہم دریائے سرن کے کنارے پہنچے۔ مسرور صاحب نے وہاں اُس سرکاری جگہ کی نشان دہی کی جہاں وہ گاؤں والوں سے مل کر لڑکیوں کا ایک سیکنڈری سکول بنانے کی دیرینہ خواہش رکھتے تھے۔ جگہ یعنی لوکیشن بہت اچھی تھی۔ اب مَیں نے اس جگہ کا وزٹ ’’پاک آسٹریلیا فرینڈ شپ‘‘ کے صدر ارشد نسیم بٹ جاوید کو کروانا تھا، تاکہ اُن کی تنظیم اس سکول کی تعمیر میں گاؤں والوں کا ساتھ دے سکے۔ یہ دریا سیلابی دنوں میں زیادہ سے زیادہ کتنا اوپر چڑھ آتا ہے؟ اور یہ یہاں سے جاتا کہاں ہے؟ ‘‘ مسرور صاحب سے مَیں نے سوال کیا۔ ’’ہمارا سکول خاصا اوپر ہو گا۔ دریا کا پانی کبھی سکول تک نہیں آئے گا۔ دریائے سرن دربند کی طرف تربیلا جھیل میں جا گرتا ہے او ر تربیلا کی طاقت ہے۔‘‘ شام رات میں ڈھلنے کے قریب تھی۔ دو وقت ملا چاہتے تھے، ہم دونوں گھر واپس آ گئے۔
میزبان کو یہ سمجھانا کہ مَیں بہت کم کھاتا ہوں۔ میرے لیے ہمیشہ مشکل ہی رہا ہے۔ احمد اعوان صاحب تو یہ بات سمجھ گئے تھے کہ میرا وزن 69 پر کیسے قائم ہے اور وہ خود 90 کے کیسے ہیں؟ مگر مسرور صاحب کو سمجھانا مشکل ہو رہا تھا۔ میرے نہ نہ کرتے کرتے بھی انہوں نے میرے آگے اشیائے خور و نوش اور پھلوں کا ڈھیر لگا دیا۔ دوپہر کو جان عالم نے سُپر قسم کا لنچ کروایا تھا۔ اب زیادہ کھانے کی گنجایش بالکل بھی نہیں تھی۔ اُستادِ محترم ڈاکٹر مرزا حامد بیگ صاحب کی طرح بچ بچا کر کھانے کا آرٹ مجھے تو نہیں آتا۔ خیر گزری جو رات کو سکون کی نیند آئی اور کھایا پیا ہضم بھی ہوگیا، یہ کیا؟ مسرور صاحب کے واش روم میں بھی کھونٹی نہیں لگی تھی۔ ’’جی ایم میس‘‘ والوں سے تو شکایت نہیں کی تھی، مگر مسرور صاحب کے گوش گزار یہ معاملہ کر دیا۔ سادہ اور معصوم سے بندے ہیں۔ اپنی کوتاہی کا فوری اعتراف کر لیا اور یقین دلایا کہ اگلی مرتبہ کھونٹی لگی ہو گی۔
صبح کا ناشتہ تو بہت جبرون تھا۔ دیسی گندم کے جان دا ر پراٹھے، خالص دودھ کی بالائی، ایرانی شہد، خالص دودھ کی چائے اور انڈا…… ڈٹ کر ناشتہ کیا اور مسرور صاحب کے ساتھ بانڈہ پیراں کی گلیوں میں نکلے۔ سرِراہ گلی میں قبریں دیکھنے کا عجیب اتفاق ہوا۔ مسرور صاحب علاقے کے ’’اَن آفیشل کونسلر‘‘ لگ رہے تھے۔ قدم قدم پر سلام دُعا ہو رہی تھی۔ مسرور صاحب کے محلے میں کاریں ہی کاریں تھیں…… جو کرائے پر چلتی تھیں۔ پہلے ہم کار میں بفہ کے سرکاری ہسپتال میں گئے…… جو علاقے کی واحد نمایاں اور خوب صورت عمارت تھی۔ اسے چائینہ نے پاکستان کو عطیہ کیا تھا۔ اب یہ پاکستان کا کام تھا کہ اس کے لیے مناسب عملہ بھرتی کر کے اسے کارآمد بناتا۔ حقیقت یہ تھی کہ یہاں عملے کی شدید کمی تھی۔ سب ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف مانسہرہ یا ایبٹ آباد میں آباد رہنا چاہتا تھا…… تاکہ پرائیویٹ پریکٹس والی اضافی آمدنی میں اپنا شیئر حاصل کیا جا سکے۔ کوئی حلف یا ’’شوورٹی بانڈ‘‘ "Surety Bond” مادہ پرست لوگوں کو اپنی ذاتی خدمت سے نہیں رو سکتا۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹر کا کیا ہے۔ پاکستان میں "Job” کرنا مشکل ہوگی، تو کسی اور ملک کا رُخ کر لے گا۔ ملک کی خدمت کے بیانات صرف بیانات ہی ہیں۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔
بفہ ہسپتال سے ہم ایک دوسری کار میں شنکیاری چائے کے باغات دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ مجھے چائے کے باغات دیکھنے کا شوق اُن چائے کے اشتہارات کی وجہ سے تھا…… جو مختلف چائے کی کمپنیاں جھلک کے طور پر دکھاتی تھیں۔ اُن میں چائے کی پتیاں چنتی لڑکیاں بہت متاثر کرتی تھیں۔ مرکزی شاہراہ سے ہٹ کر ایک چھوٹی سڑک نشیب کی طرف جا رہی تھی۔ ہماری کار اُس سڑک سے ایک گیٹ میں داخل ہوئی جو چائے کے باغات والے فارم کا مرکزی دروازہ تھا۔
گیٹ کے نگران سے فوری طور پر پوچھا کہ یہاں حاجی مستنصر حسین تارڑ جوکالوی تو ضرور آئے ہوں گے؟ جواب نفی میں ملا، تو حیرت ہوئی۔ کیوں کہ عبداللہ حسین نے حاجی صاحب کو اس دھرتی (پاکستان) کا بائیو گرافر قرار دیا تھا، تو پھر بائیو گرافر کا فرض بنتا تھا کہ ادھر بھی پھیرا مارتا۔ چائے کے شیدائی اے حمید صاحب کا پوچھا، تو پتا چلا کہ وہ بھی ان دوستوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نہیں آئے تھے۔ حالاں کہ اُن کا کمرہ سیلون ٹی سے بھرا ہوا تھا۔
مسرور صاحب کو یہاں بھی وہی مقام حاصل تھا جو بانڈہ پیراں (بفہ) میں حاصل تھا۔ عمران خان کی سابقہ بیگم ریحام خان بھی بفہ ہی کی پیدایش ہیں…… اور اس بارالیکشن لڑنے کا ارادہ بھی رکھتی ہیں۔ مجھے مسرور صاحب کو ملنے والے پروٹوکول پر حیرت ہور ہی تھی جس پر موصوف نے بتایا کہ وہ جون 2018ء میں تازے تازے یہاں ہی سے ریٹایر ہوئے ہیں۔ موجودہ عملے کے بیشتر افراد انہی کے ہاتھوں بھرتی ہوئے۔ آج بھی اُن کی دل سے عزت کرتے ہیں۔ کیوں کہ اُنہوں نے کسی کی فایل خراب نہیں کی۔ انسانیت اور رواداری کو ہمیشہ مقدم سمجھا۔ یہ سب اُن کے بچوں جیسے ہیں۔
یہاں محمد حنیف (محمد حنیف سے ہمارے ذہن میں فوری طور پر انگلش ناول "Case of Exploding Mangoes” آجاتا ہے…… جو ایک بھینگے پاکستانی ڈکٹیٹر کے حوالے سے واحد عوامی تبصرے کا درجہ رکھتا ہے) لیب ٹیکنیکشن سے ملاقات ہوئی۔ بات چیت پر پتا چلا کہ اعلا اَدبی ذوق رکھتے ہیں۔ رشین لٹریچر بہت پڑھ رکھا ہے۔ فلسفہ بھی گھول کر ہی پی چکے ہیں۔ اُن کا ادبی لیول دیکھ کر مَیں نے انہیں تجویز دی کہ وہ خود بھی فکشن لکھیں۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ کوشش کریں گے۔ ہماری مہمان نوازی کرنے والوں میں احسان الحق سائنٹفک اسسٹنٹ اور خالد خان سٹور کیپر بھی تھے۔
اس ادارے کے ڈایریکٹر ڈاکٹر عبدالوحید صاحب تھے جنہوں نے ہمیں شان دار لنچ کروایا اور ادارے کے بارے میں معلومات بہم پہنچائیں۔ وہ بلدیاتی الیکشن میں ڈیوٹی کی وجہ سے بہت مصروف تھے۔ اُن کے بعد ہمیں نعیم انجینئر اور چوہدری سہیل صاحب نے کمپنی دی۔
چائے کے باغات کا دورہ کیا، تو پتا چلا کہ چائے کا پودا 5 سال بعد پیداوار دینی شروع کرتا ہے۔ یہی معاملہ زیتون کے ساتھ بھی ہے۔ اب یہاں ’’کیوی‘‘ جیسا خوب صور ت اور کھٹا میٹھا سبز پھل بھی پیدا ہو رہا ہے جو پہلے تھائی لینڈ سے امپورٹ کیا جاتا تھا، اب یہاں پیدا ہو رہا ہے اور ڈبوں میں پیک ہو کر مختلف علاقوں میں جا رہا ہے۔
چائے کے باغات کا راؤنڈ لگایا۔ فضا گذشتہ دو دنوں کی بارش کے باعث بہت خوشگوار تھی۔ فرحت بخش دھوپ چمکی ہوئی تھی۔ چائے اور گپ شپ چل رہی تھی۔ وہاں کھٹیوں کا درخت لگا تھا۔ ایک کھٹی مَیں نے اُتار کر اُسی وقت کھالی اور ایک حاجی صاحب کے لیے رکھ لی۔
واپسی پر مجھے بہت سے تحایف سے نوازا گیا۔ ہاں! یاد آیا یہاں نواز شریف کے ہاتھوں لگا ہوا درخت بھی اُن کے دورے کی یادگار کے طور پر لگا ہے۔ اب یہ پتا نہیں کہ اس دورے کے دوران میں اُن کی اہلیہ ساتھ تھیں…… یا نااہلیہ؟
یہاں سے ہم نے آگے ہزارہ یونیورسٹی (بفہ) جانا تھا۔ وہاں اُرد و ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر نذ ر عابد صاحب تھے۔ اُن سے فون پر بات ہو گئی تھی۔ انہوں نے یونیورسٹی کے بلاک نمبر 12 میں آنے کو کہا۔ کار پر وہاں پہنچے۔ ڈاکٹر نذر عابد صاحب نے اپنے عملے کوہمارے آنے کا بتا رکھا تھا۔ وہ ہمیں احترام کے ساتھ اُن کے کمرے میں لے گئے۔ یونیورسٹی کے حوالے سے تبادلۂ خیالات ہوا۔ انہوں نے یہ بتا کر مسرور کر دیا کہ اُن کی یونیورسٹی کو ڈاکٹر صابر کلوروی کی طرف سے 22 ہزار کتابیں ملنے کا اعزاز حاصل ہے…… جن کے لیے ایک بڑا کمرہ مختص کیا گیا ہے جو یہاں کے اُردو ڈیپارٹمنٹ کا اصل اثاثہ ہے۔ یونیورسٹی میں سیشن ’’آف‘‘ تھے۔ لایبریرین بھی لایبریری بند کرکے جا چکا تھا۔ اس لیے بند دروازے کے شیشوں سے ہی ’’سرکاراما‘‘ کی طرح اندر سلیقے سے لگی کتابوں کی زیارت کی اور آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہوئی۔ ڈاکٹر نذر عابد صاحب نے اپنے کمرے ہی میں ہمیں چائے پلائی اور بسکٹ کھلائے اور پھر یونیورسٹی کے باہر ایک کوئٹہ کیفے سے گڑ والی سپیشل چائے پلوائی، سموسا زبردستی کھلایا۔ زبردستی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ اس سموسمے نے ساری رات میرے شکم میں بریک ڈانس کیا۔ سفر کے دوران میں پیٹ خراب ہونے کی صورت میں لی جانے والی دوائی ضرور رکھتا ہوں۔ وہ رات کو کام آگئی۔ صبح چوں کہ لاہور کے لیے واپسی تھی، اس لیے ناشتا نسبتاً ہلکا کیا۔ صرف ایک پراٹھا ملائی کے ساتھ کھایا اور چائے پی۔ مجھے مسرور صاحب نے لاہور جانے والی ’’یو ٹانگ‘‘ (Yutoung) بس پر سوار کروا دیا۔ مسرور صاحب نے مجھے اپنے گھر کے بنے ہوئے خصوصی اچار کا تحفہ دیا۔ میرا سوٹ کیس بھی تحفوں کے باعث امجد اسلام امجد کے شہرۂ آفاق سوٹ کیس کی طرح ’’حاملہ‘‘ ہو چکا تھا…… جس میں اب مزید کسی اور چیز کی گنجائش نہ رہی تھی۔ کچھ اضافی سامان کا شاپر بیگ علاحدہ سے تھا۔
بس والے نے عجیب ڈراما کیا۔ مانسہرہ سے اسلام آباد تک تو صراطِ مستقیم یعنی موٹر وے پر ہی رہا پھر جرنیلوں کی محبت میں ’’جرنیلی سڑک‘‘ پر آگیا۔ بوڑھی جی ٹی روڈ پر اب خاصی جھریاں اور ڈینٹ شینٹ پڑچکے ہیں۔ سپنرز کی باؤلنگ کے لیے سازگار اس سڑک نے میرے معدے میں اودھم مچا دیا۔ مَیں نے دُہائی دی۔ گاڑی روکو! کسی بھی وقت، کچھ ہوا چاہتا ہے۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ماں باپ کے دُھتکارے ہوئے بس کے کلینر سے سرِ راہ کسی ڈرائیور ہوٹل پر بس رُکوانے کی عاجزانہ درخواست کی…… مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ مجبور ہو کر اُسے لاہور گیریژن یونیورسٹی کے "Visiting Card” سے ڈرایا۔ وہ فوجی رُعب میں آگیا اور گاڑی ڈرائیور ہوٹل پر روک دی۔
بخیر و عافیت واش روم تک پہنچ جانے کی اللہ سے جانے کتنی دُعائیں پہلو بدلتے ہوئے کی تھیں۔ وہ قبول ہوئیں۔ واش روم میں اپنے اندر کا بوجھ ہلکا کیا اور سکون کا کئی کلومیٹر لمبا سانس لیا۔ میرا تو یہ معاملہ خرابیِ شکم سے متعلقہ تھا مگر رازدارِ تارڑ جواد شیرازی (کنال ویو، لاہور) نے اپنی ایک ویڈیو/ سفرنامے میں بتایا تھا کہ پاکستان میں آلودگی پھیلانے میں حاجی مستنصر حسین تارڑ کا بڑا بُرا کردار ہے۔ حاجی صاحب دائیں بائیں آگے پیچھے دیکھے بغیر جہاں آتا ہے، وہیں کر دیتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ آج بھی جٹ اُجڈ ہیں۔ پیر نے اپنی قبر میں پڑنا ہے اور مرید نے اپنی۔
یار زندہ صحبت باقی۔ رہے نام اللہ کا!
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔