گورنر راج یا سیاسی حل؟

Blogger Fazal Manan Bazda

صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال کے باعث وفاقی حکومت کے سامنے گورنر راج یا ایمرجنسی کے دو آپشنز پر غور ہو رہا ہے اور ایسا ممکن بھی نظر آ رہا ہے، کیوں کہ پاکستان کی تاریخ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مثالیں موجود ہیں۔
اس سے پہلے خیبر پختونخوا میں گورنر راج 1975ء، 1994ء اور 1999ء میں نافذ کیا گیا۔ میرے اس بلاگ کے شائع ہونے تک شاید پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہوگا، مگر میں پھر بھی یہ نہیں سمجھتا کہ سیاسی استحکام کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے ممکن ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کے لیے آئین کے تقاضے کیا ہیں؟
آرٹیکل 234 کا تعلق کسی مخصوص صوبے کے انتظامی اور آئینی بحران سے ہوتا ہے۔ اگر صدرِ پاکستان کو یہ یقین ہو جائے کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی، مثلاً: اسمبلی میں بحران یا انتظامی مشینری کی ناکامی کی صورت میں، تو گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں صوبائی حکومت کے اختیارات وفاق یا گورنر کے پاس آ جاتے ہیں اور صوبائی اسمبلی معطل یا برخاست کی جاسکتی ہے۔ گورنر راج کی صورت میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات قومی اسمبلی اور سینیٹ کو تفویض کر دیے جاتے ہیں اور تمام اختیارات گورنر کو حاصل ہو جاتے ہیں۔ گورنر صدرِ مملکت کو صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ گورنر راج کی منظوری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لی جاتی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ مدت چھے ماہ ہوسکتی ہے۔
’’آرٹیکل 232‘‘ جنگ، بیرونی جارحیت یا ملک کی اندرونی حالت، جیسے شدید امن و امان یا سلامتی کے خطرے، کی وجہ سے پورے ملک یا مخصوص حصے میں نافذ ہوسکتا ہے، جب ریاست کی سلامتی یا سالمیت کو جنگ، مسلح بغاوت یا کسی بحران کا خطرہ ہو۔ اس کے تحت وفاقی حکومت کے اختیارات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بنیادی حقوق معطل کرنے یا صوبوں کو سخت احکامات جاری کرنے کا اختیار مل جاتا ہے… تاہم، 18ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک شرط شامل کی گئی ہے کہ اگر داخلی بدامنی ایسی سطح پر پہنچ جائے، جو اسمبلی کے اختیار سے باہر ہو، تو متعلقہ اسمبلی کی قرارداد درکار ہوگی۔
اگر صدرِ پاکستان ایمرجنسی نافذ کرے، تو 10 دن کے اندر اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ، سے منظوری لینا ضروری ہے، جب کہ پارلیمنٹ صوبے کے اندرونی معاملات پر قانون سازی بھی کرسکتی ہے، جو عام طور پر صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ اگر آئینی تقاضا ہو، تو گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے اور اسی طرح کا بیان گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی دیا تھا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی اُمور طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں، بل کہ آئین کے تحت ایمرجنسی لگانے کا آپشن زیرِ غور ہے، لیکن اس کی وجہ لانگ مارچ یا دھرنا نہیں، بل کہ صوبے کے حالات ہیں، جہاں پی ٹی آئی حکومت حالات کو خراب کرنے کے ساتھ اسلام آباد پر حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کا کوئی آئینی اور قانونی جواز نہیں اور اگر ایسا کیا گیا، تو ہم بھرپور مقابلہ کریں گے۔
آرٹیکل 149(4)، 232 اور 234 کو وفاق اور صوبے کے درمیان اسی آئینی تعلق کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے، اس لیے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا سوال صرف سیاسی خواہش یا انتظامی ضرورت کا سوال نہیں، بل کہ آئینی شرط پوری کرنے کا سوال ہے۔ آئین نے اگر ایک طرف وفاق کو غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے اختیارات دیے ہیں، تو دوسری طرف صوبائی خودمختاری اور پارلیمانی نگرانی کے لیے حفاظتی بندوبست بھی کیا ہے۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے معاملے میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے معمول کے سیاسی یا انتظامی اختلاف کو ایمرجنسی قرار دینا آئینی طریقہ نہیں… اور یہی وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری اور قانون کی حکم رانی کے درمیان آئینی توازن ہے۔
یہ خبریں بھی زیرِ گردش ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نوٹیفکیشن تیار کرلیا گیا ہے۔ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز سامنے آتی ہے، تو اس کی آئینی جانچ کے سوالات بھی سامنے آئیں گے:
کیا صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلنے کے قابل نہیں رہی؟
کیا گورنر نے اسی صورتِ حال کے بارے میں صدر کو آگاہ کیا تھا؟
کیا صدر نے آرٹیکل 234 کے تقاضوں کا اطمینان حاصل کیا تھا؟
کیا اس اعلان یا تجویز کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیا گیا تھا؟
کیا مقررہ آئینی مدت کے اندر پارلیمانی منظوری حاصل ہوئی ہے؟
پاکستان کی تاریخ میں غیر معمولی اختیارات کے استعمال کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ قومی اسمبلی کی سرکاری دستاویز کے مطابق 1958ء میں آئین کو منسوخ کرکے مارشل لا لگایا گیا، 1977ء میں بھی مارشل لا نافذ ہوا اور 1999ء میں ایک بار پھر آئینی نظام کو غیر معمولی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، پھر بھی پاکستان میں کوئی سیاسی استحکام نہیں آیا۔
آئینِ پاکستان کا تقاضا ہے کہ وفاق صوبائی خودمختاری سے تجاوز کرے اور نہ صوبائی حکومت ہی آئینی ذمے داریوں سے انحراف کرے۔ کسی بھی ریاست کے استحکام کا راستہ طاقت کے غیر معمولی استعمال سے زیادہ آئین، پارلیمنٹ، قانون اور سیاسی مکالمے کے احترام سے نکلتا ہے۔
اس لیے میرے خیال میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی استحکام کا مستقل حل نہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے