گلشن زرگر اور قدیم مینگورہ

Blogger Comrade Sajid Aman

مینگورہ لنڈیکس میں ایک محلہ اور مسجد، ’’گلشن جماعت‘‘ اور ’’گلشن محلہ‘‘ کے نام سے معروف تھے۔ یہ محلہ، حاجی بابا روڈ سے لنڈیکس روڈ تک آرپار نکلتا تھا۔ اس محلے کو حاجی گلشن زرگر نے آباد کیا تھا۔ تاریخی میرخان خیل، بوستان خیل، ڈبو جماعت اور سبو چوک گلی کے سامنے، غورئی چینہ کی طرف جانے والی گلی کے باہر گلشن زرگر کی دکان تھی، جب کہ اندر عبدالکریم زرگر کا مکان تھا۔ عبدالکریم زرگر کے بیٹوں میں گلشن زرگر، گل نواب اور فصل واحد کاکا شامل تھے۔ یہ مینگورہ کا پرانا نقشہ تھا۔
غورئی چینہ، مینگورہ شہر میں تازہ، شفاف، صحت بخش اور ٹھنڈے پانی کا واحد منبع تھا اور خود مینگورہ شہر کی ثقافت میں اسے مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ’’بانگئی‘‘ (گھی کے دو خالی کنستر، جنھیں رسی اور لکڑی کی مدد سے باندھ کر ہم وزن رکھا جاتا) اور گدھوں پر ٹین کے ڈبوں (کنستروں) میں پورا دن پانی مینگورہ کے ہر گھر پہنچایا جاتا تھا۔ تب غورئی چینہ کی سیڑھیاں اترنا بھی بڑی عقیدت سے لازم سمجھا جاتا تھا۔ تب فطرت کا احترام تھا اور فطرت کی فیاضی بھی عروج پر تھی۔
تاریخی میرخان خیل، بوستان خیل، ڈبو جماعت گلی کے شروع میں حاجی رسول خان خاندان کے گھر تھے۔ اُن کے والد اور تایا بھی وہیں رہتے تھے۔ یہ بھی صراف خاندان تھا، جو بٹخیلہ سے حالات کے جبر کے ہاتھوں یہاں آیا تھا اور نئی پہچان کے ساتھ سابقہ تمام رشتوں سے گویا ناتا توڑ بیٹھا تھا۔ ملاکنڈ ڈویژن کے واحد تجارتی مرکز مینگورہ میں، جس کے گاہک گلگت سے ملاکنڈ، بونیر، چترال اور افغانستان تک پھیلے ہوئے تھے، انھوں نے نئے سرے سے زندگی شروع کی۔
صراف کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ وہ صرف آواز سے خاتون کے خاندان اور قبیلے سے رشتہ معلوم کرلیتا، مگر اس کی آنکھیں ہمیشہ فرش پر رہتیں۔ آواز نیچی اور احترام سے لب ریز ہوتی۔ ایک طرح سے وہ خاندان کا رازدار ہوتا؛ معاشی بھی اور معاشرتی بھی۔ وہ بھرم رکھنے میں یکتا ہوتا، اور اس کی عزت و احترام دراصل اس پر کیے جانے والے اعتبار کے برابر ہوتا تھا۔ صراف کے کاروبار کے لیے سفید پوشی، بھرم اور ایمان داری بہت ضروری تھی، اور وہ باہر سے آئے ’’زرپھول خاندان‘‘ اور رسول خان خاندان نے اختیار کرکے خود کو مصروف بھی کیا، اعتبار بھی حاصل کیا، اخلاق بھی برقرار رکھا اور کردار بھی سنوارا۔
یوں منگلور سے مینگورہ آئے عبدالکریم نے بھی سونے میں اپنی قسمت دیکھی، اور اُن کے برخودار گلشن تو جیسے کیمیادان ہوگئے؛ مٹی کو ہاتھ لگاتے اور وہ سونا ہوتی گئی۔ گلشن زرگر یا عبدالکریم خاندان ہوں، تو صراف خاندان کے طور پر ممتاز مقام رکھتے تھے، مگر ہمیشہ اپنی پہچان کے لیے متجسس رہے، اور یہ اُن کے ہاں کوئی نئی بات نہیں تھی۔
’’میں کون ہوں؟‘‘ یہ سوال انسان کے ساتھ بہت پرانا ہے اور اس خاندان کے ساتھ بھی فطری طور پر رہا۔
مذہبی خاندانی پس منظر اور الگ مگر غیر واضح شناخت نے اُنھیں نام کے ساتھ قریش اور ہاشمی تک لگانے کی انتہا تک پہنچایا۔ پھر جلوخیل کے ساتھ منگلور سے مینگورہ ویش میں آنا اُنھیں جلو خیل کے اندر اپنی پہچان بنانے پر بھی متوجہ کرتا رہا۔
صراف کوئی خاندان یا نسل نہیں، بل کہ یہ ایک اعلا رتبہ ضرور رہا ہے۔ زیورات ہزاروں سال سے انسانی تمدن کا حصہ رہے ہیں۔ ان کا انسانی ذاتی زندگی، فطرت اور طبیعت سے گہرا تعلق ہوتا ہے… اور صراف ایسا فن کار ہوتا ہے، جس کی جمالیاتی حس، انسانی احساسات اور خیالات میں پاکیزگی انتہا پر ہوتی ہے۔
یوسف زئی قبائل میں صوابی سے سوات اور سوات سے صوابی تک، اس پوری لکیر میں بہت سی ہجرتوں کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ پختون دور میں غربت، دشمنی، سزا، روزگار اور امن نے بہت سے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ سوات، بونیر، شانگلہ اور صوابی سے ایک دوسرے مقام پر جاکر، ایک نئی شناخت کے ساتھ اپنے ماضی کو دفن کرکے آباد ہوں۔ کئیوں نے پہچان بدلی۔ اس طرح کئیوں نے پیشہ اختیار کیا اور کئیوں نے سر نیچا کرکے شجرے جلائے… یا یوں کہیں لیں کہ لوگ کہیں اور، کسی نئی پہچان کے ساتھ نئی زندگی شروع کر بیٹھے۔ عبدالکریم زرگر خاندان بھی اسی تاریخی جبر سے گزرا، مگر اُن کے بڑوں نے اپنے ماضی کو اس بھاری دل اور سختی سے کاٹ کر الگ کیا کہ نئی نسل اپنی پہچان کے لیے بہت متجسس ہونے کے باوجود اُس تک پہنچ نہیں پائی۔
گلشن زرگر نے ایک تاریخی پہچان بنائی۔ لنڈیکس میں محلہ بسایا، تب جب مینگورہ سے لوگ شفٹ ہوکر پُرفضا لنڈیکس کے سبزہ زاروں میں آباد ہو رہے تھے۔
لنڈیکس آج کا جدید لنڈیکس نہیں تھا، بل کہ مینگورہ قصبے سے دارالحکومت سیدو شریف جانے کے لیے لنڈیکس، یعنی شارٹ کٹ تھا۔ جہاں صاف پانی بہتا تھا، وسیع میدان اور باغات تھے۔ لنڈیکس کی آج کی گندی نالیاں کبھی صاف و شفاف پانی کے ذرائع تھے۔ سرسبز اور پُرسکون لنڈیکس، کل کی آبادی کا ازدحام بن جانے والا آج کا لنڈیکس ہرگز نہیں تھا۔
گلشن زرگر نے مینگورہ میں صرف پیسا نہیں کمایا، بل کہ عزت، رتبہ اور مقام بھی حاصل کیا اور بہترین کردار کے مالک رہے۔ صرافہ خاندان نے ایک الگ شناخت بنائی، اُسی پر قائم رہے اور اب تک ہیں۔ کئی ایک گھرانے ایک ساتھ گھل مل بھی گئے اور کئی الگ بھی رہے۔
گلشن زرگر، مینگورہ کا ایک ایسا نام ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اُن کا خاندان مینگورہ شہر کے معزز خاندانوں میں سے ایک ہے اور شہر میں ایک اچھی شہرت کے ساتھ موجود ہے۔
حاجی گلشن زرگر 26 جولائی 1986ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے