انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے پنڈورا پیپرز کے ذریعے ایک بار پھر دولت مند اشرافیہ کے پیسوں کی لین دین کے معاملات کا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ اس پر بات کرنے سے پہلے ہم ’’پنڈورا باکس‘‘ کی کہاوت کے حوالے سے بات کریں گے۔
ہمیں اکثر سننے کو ملتا ہے کہ فلاں سیاست دان یا شخص نے فلاں کے خلاف الزامات کا پنڈورا باکس کھول دیا۔ ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر خیال پایا جاتاہے کہ پنڈورا باکس خفیہ خبروں کا کوئی مقام ہے جہاں اُنہیں دفن کر دیا جاتا ہے اور وقت پڑنے پر انہیں مخالفین کے خلاف بطورِ ہتھیاراستعمال کیا جاتا ہے، لیکن اصل میں ’’پنڈورا‘‘ کون تھی اور اُس کا باکس کیا تھا؟
دنیا کے ہر خطے کی تہذیب میں اُن کی اپنی دیومالائی قصے کہانیاں موجود ہوتی ہیں جیسے عربوں کی دیو مالائی کہانیوں میں ’’الف لیلہ‘‘، ’’علی بابا چالیس چور‘‘ اور ’’حاتم طائی‘‘ جب کہ برصغیر میں کوہِ قاف کی پری اورجنات وغیرہ شامل ہیں۔ اس طرح ’’پنڈورا‘‘ قدیم یونان کی دیومالائی کہانیوں کا ایک شیطانی کردار ہے جسے یونانی دیومالائی کہانیوں میں پہلی انسان خاتون مانا جاتا ہے جس کا ذکر ’’ہسائیڈ‘‘ نے 560ء تا 612ء اپنی نظم میں کیا۔
نظم کے مطابق پنڈورا کا مجسمہ یونانی دیوتا ’’ہیفاسٹس‘‘ (بلیک سمتھ، ترکھان، سنگ تراش، مجسمہ ساز، آگ، آتش فشاں وغیرہ کا دیوتا) نے دیوتا ’’زیوس‘‘ کے کہنے پر بنایا اور یہ مجسمہ خوب صورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔ چناں چہ اسے دیکھنے کے بعد یونان کے دوسرے دیوتاؤں نے اس مجسمے کو اپنی اپنی طاقت کے مطابق خوبیاں اور تحائف عطا کیے۔ سب سے پہلے دیوی ’’اتھینا‘‘ نے اس مجسمے میں زندگی پھونکی اور اسے چاندی کی ایک خوب صورت پوشاک پہنائی، خوب صورت زیورات سے آراستہ کیا اور عورتوں کے ہنر سکھائے۔ ایک اور دیوتا ’’کرائی ٹی‘‘ نے اسے دلوں کو متاثر کرنے کی قوت عطا کی اور دیوتا اپولن نے اسے خوب صورت آواز اور گیت گانے سکھائے۔ دیوتا ’’ہرمیز‘‘ نے پنڈورا کو خوش کلامی، عیاری، مکاری، چلاکی، خوشامد اور بے خوفی کے تحفے دیے۔ باقی دیوتاؤں نے بھی اسے اپنی اپنی طاقت میں سے قیمتی تحائف عطا کیے۔ جب یہ سارے تحائف حاصل کرنے کے بعد ’’پنڈورا‘‘ بڑے دیوتا ’’زیوس‘‘ کے حضور پیش ہوئی، تو ’’زیوس‘‘ نے اسے ایک باکس دیا، جس میں بہت سی دُکھ دینے والی چیزیں تھیں۔ اس باکس میں بڑھاپا تھا۔ طرح طرح کی بیماریاں تھیں۔ پاگل پن تھا۔ پریشانیاں تھیں اور باکس میں سب سے نیچے اُمید تھی جسے باندھا گیا تھا۔ اِسی باکس کا نام پنڈورا باکس تھا جسے آج کل ہر سیاست دان کھولتا ہے اور اخبارات میں پڑھنے اور ٹی وی چینلوں پر سننے کو ملتا ہے کہ فلاں سیاست دان نے ’’پنڈورا باکس‘‘ کھول دیا۔
اب ہم آتے ہیں ’’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘‘ (آئی سی آئی جے) کی جانب، جس نے پنڈورا پیپرز کے ذریعے دنیا بھر کی دولت مند اشرافیہ کے پیسوں کی لین دین کے معاملات کا ’’پنڈورا باکس‘‘ کھولا ہے۔
’’پنڈورا پیپرز‘‘ میں حکومتی وزرا،معاون خصوصی اور کئی نام ور پاکستانی سیاست دانوں سمیت 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام موجود ہیں جن میں پاکستان کے وزیرِخزانہ شوکت ترین، وفاقی وزیر مونس الٰہی، سینیٹر فیصل واوڈا، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی عمر بختیار، صدر نیشنل بینک عارف عثمانی، ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ، ابراج کے بانی عارف نقوی، سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے، پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن، وزیراعظم عمران خان کے سابق معاونِ خصوصی وقار مسعود کے بیٹے سمیت پاک فوج کے کئی ریٹائرڈ افسران اور فضائیہ کے سابق سربراہ کے بیٹوں سمیت دیگر شامل ہیں۔
اس طرح عالمی رہنماؤں میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر،اردن کے شاہ عبداللہ، روسی وزیر اور قطر کے حکمران سمیت 35 دیگر اہم شخصیات کے نام ’’پنڈورا‘‘ کی ’’آف شور‘‘ فہرست میں شامل ہیں۔
آف شور کمپنیاں برائے نام ہوتی ہیں جس کا مالک اصلی ہوتا ہے اور نہ کوئی اصل دفتر۔ ان کمپنیوں میں ملازمین بھی نہیں ہوتے۔ یہ کمپنیاں صرف کاغذات پر چلائی جاتی ہیں اور اصل مالک کی شناخت چھپاتی ہیں۔
’’شیل یا آف شور کمپنیز‘‘ ایسے ممالک میں قائم کی جاتی ہیں جہاں ’’ریگولیٹرز‘‘ کمزور یا زیادہ پوچھ گچھ نہ کرتے ہوں اور مالیاتی رازداری بہت زیادہ ہو۔ ان جگہوں کو ’’آف شور فنانشل سینٹرز‘‘ یا ٹیکس پناہ گاہیں کہا جاتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، برٹش ورجن آئی لینڈ، مکاؤ اور پانامہ آف شور کمپنیاں قائم کرنے کے لیے مشہور ہیں، جہاں آف شور کمپنیوں میں دنیا بھر کے دولت مند ترین شخصیات کے ساڑھے 6 ارب ڈالرز سے زائد موجود ہیں۔
گذشتہ دورِ حکومت میں پانامہ لیکس سامنے آیا جس میں دنیا بھر کی سیکڑوں اہم شخصیات کی آف شور کمپنیاں سامنے آئیں، جن میں اس وقت کے وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے بچوں کانام بھی شامل تھا۔ اسی کیس میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل ہو کر اقتدار کی مسند سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے تین سال بعد ’’پنڈورا پیپرز‘‘سامنے آئے، جس میں موجودہ حکومت کے وزیرِ خزانہ سمیت دیگر اہم شخصیات کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز کا بظاہرخیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنڈورا پیپرز اشرافیہ کی ناجائز دولت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ وہ اس میں شامل پاکستانیوں سے تحقیقات کریں گے اور غلطی ثابت ہونے پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔
ان کی جانب سے یہ رسمی اعلان خوش آئند ہے، لیکن ماضی میں جب وہ اپوزیشن میں تھے، تو پانامہ لیکس میں اس وقت کے وزیر اعظم کے خاندان کا نام آنے پر وہ ان سے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ فوری طور پر چھوڑ کر منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، تاکہ وہ اقتدار میں ہوتے ہوئے تحقیقاتی عمل پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔ اب جب کہ وہ خود وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہیں، تو کیا وہ اپنی حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین، فیصل واوڈا، مونس الٰہی سمیت دیگر کی آف شور کمپنیاں سامنے آنے پر ان سے استعفا لے کر منصفانہ تحقیقات کاعمل شروع کروائیں گے؟ ان کی جانب سے بظاہر ایسا سخت قدم اٹھانا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔ کیوں کہ اب تک کے تین سالہ ٹریک ریکارڈ کے مطابق ان کی جانب سے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کی گئیں اچھی اچھی اصولی باتیں صرف مخالفین پر نافذ کرنے اور عمل درآمد کروانے کے لیے تھیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔