محبت کی خوشبو کو شعروں میں سمو کر بیان کرنے والی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا آج 69واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔
پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سید ثاقب حسین بھی ایک شاعر تھے۔ انہوں نے انگلش لٹریچر اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعۂ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر کو ایم بی اے کی ڈگری امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔9 سال تک استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔ 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں بحیثیتِ سیکرٹری خدمات سر انجام دیں۔ امریکہ کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے مکمل کیا گیا مقالہ، زندگی کے ساتھ نہ دینے کے سبب پیش کرنے سے قاصر رہیں۔
پروین شاکر کو اُردو کے منفرد لب و لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصہ میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت قلیل سی متاعِ حیات میں وہ کارنامے سرانجام دیے…… جن کی بدولت ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ اور ’’آدم جی ایوارڈ‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’خوشبو کی شاعرہ ‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔
پروین شاکر پی ٹی وی کے پروگراموں میں بہترین میزبان کی حیثیت سے بھی جلو ہ گر ہوئیں۔ وہ اپنی اولین کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی ادبی رسالوں کے ذریعے ہزاروں کو اپنا مداح بنا چکی تھیں…… جب کہ 1976ء میں محض 24 برس کی عمر میں پروین شاکر کی پہلی کتاب’’ خوشبو‘‘ شائع ہونے پر اس کتاب کو بے حد پذیرائی ملی اور پروین شاکر کے فکرو فن کی خوشبو چار سو پھیل گئی۔
’’خوشبو‘‘ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پہلی اشاعت کے چھے ماہ بعد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا۔ کتاب نے تحفوں کی شکل اختیار کرنا شروع کردی۔ اس کتاب نے پروین شاکر کے ادبی کیئریر میں نئی روح پھونک دی۔
پروین شاکر نے کچی عمراور نسلِ نو کے جذبات کی ترجمانی سے الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھے تعلق میں باندھ کر سادہ الفاظ میں نسائی انا، خواہش اور انکار کو شعر کا روپ دیا۔ گہری شاعری کے اسلوبِ بیاں نے پروین شاکر کو جلد ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
پروین شاکر کی ذاتی زندگی پر اگر نظر دوڑائی جائے، تو ان کی ذاتی زندگی کا دکھ ازدواجی زندگی کے اختتام پر منتج ہوا۔ کراچی کے ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی، جس سے ایک بیٹا مراد علی پیدا ہوا۔ بعدا زاں ڈاکٹر نصیر سے طلاق لے کر ازدواجی زندگی کو خیرباد کہہ دیا۔
پروین شاکر کی شاعری کے موضوعات میں جہاں محبت، عورت اور اقدارکا گِراں قدر احساس موجود ہے…… وہاں ان کی شاعری میں دکھ اور حزن کی کیفیت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے:
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا
پروین شاکر کا شما ر ان چند ایک خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے خود کو منوایا۔ انہوں نے عورت کے مشرقی احساس،گھٹن، دکھ اور ملال کی جومنظر کشی کی…… ان سے پہلے کسی شاعرہ نے نسوانی جذبات کو اتنی نزاکت سے بیان نہیں کیا۔ ماں کے جذبات، شوہر سے ناچاقی اور علاحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل، ان سبھی کو انہوں نے بہت خوب صورتی سے قلمبند کیا ہے…… جب کہ ان کی شاعری میں روایت سے انکار اور بغاوت بھی نظر آتی ہے۔ پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات اور درد کائنات کے احساسات کا اظہا رہے۔ ان کی شاعری میں قوسِ قزح کے ساتوں رنگ نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں دور جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کے شعری مجموعے 1976ء میں خوشبو، 1980ء میں صد برگ، 1990ء میں خود کلامی، 1990ء ہی میں انکار اور 1994ء میں ماہِ تمام شائع ہوئے۔
شاعری کے ساتھ ساتھ کالم نویسی بھی کی۔ ابھی فن وادب کے متوالے پو ری طرح سیراب بھی نہ ہو پائے تھے کہ خوشبو بکھیرتی پروین شاکر 26 دسمبر 1994 ء کو پیر کے دن اسلام آباد اپنے آفس جاتے ہوئے ٹریفک حادثے میں 42 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ آپ نے اپنی شاعری میں کہا تھا کہ
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
جب کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی نظموں اور غزلوں کے الفاظ آج بھی نوجوان نسل اور شاعری کے دلدادہ لوگوں کی زبانوں پر اور دلوں میں زندہ ہونے کا احساس دلا رہے ہیں۔ وہ جس لہجے میں بات کرتیں اچھی لگتیں۔ پروین شاکر کی نظمیں بھی اسی معیار کی ہیں جو گہرے تخلیقی تاثر میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ان کی عظمت کے اثبات کے لیے کافی ہیں۔
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔